Home / خبریں / غزل : عشرت معین سیما

غزل : عشرت معین سیما


٭عشرت معین سیما
برلن ،جرمنی ۔
حسن کی عکس سے توقیر بھی ہو سکتی ہے
مجھ سے بہتر مری تصویر بھی ہوسکتی ہے

رت جگے پھیل گئے آنکھ میں سرخی بن کر
یہ مرے خواب کی تعبیر بھی ہوسکتی ہے

کہہ رہے ہو کسی پازیب کی جھنکار جسے
وہ کسی پاؤں کی زنجیر بھی ہوسکتی ہے

عمر رفتہ کے یہ آثار چھپانے کے لیے
خستہ جاں پھر تری تعمیر بھی ہوسکتی ہے

خالی ہاتھوں کو یوں حسرت سے نہ دیکھو سیما
ان لکیروں ہی میں تقدیر بھی ہوسکتی ہے


About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus