Home / خبریں / اردو ناول میں علامت نگاری : جہات اور عوامل

اردو ناول میں علامت نگاری : جہات اور عوامل

از
زاہدہ فاضل
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر
وفاقی اُردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی، اسلام آباد۔

قصہ ، کہانی ، حکایت اور وقائع نگاری سے دلچسپی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اس فن کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ انسانی شعور اور تہذیب کے ارتقائی سفر کے ساتھ ساتھ اس فن میں بھی تغیر و تبدل کا سلسلہ جاری رہا۔ آج جب انسان زمانہ قبل از تاریخ کے عہد سے سفر کرتا ہوا ، قدیم و جدید کی منزلیں پار کرکے مابعد جدید عہدکے فکری حصار میں سانسیں لے رہا ہے۔اس سفر میں کہانی، حکایت، وقائع ، قصے اور داستان سے نکل کر ناول اور افسانے کے روپ میں نئے نئے اسالیب اور جہتوں کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔
حقیقت یہ ہے کھانے ، پینے ، سونے کی طرح کہانی بننا اور سننا بھی انسانی جبلت میں داخل ہے۔ زمانۂ قدیم میں کوئی شخص جب دور دراز کا سفر کرکے اپنے گروہ میں واپس آتا تو وہ جو واقعات کے بیان میں تخیل ، توہم ، حقیقت اور مبالغے کے آمیزے سے جو کچھ بیان کرتا بنیادی طور پر یہیں سے کہانی کا آغاز ہوا۔ اسی طرح ہر خطے کے عقائد اور اساطیر تشکیل پائے۔ یہ وہ بنیادی سچائیاں ہیں جو انسان کے شعور اور لاشعور نے جنم دیں۔ پوری انسانی تاریخ کی تہذیب، شعور و لاشعور کا مطالعہ قصے کہانیوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ واقعات کے بیان سے قصے کا سفر انسانی شعور کی ایک بڑی جست ہے۔ اس میں انسانی طبائع کی کہانی سے دلچسپی کا اظہار بھی موجود ہے۔ پھر ایک وقت آیا جب داستان گوئی کو باقاعدہ ایک فن کا درجہ مل گیا۔ آج کا مہذب انسان بھی قدیم انسانو ں کی طرح قصہ ، کہانی میں دلچسپی لیتا ہے۔ انسانی تہذیب کے زینوں پر سفر کرتا آج کا انسان اگرچہ رفعتوں کی منزلوں پر جا پہنچا ہے لیکن وہ آج بھی کہانی ، قصہ ، داستا ن کے ذریعے انسانی فطرت کے سربستہ رازوں سے آگہی حاصل کرکے اپنی مہذب زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔
داستان گوئی انسان کا قدیم مشغلہ رہا ہے اور یہ کسی نہ کسی صورت میں ہر خطے میں پایا جاتا ہے۔ داستان بنیادی طور پر کہنے کا فن ہے۔ اس میں کہانی کے پیرائے میں مثالی ہیرو اور اس کے رفقاء کے کارنامے ، رزم و بزم ، حسن و عشق کی خیالی باتیں اور محیر العقول واقعات کو زمانی و مکانی بعد کے باوجود اس طرح پیش کیا جاتاہے کہ سننے اور پڑھنے والیاسے اپنے ماحول کا حصہ سمجھنے لگے۔ داستان میں دلچسپی کا عنصر بہت بنیادی ہے اس لیے داستان گو کو کمال مہارت کے ساتھ واقعات کو ترتیب دینا ہوتا ہے۔ غیر معمولی کرداروں کے ذریعے غیر معمولی واقعات اور فضا کو خلق کیا جاتا ہے۔ مبالغے کا فنی استعمال ہی دراصل داستان کے حسن میں اضافے کا موجب ہوتا ہے۔ داستان گو تخیل کی آزادی اور مبالغے کے استعمال کے باوجود اپنے آپ کو حقیقی دنیا سے جوڑے رکھتا ہے اور اپنے تخیل کی آبیاری حقیقی دنیا کے تجربات سے کرتا رہتا ہے۔
قصہ ، کہانی ، حکایت اور وقائع نگاری سے دلچسپی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اس فن کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ انسانی شعور اور تہذیب کے ارتقائی سفر کے ساتھ ساتھ اس فن میں بھی تغیر و تبدل کا سلسلہ جاری رہا۔ آج جب انسان زمانہ قبل از تاریخ کے عہد سے سفر کرتا ہوا ، قدیم و جدید کی منزلیں پار کرکے مابعد جدید عہدکے فکری حصار میں سانسیں لے رہا ہے۔اس سفر میں کہانی، حکایت، وقائع ، قصے اور داستان سے نکل کر ناول اور افسانے کے روپ میں نئے نئے اسالیب اور جہتوں کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔
حقیقت یہ ہے کھانے ، پینے ، سونے کی طرح کہانی بننا اور سننا بھی انسانی جبلت میں داخل ہے۔ زمانۂ قدیم میں کوئی شخص جب دور دراز کا سفر کرکے اپنے گروہ میں واپس آتا تو وہ جو واقعات کے بیان میں تخیل ، توہم ، حقیقت اور مبالغے کے آمیزے سے جو کچھ بیان کرتا بنیادی طور پر یہیں سے کہانی کا آغاز ہوا۔ اسی طرح ہر خطے کے عقائد اور اساطیر تشکیل پائے۔ یہ وہ بنیادی سچائیاں ہیں جو انسان کے شعور اور لاشعور نے جنم دیں۔ پوری انسانی تاریخ کی تہذیب، شعور و لاشعور کا مطالعہ قصے کہانیوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ واقعات کے بیان سے قصے کا سفر انسانی شعور کی ایک بڑی جست ہے۔ اس میں انسانی طبائع کی کہانی سے دلچسپی کا اظہار بھی موجود ہے۔ پھر ایک وقت آیا جب داستان گوئی کو باقاعدہ ایک فن کا درجہ مل گیا۔ آج کا مہذب انسان بھی قدیم انسانو ں کی طرح قصہ ، کہانی میں دلچسپی لیتا ہے۔ انسانی تہذیب کے زینوں پر سفر کرتا آج کا انسان اگرچہ رفعتوں کی منزلوں پر جا پہنچا ہے لیکن وہ آج بھی کہانی ، قصہ ، داستا ن کے ذریعے انسانی فطرت کے سربستہ رازوں سے آگہی حاصل کرکے اپنی مہذب زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔
داستان گوئی انسان کا قدیم مشغلہ رہا ہے اور یہ کسی نہ کسی صورت میں ہر خطے میں پایا جاتا ہے۔ داستان بنیادی طور پر کہنے کا فن ہے۔ اس میں کہانی کے پیرائے میں مثالی ہیرو اور اس کے رفقاء کے کارنامے ، رزم و بزم ، حسن و عشق کی خیالی باتیں اور محیر العقول واقعات کو زمانی و مکانی بعد کے باوجود اس طرح پیش کیا جاتاہے کہ سننے اور پڑھنے والیاسے اپنے ماحول کا حصہ سمجھنے لگے۔ داستان میں دلچسپی کا عنصر بہت بنیادی ہے اس لیے داستان گو کو کمال مہارت کے ساتھ واقعات کو ترتیب دینا ہوتا ہے۔ غیر معمولی کرداروں کے ذریعے غیر معمولی واقعات اور فضا کو خلق کیا جاتا ہے۔ مبالغے کا فنی استعمال ہی دراصل داستان کے حسن میں اضافے کا موجب ہوتا ہے۔ داستان گو تخیل کی آزادی اور مبالغے کے استعمال کے باوجود اپنے آپ کو حقیقی دنیا سے جوڑے رکھتا ہے اور اپنے تخیل کی آبیاری حقیقی دنیا کے تجربات سے کرتا رہتا ہے۔
علامت میں لفظ لغوی اور باطنی ہر دو سطح پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لفظ کی باطنی معنویت مخصوص پس منظر کی حامل ہوتی ہے۔ اس سے کوئی معاشرتی، تہذیبی ، اساطیری یا مذہبی حوالہ جڑا ہوتا ہے۔
اردو شاعری میں صنم، شیخ، واعظ ، دشت، چاند، صحرا داستانوں میں دیو مالائی عناصر طلسم، آبِ حیات، خضر ، جنگل، دیو، جن، پری مختلف علامتوں کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔
غالب، اقبال، راشد، میراجی ، فیض نے اردو شاعری کے علامتی سرمائے کو نئی جہت عطا کی اور نئی نئی علامتیں ترتیب دیں۔ ان کی علامتوں کی ظاہری اور باطنی ارتباط سے بلاغت کا عمل مکمل ہوتا ہے۔
علامت نگاری کے عام طور پر تین معروف طریقے رائج ہیں۔ پہلا طریقہ آسمانی صحائف ، اساطیر، لوک کہانیوں، حکایتوں اور قدیم داستانوں کا استعمال۔ ان میں قرآن اور انجیل سے استفادہ عام ہے۔ قدیم اساطیر میں یونانی اور ہندوستانی دیو مالا خاص طور پر استعما ل میں آتی ہیں۔
قدیم اساطیر میں یونانی اور ہندوستانی دیومالا خاص طور پر استعمال میں آتی ہیں۔ اسی طرح زیادہ تر عربی اور فارسی کی حکایات، ملفوظات اور داستانوں سے اخذ کی گئی ہیں میں تاریخی شخصیتوں کو بھی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ دوسرا طریقہ فطرت اور مظاہر ِ فطرت میں سے بعض اشیاء اور چرند پرند کوعلامت کے طور پر استعمال کرنے کا رہا ہے۔ تیسرا طریقہ بعض ایجادات اور روزمرہ استعمال میں آنے والی چیزوں کو بطور علامت پیش کرنا ہے۔ علامت سازی کے ان تینوں طریقوں کے علاوہ بھی دیگر طریقے موجود ہیں جنھیں علامت نگار گاہے بگاہے استعمال کرتا ہے۔
1۔ شے بطور علامت۔2۔ منظر بطور علامت3۔ کردار بطور علامت 4۔ افسانہ بطور علامت
انسان کا فکری نظام ایک دن میں ترتیب نہیں پاتا۔ ابتدائے اآفرینش سے لے کر موجودہ عہد تک جو کچھ تغیرات رونما ہوئے وہ انسانی فکر کا اثاثہ ہیں۔ مذاہب نے بھی روحانی اور اخلاقی تعلیمات کے لیے انسانی تاریخ کو قصوں اور کہانیوں کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس تاریخی ورثے کو ادب کی عمومی زبان میں اساطیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یونانی اساطیر آج اپنے ادبی ورثے کی بدولت زندہ ہے۔ اگر اس ادبی خزینے کو قلم زد کر دیا جائے تو پوری یونانی تہذیب اور اساطیری شناخت کی عمارت منہدم ہو جائے گی۔ قرآن مجید میں بھی ماضی کے تاریخی واقعات کا بیان انسان کے قدیم فکری نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربوں کے سامنے جب قرآن پڑھا گیا تو انھوں نے اسے” اساطیر الاولین” (سورۃ الانعام) کہا۔ مذہبی روایات و اعتقادات کو جب مذہبی کتب کے ذریعے پڑھا اور سمجھا جاتا ہے تو ان کی حیثیت مسلمہ ہوتی ہے اور جب یہ واقعات ادبی اور تخلیقی رنگوں میں بیان کیے جاتے ہیں تو ان کی حیثیت اساطیری ہو جاتی ہے۔
علامت صرف مغربی تحریک کی پیداوار نہیں ہے۔ یہ قدیم ترین ادب میں بھی کسی نہ کسی طور موجود ہے خصوصاً مشرقی ادب کی داستانیں علامتوں کی فیاضی کا اظہار ہیں۔ سومیری تہذیب کی پہلی دیومالا نن لل سے لے کر سب رس تک علامتوں کا ایک تسلسل ہے جو انسانی تہذیب و ادب کے ساتھ رواں دواں نظر آتا ہے۔
اردو میں تمثیل نگاری کا پہلا کامل نمونہ ” سب رس ” کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ تمثیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کی دو سطحیں ہوں۔ 1۔ظاہری سطح۔ 2۔باطنی سطح۔ اس کر کردار بھی دوہری معنویت کے حامل ہوتے ہیں۔ ظاہری کردار ہم عکس باطنی کرداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دونوں میں ایک خفی قرابت مستقل طور پر قائم رہتی ہے۔ ” سب رس” اس لحاظ سے اردو کی ایک کامیاب تمثیل ہے۔ جس کا ظاہری بیانیہ اس کی خفی صورت کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔ ” سب رس” کا موضوع آبِ حیات کی جستجو ہے۔ جس کے سہارے عشق و دل کے تعلقاتِ باہمی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دل عشق کا منبع ہے۔ حسن کو پالینے کی چاہت میں اسے مختلف کٹھن منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ فراق و وصا ل کی یہ کیفیت حقیقت و مجاز دونو ں کی نمائندگی کرتی ہے۔
دل جو کہ اس داستان کا ہیرو ہے عشقِ حقیقی کی آماجگاہ ہے۔ دل کا باپ عقل مصلحت کوش اور سود و زیاں کا حساب رکھنے والا کردار ہے۔ حسن کا دل سے وصال دراصل آبِ بقا کی خواہش ہے۔ ایک قطرے کی سمندر میں مل کر امر ہو جانے کی خواہش کا نام ہے۔ راہِ سلوک کے سفر کو ” سب رس” میں تمثیلی پیراہن عطا کیا گیاہے۔
حامد چھپروی لکھتے ہیں:
ملا وجہی نے اپنے بے مثال ایمائی انداز ِ بیان سے اس تمثیل کو جاندار بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سب رس کے کردار غیر مجسم کیفیات انسانی ہیں لیکن وجہی نے ان کو الفاظ کے جامے میں اس طرح ملبوس کر دیا ہے کہ نظر کی جاسوسیوں ، رقیب کی چیرہ دستیوں ، غمزہ کی نزاکتوں اور زلف کی برہمی کے ساتھ ساتھ عقل ہر جگہ محو ِ تماشائے لبِ بام اور دل ہر جگہ آتشِ نمرور میں چھلانگ لگاتا نظر آتا ہے۔
اردو کی پہلی نثری داستان ” سب رس” بھی ایک تمثیل ہے۔ اس میں بھی علامتوں کے تسلسل نے تمثیلی پیراہن عطا کیا۔ امر ہونے کی خواہش اور آبِ حیات کا حصول اس داستان کی بنیادی روح ہے لیکن حسن ، دل، عقل تمام کے تمام کردار مجرد ہونے کے باوجود علامتی رنگ لیے ہوئے ہیں۔ ملک ِ سیستان کے بادشاہ عقل کا بیٹا دل آبِ حیات کا متلاشی ہے او رشہرِ دیدار کے باغ رخسار میں آبِ حیات کے چشمے کی کھوج میں بہت سی تکلیفیں برداشت کرتا ہے اور آخر میں حضرت خضر دل اور حسن کیسامنے اس رازکو منکشف کرتے ہیں۔ ہندی اساطیر میں امر ہونے کی خواہش اور عجمی تہذیب میں آبِ حیات یا آبِ بقا کو پانے کی روایات موجود ہیں۔ـ’’سب رس‘‘کی ساری علامتیں ہندی اساطیر اور عجمی تصوف کی پیداوار ہیں۔
داستان کسی بھی روپ میں پیش کی جائے سننے سنانے سے لے کر لکھنے لکھانے تک اس میں انسانی شعور مسلسل تبدیلیاں کرتا رہتا ہے۔ یہ اساطیری بنیادیں ہی اسے علامتی رنگ عطا کرتی ہیں۔
فورٹ ولیم کالج سے پہلے لکھی جانے والی داستانوں مین نوآئینِ ہندی بہت اہم ہے۔ یہ داستان بنیادی طور پر اگرچہ ملک معمر اور گیتی افروز کے عشق کی روداد ہے۔ اس عشق و محبت کے قصے میں بھی اساطیری رنگ موجود ہیں۔ عشق میں ضبط کا پہلو بہت اہم گردانا جاتا ہے۔ ملک مہر کی طبیعت عشق کی شدت کو برداشت نہیں کر سکتی اور وہ اظہار کر دیتا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں وہ کئی بار تبدیلء قالب کے عمل سے گزرتا ہے۔ وہ بتدریج کبوتر ، مرغا، بیل اور کتے کے وجود میں منقلب ہوتا ہے۔ گیتی افروز( جو ایک پری ہے) سے ایک انسان کا عشق اور تبدیلء قالب کی بدولت یہ داستان ایک علامتی کائنات کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔ کبوتر، کتا اور بیل کا وجود علامتی معنویت کا حامل ہے۔
تبدیلیٔ قالب کی واردات اور اس کے اردگرد ظاہر ہونے والے تلازمات پر غور کیا جائے تو ان کی علامتی کیفیت میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ داستان گو عموماََ ان کو ایک ایمائی لباس عطا کرتا ہے جس سے علامتی پس منظر میں خاص روحانی منازل کو بیان کرنا مقصود ہے۔ جانور ، پرندوں اور پتھروں یا کسی اور رنگ میں انسانی وجود کی تبدیلی اصل میں روحانی کیفیات کی تبدیلی کا نام ہے۔ قدیم فلسفیوں کی کتب میں روحانی کیفیات کے بیان کی خاطر پرندوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اکثر داستانوں میں عشقِ حقیقی یا گیان کی منزلوں کے حصول کو مجازی عشق کے رنگ میں ڈھال کر پیش کیا گیا ہے۔ حقیقت کے ادراک کی جدوجہد میں ہمیشہ راہِ عشق کے مسافر کو عفریتوں ، بلاؤں اور دیو زادوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ سارے عناصر نفسِ امارہ کی علامت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
عجائب القصص بھی بظاہر ایک عشقیہ داستان ہے لیکن اس کی علامتی معنویت حق کی تلاش کے گرد گھومتی ہے۔ شہزادہ شجاع الشمس کئی دیووں اور جادوگروں کو زیرکرتا ہے۔ یہ اساطیر کے وہ عناصر ہیں جو داستان کا مرکزی حصہ ہیں۔
باغ و بہار اگرچہ طبع زاد داستان نہیں ہے لیکن اردو داستان کے سرمائے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ بہ ظاہر اس داستان میں ماورائیت کی فضا اتنی حاوی نہیں ہے لیکن پھر بھی اس میں اساطیری علائم موجود ہیں۔
داستان بنیادی طور پر انسان کے ایسے جذبوں کا اظہار ہے جو ناآسودہ رہ جاتے ہیں۔ انسانی تخیل ان ناآسودہ خواہشات کو مثالی کرداروں کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ داستان کا ایک پہلو ایک مثبت اور کامل معاشرے کی تصویر بنانا ہے چنانچہ اردو کی اکثر داستانیں اپنے عصری خدوخال کو علائم کے پردوں میں پیش کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ باغ و بہار کا آغاز بھی دیگر داستانو ں کی طرح بادشاہ کی توصیف سے ہوتا ہے:
آگے ملکِ روم میں ایک بادشاہ تھا، نوشیرواں کی سی عدالت، حاتم کی سی سخاوت اس کی ذات میں تھی۔ نام اس کا آزاد بخت اور شہر قسطنطنیہ اس کا پایہ تخت تھا۔ اس کے وقت میں رعیت آباد ، خزانہ معمور ، لشکرِ حرفہ، غریب غرباء آسودہ امن و چین سے گزران کرتے۔
توتا کہانی بھی ایک مکمل علامتی داستان ہے۔ اس کے کردار دوہری معنویت کے حامل ہیں۔ سوداگر لاشعور کا وہ منہ زور گھوڑا ہے جو اخلاقی حدود و قیود کو پھلانگنا چاہتا ہے۔ توتا اس داستان میں اخلاقیات کا نمائندہ ہے جو خجستہ کو اخلاقی و تہذیبی حدود کے دائرے میں رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ توتا کہانی میں موجود چوبیس حصے دراصل وہ دلائل و براہین ہیں جو توتے کے توسط سے بیان ہوئے ہیں۔
رانی کیتکی کی کہانی ، بیتال پچیسی ، سنگھاسن بتیسی ہندی اساطیر کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ الف لیلیٰ ، بوستانِ خیال اور داستانِ امیر حمزہ میں عربی و عجمی تہذیبی روایات کو پیش کیا گیا ہے۔ موخرالذکر داستانوں پر ہندی اساطیر کا اتنا اثر نہیں ہے۔ ان میں ساحری ، طلسم ، جنگ و جدل کا بیان علاحدہ معنویت کا حامل ہے۔
داستان کی عمومی علامتی معنویت ، معرفت کا حصول ، حقیقت ِ حسن سے آگاہی ، نظامِ فطرت کی توجیہات کے گرد گھومتی ہے۔ یہ داستان میں علامت کی مضبوط روایت تھی جس نے اردو میں علامتی ناول اور افسانے کو بنیادیں فراہم کیں۔
داستانیں صرف توہماتی زمانے میں مقبول ہوئی ہیں جبکہ ناول حقیقت پسندی کے زمانیمیں فروغ پاتا ہے۔ اردو ناول کی بنیادیں ہی چونکہ حقیقت پر رکھی گئی ہیں اس لیے علامت کا فروغ اس ابتدائی عہد میں ممکن نہ تھا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1947ء تک کے ناول حقیقت پسندی کے ترجمان تھے۔ شرر کے تاریخی ناولوں کو اگرچہ رومانویت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن اس میں بھی علامتی اظہار کی نشانیاں نہیں ملتیں۔ علامت کسی بھی صنف میں پختگی کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ علامت کی تشکیل میں صرف فردِ واحد شامل نہیں ہوتا بلکہ اس میں ماحول، معاشرہ اور وقت بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ جب ناول نگارکوئی علامت استعمال کرتا ہے تو اس علامت کا تعلق صرف اس کی ذات سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے پس منظر میں مختلف تہذیبوں کا اجتماعی شعور موجود ہوتا ہے۔ یہی اجتماعی شعور تخلیق کار کی طرف سے استعمال کی جانے والی علامتوں کی معنویت تک رسائی حاصل کرسکے۔
علامت سازی ایک مسلسل اور ہمہ گیر عمل ہے۔ انسانی ذہن ، فکری ، تخیلی اور محسوساتی کیفیات کے باہمی ربط سے ان کی علامتی حیثیتوں کو متعین کرتا رہتا ہے۔علامت میں فکر و احساس کا اظہار چونکہ براہِ راست نہیں ہوتا بلکہ ان تصورات و محسوسات کو بالواسطہ عناصر کے سہارے پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے علامتی اظہار تخلیق کار سے فنی پختگی اور ریاضت کا تقاضا کرتا ہے۔
ناول کی وہ خصوصیات جو اسے داستان سے ممیز کرتی ہیں وہ حقیقت نگاری ، کرداروں کے ذریعے زندگی کی فلسفیانہ گہرائیوں کو پیش کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں داستانیں محیر العقول واقعات کا مجموعہ تھیں جس میں روایات، تخیل او راساطیر کا بڑا گہرا دخل تھا۔ اردو ناول داستانوی ادب کی ماورائیت سے نکل کر زندگی کی حقیقتوں کی نمائندگی کے طور پر سامنے آیا۔اردو ناول اور اردو افسانہ رومانویت اور حقیقت پسندی کی بنیاد پر آگے بڑھے لیکن اس کیباوجود ناول کے آغاز سے ہی تخیلی انداز اظہار کے رنگ ملتے ہیں۔ تمثیلی قصے اگرچہ پہلے بھی لکھے گئے ہیں لیکن ان میں ماورائیت کا عنصر بہت نمایاں ہے یہی وجہ ہے کہ انھیں تمثیلی داستانوں کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ مولوی نذیر احمد سے قبل کریم الدین مصنف تذکرہ طبقات الشعراء ہند نے ایک تمثیلی کہانی “خطِ تقدیر “کے عنوان سے 1862ء میں لکھی ڈاکٹر محمود الٰہی نے اسے اردو کا پہلا ناول قرار دیا ہے۔
مولوی نذیر احمد کے مراۃ العرو س کو عام طور پر اردو کا پہلا ناول کہا جاتا ہے لیکن مراۃ العروس کی اشاعت 1869ء سے قبل خطِ تقدیر کے تین ایڈیشن شائع ہوچکے تھے۔ اس سے خطِ تقدیر کے زمانی تقدم کی حیثیت اور مقبولیت مسلمہ ہے۔ بہرحال اس وقت مولوی نذیر احمد اور کریم الدین کے پہلے ناول نگار ہونے کی بحث مقصود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ “خطِ تقدیر ” میں ابتدائی ناول کے آثار موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی اہمیت اس سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مصنف نے اسے ایک تمثیلی ناول/کہانی کے روپ میں پیش کیا ہے۔ کریم الدین دلی کالج سے منسلک رہے اور انھوں نے ڈاکٹر فیلن کے ساتھ مل کر کئی علمی کام بھی کیے۔ وہ انگریزی زبان کو سمجھتے تھے اور اس کے علمی خزانے سے بھرپور فائدہ بھی اٹھایا۔ وہ انگریزی زبان میں موجود علمی و ادبی خزینے کے معترف تھے۔ وہ اردو زبان کو بھی اس مقام پر دیکھنا چاہتے تھے۔ انھون نے خطِ تقدیر کے دیباچے میں روایتی قصہ گوئی کے نقائص پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے نئے انداز کی کہانی لکھنے کی ترغیب دی ہے اور بذاتِ خود انھوں نے اس نئے پن کا آغاز خطِ تقدیر کے ذریعے کیا ہے۔
اس کی ضرورت اس واسطے دامن گیر ہوئی کی سات سو برس سے عربی اور ترکی میں اور ایک سو برس سے ہندی اور اردو میں قصہ نویسی کا جو شوق لوگوں کو ہوا تو اس دن سے آج تک یہ دستور رہا ہے کہ ان مصنفوں نے بادشاہوں یا تاجروں یا فقیروں کی کہانیاں لکھی ہیں۔۔۔ جس راہ پر اول مصنف چلا تھا وہی سڑک آج تک جاری ہے۔ کسی نے دوسری روش اختیار کرنے کا خیال بھی نہیں کیا۔
جیسا کہ ان کے اقتباس سے ظاہر ہے کریم الدین نے پیش لفظ میں روایتی قصہ نگاری کی مخالفت کی ہے اور ایشیائی طرز کے روایتی قصوں کے بجائے نئی چال چلنے کی (مراد انگریزی طرز کے ناول لکھنے کی ) ترغیب دی ہے۔
خطِ تقدیر ایک تمثیلی کہانی ہے۔ اس کے تمام کردار بھی تمثیلی حیثیت کے مطابق منتخب کیے گئے ہیں۔ جیسے عقل، تدبیر، ملکہ تقدیر ، فیضان، خوب صورتی ، آمدنی، خرچ، کفایت شعاری ، چترائی وغیرہ۔ اس ناول نما کہانی میں تمثیلی انداز میں تقدیر و تدبیر کا مجادلہ دکھایا گیا ہے اور آخر میں کریم الدین نے یہ نتیجہ نکالا کہ انسان کو کامیاب زندگی گزارنے کے لیے تعقل پسندی سے کام لینا چاہیے۔ مصنف نے اس خیال کو بڑی مہارت سے تمثیلی کہانی کے ذریعے پیش کیا ہے۔ کریم الدین نہ صرف مشرقی ادب کی تمثیلوں کو پڑھ چکے تھے( سب رس، طوطا کہانی، انوارِ سہیلی، اخوان الصفا مشرقی مذاق کی نمائندگی کرتی ہیں) بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تمثیلوں سے بھی آگاہ تھے اور انھوں نے ایسی ہی تمثیلوں سے متاثر ہو کر خطِ تقدیر لکھی ہے۔ خطِ تقدیر اور اردو کی دیگر تمثیلوں میں بڑا بنیادی فرق ان کے ماحول کا ہے۔ خطِ تقدیر تمثیل ہونے کے باوجود ارضی حقیقتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں ماورائیت کا احساس نہیں ہوتا۔
خطِ تقدیر ایک تمثیلی کہانی ہے۔ علامت اور تمثیل کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ دونوں مجازیت کے خاندان سے ہیں۔ان میں حقیقی معنی مراد نہیں لیے جاتے۔ ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ تمثیل اخلاقی جواز پیدا کرنے کے لیے لکھی جاتی ہے اور اس میں ناول نگار پوری شعوری کوشش اور کرداروں کے باہمی ربط سے کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ تمثیل اور علامت ہر دو کا رشتہ اساطیر اور دیومالا سے بھی ملتا ہے۔ تمثیل کا لازمی تعلق استعارے سے ہوتا ہے او ر اس میں قطعیت پائی جاتی ہے۔ تمثیل جس شے کا اظہار کرتی ہے وہ اس سے باہمی تعلق کا اعلا ن بھی کرتی ہے جبکہ علامت جس شے کی نمائندگی کرتی ہے اس کا اظہار نہیں کرتی۔
تمثیل یا Allegary ایک ایسی کہانی نما شے ہے جس کا ایک پورا علامتی نظام ہوتا ہے لیکن یہ علامتیں محض ان مجردات اور ان کے روابط کو حتیٰ الامکان صحت کے ساتھ قریبی اشیاء اور واقعات کی شکل میں پیش کرتی ہیں۔ تمثیل مجردات کو بھی واضح اور متشکل صورت میں پیش کرتی ہے۔
مولوی کریم الدین کی اولیت اور خطِ تقدیر کی اہمیت اس میں ہے کہ انھوں نے ایک آزاد تخلیق پیش کی ہے۔ اس طرح انھوں نے ترجمے سے ہٹ کر ایسے تمثیلی قصے کی بنیاد رکھی جو مشرقی روش اور طرز سے الگ تھا اور جس میں اردو ناول کے اولین خدو خال صاف نمایاں ہیں۔
خطِ تقدیر” وہ ابتدائی ناول ہے جس میں تمثیلی کائنات تخلیق کی گئی ہے۔ مجازیت کے اس اظہار میں باہمی ربط کی بدولت کہانی کو مخفی نہیں رکھا گیا بلکہ واقعات اور کرداروں کے نام اور انسلاکات تصویر کو روشن کر دیتے ہیں جبکہ علامت میں یک رخا پن اور اتنی واضح تصویر نہیں ہوتی بہرحال مجازیت کے خاندان کا حصہ ہونے کی وجہ سے ہم تمثیل کو علامت اور استعارے کے استعمال کی ابتدائی شکل قرار دے سکتے ہیں۔
مولوی نذیرا حمد نے برصغیر کے متوسط مسلم طبقے کی طرزِ حیات کو موضوع بنا کر اصلاحی کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ یہی اصلاحی کہانیاں اردو ادب میں ناول کے ورود کا جواز ٹھہریں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولوی نذیر احمد نے داستان کے عہدکو ناول کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ناول کی وہ شکل جسے ہم مغرب کی دین لیتے ہیں وہ مولوی نذیر احمد سے پہلے اردو میں مفقود ہے۔ مولوی نذیر احمدنے کہانی کو حقیقت سے قریب لا کر عمومی زندگی کے مسائل کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا ہے۔ انھوں نے درج ِ ذیل ناول لکھے۔
مراۃ العروس(1869ء ) بنات النعش (1873ء ) ، توبۃ النصوح (1874ء )، ابن الوقت، فسانۂ مبتلا، رویائے صادقہ اور ایامیٰ۔ زیادہ تر ناقدین نے مولوی نذیر احمد کو اردو زبان کے اولین ناول نگار کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے کیوں کہ انھوں نے داستان اور قصے کہانیوں کو تخیل اور ماورائیت کی اسیری سے نکال کر حقیقت سے قریب تر کر دیا۔
مولوی نذیر احمد کی وہ تصانیف جن کو ناولیں کہا جاتا ہے (مراۃ العروس، بنات النعش، توبتہ النصوح، ابن الوقت، رویائے صادقہ، محسنات اور ایامیٰ ) دراصل تمثیلی افسانے ہیں۔
اس وقت مولوی نذیر احمد کوناول نگار کہنا یا تمثیل نگار کہنا یا وہ اردو کے اولین ناول نگار ہیں یا نہیں ہیں ہمارا موضوع نہیں ہے۔ مولوی صاحب چاہے تمثیل نگار ہیں یا ناول نگار اردو ناول کی تاریخ ان کا تذکرہ کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔
مراۃ العروس جسے اردو کا پہلا ناول کہا جاتا ہے کوئی علامتی ناول نہیں ہے۔ ایک سیدھا سادا بیانیہ قصہ ہے جس کی کہانی دو بہنوں اصغری اور اکبری کے گرد گھومتی ہے۔ اصغری سمجھ دار اور سگھڑ عورت کے روپ میں ہمارے سامنے آتی ہیجبکہ اکبری ایک پھوہڑ اور بدمزاج بیوی کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتی ہے۔ بہ ظاہر یہ ناول واقعیت نگاری اور اصلاحی ومقصدی ادب کی ایک مثال ہے لیکن کہانی جوں جوں آگے بڑھتی جاتی ہے تو اصغری اور اکبری صرف حقیقی کردار کی صورت میں ہمارے سامنے نہیں رہتیں بلکہ ان کا کردا رایک علامتی معنویت کا حامل بن جاتا ہے۔ مولوی صاحب نے ان دونوں کردارو ں کا تقابل کرکے اس کی علامتی معنویت کو مستحکم کیا ہے۔ اصغری اور اکبری کے علاوہ مراۃ العروس کے دیگر کردار مثلاََ دور اندیش خان، عاقل، ماما عظمت، ماما ریاست اسم بامسمیٰ ہونے کی وجہ سے تمثیلی کردار بن جاتے ہیں۔
بنات النعش(1872ء ) دراصل مراۃ العروس کا دوسرا حصہ ہے۔ احسن فاروقی نے اسے تعلیمی تمثیل قرار دیا ہے۔ مولوی صاحب چونکہ ایک ماہرِ تعلیم بھی تھے اس لیے انھوں نے مختلف طریقہ ہائے تدریس اور تعلیم کی اہمیت کواس ناول کے ذریعے بیان کیا ہے۔ اس ناول میں وہ نو آبادیاتی فکر کی بھر پور نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔
توبتہ النصوح (1874ء ) ایک اصلاحی ناول ہے اس میں مذہب اور اخلاقیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ جس میں مولانا نے مخصوص حالات کو سامنے رکھ کر مذہبی اقدار و اخلاقیات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ تربیتِ اولاد ، آخرت ، روزِ حشر کو سامنے رکھ کر مولوی صاحب نے اس ناول کو دنیا و آخرت دونوں کو سنوارنے کا درس دیا ہے۔ اس ناول کے کردار ہی صرف علامتی معنویت کے حامل ہیں اس کے علاوہ باقی ساری کہانی واقعاتی حقیقت پسند ی کا نمونہ ہے۔ نصوح ، کلیم، ظاہر دار بیگ تینوں کرداروں کے نام ہی دراصل ان کی شخصیت کے عکاس ہیں۔ نصوح اپنے بچو ں کی تربیت کے لیے بہت پریشان رہتا ہے اور ان کی ہر صورت میں اصلاح چاہتا ہے تاکہ اس کی اور اس کے بچوں کی آخرت سنور سکے۔ پورے ناول میں اصلاحی و اخلاقی نصیحتیں کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کلیم اس عہد کے ایسے نوجوان کی نمائندگی کرتا ہے جو شعر و ادب سے شغف رکھتا ہے۔ اس نے ایک لائبریری بنا رکھی ہے جس میں فنونِ لطیفہ پر کتب کا ایک ذخیرہ موجود ہے جبکہ ظاہر دار بیگ ایک تصنع پسند اور کھوکھلے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جو حقیقت میں کچھ اور ہے لیکن سماج میں اپنے آپ کو ایک مختلف روپ میں پیش کرتا ہے۔
فسانۂ مبتلا (1885ء)اور رویائے صادقہ (1892ء ) میں بھی مسلمانوں کے سماجی اور مذہبی معاملات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان دونو ں ناولوں میں بھی بیانیہ انداز اپنایا گیاہے۔ کرداری سطح پر اسم بامسمیٰ ہونے کی بدولت کچھ مجازیت کے اثرات ضرور دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں ان ناولوں میں کہیں بھی علامتی اظہار نہیں ہو اہے۔
ایامیٰ (1891ء) نذیر احمد کے سیاسی ، سماجی شعور کا آئینہ دار ہے۔ا س میں ایک بیوہ کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردارآزادی بیگم کا ہے۔ جو ناول کے آغازمیں ہی بیوہ ہو جاتی ہے۔ ہندوستان میں عموماََ بیوہ کی شادی کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس سماجی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے مولوی نذیر احمد نے اس ناول کا پلاٹ ترتیب دیا ہے۔ ناول کے آخری حصے میں آزادی بیگم بسترِ مرگ پر لیٹے پردے کے پیچھے مردوں کو ایک وصیت کرتی ہے کہ بیوہ عورتوں کی شادی ضرور کردینی چاہیے کیوں کہ اس سے کئی سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ابن الوقت(1888ء )بھی مولوی نذیر احمد کے اصلاحی و مقصدی پروگرام کی ایک کڑی ہے البتہ اس ناول میں سیاسی ، سماجی او ر تہذیبی شعور کا بھی اظہار ہوا ہے۔ ابن الوقت ناول بھی ہے اور بذاتِ خود ایک کردار بھی ہے۔ لفظ ابن الوقت کی معنویت میں مجازیت کے اسرار موجود ہیں۔ ابن الوقت 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد اپنے عمل و کردار سے انگریزوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مسٹر نوبل کے توسط سے انگریز حلقوں میں اس کو بڑی پزیرائی ملتی ہے۔ وہ مغربیت کو اپنے اوپر طاری کر لیتا ہے۔ مولوی نذیر احمد بھی اگرچہ مغربی نظام کے پروردہ تھے لیکن انھوں نے ابن الوقت کی مغربیت اورروشن خیالی کو شدید طنز کا نشانہ بنایا ہے اور خجستہ السلام کے ذریعے اسے اپنی اقدار اوراسلامی روایات کی پاسداری کی تلقین کرتے ہیں۔ سرسید کی روشن خیالی اور جدت پسندی کے پیشِ نظر بہت سے ناقدین کوابن الوقت کے روپ میں دراصل سرسید احمد خان کی تصویر نظر آئی۔
ناول میں کردار نگاری کی بنیاد مطالعہ فطرت انسانی اور قوت ِ مشاہدہ کے باہمی امتزاج پر منحصر ہے۔ کہانی کی حیثیت سے ان کے قصوں کے موضوعات اور بیانیہ انداز انھیں سماجی حقیقت نگاری کے قریب کر دیتا ہے لیکن ان کے کرداروں کی خصوصیات اور ان کے ناموں کی باہمی مطابقت کی بدولت خفیف سا علامتی و تمثیلی رنگ تشکیل پاتا ہے جس میں اردو ناول میں علامت ، تمثیل اور واقعیت کے امتزاج کے ایک تجربے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ ناقدین نے مولوی نذیراحمدکے ناولوں کی اس خصوصیت کو خامی پر محمول کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولوی نذیراحمد کے ناول اردو میں نقشِ اول کے طور پر لیے جا سکتے ہیں۔
ان کے ناولوں کی بنیاد پر جدید ناول اور افسانے کی عمارت تعمیر ہوئی ہے۔ مولوی نذیراحمدنے جس عہد میں ناول لکھنے شروع کیے وہ دور ادب میں حقیقت پسندی کا دور تھا۔ اس زمانے میں علامت نگاری یورپ میں بھی مقبول نہیں ہوئی تھی البتہ داستا نوں اور تمثیلوں میں یہ رنگ کسی نہ کسی طور موجود تھا۔ اس رنگ کی خفیف سی جھلکیاں ہمیں مولوی نذیراحمدکے ناولوں میں بھی نظر آتی ہیں۔
فسانۂ آزاد رتن ناتھ سرشارکا سب سے مشہور ناول ہے جس میں نواب آزاد اور اس کے مصاحب خوجی کے توسط سے پورے لکھنوی معاشرے کے رنگوں کو خوب صورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔سرشار کی تحریرمیں اپنے موضوعات اور فن کے اعتبار سے مولوی نذیر احمد کے اصلاحی ناولوں سے مختلف ہیں۔ ان میں واقعیت ، حقیقت ، تخیل اور رومان کے آمیزے سے بڑ ے جاندار نقشے مرتب کیے گئے ہیں۔ ان کے کردار (خصوصاََ خوجی )انسانی فطرت کی رنگینیوں سے بھرپور ہیں البتہ ان کے ناولوں میں فلسف? حیات کی کمی کھٹکتی ہے۔ ان کے ناولو ں کے جزوی حصے فنی اعتبار سے مکمل ہیں لیکن وہ کوئی مجموعی فلسف? حیات کو ترتیب دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ سرشار کا فن اور لکھنوی تربیت سے حاصل ہونے والی بے باکی ان کے ناولوں کو نذیر احمد کے روایتی مبلغانہ انداز سے زیادہ دلچسپ اور دلکش بنا دیتی ہے۔
اردو ناول نگاری کی روایت میں سرشار کے بعد عبدالحلیم شرر ایک معتبر ناول نگار کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ انھیں تاریخی ناول نگاری کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ تاریخی ناول نگار پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسے تاریخی حقائق کو مسخ کیے بغیرواقعات کو ناول کا پیراہن عطا کرنا ہوتا ہے۔ شرر کو تاریخ سے فطری دلچسپی تھی اور قصہ گوئی کے فن سے بھی آشنا تھے۔ انھوں نے تاریخ اور ناول کے امتزاج سے اصلاحِ معاشرہ کا کام لیا ہے۔ عبد الحلیم شرر نے ابتداء￿ میں سرشار کی پیروی میں ایک معاشرتی ناول ” دلچسپ ” لکھا لیکن انھیں جلد ہی احساس ہو گیا کہ وہ اس طرز پر اگر لکھتے رہے تو شاید وہ سرشار کے مقابل نہیں ٹھہر سکیں گے چنانچہ اصلاحِ قومی اور اپنے ذاتی خصائص کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تاریخی ناول نگاری کا فن اختیار کیا۔
اردو میں تاریخی ناول نگاری کی ادبی جہت شرر کی نسبت سے بہت مقبول ہوئی۔ ان کی پیروی میں کئی ناول نگاروں ان کی روایت کو آگے بڑھایا۔ حکیم محمد علی طیب شرر کے مقلدین میں ایک اہم نام ہے۔ انھوں نے شرر کی پیروی میں معاشرتی اور تاریخی ناول تحریر کیے۔ ان کے تاریخی ناولوں میں جعفر و عباسیہ ، خضر خان دیول دیولالوی اور رام پیاری قابلِ ذکر ہیں۔ طیب شرر کے مقلد ضرور ہیں لیکن ان کے ناول فنی اور تکنیکی اعتبار سے بہت کمزور ہیں۔ ان کے ناولوں کے پلاٹ سیدھے سادے اورسپاٹ ہیں۔ کردار نگاری میں بھی کوئی ایسی جسارت دکھائی نہیں دیتی البتہ اسلوب میں سادگی و سلاست اور ادبیت کا رنگ ضرور موجود ہے۔ یہ ناول اسلوب کے سادہ بیانیے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان میں علامتیت کا اظہار کہیں نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ طیب کے ناولوں کا ذکر صرف تذکروں اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے۔اردو ناول کے اس ارتقائی سفر میں سجاد حسین کسمنڈوی ، آغا شاعر ، شاد عظیم آبادی ، احمد علی شوق اور قاری سرفراز حسین کے نام بھی ناول نگاروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان ناول نگاروں کے ہاں ابتدائی روایات کی ادنیٰ درجے کی پیروی نظر آتی ہے۔ ان میں کوئی نیا تکنیکی تجربہ سامنے نہیں آتا۔ ان میں روایتی طرزِ اظہار اور بیانیہ کی تکنیک استعمال کی گئی۔ اس سفر میں خاتون ناول نگار کی حیثیت سے رشید? النساء بھی سامنے آتی ہیں۔ انھوں نے مولوی نذیراحمد اور راشد الخیری کی اصلاحی روایت کی پیروی میں اصلاح النساء کے نام سے ایک ناول لکھا۔ اس ناول کی خاص بات یہ ہے کہ ایک عورت کی فکر ناول کی ہئیت میں سامنے آئی ہے۔
انیسویں صدی کے اختتام تک اصلاحی، تاریخی اور معاشرتی ناول لکھے گئے۔دوسرے مولوی نذیر احمد ، سرشار اور شرر اور ان روایات کے بانی اور علم بردار ناول نگار تھے۔ آنے والے ناول نگاروں نے انیسویں صدی کے اختتام تک انھی موضوعات کو روایتی سادہ اور سپاٹ بیانیہ کے ساتھ آگے بڑھایا۔مرزا ہادی رسوا نے روایتی ناولوں کی عمومی گزرگاہ سے بچ کر اپنے تخلیقی اظہار کے لیے منفرد راہ نکالی۔ افشائے راز(نامکمل رہ گیا)، ذات شریف، شریف زادہ اور امراؤ جان ادا ان کے طبع زاد ناول ہیں۔ “امراؤ جان ادا” کے ذریعے رسوا نے اردو ادب میں نفسیاتی اور تجزیاتی ذرائع کو ناول کی تکنیک میں استعمال کیا۔ رسوانے زندگی کے عمومی واقعات کے پیچھے معاشرتی، تہذیبی ، سیاسی اورنفسیاتی محرکات کی نشاندہی کی ہے۔
امراؤ جان ادا فنی و تکنیکی اعتبار سے بھی ایک منفرد ناول ہے۔ رسوا نے اردو ناول میں پہلی مرتبہ آپ بیتی کی تکنیک کو استعمال کیا ہے۔ امراؤ صیغہ واحد متکلم میں اپنی کہانی سناتی ہے اور بہ ظاہر یہ ایک طوائف کی آپ بیتی ہے لیکن رسوا نے اپنے کمالِ فن سے اس کو پوری لکھنوی معاشرت و تہذیب کو پورے منطقی زاویوں کے ساتھ جور کر پیش کیا ہے۔ طوائف خانے کو لکھنو کے کلچر میں مرکزی حیثیت حاصل تھی جہاں ہر طبقے کے افراد آسانی سے آ جا سکتے ہیں۔ یہاں وہ رئیس اور امراء￿ بھی موجود ہیں جو طوائفوں پر سونے اور جواہرات لٹاتے ہیں اور پھر جب خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں تو پھر انھی طوائفوں کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ لکھنو کا نوابی عہد اور اس کے زوال کے مابعد کی صورت حال کو رسوا نے خوب صورتی سے پورٹریٹ کیا ہے۔ لکھنو کے انحطاط پذیر معاشرے کا یہ رنگ اس ناول میں اپنے بھر پور منطقی جواز کے ساتھ موجود ہے۔ اس ناول میں یہ معاشرتی اور تہذیبی اقدارا کے تغیرات کو بٰڑ ی باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ ناول اگرچہ سماجی حقیقت پسندی کی نمائندگی کرتا ہیاور اس میں آپ بیتی کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئیامراؤ کے قصے کو بیان کیا گیا ہے۔ عمومی سطح پر یہ سماجی حقیقت نگاری کی نمائندہ مثال ہے لیکن اگر اس ناول کو ایک اور کل اور اکائی کی صورت میں دیکھا جائے تو خانم کا طوائف خانہ پوری لکھنوی تہذیب کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے بذاتِ خود طوائف بھی سماجی علامت بن جاتی ہے۔
نیاز فتح پوری اردو ناول میں رومانویت کے ترجمان کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کے دو مختصر ناول ” شاعر کا انجام” اور شہاب کی سرگزشت” اپنے موضوع اوراسلوب کی بنیاد پر ناول کی عمومی روایت سے مختلف ہیں۔ ان کے یہ رومانوی ناول خشک مقصدیت اور روایتی اصلاح پسندی کے خلاف بغاوت ہیں۔ان دونوں ناولوں میں جذبات کی شدت کو بھر پور طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔
ایک شاعر کا انجام” جذباتیت سے معمور ہے۔ اس کے مقابلے میں شہاب کی سرگزشت میں رومانویت مذہبی اقدار کے خلاف بغاوت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ رومانویت کی سب سے بڑی علامت روایت سے بغاوت ہے اور نیاز فتح پوری کے ناول رومانویت کی مثال ہیں۔ نیاز نے اپنی رومانوی بغاوت کے ذریعے آنے والے ناول نگاروں کے لیے نئی وسعتوں کے در وا کیے ہیں۔
مرزا عباس حسین ہوش نے ربط ضبط ، افسانہ نادرہ جہاں اور المیمون کے نام سے ناول لکھے ہیں۔ المیمون اس حوالے سے ایک منفرد ناول ہے کہ اس میں نیم علامتی اور تمثیلی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس ناول میں انگریزی تسلط کے سماجی اثرات کو موضوع بنایاگیا ہے لیکن اسے روایتی سادہ بیانیے کے ذریعے پیش نہیں کیا گیا بلکہ ایمائی انداز اختیار کرتے ہوئے عباس حسین ہوش نے انگریزی تسلط پر طنز کے نشتر چلائے ہیں۔
پریم چند کے ناول ہندوستانی سماج، سیاسی اور تہذیبی حقائق کی دستاویز ہیں۔ ان ٹھوس حقیقتوں کے اظہار کے لیے انھوں نے سادہ طرزِ اظہار کو اپنایا ہے۔ وہ روسی ، انگریزی اور فارسی ادب کی روایات سے آگاہ تھے اور انھوں نے اس علمی آگاہی کو اپنے ناولوں کے فن میں اس خوب صورتی سے برتا ہے کہ ان کے ناول مولوی نذیر احمد ، سرشار ، شرر اور رسوا سے آگے بڑھ کر اردو ناول کی روایت کو مضبوط کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں لکھے جانیوالے ناولوں میں سیاسی اور نظریاتی پختگی کا احساس نمایاں ہے۔ یہ عہد برصغیر میں سیاسی شعور کا عہد ہے۔ مقامی سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ہونے والی فکری اور تہذیبی تغیرات برصغیر کے تخلیق کاروں کو بھی متاثر کر رہے تھے۔ اس کا احساس مختلف ناولوں میں اجاگر ہوا۔ ابتدائی عہد میں لکھے جانے والے ناول شخصی تجربات و خیالات کا اظہار تھے اور ان میں سماجی اصلاح کا پہلو نمایاں تھا۔ بیسویں صدی کے ناول نگاروں کا شعور ہمہ گیر ہے۔ ان کے ہاں سماجی ، سیاسی اور تہذیبی اقدار کو فلسفیانہ انداز میں دیکھنے اور سوچنے کا احساس نظر آتا ہے۔ یہ ناول قاری کو بھی سوچنے اور غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ فنی اور تکنیکی اعتبار سے بھی ان ناولوں میں پختگی نظر آتی ہے۔ روایتی بیانیوں سے نکل کر خود کلامی ، فلیش بیک ، شعور کی رو جیسی جدید تکنیکوں کا استعمال کیا گیا۔ قاضی عبدا لغفار نے خطوط اور ڈائری کی تکنیک کو اردو ناول کا حصہ بنایا۔
1947ء تک اردو ناول کی روایت مختلف تجربات کو اپنے اندرسمو کر پختگی کی راہ پر چل پڑی تھی۔ 1947ء کے بعد آنے والے ناول نگاروں نے روایت کے 80 سالہ اثاثے پر جدید ناول کی عمارت استوار کی۔
برصغیر میں اردو ناول کی بنیاد نو آبادیات کے وسیع الجہتی اثرات کی پیدا وار ہے۔اردو ناول کا آغاز داستانوں کی اساطیری روایت ، رومانویت اور ماورائیت کے مقابلے میں حقیقت پسندی کی بنیاد پر ہوا۔ اس لیے ان ناولوں میں موضوعاتی اور اسلوبیاتی ہر دو سطح پر حقیقت پسندی کو فروغ دیا گیا۔
عالمی سطح پر بھی علامتی تحریک انیسویں صدی کے اواخر میں فرانس اور برطانیہ میں شروع ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک اس عرصے میں وہاں بھی مقبول نہیں ہو سکی تھی۔ اس لیے اس تحریک کے اثرات خصوصاََ اردو ناول کے ابتدائی عہد پر ممکن نہیں تھے البتہ اردو داستانوں اور صوفیانہ شاعری میں علامتوں کا ایک پورا نظام ضرور نظر آتا ہے۔ جسے کسی طور پر فرانسیسی علامت نگاری کی تحریک سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ اردو داستانوں میں ہندو دیومالااور عربی و عجمی تہذیبی روایات کے توسط سے پورا علامتی نظام موجود ہے۔ ?سب رس? سے لے کر توتا کہانی اوربوستانِ خیال سے الف لیلیٰ تک قصوں کو علامتی سلسلوں کے توسط سے ترتیب دیا گیاہے۔ داستانوں میں پرندوں اور جانوروں کے کردار اپنی حقیقت میں موجود نہیں ہیں یہ انسانی نفس کی مختلف کیفیات کی نمائندگی کرتے ہوئیعلامتی روپ میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ داستانوں کی عمومی علامتی معنویت ، عرفانِ ذات، حقیقتِ حسن اور نظامِ فطرت کی توجیہات کے گرد گھومتی ہے۔
مولوی نذیر احمد کو عموماََ اردو کا پہلا ناول نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان سے پہلے کریم الدین نے ایک کہانی “خطِ تقدیر” کے عنوان سے لکھی۔اس کہانی کو تمثیلی ناول کی ابتدائی شکل کہہ سکتے ہیں۔ اس میں تقدیر و تدبیر کے مجادلے کو تمثیلی پیراہن میں پیش کیا گیا ہے۔ مولوہ نذیر احمد نے اردو ناول کے ذریعے سماجی اصلاح کا کام لیا۔ ان کے ناول سماجی حقیقت پسندی کا نمونہ ہیں لیکن ان کے ناولوں کے کردار مجموعی انسانی کرداروں سے اس لیے مختلف ہیں کیونکہ وہ کسی کیفیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کے کرداروں کی تمثیلی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس بنیاد پر احسن فاروقی نے ان کے ناولوں کو تمثیلی قصے قرار دیا ہے۔
تمثیل بھی چونکہ مجازیت کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اس کا علامت سے بڑاقریبی تعلق بن جاتا ہے کیونکہ تمثیل میں ایک پورا ایک علامتی نظام موجود ہوتا ہے اور یہ مجردات کو متشکل بنا کر پیش کرتی ہے۔ علامت اور تمثیل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ تمثیل میں کرداروں کے انسلاک سے ایک واضح اور روشن تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے لیکن علامت میں یک رخا پن نہیں ہوتاہے۔ علامت وسیع المعنویت کی حامل ہوتی ہے۔
مولوی نذیر احمد کے بعد رتن ناتھ سرشار نے اردو ناول کے ارتقائی سفر کو تقویت بخشی۔ ان کے ناولوں میں حقیقت پسندی اور رومانویت اور تاریخیت کی جہتوں کی پیش کیا گیا۔ عمومی سطح پر ان ناولوں میں علامتی اظہار موجود نہیں ہے۔ منشی سجاد حسن کا ناول حاجی بغلول کرداری سطح پر نیم علامتی حیثیت کا حامل ہے۔ سجاد حسن نے اس کردار کو اس قدر خوب صورتی سے پیش کیا ہے کہ بغلول اور بغلولیت برصغیر کے سماجی ماحول میں ایک علامت بن جاتے ہیں۔
امراؤ جان ادا اگرچہ سماجی حقیقت نگاری کا نمائندہ ناول ہے لیکن مجموعی تاثر کے حوالے سے لکھنوی تہذیب کے زوال کی علامت کے طورپر سامنے آتا ہے۔ مرزا عباس حسین ہوش کا ناول المیمون میں بھی نیم علامتی اور تمثیلی اندازِ بیان کا حامل ہے لیکن ان ناولوں میں علامت کے بجائے تمثیل کا رنگ زیادہ نمایاں ہے۔
مجموعی طور پر کریم الدین سے لے کر پریم چند اور سجاد ظہیر تک مکمل طور پر کوئی علامتی ناول نہیں لکھا گیا۔ یہ ناول اردو ناول میں حقیقت پسندی کی مقبولیت کا زمانہ ہے۔ جزوی طور پر کچھ ناولوں میں تمثیلی رنگ ضرور ملتا ہے اور کچھ ناولوں میں کرداری سطح پر خوجی ، امراؤ اور بغلول کی صورت میں دوہری معنویت کے نیم علامتی کرداروں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ امراؤ جان ، ابن الوقت جیسے ناول گرچہ سماجی حقیقت نگاری کی مثالیں ضرورہیں لیکن ان کا مجموعی تاثر علامتی کیفیات کو پورٹریٹ ضرور کرتا ہے۔ ان تمام تر ضمنی جزوی اور نیم علامتی اور تمثیلی مثالوں کے باوجود یہ عہد اردو ناول کا ابتدائی عہد تھا جس میں مکمل علامتی اظہار کی مثالیں مفقود ہیں۔
حوالہ جات
1۔ گیان چند جین، اردو کی نثری داستانیں، اتر پردیش اکادمی نیولکھنوء: 1987ء ،ص93
2۔ وقار عظیم، داستان سے افسانے تک، طاہر بک ایجنسی ،دہلی: 1972ء ، ص7
3۔ گیان چند جین، اردو کی نثری داستانیں، اتر پردیش اکادمی نیولکھنو: 1987ء ،ص15۔
4۔ طاہر کامران ،کولونیل ازم:نظریہ اور برصغیر پر اس کا اطلاق،مشمولہ: تاریخ،شمارہ 22 ،جولائی2004ء ،لاہور: فکشن ہائوس، ص32
5.The New International Webster’s Comprehensive Dictionary of the English Language, 2006, (Encyclopedia Edition) Vol. 1, Naples, Trident reference publishing.1
6۔ زبیری،عمر ،پروفیسر ،قدیم تہذیبیں اور مذاہب ، مکتبہ دارالشعور، لاہور، 2009ء ،ص65
7۔ محمد عارف ، ڈاکٹر ، اردو ناول اور آزادی کے تصورات، پاکستان رائیٹرز کو آپریٹو سوسائٹی ، لاہور: 2011ء ،ص 189۔
8۔ نہرو، جواہر لال،تلاش ہند، ، تخلیقات پبلشرز لاہور 2004ء ،ص89
9۔ ہندوستانی سیاسی نظام کا تدریجی ارتقاء، ص 97
10 محمد عارف ، ڈاکٹر ، اردو ناول اور آزادی کے تصورات، پاکستان رائیٹرز کو آپریٹو سوسائٹی ، لاہور: 2011ء ،ص190۔
11۔ حامد حسن،سید، ڈاکٹر ،ہندو فلسفہ مذہب اور نظام معاشرت ،فکشن ہا?س لاہور، ء￿ 2002ص92۔
12۔ احمد حسن دانی،اے شارٹ ہسٹری آف پاکستان، جلد اول، جامعہ کراچی، کراچی: 1967ء،ص201
13۔ مبارک علی ،ڈاکٹر،مغل دربار، ،نگارشات پبلشرز لاہور،1988، 38۔
14۔ ول ڈیورانٹ،ہندوستان، مترجم:طیب رشید،2000ء، لاہور، تخلیقات،ص98
15۔محمد عارف ، ڈاکٹر ، اردو ناول اور آزادی کے تصورات، پاکستان رائیٹرز کو آپریٹو سوسائٹی ، لاہور: 2011ء،ص212
16۔ ریاض ہمدانی ، ڈاکٹر،اردو ناول کا نو آبادیاتی مطالعہ(مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی اردو مملوکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد)2015، ص 104
17۔ جدید اردو افسانہ ، پروفیسر خورشید احمد، ایجوکیشنل بک ہاؤس ، علی گڑھ : 1997ء￿ ، ص127
18۔ سید یحییٰ نشیط، اسطوری فکر و فلسفہ، پونے: 2009،ص6
19۔ ابنِ فرید ، میں ،ہم اور ادب، ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ ،1977ء،ص44۔
20۔ مضمون سب رس، رسالہ شاعر، ممبئی:خاص نمبر، 1963،ص 24
21۔ سہیل احمد خان، داستانوں میں ہیرو کی علامتی معنویت، مشمولہ، علامت کے مباحث، مرتبہ، اشتیاق احمد، بیت الحکمت ، لاہور: 2005،ص226۔
22۔ قاضی عابد، اردو افسانہ اور اساطیر، مجلس ترقی ادب، لاہور: 2009،ص92،93۔
23۔ میر امن ، باغ و بہار، مرتب مرزاحامدبیگ اردو سا ئنس بورڈ لاہور2004،ص 136۔
24۔ وحید قریشی،ڈاکٹر، مقدمہ تجزیہ ، توتا کہانی از حیدر بخش حیدری ، مجلس ترقی ادب ، لاہور: 1963،ص78۔
25۔ منظر اعظمی ، اردو میں تمثیل نگاری، انجمن ترقی اردو ، نئی دہلی:1992،بارِ دوم،ص180
26۔ ڈاکٹر محمود الہٰی ، دیباچہ، خط، تقدیر از کریم الدین، دانش محل امین الدولہ پارک ،لکھنو 1965 ء ،ص20۔
27۔ ایضاََ 38۔
28۔ نذیر احمد، مولوی،لیکچروں کا مجموعہ، مرتبہ: بشیر الدین احمد(جلددوم)،س۔ن، دہلی، ص 419۔
29۔ احتشام حسین، ذوق ،ادب اور شعور، ادارہ فروغ اردو لکھنو1975ء،ص35۔
30۔ احسن فاروقی، اردو ناول کی تنقیدی تاریخ، ا دارہ فروغ اردو لکھنو،1962 ء ،ص22،25۔
31۔ انیس ناگی۔ نذیر احمد کی ناول نگاری، سنگ میل پبلی کیشنز ،لاہور س۔ن، ص 100۔
32۔ سہیل بخاری، ڈاکٹر، ناول نگاری، اردو ناول کی تنقید و تاریخ، مکتبہ میری لائبریری ، لاہور: ء￿ 1966،ص89۔
33۔ قمر رئیس، تلاش و توازن، ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ،ص23
34۔ احسن فاروقی، اردو ناول کی تنقیدی تاریخ،ص99
35۔ عبدالحلیم شرر، دل گداز، خدابخش لائبریری،پٹنہ، 1889ء،ص،14
36۔ عبدالحلیم شرر، عبدالعزیز ورجینا، ص255
37۔ رشید احمد گوریجہ، ڈاکٹر، اردو میں تاریخی ناول نگاری، گنج شکر پرنٹرز ، لاہور:1994،ص275
38۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر ، تاریخ ادب اردو، جلد دوم، مجلس ترقی ادب، لاہور: ص،255
39۔ صدیقی،عظیم الشان،اردوناول:آغازو ارتقاء، دہلی ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، 2008، ص106

About ایڈمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus