Home / خبریں / حالیؔ کی غزل کا سرسری جائزہ

حالیؔ کی غزل کا سرسری جائزہ


٭ڈاکٹر سراج انور

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو
گورنمنٹ ودربھ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومینٹیز،امرائوتی(مہاراشٹر)

۱۸۵۷ کی نا کام جنگ آزادی کے بعداردو ادب میں ایک اہم باب کا آغاز ہوا۔ہندوستان کے قدیم ادبی سیاسی اور سماجی نظریات نے اسی دور میں دم توڑااور مغربی علوم وفنون کے ذریعے اصلاحی فکر و معاشرت کے لیے جدوجہد کا آغاز بھی اسی زمانے میںہوا۔یہی نہیں بلکہ جدید ہندوستان کے ذہنی اور فکری معمار بھی اسی زمانے میں پیدا ہوئے جنھوںنے وقت کے تقاضوں اور قوم کے مزاج کو سامنے رکھ کر اصلاح کا بیڑہ اٹھا یا۔اس وقت ہندوستان کے پورے تمدنی وفکری ڈھانچے میں مغربی تعلیم وتہذیب کی کرنیں بکھر رہی تھیںایسے میں شعرا کا نظم گوئی کی طرف متوجہ ہونا اس بات کی دلیل تھی کہ یہ نیا انقلاب انھیں انسانی زندگی کے قریب لے جارہا ہے۔انھوں نے نظم کے ساتھ غزل میں بھی اپنا روایتی انداز تبدیل کیا اور حالات کے مطابق اپنے مضامین وموضوعات میں جدّت پیدا کی ۔انجمن پنجاب میں مختلف موضوعات پر نظمیں پڑھی جانے لگیں۔اردو غزل میں مضامین اور موضوعات کی تبدیلی کا عمل غالب ؔکے دور میں شروع ہوچکا تھا اب حالی اور ؔاکبرالہ آبادی بھی غزل کے روایتی مضامین سے اغراض کرنے لگے۔
جدیداردو غزل کا با ضابطہ آغاز حالی ؔ سے شروع ہوتاہے ان کی کوششوں سے اردو غزل نئے موضوعات سے آشنا ہوئی ۔حالی غزل کی اہمیت اور مقبولیت سے بخوبی واقف تھے۔انھوں نے اپنے بعض معاصرین کی طرح غزل کی مخالفت تو نہیں کی لیکن اس کی بہت زیادہ اصلاح پر زور دیا ۔غزل کے متعلق حالی کا خیال ہے ’’ہم کو چاہیے کہ اپنی غزل کو خود اپنے خیالات اور اپنے جذبات کا آرگن بنائیں۔ــ‘‘وہ لکھتے ہیں کہ’’چونکہ شاعری کا جز واعظم یہ ہے کہ اس میں جو خیال باندھا جائے وہ اس کی اصلیت پر ہونی چاہیے اس سے اصول وشاعری کے موافق شراب وکباب کے مضمون باندھنا صرف ان لوگوں کا حق کاہو نا چاہیے جو اس میدان کے مرد ہوں یا پنے اصل خیالات خمریات کے پیرائے میں بطور مجازواستعارہ ادا کر سکتے ہوں۔‘‘ ۱؎
حالیؔکی جدید اردو غزل میں دو گونہ اہمیت ہے۔ایک تو ان کے تنقیدی افکار اور ان کے غزل سے مطالبات کی وجہ سے اور دوسرے ان کی غزل گوئی کی وجہ سے۔دیوان حالیؔمیں کل ۱۱۳ غزلیں ہیں جو قدیم وجدید کے خانوں میں بٹی ہوئی ہیں۔حالی کی قدیم غزلیں بھی سادگی ،خلوص وواقفیت کے عناصر سے لبریزہے جس پرحالی نے بعد میںزور دیا ۔انھوں نے غزل میں غریب اور اجنبی الفاظ سے اجتناب کیاہے اورمانوس الفاظ کو فوقیت دی ہے۔
ہوگی نہ قدر جان کی قربان کیے بغیر
دام اٹھیں گے نہ جنس کے ارزاں کیے بغیر
حالی نے اپنی جدیدغزلوں میں اپنے تنقیدی نظریات کی عملی تفسیر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ جب انھوں نے غزلوں کی روایت میں ڈوب کر شعر کہے تو بہترین غزلیںکہیں۔اگر انھیں صفِ اول کے غزل گو شعرا میں شمار کیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔وہ مومن اور شیفتہ سے زیادہ متاثر رہے ۔انکی غزلوں میں مومن کا رنگ موجود ہے مگر شوخی نہیںصرف اندازہے۔
رات ان کی بات بات پہ سو سو دیے جواب
مجھ کو اپنی ذات سے ایسا گمان نہ تھا
حالی کی جدید شاعری اصلاح قوم ، فلسفہ ا ور اخلاقی مضامین پر مبنی ہے مگر قدیم دور کی شاعری میں روایتی غزل گوئی کی پوری سج دھج ملتی ہے انھوں نے بھی حسن وعشق اور گل وبلبل کے سنگیت الاپے ہیں۔
جودل پہ گزرتی ہے ،کیا تجھ کو خبر ناصح
کچھ ہم سے سنا ہوتا پھر تو نے کہا ہوتا

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو دعا میں اثر کہاں
غزل میں جب عشق حقیقی کا موضوع آتا ہے تو اس کا دائرہ کافی وسیع ہوجاتا ہے اور اس میںتصوف ،فلسفہ اور اخلاقیات کی ایک وسیع دنیا سما جاتی ہے ۔ لیکن حالی کی غزل میں تصوف پر زیادہ شعر نہیں ملتے اور نہ ہی انھوں نے فلسفہ کو بیان کیا ہے ۔وہ اپنی شاعری میں مظاہر فطرت پر ایمان لاتے نظر آتے ہیں انھیں منظر نگاری پر قدرت حاصل تھی۔
حالی جس طرح اپنی زندگی میں سراپا سوزوگداز اورپیکر اخلاص وایثار تھے اسی طرح وہ اپنی فنی زندگی میں بھی تھے۔انھوں نے اپنی تنقید میں سب سے زیا دہ زور خلوص اورصداقت پر دیا۔ وہ فرضی اور مصنوعی جذبات سے پاک ہے ۔وہ ایسی شاعری کے قائل ہے جو حقیقی تجربات اور اصلی جذبات پر مبنی ہو۔ان کے کلام میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے بلکہ سادگی وسلاست ہے۔
جیتے جی دکھ نہ فراغت کی توقع ناداں
قید ہستی میں مری جان فراغت کیسی
اس با ت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حالی کے کلام میں دردوسوز بہت ہے انھوں نے اپنے جذبات کے بیان میں فطری معصومیت رکھی مگر یہی سادہ نگاری اکثر بے رنگ اور سپاٹ ہوجاتی ہے ۔
ہوچکی قوم مردہ پر جلاد
ابھی درّے لگائے جاتا ہے

برق منڈلاتی ہے اب کس چیز پر
ٹڈیاں کب کی گیئں کھیت کو چاٹ
حالی کی غزل میں ایک اور خوبی اس کا دھیما دھیما گداز اور زیرلب تغزل ہے جو انہی سے مخصوص ہے۔

لی ہوش میں آنے کی جو ساقی سے اجازت
فرمایا خبردار کہ نازک ہے زمانہ

اس نے اچھا ہی کیا حال نہ پوچھا دل کا
بھڑک اٹھتا تو یہ شعلہ نہ بجھا یا جاتا
حالی نے اپنی اصلاح غزل کی تحریک کے بعدزیادہ تر بامقصد اور مسلسل غزلیں کہیں ۔قومی و ملّی مسائل حالی کی غزل کے خاص موضوعات ہیںاس لیے ان کے یہاں سیاسی اور سماجی موضوع تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
یاران تیزگام نے منزل کو جالیا
ہم محوِ نالئہ جرسِ کارواں رہے
اب لگائو پود کچھ اپنی نئی
لاچکے پودے بہت اگلوں کے پھل
اصلاحی نقطہ نظر کے سبب حالی کی غزل سے مہ کیف ختم ہوگیا ۔اگر وہ غزل میں سوزوگداز قائم رکھتے تو خوب ہوتا مگر وعظ وپندونصیحت اور اصلاحی خیالات نے ان کی غزلوں کو متاثر کیا ۔حالی محبوب سے براہِ راست گفت وشیند کی بجائے بذریعہ قاصد اپنا مدعابیان کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ لطف بناوٹ دیکھا نہ سنا قاصد
ان پڑھ تو ہے تو یہ کچھ پڑھتا تو بلا ہوتا
ٓٓ ان کی غزلیات میں محبوب کی شخصیت کھل کر سامنے نہ آسکی کیونکہ انھوں نے بہت ہی ڈھکے چھپے انداز میں اس کا تذکرہ کیا۔ان کی مقصدیت غزل پراس قدر غلبہ پائے ہوئے تھی کہ وہ شعوری طور پراسکا اظہار نہ کرسکے۔
بقول ڈاکٹر وریز آغا ؔ’’اس نے غزل کو بچانے کی دھن میں غزل کی داخلی قوت اور لچک پر اعتماد نہ کیا بلکہ شعوری طورپر اس میں نئے موضوعات داخل کیے اور اسے نظم کی سی وسعت عطا کرنے کی کوشش کی۔‘‘۲؎
اس بات سے بھی نکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ اس کے دل میں قوم کا بہت درد تھا ۔اس لیے’’ مسدّس‘‘ شاہکار نظم ہے ۔مقدمہ شعروشاعری کا اثر اور اپنی تحریروں کے سبب حالی اپنی شاعری میں داخلیت سے خارجیت کی طرف چلے گئے ۔عشق کی داخلیت سے ہی غزل میں تغزل کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔حالی کی خارجی موضوعات پر مبنی غزلیںاور نظمیں ،پاکیزگی زبان اور بلند خیال کا مظہر تو ہوسکتی ہے مگر ان میں وہ حسین شئے نہیں ملتی جسکا تعلق اور وجدان سے ہے ۔عشق تو خارجیت کو بھی اپنے اندرسمولیتاہے حالی کا دل بھی عشق سے خالی تو نہ تھا مگر وہ اس سے دامن بچاتے ضرور نظر آتے ہیں ۔
جیتے جی تم موت کے منہ میں نہ جانا ہرگز
دوستو،دل نہ لگانا ،نہ لگاناہرگز
نظیر صدیقی جدید اردوغزل کی وسعت پذیری میں حالی کا مقام ومرتبہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’غالب ؔ جدیدیت کے سب سے پہلے علمبردار ہیں اور غالب کے بعد دوسرے علمبردار اقبال ہیں۔ان دونوں کے درمیان چھوٹی سی شخصیت حالی کی ہے جسے اسکی تمام چھوٹائی کے باوجود نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘۳؎حالی غزل کی جانب اپنا جو قدم اٹھا رہے تھے ان کے سامنے اسکی کوئی مثال نہ تھی ۔وہ ایک نئی غزل وجود میں لارہے تھے۔ان کی توجہ نظم اورنثرکی طرف زیادہ مبذول تھی۔مصلحانہ جوش اور جلد بازی بھی انہیں لاحق تھی خود اپنے فارمولے بھی ان کے پائوں کی زنجیر بنے ہوئے تھے۔حالی ؔبلامبالغہ نظم گوئی اور غزل گوئی کے اعتبار سے عظیم اور منفرد شاعر ہے۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی نے بجا فرمایا ہے:۔
’’حالیؔ نہ ہوتے تو غزل ترقی کی منزلیںاتنی تیزی کے ساتھ طے نہ کرپاتیںاور جدت کی اس فضا کاپیدا ہونااس میں مشکل ہوجاتاجو آج اس کا طرئہ امتیاز ہے‘‘۔۴ ؎
کتابیات
۱۔ الطاف حسین حالی ؔ(تحقیقی و تنقیدی جائزہ)مرتبہ پروفیسر نظیر احمد ،غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی،ص؛۱۶۸
۲۔ اردو شاعری کا مزاج مرتبہ ڈاکٹر وزیر آغا،مکتبہ عالیہ،لاہور،ص؛۲۶۸
۳۔ فنون،جدید غزل نمبر حصہ اوّل،ص؛۱۲۸
۴۔ غزل اور مطالعہ غزل ،ڈاکٹر عبادت بریلوی ؔ انجمن ترقی اردو،کراچی ۱۹۵۵ ؁ء ،ص؛۴۴۷
٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus