Home / خبریں / جامعہ ازہر قاہرہ ،مصر میں دو روزہ عالمی سیمیناربعنوان ’’سوشل میڈیا اور مشرقی زبان و ادب‘‘ کا کامیاب انعقاد

جامعہ ازہر قاہرہ ،مصر میں دو روزہ عالمی سیمیناربعنوان ’’سوشل میڈیا اور مشرقی زبان و ادب‘‘ کا کامیاب انعقاد

پروفیسر خواجہ اکرام الدین،ڈاکٹر شہاب عنایت ملک ،فہیم اخترلندن، ڈاکٹرمحمد کاظم،ڈاکٹرمحمد محسن دہلی، مہ جبیں غزل انصاری پاکستان کی خصوصی شرکت


قاہرہ،مصر(اسٹاف رپورٹر)جامعہ ازہر قاہرہ ،مصر دنیا کی سب سے قدیم اسلامی یونیورسٹی تصور کی جاتی ہے۔تاہم اس کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ یہاں دنیا بھر کے تمام دینی اور دنیوی علوم و فنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جس کے تحت تقریبا ۸۰؍ سے زائدشعبہ ہیں۔ ازہر کے مشرقی زبان و ادب کے شعبے میں دنیا بھر کی تمام مشہور زبانیں پڑھائی جاتی ہیں،ان میں اردو زبان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ۱۰؍اور ۱۱؍ نومبر کو جامعہ ازہر کے چانسلر شیخ محمد محرصاوی کی سرپرستی میں ’’ سوشل میڈیا اور مشرقی زبان و ادب ‘‘ کے عنوان سے ورلڈ اردو ایسو سی ایشن ، نئی دہلی کے اشتراک سے چوتھا عالمی سیمینار منعقد کیاگیا۔ سیمینار کا افتتاح مہمان خصوصی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف عامر نے کیا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر یوسف عامر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی سے اردو زبان میں پی ایچ ڈی کیا ہے۔
عالمی سیمینار میں شرکت کرنے والوں میںجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے سابق ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر خواجہ اکرام الدین کا نام سب سے نمایاں ہے۔ جنھوں نے اپنی محنت ا و رکاوش سے عالمی پیمانے پراردو زبان کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جس کی بنا پر انہیں ’’اردو زبان کا عالمی سفیر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ دہلی یونیورسٹی سے جناب ڈاکٹرمحمد کاظم ، جموں یونیورسٹی کے ڈین اور صدر شعبہ اردوڈاکٹر شہاب عنایت ملک، دہلی یونیورسٹی کے استاد جناب ڈاکٹرمحمد محسن ، لندن سے مشہور افسانہ اور کالم نگارجناب فہیم اختر، جب کہ پاکستان سے محترمہ مہ جبیں غزل انصاری کے اسما خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔
سیمینار کا آغاز صبح ۱۰؍ بجے جامعہ ازہر کے کانفرنس ہال میں تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ اس کے بعدیونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اردو زبان و ادب کی اہمیت ، افادیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتی ہےاور ہم مصر میں اس کی ترویج کے لیے پوری طرح کوشاں ہیں۔ ان کے بعد جامعہ ازہرکے شعبہ اردو کے دیگراساتذہ نے اردو زبان اور سوشل میڈیا کے متعلق اظہار خیال کیا۔ سیمینار کے اس پہلے سیشن کے اختتام پر جامعہ ازہر کی جانب سے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور اعزاز و تکریم کی رسم ادا کی گئی۔ سیمینار کے دوسرے سیشن میں مہمان شرکا نے اپنے اپنے مقالہ جات پڑھے۔اس دوسرے سیشن کے نگراں جامعہ ازہر کے شعبہ اردو کے سینئر پروفیسر محترم ابراہیم محمد ابراہیم تھے۔
پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اردو کے عروج ، ارتقا اورامکانات کی وضاحت کی اور اردو زبان کی اہمیت کے پیش نظر طلبہ و طالبات کواس کے حصول و تعلیم کی طرف رغبت دلائی، ساتھ ہی پروفیسر خواجہ نے جامعہ ازہر اور دیگر مصری یونیورسٹیز کو ہندوستان سے تعلیمی روابط ہموار کرنے کی دعوت دی جس کوکافی سراہا گیا ۔پروفیسر کاظم نے کہا کہ آج ہم اردو رسم الخط کو پس پشت ڈال کر رومن حروف کا استعمال کرکے نہ صرف اردو زبان کو نقصان پہنچارہے ہیں بلکہ نسل نو پر اس کے مختلف منفی اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں، لہٰذا ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی پوسٹ شیئر کرتے وقت اردو رسم الخط کا خاص لحاظ رکھیں۔اسی طرح جموں یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر شہاب عنایت ملک نے اردو زبان کی مختلف ویب سائٹس کا تعارف کرایا اور بعض منفی اثرات اور حل کی جانب توجہ دلائی۔دہلی یونیورسٹی سے ڈاکٹر محسن نے سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر تنقید کی اورکہاکہ اردو زبان پر منعقد ہونے والے سیمیناروں میں اس جانب سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ لندن سے محترم فہیم اختر نے اپنامقالہ بعنوان’’ برطانیہ میں اردو زبان کا ارتقا‘‘ پیش کیا۔ اس مقالے میں موصوف نے کہا کہ لندن کے اسکولوں میں چوتھی سب سے زیادہ بولی اور سکھائی جانے والی زبان اردوہے۔ پھرموصوف نے برطانیہ میں اردو زبان کے ارتقا کے اسباب بیان کیے۔ لندن میں مقیم پاکستانی شاعرہ مہ جبیں غزل انصاری نے سوشل میڈیا اور اردو شاعری کے عنوان پر مقالہ پیش کر سامعین سے داد وتحسین وصول کی ۔
کانفرنس کا اختتام تقریبا دوپہر ۳؍ بجے ہوا اور مہمانان گرامی کو ازہر کی جانب سے اعزازی شیلڈز اور سندیں تفویض کی گئیں۔ واضح رہے کہ مصر کے جامعہ ازہر، جامعہ قاہرہ اور جامعہ عین شمس میں انتہائی انہماک اور دلچسپی کے ساتھ اردو اور ہندی زبانیں سکھائی جاتی ہیں اوربڑی تعداد میں طلبہ و طالبات ان دونوں زبانوں کو سیکھ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اگر ان طلبہ کو اسکالرشپ آسانی سے فراہم کیے جائیں تو یقینا یہ ہندوستانی زبان کی ترویج ، ارتقا اور اشاعت میں انتہائی معاون و مددگار ثابت ہوگا۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus