Home / خبریں / جنسی مایوسی اور اس کے نتائج

جنسی مایوسی اور اس کے نتائج

٭ڈاکٹر صاعقہ رازی، ڈنمارک

دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ چرند، پرند، نباتات، حیوان اورانسان جوڑوں میں پیدا کئے گئے ہیں، ان کی ساخت اور خصوصیات ایک دوسرے سے جدا رکھی گئیں ہیں، تاکہ وہ آپس میں کشش محسوس کریں اور یہ نظام کائنات  بنا رہے۔ تو گویا کارخانہ قدرت کے توازن کی خاطر نراور مادہ کا جنسی تعلق انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جنسی تعلق یعنی سیکس۔ جی ہاں ہمارے معاشرے میں یہ موضوع بات کرنے کے لئے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ آپکی زبان سے اس لفظ کے ادا ہوتے ہی کنکھیوں سے آپ کو دیکھا جاتا ہے، چہرے سرخ ہوجاتے ہیں، اور گلے میں کھچ کھچ شروع ہوجاتی ہے۔

لیکن یہ سب کرنے کے باوجود بھی آپ اس سے فرار حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ہمارے ماحول میں رچ بس چکا ہے۔ فلم، ٹی وی، فیشن، موسیقی، اشتہارات اور یہاں تک کہ کئی میگزین اوراخبارات لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کے جنسی احساسات کو بھڑکانے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوان اپنے اردگرد کے ماحول سے یہ احساسات وصول تو کررہے ہوتے ہیں، مگر ان کا اظہار نہیں کر پاتے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کی اجازت نہیں ہے۔  اس کی مثال یوں ہوئی کہ آپ بارش میں کھڑے ہوں مگر بھیگنا منع ہو۔ ان کا تجسس ان کی آنکھوں میں ہی دفن کردیا جاتا ہے اور ان کے سوالات کا گلا ان کے لبوں پر ہی گھونٹ دیا جاتا ہے۔  یہ صورتحال نوجوانوں میں جنسی مایوسی کا موجب بنتی ہے۔

جنسی مایوسی یعنی سیکشیول فرسٹریشن ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جس کو معاشرتی یا مزہبی پابندیوں کی آڑ لے کر دبا دیا جاتا ہے۔ سن بلوغت کو پہنچنا ایک فطری عمل ہے۔ اس عمل کے دوران جسمانی خدوخال میں تبدیلی اور خون مہں ہارمونز کی مقدار میں اتار چڑہاو، بھوک، پیاس، گرمی، سردی کی شدت، خوشی اور غمی کے احساسات جیسا ہی ایک فطری اور خودکار عمل ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا۔

 لیکن بد قسمتی سے اس کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ نہ تو درسگاہوں میں اس پر بات ہوتی ہے، نہ میڈیا اس میں کوئی مثبت کردار ادا کرتا ہے اور نہ ہی والدین بچوں کو آگاہی دیتے ہیں۔ نتیجتا نوعمر بچے اس تجسس کو دور کرنے کے لئے انٹرنیٹ، فحش مواد اور بری صحبت کا سہارا لیتے ہیں۔ اور جب اس کا منفی نتیجہ ہمارے سامنے آتا ہے تو بچوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ بے شرم اور بے حیا ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ ناک کٹوادینے اور منہ کالا کروا دینے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے اپنے بچے سے اس متعلق کبھی بات کی تھی؟ آپ اسے نفس کو قابو میں رکھنے کا  درس تو دیتے ہیں مگر کیا اس کو اس کا طریقہ بتایا جاتا ہے؟ ہم میں سے کتنے والدین، رشتہ دار اور اساتذہ ایسے ہیں جنہوں نے کسی نوجوان کی اس صورتحال میں مدد کی ہوگی؟

جنسی ضروریات کو غیر اہم سمجھتے ہوئے، ان کے بارے میں بات کرنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے ۔ سیکس ایجوکیشن کو بےراہروی اور اس عمل کو گندگی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ  یہ وہ پاکیزہ اور معتبرعمل ہے کہ جس کے نتیجے میں تخلیق انسان ہوتی ہے۔ مگر اس کے بارے میں بات نہ کرنے کے باعث ہر انسان اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار میں جھجک اور شرم محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنے خیالات کو اپنے ذہن تک ہی محدود رکھتا ہے اور یوں فرسٹریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ آئے روز بچوں کے ساتھ جنسی زبردستی کے دلخراش واقعات کی بڑی وجہ بھی یہی جنسی مایوسی ہے۔

بچوں سے زیادتی کی زیادہ تر وارداتوں میں قریبی رشتہ دار، خاندانی دوست یا محلہ دار ملوث ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ مجرم ایسے ہیں جو جنسی بلوغت کو پہنچنے کے باوجود اس عمل کے بارے میں مکمل معلومات نہیں رکھتے اور مختلف ذرائع مثلا انٹرنیٹ سے لی گئی معلومات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتےہوئے ایسا عمل کرگزرتے ہیں۔ جبکہ بعض ایسے بالغ افراد بھی بچوں کو اپنی جنسی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں جو عام طور پر فحاشی اور انتہا پسندی کے دلدادہ ہوتے ہیں اور نفس کی تسکین کے لئے مختلف طریقوں کو اپنانا چاہتے ہیں، مگر آپسی تعلق میں دوستانہ رویے کی عدم موجودگی کے باعث وہ اس کا مطالبہ اپنی شریک حیات سے کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ کیونکہ عورتوں کو اس بارے میں معلومات ہونا، یا ان کا سیکس کے بارے میں بات کرنا، ان کے کردار پر شدید تنقید کا باعث ہوتا ہے۔ 

ہم روزانہ خبروں میں معصوم بچوں کے نوچے گئے جسم دیکھ کر ٹیگ کرتے ہیں، “جسٹس فار فلاں” اور اپنی  ذمہ داری ختم شد سمجھتے ہیں۔ مجرم گرفتار بھی ہوتے ہیں، پھانسی کی سزا بھی ہوتی ہے لیکن جرم ختم نہیں ہوتا۔ کیونکہ جرم آگاہی سے ختم ہوتا ہے، تعلیم اور شعور سے ختم ہوتا ہے۔

جنسی مایوسی اور اس کے نتائج پر بات کرنا دور حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ بچوں کو چھوٹی عمر سے خودمختاری سکھائیں تاکہ وہ جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکیں اور یوں نکاح میں ہونے والی بلاوجہ کی تاخیر کا سدباب ہو سکے۔ نکاح کی رسم کو آسان بنایا جائے۔ نفس کی پاکیزگی کے لئے عبادت، روحانیت اور یوگا کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔ جنسی خواہشات کے اظہار، اپنے جسم کے بارے میں بہتر آگاہی، اعلی دینی رہنمائی، درسگاہوں میں تربیتی پروگرام، آداب مباشرت کی آگاہی، میاں بیوی کے حقوق کی درست آگاہی، صحتمندانہ سرگرمیاں، کثرت، نفسیاتی تربیت اور جنسی مسائل کو عام مسائل کی طرح حل کرنے سے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نوجوان نسل کو جنسی مریض بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔  

About ایڈمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus