Home / خبریں / اردو تحقیق کے ارتقاء میں خواتین برار کاحصّہ

اردو تحقیق کے ارتقاء میں خواتین برار کاحصّہ


٭ڈاکٹر سراج انور

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو
گورنمنٹ ودربھ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومینٹیز،امرائوتی(مہاراشٹر)

علاقہ برار اردو کے دکنی عہد سے زبان و ادب کا گہوارہ ہے ۔یہاں ، محدثین ،مورخین،محقیقین ،صوفیائے اکرام اور شعرا وادباء نے کا گرانقدر کا رنامے چھوڑے ہیں ۔برار میں اردو زبان و ادب کی تحقیق کا آغازخطیب امجد حسین امجد کی تصنیف ’’تاریخ امجدی سے ہوتاہے۔
اردو کے تحقیقی میدان میں علاقائیت کا رجحان برسوں پہلے پروان چڑھا ہے، محمود شیرانی کی کتاب ’’پنجاب میں اردو‘‘ نصر الدین ہاشمی کی ’’دکن میں اردو‘‘ اورڈاکٹر گیان چند کی ’’شمالی ہند کی مثنویاں‘‘ جیسی باوقار کتابیں جب سے شائع ہوئیں ہیں اس کو مزید تقویت پہنچی۔اور پھر میسور میں اردو ، مدراس میں اردو،بہار میں اوردو ، بندیل کھنڈ میں اردوجیسی کتابوں کی اشاعت نے علاقائی حدود کو سمیٹ کرصوبائی اور ضلعی سطح تک پہنچادیا۔دھیرے دھیرے اس دائرے کو اور سمیٹ کر ملک کے شہروں ،مثلاً کو کن میں اردو ، ممبئی میں اردو ، ناگپور میں اردو ،جیسے مقالات لکھ کر ملک کے چپہ ،چپہ میں اردو کے خدوخال کو سامنے لایا گیا جس کی وجہ سے آج اردو پر پڑنے والے اثرات سے ہم متعارف ہوسکے۔یہی وجہ ہے کہ آج اردو کے نامور محقیقین بھی اس علاقائی تحقیق کی افادیت کو تسلیم کرتے ہیں ۔اسی سلسے کی ایک کڑی ’’ اردو تحقیق کے ارتقاء میں خواتین برار کا حصہ‘‘ ہے۔
اردو زبان و ادب میں شاعری ونثر اور انکی مختلف اقسام،موضوعاتی اصناف کی تحقیق وترویج میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شریک وسہیم ہیں ۔اردو ادب کا کوئی شعبہ،کوئی قسم یا کوئی صنف ا یسی نہیں ہے جس میں خواتین کی کاوشیں ملتی نہ ہوں۔اردو زبان وادب کی ترویج میںخواتین کا بھی اہم حصہ رہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کے ادب کے مختلف پہلوئوں پر آئے دن بڑے پیمانے پر کام ہوررہا ہے۔ لیکن اردو تحقیق میں خواتین کی اردو تحقیق شاید ایسا موضوع ہے جس سے اجتناب کرنے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے باوجود اس کے یہ موضوع نوعیت ،خصوصیت ، قدروقیمت اور اہمیت کے اعتبار سے منفرد ہے۔اس مقالے میں اردو تحقیق کے پس منظر میں خواتین برار کی تحقیقی خدمات کا جائزہ لے کر ان کی نوعیت خصوصیت بیان کرکے ان کی قدروقیمت واہمیت کو واضح کیا گیاہے۔
ڈاکٹر حمیدہ ریاض :
محمدعلی جوہر ۔حیات وادبی کارنامہ
(ناشرہ،مصنفہ ، ناگپور۔ ۱۹۸۱)
ڈاکٹرحمیدہ ریاض ناگپور کے ایک علمی و ادبی خاندان کی فرد تھیں۔وہیں پید اہوئیں اور ابتدائی تعلیم سے اعلی تعلیم کے مراحل بھی وہی سے طے کئے۔انھوں نے ناگپور مہا ودیالیہ (قدیم گورنمٹ مورس کالج)میں صدر شعبہ اردو کے فرائض انجام دیے۔دوران ملازمت انھوں نے ایک تحقیقی مقالہ رہنمائے آزادی اور ادبی و سیاسی شخصیت مولانا م محمد علی جوہر کی حیات و ادبی خدمات پر ایک مقالہ تحریر کرکے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔یہ مقالہ کافی پسند کیا گیاجسے بعد میں مصنفہ نے کتابی شکل میں شائع کیا ۔
مولانا محمد علی جوہرکا بیسویں صدی کی مشہورسیاسی شخصیات میں شمارہوتا ہے۔گاندھی جی کومہاتماگاندھی اور بابائے قوم بنانے میں ان کا زبردست رول رہاہے ۔مولانامحمدعلی جوہر رام پور میں ۱۰دسمبر ۱۸۷۸ء کو پیداہوئے ۔وہ زبر دست صحافی، اچھے شاعرا ورادیب بھی تھے۔ انھوں نے انگریزی حکومت کے خلاف تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیاتھا۔علی گڑھ میں ایک قومی یونیورسٹی(جامعہ ملیہ اسلامیہ ) کی بنیاد ڈالی۔گول میزکانفرنس لندن میں شرکت کی۔۴جنوری ۱۹۳۰ء کولندن میں ان کا انتقال ہوگیا۔ان کی تدفین بیت المقدس میں ہوئی۔
مولانا محمد علی جوہر زبردست مقررتھے۔انھوں نے سیاست ،مذہب ،معاشرت،صحافت، ادب سبھی کو متاثر کیا ۔ان کے خبارات ہمدرد،کامریڈوغیرہ مشہور تھے۔انھوں نے ادبیات میں شاعری ،ذاتی ڈائری،سفرنامے،خطوط،مقالاتوت وتقاریر یاد گار چھوڑیں ہیں۔
ڈاکٹرحمیدہ ریاض نے مولانا محمد علی جوہر کے ان ہی کارناموں اور حیات کو مفصل جامع مقالہ کی شکل میں پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر روحینہ تبسم :
اردو میں خواتین کی نثری ادبی خدمات
(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)
مصنفہ، کیمپ ،امرائوتی ۔۱۹۹۲
ڈاکٹر روحینہ تبسم کی ولادت ناگپورمیں ہوئی ،ابتدائی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم دونوں یہی سے حاصل کیں۔وہ امراوتی کے مشہور کالج کیشر بائی لاہوٹی میں بحیثیت لکچرار مقرر ہوئیں اور صدر شعبہ اردو رہتے ہوئے ملازمت سے سبکدوش ہوئیں۔
ڈاکٹر روحینہ تبسم نے ۱۹۹۲میں ’’اردو میں خواتین کی نثری خدمات‘‘کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ حاصل کی ہے۔اردومیں خواتین کی شاعری توجہ کا مرکزرہی ہے ۔اردومیں خواتین کی شعری خدمات پر تذکرے،کتابیں اور مقالے لکھے جاچکے ہیں۔لیکن ان کی نثری خدمات پر کوئی جامع مقالہ نہیں لکھا گیاتھا۔ڈاکٹر روحینہ تبسم کو یہ شرف حاصل ہے کہ انھوں نے خواتین کی نثری خدمات کے ایک اہم شعبہ یعنی نثر نگاری کو مطالعہ و جائزے کاموضوع بنایاہے ۔ان کا یہ مقالہ ۶۵۷ صفحات پر مشتمل ہے جو اردو میں خواتین کی نثری خدمات کی ایک جامع تصویر پیش کرتاہے۔
ڈاکٹر ریحانہ جاوید :
اقبال کا فکروفن
سماجی ومذہبی پس منظر میں
(ناشرہ،مصنفہ ،چھاونی ناگپور،۱۳ ،اشاعت ۲۰۰۳)
پروفیسر ریحانہ جاوید ناگپور کے ایک معزز خاندان میں ۱۲ اکتوبر۱۹۴۵ کو پیدا ہوئیں۔ابتدائی وثانوی تعلیمی مراحل طے کرکے اعلی تعلیم ناگپور یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ملازمت کے دوران مختلف مراحل سے گزر کر ایل۔اے ۔ڈی کالج فارویمن میں ۱۹۸۲میں لکچراراور صدرشعبہ اردو رہیں۔
ریحانہ جاوید نے ڈاکٹر منشاء کی نگرانی میں ’’اقبال کا فن وفکر‘‘(سماجی و مذہبی پس منظر میں )عنوان سے ایک مقالہ تحریر پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی جسے بعد میں انھوں نے شائع کیا۔
ڈاکٹر ریحانہ جاوید نے اس مقالے کو ۷/۱بواب میں اور ہر باب کو چند ذیلی عنوانات کے تحت تحریر کر کے پیش کیا گیا ہے ۔جس میں اقبال کا فکری سفر ،اقبال کی فکری شاعری کا فنی جائزہ ،اقبال کا نظریہ فکروفن ،اقبال کی شخصیت کے تخلیقی عناصر ،اقبال کے فکروفن کا سماجی پس منظر اوراقبال کے فکروفن کا مذہبی پس منظر ،جیسے عنوانات کو مفصل انداز میں پیش کرکے ڈاکٹر ریحانہ جاوید نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔
ڈاکٹرزرینہ ثانی :
سیماب کی نظمیہ شاعری
(ناشر،سیماب اکیڈیمی ،ممبئی،فروری ۱۹۷۸)
ڈاکٹر زرینہ ثانی ناگپور کی ادبی شخصیت گزری ہیں۔وہ ناگپور میں ہی پیدا ہوئیں اور وہیں تعلیم حاصل کیں۔خانگی طور پر بی۔اے،ایم۔اے (اردو ،فارسی )کیا ۔۱۹۵۸ میں ایل ۔اے۔ڈی کالج میں بحیثیت لکچرار مقرر ہوئیں۔۱۹۶۲میں خواجہ محمد حامد کی زیر نگرانی ’’سیماب کی نظمیہ شاعری‘‘پر مقالہ لکھ کر ۱۹۶۹میںپی۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔وہ افسانہ نگار ،شاعر،مضمون نگار،اور نقاد بھی تھیں۔ان کی کئی کتب شائع ہوئی ہیں۔۱۴جنوری ۱۹۸۲کو انکا انتقال ناگپور میں ہوا۔
سیماب اکبر آبادی (۱۹۵۱۔۱۸۸۰)کا شمار اساتذہ شعرا میں ہوتاہے۔ وہ نثرنگار بھی تھے،صحافی بھی ،مترجم بھی،مضمون ومقالہ نگاربھی،شاعری میں وہ نظم گوبھی تھے اور غزل گوبھی ، مثنوی نگاری،رباعی نگاری ،قطعہ نگاری،مرثیہ نگاری ،وغیرہ مختلف اصناف سخن میں استاد تھے۔آزادی کے بعد وہ پاکستان چلے گئے جہاں۱۹۵۱ میںان کا انتقال ہوگیا۔
ان کا قرآن کریم اور مولانا روم کا ترجمہ مشہور ہے۔ان کی منظومات کی تعداد بھی کثیر ہے۔انھوں نے بڑوں،بچوں ،عورتوں،مردوں،سبھی کے لئے نظمیں لکھیں۔جو مذہبی ،اخلاقی ،سماجی ،معاشرتی،اصلاحی ،تعلیمی ،سیاسی،موضوعات کی حامل ہیں۔
سیماب ہمارے ان شاعروں میں سے ہیں جنھوں نے اردواصناف نظم ونثر کی ہر رہ پہ اپنے فکر و فن کی ایسی شمعیں جلائی ہیںجن کی روشنی دورتک اور دیر تک باقی رہیںگی۔اسی کے مدنظر زرینہ ثانی نے اسے اپنا موضوع بنایاہے۔
ڈاکٹرزرینہ ثانی نے اس مقالے میں سیماب کی شاعری کا آغازوارتقاء ، ان کی غزل سے نظموں کی جانب مائل ہونے کا ذکر،ابتدائی دورکی قومی،مذہبی ،ادبی ،وطنی و سیاسی نظموں کا جائزہ بڑے تفصیلی انداز میں پیش کیاہے ۔سیماب کی نظموں میں فنی اور لسانی مزاج ،ان کے تاریخی رجحانا ت ،ان کے موضوعات اور اصلاحی شاعری پر ڈاکٹرزرینہ نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔
ڈاکٹر شائستہ اختر جاوید :
عاقل خاںرازی احوال وآثار
(مصنفہ،نیو ناگ پاڑہ ممبئی۔مئی ۱۹۹۹ء)
پروفیسر ڈاکٹر اختر جاوید شائستہ نے ابتدائی و ثانوی و اعلیٰ تعلیمی مراحل ناگپور میں طے کئے ۔ایم۔اے ،اردو فارسی میں کیا اور پیشئہ تدریس وتعلیم میں داخل ہوگئیں۔وہ ایک عرصہ مورس کالج ناگپور میں شعبہ فارسی میں پروفیسر رہیں ۔ممبئی ٹرانسفر کے بعد وہ اسماعیل یوسف کالج میں شعبہ فارسی کی صدر رہیں کچھ عرصہ تک ڈائرکٹر رہیںاس کے بعد ان کا تقرر ممبئی یونیورسٹی کے صدرِ شعبہ فارسی کے طور پر ہوگیا۔جہاں وظیفہ حسن وخدمت پر سبکدوش ہوئیں۔
ڈاکٹر شائستہ اختر نے ۱۹۸۱ء میں ایک مقالہ عہد اورنگ زیب کی ایک ممتاز ونمایاںشخصیت’’ میر عسکری عاقل خان رازی کے احوال و آثار‘‘ کے تحقیقی وتنقیدی مطالعے پر مبنی ناگپور کے مشہور استاد محمد حامد کی نگرانی میں لکھ کر پی ۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔یہ مقالہ بعد میں انھوںنے کتابی شکل میں شائع کیا۔
یہ مقالہ اگر چہ فارسی ادب کی ایک شخصیت سے تعلق رکھتاہے لیکن اردو میں لکھے جانے کی وجہ سے سرمایہ اردو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اور اردو میں عہد اورنگ زیب کی اس عظیم شحصیت وشاعر کے احوال و آثار پر یہ تنہا مقالہ ہے ۔پرازمعلومات اور تحقیق وتنقید ی لحاظ سے بلند معیار ہے۔

ڈاکٹر سروشہ نسرین :
را ناآرٹ ایک مطالعہ
(مژگان،پبلی کیشنزکلکتہ،۲۰۱۰)
پرفیسر ڈاکٹر سروشہ نسرین قاضی ناگپورکے مشہور تعلیمی ادارے وسنت رائونائیک گورنمٹ انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ سوشل سائنس میں صدرشعبہ اردو کے عہدہ پر فائز ہیں ۔ان کی ولادت داروہ (ضلع،ایوت محل)میں ایک معروف قاضی خاندان میں ۱۴نومبر۱۹۵۷ کو ہوئیں۔اعلی تعلیم ناگپور کے مورس کالج سے حاصل کیں۔اپنی قابلیت کی بناء پر انھیں اسی کالج میںلکچرار شپ بھی مل گئی۱۹۹۵ میں انھوں نے ڈاکٹر مدحت الاختر کی نگرانی میں ایک مقالہ’’علامہ محمد حسین محدی صدیقی کی حیات وخدمات‘‘ تحریر کرکے ڈاکٹریٹ حاصل کیں اسی طرح ۲۰۰۷ میں انہی کی نگرانی میں مشہور فارسی شاعر مسیح کاشی (حالا ت زندگی اور شعری تخلیقات)لکھ کر فارسی میںبھی ڈاکٹریٹ حاصل کیں۔
ڈاکٹر سروشہ نسرین افسانہ نگار بھی ہیںاور محقق ونقادبھی،ان کے افسانو ں کا مجموعہ’’ نشیب وفراز ‘‘(۲۰۰۸ء)اور’’ یہ ایک تبسم ‘‘( ۲۰۰۸ء ) منظر عام پر آچکے ہیں۔انھوں نے ایک تحقیقی کتاب عہدحاضر کے ایک مشہور ومنفرد شاعر منور رانا،کلکتہ کی شاعری پرتحریر کیاہے۔جوان کی تحقیقی وتنقیدی صلاحیتوںکا بخوبی اظہار کرتاہے۔
ڈاکڑسروشہ نسرین ان کی شخصیت شاعری اور نثر سے ایسی متاثر ہوئیںکہ انھوںنے انکے ادبی جائزے پر ایک کتاب ۳۵۱صفحات پرلکھ ڈالی۔یہ کتاب منور رانا کی شاعری اور فکر وفن کو سمجھنے کا ایک بہترین ذریعہ مانی گئی ہے ۔
ایک معاصر تخلیق کار کی کاوشوں کا یہ جائزہ تحقیق وتنقیدکی اچھی مثال ہے۔
ڈاکٹر عائشہ سلطانہ :
مختصر اردو افسانے کا سماجیاتی مطالعہ
(ناشر،ساقی بک ڈپو ،جامع مسجد دہلی ۱۹۹۶)
ڈاکٹر عائشہ سلطانہ کا تعلق مہاراشٹر کے شہر امرائوتی سے ہے ۔امرائوتی میں پیدا ہوئیں یہی ابتدائی تعلیم حاصل کیں ۔ناگپور یونیورسٹی سے بی۔ اے ، بی ایڈ اور پھر ایم ۔اے اردو کی سند حاصل کیں ۔اسکے بعد وہ دہلی آگئیں۔وہاں دہلی یونیور سٹی سے ایم ۔فل کیا ۔ڈاکٹر قمر رئیس کی نگرانی میں ’’مختصر اردو افسانے کا سماجیاتی مطالعہ ‘‘مقالہ تحریر کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ان کا یہ مقالہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے۔ اس میں انھوں نے ۱۹۴۷ سے ۱۹۸۱تک کے اردو افسانے کاسماجیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔
اردو افسانے نے سید سجاد یلدرم اور پریم چند سے لے کر آزادی تک مختلف رویوں رجحانا ت و ااسالیب کے تحت مراحل ارتقاء طے کئے۔اردو افسانہ ابتداء سے ہی اپنی زندگی عہد وماحول کے سماجی حالات و کوائف امور ومسائل کا عکاس وترجمان رہاہے۔اس میں آزادی کے بعد سماجی امور ومسائل کی عکاسی وترجمانی کا عنصرورجحان کافی بڑھ گیا تھا۔ عصری زندگی کی سچائیوں کو افسانوی انداز میں پیش کرکے افسانہ نگار زندگی کو صحیح انداز میں رواں رکھنے کی سعی کررہے تھے ۔عائشہ سلطانہ نے ۱۹۴۷ کے بعدکے افسانے میں انہی امور کو پیش کیا ہے۔
ڈاکٹر وسیم دردانہ باسط :
ایلچ پور کے چند قدیم شعراء
(مصنفہ ،امرائوتی۔ ۱۹۸۰)
ڈاکٹر وسیم دردانہ باسط برار کے قدیم دارالسلطنت ایلچ پور کی رہنے والی ہے۔بحیثیت پروفیسر وہ اپنی خدمات انجام دے چکی ہے۔انھوں نے برار کے اس سیاسی و ادبی صدر مقام کے چند قدیم شعر اء کے حالات و شاعری کو موضوع بناکراپنا تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔اس پر ناگپور یونیورسٹی نے پی۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری عطا کی تھی۔یہ مقالہ زیور طبع سے آراستہ ہوچکاہے۔اس مقالے میں مصنفہ نے ایلچ پور اور دبستان برار کے شعرا کی کہکشاں میں سے صرف تین درخشاں ستاروں کو منتخب کرکے ان کے حالات وزندگی اور نمونہ کلام کو پیش کیا ۔ساتھ ہی ایلچ پور شہر کی تہذیبی ،ثقافتی اور تاریخی اہمیت و حالات وکوائف پر روشنی بھی ڈالی ہے ۔کتا ب میں شعراء اوران کی عمارات ومقبرہ وغیرہ کی تصاویر بھی شامل کی ہے ۔یہ کتاب دبستان برار سے تعلق رکھنے والے ایک اہم سیاسی ،علمی ،تہذیبی ،ادبی،وشعری مرکز کا تعارف بھی ہے ۔اور چند قدیم اہم شعرائے برار کاتذکرہ بھی۔
مصنفہ نے یہ علمی تحفہ پیش کرکے برار کے ادب کی بہترین خدمت انجام دی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین بانو :
تانیثی اردو ناولوں میں نسوانی کردار
(مصنفہ ،نیا محلہ،ملکہ پور ضلع بلڈانہ مہاراشٹرا،۲۰۰۷)
ڈاکٹر یاسمین بانو نے امراوتی یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد سعد اللہ صاحب (جلگائوںجامود ) کی نگرانی میں ایک مقالہ’’ خواتین کی اردو ناولوں میں نسوانی کردار‘‘ کو لے کر ۱۹۹۹ میں پی ۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ اسی مقالہ کو انھوں نے موجودہ عنوان سے مناسب قطع وترتیب کے ساتھ شائع کیا ہے ۔یہ اردو میں خواتین کے اہم ناولوں میں نسوانی کردار کا تجزیاتی تحقیقی وتنقیدی جائزہے جو خواتین کی کردار نگاری کی اہمیت بیان کرتا ہے ۔اس میں انھوں نے رشیدۃالنساء بیگم پہلی اردو ناول نگار خاتون کے ناول اسلام النساء سے لے کر دورئہ حاضر تک کی اہم ناو ل نگار خواتین کے ناولوں میں اہم نسوانی کردار کا جائزہ لیاہے ۔یہ مطالعہ و جائزہ کافی دلچسپ اور معلومات افزاء ہے۔مصنفہ نے اپنے جائزے کے دواران ناول کا پلاٹ کہانی وغیرہ کی تلخیص بیان کرکے اس میں جو افسانویت پید ا کی ہے یہ عامی و عارف دونوں کے لیے دلچسپی کا بائث ہے۔ زبان و اسلوب کے لحاظ سے مقالہ معیاری ہے ۔
ڈاکٹر نشاط خان :
اردو میں مزاحیہ ناول نگاری
(مصنفہ ،زاکر کا لونی امراوتی ،۲۰۰۸)
ڈاکٹر نشاط خان ۱۹۷۸ء میں مرحوم سعداللہ خان صاحب(مہاراشٹرپولیس،اے۔ایس۔ائی) کے گھر امراتی میںتولّد ہوئیں۔شہر امراوتی تعلیمی و ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے پورے مہاراشٹرا میں مشہور و معروف رہا ہے ۔ان کا تعلق ایک انتہائی تعلیم یافتہ اور روشن خیال گھرانے سے تھا ۔جہان لڑکیوں کو تعلیم دینا ضروری سمجھا جاتاتھا ۔لہذا انھیں انگریزی ،اردو ،عربی ،فارسی ،غرض یہ کہ ہر زبان میں تعلیم دی گئی ۔
ڈاکٹر نشاط خا ن کے تعلیمی سفر کا آغاز بھی شہر امراوتی سے ہو ا۔امراوتی یونیور سٹی سے ،بی۔ای،بی۔ایڈ، ایم۔اے (اردو )اور ناگپور یونیورسٹی سے ایم۔اے (فارسی)کی سند امتیازی نمبرات سے حاصل کی ۔علم و تدریس کے گہرے شوق کی بناپر وہ مختلف اسکول و کالج میں تدریس کے فرائض انجام دیتی رہی ہیں۔ فی الحال وہ اردو سیفی جونیر کالج آف سائنس امراوتی میں بحیثیت اسسٹنٹ لکچرار(اردو) کے ساتھ انچارج پرنسپل واحد خان کالج آف سائنس امراوتی کی ذمہ داری بھی نبھا رہی ہیں۔
ڈاکٹر نشاط خان کا تحقیقی مقالہ اردو میں مزاحیہ ناو ل نگاری ڈاکٹر محمد سمیع اُللہ( سابق ڈائریکٹرگورنمنٹ ودربھ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومینیٹس،امرائوتی) کی نگرانی میں لکھا گیا ۔جس کے لیے ۲۰۰۸ میں سنت گاڑگے بابا امراوتی یونیور سٹی سے انھیں پی اپیچ ۔ڈی کی ڈگری عطا کی گئی ۔
اس مقالے میں انھوں نے طنز و ظریفانہ عناصر تلاش کرکے ان کو ناول نگاری کے زمرے میں لانے کی کوشش کی ہے۔ اردو کے منفرد طنزیہ ومزاحیہ ناولوں کے تنقیدی جائزے پرمشتمل یہ مقالہ لکھاگیا ہے۔اردو ادب میں شاید ہی کوئی ناول ہو جس میں طنزیہ ومزاحیہ اسالیب کی جھلک کسی نہ کسی مقام پر نظر نہ آتی ہو ۔چھوٹا موٹا ضمنی کردار اپنی حرکات وسکنات سے مضحکہ خیزی کا تاثر نہ دیتاہو۔اس طرح اردو کے چھوٹے بڑے تمام ناول طنزومزاح سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔اس نظریے کے ثبوت میں اس مقالے میں ایسے بڑے اور مشہور ناولوں کا جائزہ لیاگیا ہے جو سنگ ہائے میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اردو تحقیق کے ارتقاء میں خواتین برار کی خدمات مطالعہ وجائزہ اس سرمایہ ادب کی نوعیت وخصوصیت کو ان تحریروں اور کاوشوں کی قدروقیمت ادب میں اضافے اور اہمیت کو واضح کرتاہے۔انھوں نے اپنے موضوع کے لحاظ سے ا پنے تحقیقی وتنقیدی خیالات کا اظہار کرکے اسے کا فی وسعت اور عظمت عطا کی ہے۔
اردو ادب کی تاریخ کا جائزلیں تونظر آتاہے کہ دیگر شعبہ جات کی طرح ہماری خواتین نے بھی اردو زبان وادب کی ترقی میں اپنااہم رول اداکیا ہے۔
موضوعات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو انھوں نے اردو ادب کی ان اقسام میں اضافہ ہی کیا ہے جن کے تعلق سے یہ لکھے گئے ہیں۔مثلاًشخصیات،شاعری ،نثر وغیرہ،یہ تحقیقی مقالات ان کے بارے میں نہ صرف معلومات فراہم کرتے ہیں جو آنے والی نسل کو ان سے متعارف بھی کراتے ہیں۔
خواتین برار نے اردو زبان وادب ،شعری ونثر ی اصنف واقسام میں اپنے وجود سے جو اضافہ کیا ہے وہ ادب میں ان کی موجودگی کا احساس ضرور کرواتاہے ان کی یہ کاوشیں نہایت قابل قدر ہے ۔یہ نہ صرف اردو زبان وادب میں اضافہ ہے بلکہ اردو تحقیق وتنقید میں بھی زبردست اضافہ ہے۔

٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus