Home / خبریں / آہ! ابن ِ رساؔ

آہ! ابن ِ رساؔ

پروفیسرشہاب عنایت ملک 
94191-81351


ریاست جموں وکشمیرکے معروف اُردواورکشمیری شاعررساؔ جاودانی کے فرزندارجمند خیرات محمدابنِ رساؔ تقریبا91 برس کی عمرمیں گزشتہ کل اس دُنیاکوخیربادکہہ کرمعبودحقیقی سے جاملے۔اناللہِ واناّالیہ ِ راجعون۔ ریاست جموں وکشمیرکے ادبی،سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں یہ خبر سوشل میڈیاکے ذریعے پہنچی جسے پڑھ کر یہ حلقے بے حدغمزدہ اورمایوس ہوئے کیونکہ ابن ِ رساؔ کانام نہ صرف پاکستان کے تعلیمی حلقوں کیلئے اہم تھابلکہ انہیں ریاست کی عوام بھی اس لئے عزت کی نگاہوں سے دیکھتی تھی کیونکہ وہ یہاں کے سپوت تھے یعنی ان کاجنم بھدرواہ کی دلکش وادی میں ہواتھا۔5 اکتوبر 1926 ؁ء کورساؔجاودانی کے یہاں بیٹاپیداہوا جس کانام خیرات محمدرکھاجاتاہے جو1950؁ء کے بعدابن ِ رساؔ کے نام سے مشہورہوجاتے ہیں۔بھدرواہ کی چھوٹی اورلکش وادی میں ابتدائی تعلیم کے مراحل طے کرنے کے بعدانہوں نے پرنس آف ویلزکالج جموں سے گریجویشن کی اوراس کے بعد 1949؁ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیمسٹری میں ایم۔ایس سی کاامتحان پاس کیا۔یہ وہ وقت تھا جب ملک کوتقسیم ہوئے دوسال ہی ہوئے تھے۔خیرات ابنِ رسا ؔ نے کچھ عرصے تک پرتاپ کالج سرینگرمیں بحیثیت لیکچرارکام کیا۔اس کے بعد نوکری کوالوداع کہااوریوں وہ پاکستان چلے گئے جہاں ان کی شادی جموں کی رہنے والی ایک لڑکی جس کاخاندان 1947؁ء میں جموں سے لاہورہجرت کرگیاتھاسے ہوئی۔ ان کے بطن سے ابن ِ رسا ؔ کے تین بیٹے پیداہوئے۔سب سے بڑے بیٹے تمیم،اس سے چھوٹے حسیب اورا س سے چھوٹے تسمان۔لائق وفائق والدکی یہ اولادیں بھی اپنے نام کے ساتھ ابن رساؔ ہی تحریرکرتے ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ وہ اپنے دادا اور ان کی وراثت سے کتناپیارکرتے ہیں۔ خیرات ابن رساؔ ذہین توتھے ہی خدانے انہیں اوربھی صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔پاکستان سے وہ مزیدتعلیم حاصل کرنے کیلئے امریکہ چلے گئے اوربراؤن یونیورسٹی امریکہ میں 1959؁ء میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیاجہاں سے انہوں نے کیمسٹری مضمون میں پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔1962 ؁ء میں آپ اسی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسرتعینا ت ہوئے۔اس عہدے پرآپ 1963؁ء تک فائزرہے۔ اس سے پہلے اسی یونیورسٹی میں آپ نے 1960؁ء سے 1962؁ء تک بحیثیت ریسرچ ایسوسیٹ بھی کام کیا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے سے پہلے آپ ایف سی کالج لاہورکے چیئرمین بھی رہے۔اسی سال 1964؁ء میں آپ کاتقررشعبہ کیمسٹری پنجاب یونیورسٹی لاہورمیں بحیثیت ایسوسیٹ پروفیسرہوا۔ اس عہدے پرآپ 1969 تک کام کرتے رہے۔اسی سال آپ کاتقرراسی شعبہ اوراسی یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسرہوا۔پروفیسرخیرات محمدابنِ رساؔ 1975؁ء میں بہاؤالدین ذکریایونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلرمقررہوئے۔ اس عہدے پرابھی ایک سال تک ہی کام کیاتھاکہ حکومت پاکستان نے آپ کوپنجاب یونیورسٹی لاہورکاوائس چانسلرمقررکردیا۔اس وقت یہ یونیورسٹی کئی طرح کی مشکلات سے نبردآزماتھی۔خیرات محمدابن رساؔنے اپنی سوجھ بوجھ اوراپنی صلاحیتوں کی وجہ یونیورسٹی کوایک نیاوقاربخشاجوآج تک قائم ہے۔اس اہم یونیورسٹی کے اہم عہدے پرآپ نے تقریباً 8سال کام کیا۔یہ وہ دور تھاجب پاکستانی سیاست ایک عجیب طرح کی صورتحال سے دوچارتھی۔ذوالفقارعلی بھٹوکوشہیدکرکے آمرانہ حکومت کاآغازہوچکاتھا۔لاہوریونیورسٹی مظاہروں کاگڑھ بن چکی تھی۔اس تمام صورتِ حال میں پروفیسرخیرات محمدابنِ رساؔنے نہ صرف تعمیراتی کام کیے بلکہ اپنی سوجھ بوجھ کی وجہ سے طلباء کے مظاہروں پربھی روک لگادی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک انہیں اس یونیورسٹی کاکامیاب ترین وائس چانسلرہونے کاشرف حاصل ہے۔آپ الخیریونیورسٹی پاکستان زیرانتظام جموں کشمیر(پی اوکے) کے وائس چانسلربھی رہے اوراس کے علاوہ لیڈز(Leads) یونیورسٹی لاہورپاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کوقائم کرنے میں ان کاایک اہم رول رہا۔
پروفیسرخیرات محمدابنِ رساؔ کاشماردُنیاکے اہم ترین سائنس دانوں میں ہوتاہے۔کیمسٹری میں آپ درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ان کی تحریرکردہ کتابیں پاکستان کی دانش گاہوں کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ بھدرواہ کایہ سپوت پاکستان انسٹی چیوٹ آف کیمسٹ کاسرپرست اعلیٰ بھی رہااورامریکن کیمیکل سوسائٹی کابورڈممبربھی۔ اس کے علاوہ پروفیسرخیرات محمدابن ِ رساؔ اسلام آبادمیڈیکل کالج کے چیئرمین، مغربی پاکستان اُردواکیڈمی کے ڈائریکٹراورپاکستان اکیڈمی آف سائنس کے خزانچی کے فرائض منصبی بھی انجام دے چکے ہیں۔اس کے علاوہ آپ پاکستانی اورغیرملکی اداروں سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔
پروفیسرخیرات محمدابنِ رساؔ غیرمنقسم ہندوستان کے وہ پہلے شہری ہیں جن کی خدمات کومدنظررکھتے ہوئے انہیں حکومت ِ پاکستان نے اپنے سب سے بڑے سویلین ایوارڈامتیازِ پاکستان سے نوازا۔بعدمیں یہ ایوارڈہندوستان کے معروف اداکاردلیپ کمارکوبھی ملا۔ لال کرشن ایڈوانی بھی اس اہم ایوارڈسے سرفرازہونے والے تھے لیکن انہوں نے یہ ایوارڈلینے سے خودہی انکارکردیا۔ حکومت پاکستان نے پروفیسرخیرات محمدابنِ رساؔ کواقبال صدی میڈل سے بھی نوازاہے۔ برون یونیورسٹی نے بھی انہیں پوٹرپرائزکے اعزازسے نوازاہے۔
بہت کم لوگوں کومعلوم ہوگاکہ شروع میں خیرات ِ محمدابنِ رساؔنے اُردوکے اچھے اشعاربھی کہے ہیں۔اُن کی چندشائع شدہ غزلیں راقم کی نظروں سے گذری ہیں۔یہ غزلیں پرنس آف ویلیزکالج کے اس وقت کے معروف رسالہ پرتاپ میں شائع ہوئی ہیں۔ شاعری میں وہ ابنِ جعفرتخلص کرتے تھے۔ یہ غزلیں روائتی ہیں۔اُن کاروائتی شعردیکھئے۔
بس یہی دوچارنظریں دے گئیں مُجھ کوفریب
زلفِ برہم، مست نظریں اورکچھ انگڑائیاں 
بعدمیں نہ جانے اُنہوں نے شاعری کی طرف توجہ کیوں نہیں دی۔ اگروہ اس میدان میں مزیدمحنت کرتے توآج اُن کاشماراچھے شاعروں میں ہوتاکیوں کہ شاعری کے جراثیم ان کوورثے میں ملے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے والدکی شاعری میں سوزوگدازتوبھرلیالیکن خوداس سے دورہی رہے۔
رساجاودانیؔ کے یہی وہ فرزندارجمندہیں جن کی جدائی میں انہوں نے غم واندوہ سے بھری ہوئی لازوال کشمیری نظم ”ییی ماگھ سورتھ تی فاگنس منز“ تحریرکی۔اس نظم کامطالعہ قاری کواشکبارکردیتاہے۔ اورمعلوم ہوتاہے کہ رسا ؔکواپنے فرزندکے بچھڑنے کاکتناغم تھا۔ اوریہی فرزندجب ہجرت کے بعد1979؁ء میں اپنے آبائی وطن پہنچاتویہ عظیم شاعرزندگی کی آخری سانسیں لے رہاتھا۔خیرات محمدابن ِ رساؔ کواپنے مادروطن بھدرواہ سے بے حدپیارتھا جس کی مثال گزشتہ چند سالوں میں عمرکے اس حصے میں ان کایہاں باربارآناتھا۔ آخری دفعہ جب وہ اس گلپوش وادی میں آئے تو اپنے طالب علمی کے زمانے کے دوستوں سے بھی ملے اوراپنے آبائی مکان دیکھنے بھی چلے گئے۔اگرچہ کہ انہیں وہاں رہنے کاموقعہ نصیب نہیں ہوالیکن اس کے باوجود بھدرواہ کی عوام نے انھیں جوپیاردیا وہ ناقابل فراموش ہے۔لاہورمیں وہ اپنے بیٹے طسمان ابن رساؔ اوربہو شازیہ ابن رساؔ کے یہاں رہتے تھے اوران کے یہاں ہی انتقال کیا۔بیٹے اوربہونے ابن ِرساؔ کی جوخدمت کی وہ بھی قابل ستائش ہے۔اپنے والد کی طرح ہی خیرات ابن رساؔ بھدرواہ کی شان
تھے۔خدانہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔


About ایڈمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus