Home / خبریں / سائنسی ادب کے فروغ میں اردو زبان کارول

سائنسی ادب کے فروغ میں اردو زبان کارول


٭پروفیسر عارفہ بشریٰ
صدر شعبۂ اُردو   
کشمیریونیورسٹی،کشمیر   


٭محمدلطیف شاہ

شعبۂ اردوکشمیریونیورسٹی،کشمیر

اردو زبان کی اہمیت ابتداء سے ہی اظہر من الشمس رہی ہے ۔انگریزوں کی آمد جب ہندوستان میںہوئی تو اردو زبان کی ضرورت کو محسوس کیاگیا نتیجتاً فورٹ ولیم کالج کی داغ بیل پڑی۔ اس کالج سے دیئے گئے کارنامے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے جہاں اردو زبان وادب کے دامن میں وسعت آگئی وہی لاشعوری طور پر اردو زبان جدید ذہن وادب سے بھی آشنا ہوئی۔ ایسے ہی دہلی کالج جب تراجم کاکام کے لائحہ عمل میںمصروف ہوا تو اردو زبان کو درجہ اول کی سند سے سرفراز کیا۔دیگر علوم وفنون کے علاوہ یہاں سائنسی کتب اوررسائل کاترجمہ بھی کیاگیا جس میں علم وعمل طب‘ رسالۂ طب‘ رسالۂ جراحی سرجری‘ رسالۂ علم برق‘ حکمائے یونان وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ سائنسی ادب کے حوالے سے دیگر اداروں نے بھی اپنے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ان میں(سرسید کی قائم کردہ) سائنٹفک سوسائٹی‘ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد اردو ترقی بورڈ کے نام زبان زدہر عام وخاص ہے ۔لیکن کچھ ادارے ایسے بھی ہیںجن کے نام سے بیشتر اردو طلباء وطالبات ناواقف ہے اور ان اداروں کے تحت دیئے گئے کارناموں سے متعلق واقفیت تو دور کی بات ہے مثلاً شمس الامراء کبیر ثانی‘ شاہانِ اودھ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اردو زبان میں سائنسی ادب کو سمیٹنے اور سائنسی ادب کو فروغ دینے میں ان اداروں کے کارنامے سنہرے حروف سے لکھے جانے کے حقدار ہیں اور یہاں جو کارنامے انجام دیئے گئے وہ ایک تو اپنے اندر معلومات کا خزانہ رکھتے ہیں اور دوسری طرف کسی بیش بہا سے کم درجہ نہیں ہیں۔اسی سلسلے میں اورایک کالج’’طامس انجینئرنگ کالج رڑکی‘‘ بھی ہے۔ جو میرے مقالے کااصل میں موضوع بھی ہے۔
طامس انجینئرنگ کالج رڑکی کے تحت سائنسی ادب کو فروغ کن کن تناظرات میںملا اور اردو زبان نے اس روش میں کیا رول ادا کیا اس پر بات کرنے سے پہلے کالج کے تاریخی پس منظر پر ایک سرسری نظر ڈالتے بھی چلے۔یہ کالج گنگا نہر کے کنارے۱۹؍ اکتوبر۱۸۴۷ء میں تعمیر کیاگیا۔ابتداء میں یہ ایک انجینئرنگ اسکول کی حیثیت رکھتا تھا جو بعد میں کالج میں تبدیل کیاگیا۔تعلیمی انحصارصرف تین شعبوں انجینئرنگ‘ اپر سبارڈی نیٹ اورلور سبارڈی نیٹ تک محدود تھا۔ شروع میں صرف انگریزی طلباء ہی اس میں داخل کیے گئے اورذریعہ تعلیم انگریزی رکھا گیا۔ بعدازاں جب ہندوستانی طلباء کی داخلیت کومنظور دی گئی تو نہ صرف کالج کے طلباء کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا بلکہ زبانوں کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوا۔اس طرح ہندوستانی زبانوں میں نصاب کی کتابوں کا مسئلہ بھی در پیش آیا اورآئے دن منزل مقصودکو پانے کے لیے پریس بھی قائم کیاگیا جہاں سے دیگر علوم وفنون کی کتابوں اور رسالوں کے تراجم کیے گئے جن میں سائنسی ادب بھی شامل ہیں۔اس کے لیے جس زبان کوسب سے زیادہ کام میں لایاگیا وہ کوئی اور نہیںبلکہ اردو زبان ہی ہے ۔سائنسی علوم ‘ترجمے اوراردو زبان پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شکیل خان لکھتے ہیں:
’’رڑکی کالج ایک آزاد ادارے کی حیثیت سے سائنسی علوم کے ترجمے اورتالیف میں معاون ثابت ہوا ……کالج کی مطبوعات سائنسی علوم کی ترویج واشاعت میں ایک نمایاں اہمیت کی حامل ہیں‘کیونکہ ایسی کتابیں اردو میں نایاب تھیں‘‘۔
(بحوالہ: اردو میں سائنسی و تکنیکی ادب ص ۱۸۶)
رڑکی کالج سے و ابستہ اساتذہ اور ادباء نے دیگر اداروں کے برعکس زیادہ محنت ولگن سے کام کیا(تراجم کتب کے حوالے سے) اورکئی فقید المثل کارنامے انجام دیئے۔
اس طرح سائنسی کتب کے تراجم وتالیف سے جہاں اردو زبان وادب میںوسعت آگئی تو وہی سائنسی ادب کو پھلنے اور پھیلنے کاموقع بھی ملا۔آئے دن اردو ادب میں فنِ تعمیر کی ایسی کتابیں داخل کردیئے گئے جن سے اردو زبان سائنسی علوم کے شانہ بشانہ لڑ کھڑاتی صحیح پھر بھی چلنے کے لیے آمادہ ہوئی اور بہت سارے ترقی کے منازل طے کئے۔ یہاں اگر چہ اس ادارے کے تحت بہت ساری کتابوں کا ترجمہ ہوا لیکن ان میںچند کتابیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ان میں:۔
۱۔ ’’استعمال جرثقیل‘‘مصنف طامس ٹیٹ مترجم لالہ منو لعل بہاری (مطبوعہ ۱۸۵۶‘) کالج کے پریس سے ہی شائع ہوئی۔ ہرکام کو انجام دینے کے لیے اپنا طریقۂ کار ہوتاہے۔اسی مخصوص طریقۂ کار کو اگر بروئے کار لایا جائے تو کام آسان اور عمدہ ہوگا۔ اس کتاب میں بھی اصول کام‘ جرثقیل کے استعمال‘ تعریف اور اوزاں کو اٹھانے کے طریقے سے بات کی گئی ہے ۔ اس حوالے سے جو موضوعات اس کتاب میں درج کیے گئے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں:
’’تمہید اوپر کام کرنے کے ‘ بیاں پیمانۂ کام کا‘کام جانوروں کا‘ مرکز پہیہ اور دُھری‘ دندانی پہیہ‘مرکب پہیہ اور دھری‘بیان چرخی کا‘ ڈھلوان سطح پیچ کا‘ پانی کے زور کی کل اجسام ترانے والے اور وزن مخصوص‘‘۔
مذکورہ اقتباس سے ہی ظاہر ہوتاہے کہ انجینئرنگ کے کن کن تناظرات سے ‘ ہندوستانی طلباء کوروشناس کیاگیا ہے او رسائنسی ادب کے اس شعبۂ کو بھی فروغ دیاگیا۔اس کتاب میں دیئے گئے اصولوں کے تحت اگر کام کیا جائے تو یقینا بہتر نتائج نکلیں گے۔
۲۔ رسالہ نمبر ہفتم درباب پیمائش مصنف میجر ایف فائر بریس مترجم شمبھو داس ‘ مطبوعہ۱۸۶۹‘؁ کالج کے پریس سے ہی شائع ہوا۔
یہ رسالہ چودہ ابواب میں منفقسم کیاگیاہے اور ہر باب کا موضوع الگ الگ ہے مثلاً باب اول جیو میٹر یکل ڈرائنگ یعنی نقشہ باہندسہ کے موضوع پر ‘ باب دوم جریبی پیمائش کے اصولوں پر وغیرہ۔
کسی بھی تعمیر سے پہلے اس کی مضبوطی ‘نمائش‘مٹیریل‘ تیاری وغیرہ کن بنیادوں پر کرنی چاہیے اور کس طرح خاکہ تیار کرنا چاہیے ۔یہ اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔اس میں یہ بحث بھی اٹھائی گئی ہیں کہ کاغذ کس طرح کا ہونا چاہیے‘ پنسل کیسی ہو‘ سیاہی کس طرح بنائی جائے‘ ربر کس طرح استعمال کی جائے وغیرہ وغیرہ گویا اردو زبان سے متعلق وہ مفروضہ ختم ہوتا ہے کہ اس میں صرف گل وبلبل او رعشق و عاشقی کے موضوعات ہی کا پرچار ہوتاہے ۔ یہ صرف کم علمی ا ورمحدود مطالعے کی بوکھلاہٹ ہے اورکچھ نہیں ورنہ اردو زبان ہر کسی علم وادب کے شانہ بہ شانہ چلی ہے۔ جس میں سائنسی ادب کافروغ بھی ایک پڑا ؤ رہاہے۔
۳۔ مجموعہ سامان عمارت بہ مصنف کرنل۔اے ۔ایم ۔برنڈر یتھ مترجم‘ لالہ منو لعل بہاری‘ منشی روپ چند‘ منشی بٹو لال او ربابر کالی کرشنا مکھر پادھیائے نے مشترکہ طور پر کیا۔(مطبوعہ۱۸۸۸ء) کالج ہی کے پریس سے شائع ہوا۔
اس کتاب کو گیارہ ابواب میں منقسم کیاگیا ہے جن میں پتھر‘اینٹ‘کھپریل‘ چونا‘ چونائی کاکام‘ لکڑی‘ فن بخاری‘آ ہنی کا کام‘رنگ و روغن‘مٹی کاکام ‘اصول بندوبست‘ تعمیر اور تجویز تعمیر کے عنوانات کے تحت تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کتاب کااسلوب بھی سادہ اور سلیس ہے۔
یہ کتاب گویا اگرچہ سائنسی ادب سے متعلق ہی ہے لیکن اردو زبان میں ترجم ہوکر صرف ان طلباء تک محدود نہیںرہی جو انگریزی جانتے تھے بلکہ اردو جاننے والے بھی ان چیزوں سے آشنا ہوئے اس طرح ایک تو سائنسی ادب کو بھی فروغ ملا دوسرا اردو ادب میں بھی وسعت آگئی۔ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’طالب علم کو لازم ہے کہ ان تینوں اقسام کے لوہے کی خاصیتیں ساتھ ہوشیاری کے ذہن نشین کرلیوے آیا کہ لوہے اجتماع یاد رکھے اورنیز طریقے کہ جن کے موافق اون سے کام لے سکتے ہیں….‘‘
مذکورہ اقتباس لوہے کی پہچان اور اس کے استعمال کے تناظر میں ہے۔ اس طرح ایک باذوق قاری اس کتاب کے مطالعے سے نہ صرف با علم قاری بن سکتا ہے بلکہ باتجربہ قاری بھی بن سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان کتب کامطالعے کرے او راس تجربے سے گزرے کہ کس طرح اردو زبان نے سائنسی ادب کے فروغ میں بھی اہم اور کلیدی رول ادا کیا ہے۔
مذکورہ کتابوں کے علاوہ دیگر کتابوں میں قواعد حساب متعلقہ فنِ انجینئرنگ‘ کرنل اے ۔ایم برنڈریتھ‘رسالہ نمبر نہم پلوں کے بیان میں مترجم لالہ بہاری لعل بیان لوکارتم اوراستعمال ٹیبل لوکارتم۔کیپ مترجم شمبھو داس۔
رسالہ درباب فن بخاری مترجم بہار ی لعل اول وغیرہ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ان میں چوب‘ چوبی فرش‘ قالب‘ بیان قوت‘ کھینچاؤ‘ بیان قوت دباؤ‘ بیان قوت جھکاؤ ‘ بیان تدبیرات عبور‘ بیچ ذکر پا ئیدار پلوں ‘ بیچ بیان چنائی کے پلوں وغیرہ کے موضوعات پر بڑی تفصیلی سے بحث کی گئی ہے۔
بحیثیت مجموعی ہم یہ کہہ سکتے ہیںکہ اردو زبان ایک ایسی زبان ہے جس کے ادب میںبہت سارے علوم وفنون کاحسین امتزاج دیکھنے کوملتاہے۔ جہاں آج جدید سائنسی ادب اور ٹکنالوجی کی بیش بہا ترقی سے پوری دنیا ایک گلوبل ولیج میں مدغم ہوئی ہے تو وہی اردو زبان وادب نے ماضی اورحال میںاس کے ساتھ رشتہ جوڑ کر فروغ دینے میں اہم اور کلیدی رول ادا کیاہے۔چاہے وہ علم طب ہو یاپھر علم حیاتیات‘ چاہے علم کیمیا ہو یا پھر علم نباتات‘ چاہے علم ریاضیات ہو یا پھر انجینئرنگ کاعلم ہو ۔ہر کسی سائنسی شعبہ میں اردو زبان نے خود کو پیش کرکے کارہائے نمایاں انجام دئیے ۔یہ کام اردو زبان نے کئی کتابی صورت میںکیا تو کئی رسائل وجرائد کے صورت میں‘کئی تالیفات کی صورت میں کیا تو کئی مضامین کی صورت میں۔ کئی انفرادی طور پر تو کئی اجتماعی طور پر ایسی ہی ایک اجتماعی کوشش کے حوالے سے طامس انجینئرنگ کالج رڑکی معرض وجودمیں آیا۔ جہاں دیگر علوم کی کتابوں کے تراجم کے ساتھ ساتھ سائنسی ادب کی کتابوں کے بھی تراجم کیے گئے اس سے اردو زبان وادب میںوسعت آنے کے ساتھ ساتھ سائنسی ادب کو جو فروغ ملا اس کی چند مثالیں مذکورہ بالا تفصیلی تحریر میں پیش کی جاچکی ہے۔
اگر چہ آج اردو زبان میں سائنسی علوم کا کافی ذخیرہ موجود ہے او ریہ کام لگاتار اپنے عروج کی اور گامزن ہے ۔نت نئے سائنسی تجربوں کو بہ ذریعہ تراجم اردو میں منتقل کیاجاتاہے تاہم ایک ایسے دور میں جب یہ سفر اپنے ابتدائی قدم ا ٹھا رہا تھا اورکام بھی بہت سستی سے ہورہا تھا ۔طامس انجینئرنگ کالج رڑکی نے اس کا م کی ذمہ داری لے کر نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ ایسے کارنامے انجام دیئے جو حیاتِ اردو ادب تک بارہا دہرائے جائیں گے ۔بقول ڈاکٹر علامہ اقبالؔ ؎

مقام ہم سفروں سے ہوا س قدر آگے

کہ سمجھے منز ل مقصود کارواں مجھ کو

٭٭٭

About ایڈمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus