Home / خبریں / جوش کی نثر کا اسلوبیاتی مطالعہ

جوش کی نثر کا اسلوبیاتی مطالعہ


٭ڈاکٹر سراج انور

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو
گورنمنٹ ودربھ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ہیومینٹیز،امرائوتی(مہاراشٹر)

یہ حقیقت ہے کہ کسی زبان کے ادبی سرمائے کی قدروقیمت کا اندازہ اس کے نثری کارناموںسے کیا جاتاہے ۔اس اعتبار سے اردو نثر آج اتنی زیادہ ترقی کرنے کے باوجود شاعری کے مقابلے میں کم تر دکھائی دیتی ہے ۔اردونثر کو فروغ دینے میں جنوبی ہند کے ااہل قلم حضرات کا اہم رول رہا ہے جنھوںنے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری کوبھی آگے بڑھایاہے ۔شمالی ہند کی نثر نگاری پر نظر ڈالی جائے تو اردونثر کی تاریخ کافی پس پشت دکھائی پڑتی ہے ۔جنوبی ہند کے نثری کارناموں کی روشنی میں کہا جاسکتاہے کہ اردو نثر بھی کم از پانچ سو سال سے زیادہ تاریخ کی مالک ہے اس طویل عرسے میںاردو کے نثری آہنگ میں بہت سے تغیرات اور ترک و قبول کے عمل جاری رہے اور نثر کی ضرورت وافادیت کے احساس میں بھی اضا فہ ہوتا رہا۔اس لیے مختلف اسالیب نثرعالم وجود میں آئے اور شمالی ہند کے شعراء بھی نثر نگاری کی طرف متوجہ ہوئے ۔جوش بھی اپنے کونراشاعر نہیں کہلانا چاہتے تھے لہٰذا انھوں نے بھی نثر کو اپنایاہے۔جوش ملیح آبادی بنیادی طور پر شاعر تھے لیکن ان کے دو نثری کارناموں ’’مقالات جوش‘‘اور ’’یادوں کی بارات ‘‘کی بناء پر انھیں بیسویں صدی کے نثر نگاروں میںبھی ایک اہم مقام حاصل ہے۔خاص طور پر یادوں کی بارات ایک ایسی خود نوشت ہے جو اپنے واقعاتی مشمولات کے مشتبہ نظروں سے دیکھے جانے اور بے باک اظہار کے ہدف و ملامت بنائے جانے کے باوجود ادبی حلقوں میں اتنی مقبول ہوئی کہ ہندوستان اور پاکستان میں اس کتاب کے کئی ایڈیشن با ضابطہ انداز میں شائع ہوگئے ۔اس وقت اہل نظر کو احساس ہوا کہ جوش کی نثر نگاری کے ساتھ انصاف کرنا ابھی باقی ہے ۔چنانچہ ان کے مقالوں،اداریوں،مقدموں ،اور صحافتی مضمونوںکی طرف توجہ کی گئی اندازہ ہوا ہے کہ اس صدی میں بھی انھوں نے اپنے قدموں کے گہرے نشان چھوڑے ہیں۔
جوش کی نثر بنیاد ی طورپر تخلیقی نثر ہے ۔ان کا اسلوب منفردہے اس بات کا ثبوت ان کی خود نوشت سوانح عمری ’یادوں کی بارات‘ ہے۔اگر ہم کہیں کہ جوش کے نام کو زندہ جادید رکھنے میں یادوں کی بارات کا اسلوب بیان کافی ہے توغلط نہ ہوگا۔ یادوں کی بارات سب سے پہلے ۱۹۷۰؁ء میں شائع ہوئی ۔مسلسل محنت کے بعدجب اس کامسودہ جوش کے سامنے آیا تو تسلی بخش نہ پاکر اس پر خط تسنیخ کھینچ دیا ۔جوش لکھتے ہیں کہ ’’ تین ہزار روپیہ صرف کر کے اس کی کتابت کرالی مگر اس کا بغور جائزہ لیا تو اس مسودہ سے بھی ان کی تسکین نہ ہو ئی ۔اس کے بارے میں لکھتے ہیں ’’مگر جب اس پرطائرانہ نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ اس مسودہ کو بھی میں نے ایک گھبرائے آدمی کی طرح لکھا ہے جو صبح کو بیدار ہوکر رات بھرکے خواب کو اس خوف کے ساتھ جلدی جلدی الٹا سیدھا لکھ مارتا ہے کہ کہیں وہ ذہن کی گرفت سے نکل نہ جائے ۔‘‘۱؎ جوش نے اس مسودہ کے بارے میں ایک تشبیہ کی مدد سے جوبات کہی ہے وہ بہت دلچسپ ہے بڑھاپے میں اپنی زندگی کو پلٹ کردیکھنا اور اپنی یادوںکو سمیٹنا بہت کچھ ایسا ہی عمل ہے جیسے کسی خواب کو قلمبند کرنا۔ غرض چوتھا مسودہ تیار کیا گیا اور یہی وہ مسودہ ہے جواب یادوں کی بارات کی شکل میں ہمارے سامنے ہے ۔اپنی خود نوشت سوانح کے ابتدائی صفحات میں جوش نے اپنے مزاج کے اہم میلانات بیان کردئیے ہیں۔ بقول جوش: ــ’’میری زندگی کے چار میلانات ہیں۔شعر گوئی ، عشق بازی ، علم طلبی اور انسان دوستی۔ ان سب کو سلسلہ وار دیکھ لیجیے تاکہ آپ سمجھ لیں کہ میں کیا ہوں،‘‘۲ ؎
شعر گوئی کے حوالے سے جوش شاعری کو اپنی ذات کا الہامی جوہر تصور کرتے ہیں۔اس لیے کہتے ہیں کہ میں نے آج کی تاریح تک ایک مصرع بھی ‘بالقصد ‘ موزوں کرنے کا ارتکاب نہیں کیا۔ عشق بازی میں جوش کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔وہ عشق کو انسان کے لیے لازمی چیز تصور کرتے ہیں ۔جب کہ علم طلبی کے ضمن میں یوں رقمطراز ہیںکہ مجھ کو حصول علم کا چسکا بھی لڑکپن سے ہی تھااگر میرے دل میں علم کی لگن نہ ہوتی تو دیگر رئیس زاردوں کی مانند جاہل رہ جاتا۔اس طرح بنی نوع انسان سے محبت کو وہ ایمان کا درجہ دیتے ہیںاور اپنی انسان دوستی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ حب انسانی عین ایمان ،انسان کا چہرہ گیتا اور قرآن ، جوش کے بیان کیے گئے رجحانات میں سے کوئی بھی رجحان سچا ہے یا من گھڑت ،اس بحث سے بالاتر ہوکر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان میلانا ت سے جوش کی شخصیت کے خدوخال ضرور واضح ہوئے ہیں۔بقول ڈاکٹر انور سدید: ’’جوملیح آبادی کی یادوں کی بارات آزادہ بیانی کا لذت انگیر مرقع ہے۔اس میں حالات زندگی کا جز رومد دیدنی بھی ہے اور شنیدنی بھی اور ان سے جوش کی خود مرکزیت زیادہ نمایاں ہے ۔‘‘۳؎
جوش نے اپنی خودنوشت یادوں کی بارات کو ا س طرح مرتب کیا ہے کہ سب سے پہلے ’چند ابتدائی باتیں ‘ عنوان دے کر اپنی زندگی کے اہم واقعات پربڑے ہی پُر لظف اندازمیں روشنی ڈالی ہے ۔ کتاب کے دوسرے باب میں انھوں نے اپنے آبا و اجداد ،اپنے اہل وعیال کا کا تعارف کرایا ہے۔’میرے چندقابل ذکر احباب ‘ کتاب کا تیسرا عنوان ہے ،جبکہ ’میرے دور کی چند عجیب ہستیاں‘چوتھے عنوان کے تحت دوست و اکابرین کے خاکے اور ان کے حوال بیان کیے گئے ہیںاور آخر میں اپنے اٹھارہ معاشقوں کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ اس میں دو کے علاوہ کسی کا کوئی نام نہیں بلکہ س، خ، ث، چ، ط،ج،جیسے حروف ناموں کی علامت کے طور پر استعمال کئے ہیں۔’’جوش نے یادوں کی بارات میں ڈیڑھ درجن معاشقوں کے تذکرے سے پہلی مرتبہ روایت شکنی کی اور انھوں نے اپنی شاعرانہ نثر میں جوبہت ہی غیر شاعرانہ باتیں کی ہیںان کی بناء پر یہ کتاب تحلیل نفس والوں کے لیے بھی کار آمد ہوسکتی ہے ۔‘‘۴؎جوش فطری شاعر تھے افسانہ نگار نہیں لیکن اپنی خود نوشت میں انھوں نے جس طرح کا انداز بیان اختیار کیا ہے اس نے اسکو اتنا دلچسپ بنا دیا ہے کہ قاری اسے بار بار پڑھنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔اردو میں خود نوشت سوانح عمری کی کوئی تاریخ اس کتاب کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی ۔جوش نے جاگیردارنہ اماحول میں آنکھ کھولی جہاں وہ بہت نازونعم میں پروان چڑھے ۔جاگیر دارانہ ماحول کی پرورش کی بناء پر جوش کے مزاج میں بیک وقت ، شوخی ،رحم ، غصہ ، ہمدردی ،رندی ومستی،دیوانگی وسرشاری، جیسی خصوصیات موجود تھیں۔چنانچہ گاہے شعلہ گاہے شبنم جیسی صفات ان میں بچپن ہی سے دیکھی جانے لگیں۔اپنے بچپن کے غیظ وغضب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’میرے غیظ و غضب کا یہ عالم تھا کہ ساتھ کھیلنے والے بچوںسے اگر کسی بات پر جھگڑا ہوجاتا تو بید مار مار کر ان بے چاروں کی کھال کھینچ لیا کرتا تھا ۔۵؎ اور جب ماسٹر بن کر اپنا پڑھا ہواسبق ،ساتھ کے بچوں کو پڑھاتا اور دوسرے دن ان سے آموختہ دہرواتا اور وہ دہرانہ سکتے تو ان کو ڈنڈوں سے پیٹتا اور ان کے کاندھوںپہ سوار ہوکر ان کو خچروں کی طرح اس قدر سرپٹ دوڑایا کرتا کہ انکی جانوں پر بن جایاکرتی۔۶؎ وہی دوسری طرف اپنے بوڑھے سپاہی حیدر خان کی کی مفلسی پر ترس کھا کر اسے افیم کے ساتھ کھانے کے لیے گل زار بواکی نظر سے چھپا چھپا کر بالائی کے پیالے پہنچاتے ہیںاورکبھی اپنی پچاس سالہ کھلائی عباس خانم کی طبعیت خراب ہونے پر بیٹھ کراس کے پیردپاتے نظر آتے ہیں۔
جوش کی اس متضاد شخصیت کے بارے میںتبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر احتشام حسین لکھتے ہیں ’’جوش کا سینہ کتنے متضاد اور متصادم عناصر کی جولان گاہ ہے۔کیا ان کی شخصیت میں ان کا اظہار نہیں ہوگا؟ پھر کیا جوش کی شخصیت کا پارہ پارہ بیمارشخصیت ہے۔ایسا نہیں ہے ان کا کردار ایک ایسے ذہین ذکی اور ذودحس انسان کا کردار ہے جو عمل میں کم اور خیال میں زیادہ اپنے ماحول اور گردوپیش کے واقعات سے متاثر ہوتا ہے۔ ۷؎چنانچہ جوش کی خود نوشت کا اسلوب ان کی مکمل شخصیت کا آئینہ دار ہے۔یہ اسلوب نگارش جوش کو بحیثیت انسان متعارف کرتاہے یعنی ایک ایسی شخصیت جو انسانی صفات کی حامل ہے ۔وہ اچھائیوں اور برائیوں کا مرقع ہے وہ فرشتہ نہیں ہے اور نہ ماورائی خصوصیات کا حامل ہے یہی وجہ ہے کہ تمام تر اخلاقی خامیوں کے باوجودجوش کے اسلوب تحریر پر ’سچ ‘کی کیفیت غالب ہے اور اس خصوصیت کا اعتراف بھی لازم ہے ۔
بحیثیت انسان اور فنکار دونوں اعتبار سے جوش کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔اس میں ہر طرح کے بیانا ت محفوظ ہیں۔اس میں انشاء پروازی کا جو حسن ہے ،شخصیتوں کے جو خاکے ہیں ،منظروں میں جیسی رنگین بیانی ہے، ختم ہوتی ہوئی جاگیردارانہ تہذیب کی جو تصویر کشی کی ہے، تشبیہوں استعاورں کا جو کمال ہے ،شگفتہ نگاری کا جو عام انداز ہے ،جملہ تراشی کے جیسے بے مثال نمونے ہیںاور لفظوں کا بر محل استعمال کا جوکمال ہے اصل مطالعہ کی چیزیں ہیں۔بقول ڈاکٹرگیان چند جین:’’صرف اس کتاب کی وجہ سے جوش کو اردو کے صف اول کے انشاپردازوں میں وجہی ؔ،امین ؔ،سرورؔ ۔ ابوالکلام آزاد ، نیاز اور رشید احمد صدیقی وغیرہ کے ساتھ جگہ دی جائے گی۔‘‘۸؎یہی وجہ ہے کہ یادوں کی بارات کی خوبصورتی اور انفرادیت اس کا اسلوب ہے۔ ناقدین نے جوش کے ہر پہلو پر اگر چہ دل کھول کر تنقید کی ہے لیکن ہرناقد ان کی اسلوب نگارش کو سراہتا نظر آتا ہے۔جوش کی نثر نگاری انکی شخصیت اور اسلوب کاحسین امتزاج ملتاہے ۔ ان کے یہاں ایک صاحب طرز انشاپرواز کی تمام شان ملتی ہے۔
’’ــیادوں کی بارات ‘‘کا ایک بڑا حصہ خاکوں پر مشتمل ہے جو ان کے افراد خاندان اور احباب سے متعلق ہیںجن کی تعداد ۳۳ہے۔ جس میں انھوں نے ایک ٹیکنیک یہ اختیار کی ہے کہ پہلے دو جملوں میں جس میںمقفع ومسجع اسلوب برتاہے اور متعلقہ شخصیت کے خدوخال کی طرف اشارہ کردیا ہے مثلاًابرار حسن خان اثر ملیح آبادی کے متعلق لکھتے ہیں:’’خو بصورت خوش دماغ حاضر جواب جادو بیان داستان سراعاشق مزاج لطیفہ گوشوخ وطرار ملیح آباد کی نژاد نو میں سب سے زیادہ ہیں مرغ وماہی پکانے میں استاد میرے لنگو ٹیایار میرے بہنوئی میری سراپا شفقت پھوپی زاد بہن کے منجھلے بیٹے (جو میری صحت کی نازبرداری اور میری بیماری میں مستقل تیمار دارتھیں)چڑھتی عمر تک سراپانیاز اور ڈھلتی زندگی میں خوفناک دشنام طراز ۹؎قاضی خورشید کی احمد کی تصویر اس طرح پیش کی ہے ’’ریاضی کے استاد ،شاعر ونقاد،فارسی وسنسکرت کے ماہر،مکزب بدیہیات ،طفل حرکات ،اخلاص شعار،دوست نواز ،دشمن ناشناس،امر پسند ،آداب شکن،سریع الکلام ،آشفتہ مزاج ،غریبالخصائل،بظاہر بیگانہ،بباطن یگانہ۔۱۰؎اپنے والدکے متعلق لکھتے ہیں:’’ان میں جمال وجلال کا ایسا امتزاج تھا کہ جس جگہ بیٹھ جاتے تھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے والوں کے ہجوم سے گلیاں بند ہوجاتی تھیں اور ریل کا سفر کرتے تھے تو فرنگی بھی جن کی تہذیب میں تعارف کے بغیر بات کرنا بد تہذیبی ہے اس قدر متاثر ہوتے تھے کہ ان سے یہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکتے تھے کہ آپ کا نام کیا ہے اور آپ کس خاندان کے فرد ہیں۔‘‘۱۱؎
فنی اعتبار سے جوش کے یہ خاکے کامیاب ہیں یہاں جوش کی یہ نثر تاثراتی سے زیادہ بیانیہ ہے لیکن یہ بیانیہ بے لطف اور بے رس نہیں یہاں واقعات کے بیان میں شوخی کا رنگ ہے مزاج کا لطف بھی۔ ان کی نثر مرصع عبارت کی آرائش کے ساتھ ساتھ مذکورہ شخصیات کے نقوش بھی واضح کرتی ہے اور زبان وبیان کے حواے سے اس دور کے مروجہ مزاج کی بھی ائینہ دار ہے ۔انھوں نے جس شخص کو جس طرح محسوس کیا اور برتاہے اور اس کے خدوخال واضح کرنے میں ویسی ہی بے تکلفی اور بے ساختگی دکھائی ہے ۔اس لیے ان کے مرقعے جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔
ــــ ’’میرے دور کی چند عجیب ہستیاں ‘‘میں بھی جو ش نے گھریلو ملازمین اور ایسے اشخاص جو کسی نہ کسی حوالے ان کی زندگی پر اثر اندار ہوئے ان کا ذکر کیا ہے۔اگرچہ ان کا مقصد خاکہ نگاری نہیں تاہم سوانح کے دونوں حصوں’ ’میرے چند قابل ذکر احباب‘‘ اور ’’میرے دور کی چند عجیب ہستیاں‘‘میں جوش ایک باکمال خاکہ نگار کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔بقول رشید حسن خان:’’ان شخصیتوں کا تعارف تفصیلی نہیں ۔سب نیم رخ تصویریں ہیں ۔آئینہ ایسے زاویے سے رکھا گیا ہے کہ صرف وہی لوگ سامنے آسکیںجن کو روشنی میں لانا مقصود ہے۔اس لحاظ سے یہ نا تمام خاکے ہیں۔اس کے باوجود مرقع نگاری کی خوبی سے یکسر خالی نہیں۱۲؎جوش کی نثر میں طویل لیکن آسان اور قابل فہم جملے پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ان کے اسلوب تحریر پر لکھنئوی تہذیب و مزاج کی چھاپ واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ان کی ایک اہم وجہ ملیح آباد اور لکھنئو کے درمیان کا فاصلہ ہے جو صرف تیرہ میل کا ہے لہٰذا دونوں شہروں کی تہذیب و ثقافت میں یکسانیت بھی ہے لکھنئو میں شعراء اور شرفاء کی صحبت کے حوالے سے جوش لکھتے ہیں :لکھنئو میں وہ روساء ، علماء ، ادباء ،شرفاء اور شعراء جو میرے باپ کے پاس آتے یا وہ ان کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے وہ تمام لوگ اس قدر شائستہ شستہ اور گداختہ تھے کہ اب معلوم ہوتاتھا کہ وہ اس کُرئہ خاک کے نہیں کسی کُرہ نور کے باشندے ہیں ۔ انھیں بزرگوں کی جوتیاں سیدھی کرکے میں نے شائستگی سکیھی ،ادب اور زبان میں نظرپیدا کی اور یہ ذرا سی شُدبُد جو آج مجھے ادب وزبان پر حاصل ہے یہ انھیں کی صحبت کا اثر ہے۔۱۳؎چنانچہ جوش کی لفظی پیکر تراشی ، ان کا حسن بیان ان کی تخلیقی نثر کی انفرادیت کا سرچشمہ ، لکھنوی روزمرہ بامحاورہ زبان سے آگاہی ہے۔فارسی الفاظ و تراکیب کے ساتھ ساتھ فارسی و ہندی محاورات اور ضرب الامثال کا بیا ن جوش کی نثر کی پہچان ہے۔
یادوں کی بارات خود نوشت کی حیثیت سے ایک شخصی تحریر ہے اور اس میں مصنف کو اپنی انشاء پروازی کے اظہار اکا جی کھول کر موقع ملا ہے اس میں خودنوشت کی تاریخی حیثیت بھلے ہی کمزور ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ جوش نے اپنی شاعری کی طرح اس نثری تصنیف میں بھی اپنی قادرالبیانی کا اظہار کیا ہے۔ واقعات کا بیان ہو یا اشیاء اور افراد کی تصویر کشی ہر موقع پر انھوں نے زبان دانی کے جوہر دکھائے ہیںانھیں زبان پراس قدر دسترس ہے کہ تحریر میں روانی اور سلاست کہیں متاثر نہیں ہوتی۔ اپنے بیانا ت میں ایسی جان ڈالتے ہیں کہ واقعات پر افسانے کا گمان ہونے لگتا ہے یہ بات جو تاریخی نقطہء نظر سے ایک نقص ہے ادبی نقطہ نظرسے ان کا کمال بن جاتی ہے ۔جوش نے اپنی زندگی کے حالات اور اپنی شخصی میلانات کو بہت بے باکانہ اور جرأ ت مندانہ اسلوب میں بیان کیا ہے ۔
بحیثیت مجموعی جوش کے اسلوب کی جو خصوصیات ہمارے سامنے آتی ہیں اس ان کی قادر الکلامی ،ذخیرہ الفاظ ، طنز ومزاح ، تحریر کی پختگی جرات مندی ،محاورہ بندی ،رنگین و مرصع نثر ،تہذیب و معاشرت کی عکاسی اور شگفتگی وسلاست کے ساتھ مبالغہ آرائی بھی شامل ہے ۔

حواشی:۔
۱) یادوں کی بارات ، جوش ملیح آبادی ،مکتبہ شان ہند پبلی کیشنز نئی دہلی ۱۹۹۰ ،ص،۱۱
۲) یادوں کی بارات ، ص،۱۵۔
۳) ڈاکٹر انور سدید ،اردوادب کی مختصر تاریخ ،ناشر مقتدرہ قومی زبان ،اسلام آباد ،ص،۶۱۷
۴) ڈاکٹر سلیم اختر ،اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ،سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ۲۰۰۳،ص،۵۳۲
۵) یادوں کی بارات ، ص؛۱۳ تا ۱۴
۶) یادوں کی بارات ، ص،۴۰
۷) پروفیسر احتشام حسین ‘ ذوق ادب اور شعور، ناشر،ادارہ فروغ اردو،۳۷ امین آباد یارک لکھنئو ،ص،۳۶
۸) تجزیے ، ڈاکٹر گیان چندجین،مکتب جامعہ لمیٹیڈ ،دہلی،ص،۲۶۹
۹) یادوں کی بارات،ص،۳۸۳
۱۰) یادوں کی بارات،ص،۴۷۱
۱۱) یادوں کی بارات،ص،۳۴۷
۱۲) ڈاکٹرقمر رئیس (مرتب )، جوش ملیح آبادی خصوصی مطالعہ، ص؛۲۹۸
۱۳) یادوں کی بارات ،ص،۱۲
٭٭٭٭

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus