Home / خبریں / انسانی رواداری کے فروغ میں تصوف کا اہم مقام:دانشوران

انسانی رواداری کے فروغ میں تصوف کا اہم مقام:دانشوران

’’اردو، فارسی اور عربی میں تصوف کی روایت‘‘دو روزہ قومی سیمینار اختتام پذیر

نئی دہلی ،(اسٹاف رپورٹر)ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کے بینر تلے جے این یو میں منعقد ہونے والا دو روزہ قومی سیمینار’’اردو، فارسی اور عربی میں تصوف کی روایت‘‘ اختتام پذیر ہوا۔دو دنوںکے سیشن میں بڑی تعداد میں مفکرین ادب اور ریسرچ اسکالرس نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔ ساتھ ہی ساتھ باضابطہ مباحثہ سیشن کا اہتمام کیا گیا ، جس میں متعدد تعلیمی اداروں کے اسکالرس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور متصوفانہ ادب کے متعدد پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے متصوفانہ اور اسلامی شاعری کے مابین پائے جانے والے لطیف رشتوں پر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ سلوک وطریقت کے معاملات میں صوفیاکی تعلیمات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور متصوفانہ ادب کا معاملہ طریقت وسلوک سے کچھ الگ ہے۔ اس لیے ہمیں اس فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی رواداری اور بقائے باہمی کے فلسفے کو تصوف سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ڈاکٹر مہتاب عالم نے کہا کہ علاقائی سرحدوں میں صوفیوں کا سلسلہ محدود ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب کے بہت سے صوفی شعرا سے شمال کے بہت سے افراد ناواقف ہیں ، اسی طرح شمالی ہند کے بے شمار صوفیا کے متعلق جنوب کے بہت سے افراد علم نہیں رکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تصوف کے معاملات کو بھی ملکی اور عالمی سطح پر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
اختتامی نشست میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے نومنتخب ڈائریکٹر سید عقیل احمد نے کہا کہ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ قومی اور ملکی سطح پر تصوف کو فروغ دیا جائے، تاکہ عالمی سطح پر امن وآشتی کا ماحول پیداہوسکے۔ انھوں نے مزید کہاکہ اب نہ صرف دانشوروں اور پروفیسروں کے معاملات پر توجہ دی جائے گی ، بلکہ ریسرچ اسکالرس کی تربیت بھی اہم ایشو ہوگا ، تاکہ وہ مستقبل میں بہترین اساتذہ بن سکیں۔ انھوں نے اردو قومی کونسل کی دیگر سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور اپنے عزائم کا اظہار کیا۔ پروفیسر سید اختر حسین نے کہا کہ تصوف کو سماجیات سے جوڑ نے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ فقط متصوفانہ اصطلاحوں سے تصوف کو سمجھا نہیں جاسکتا ہے ، اس لیے معاشرتی سطح پر اسے رائج کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ تصوف کا اصل مفہوم واضح ہوسکے۔
غور طلب ہے کہ ورلڈ اردو ایسو سی ایشن کے بینر تلے منعقد ہونے والے دو روزہ قومی سیمینار کو فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنو، چشتی فاؤنڈیشن اجمیر شریف اور انسٹی ٹیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز کا تعاون حاصل تھا۔ د دروزہ قومی سیمینار میں یہ محسوس کیا گیاکہ تلفظات کی سطح پر عام طور پر غلطیاں ہوئیں اس لیے پروفیسر خواجہ اکرام نے دو ودن کے ورکشاپ کے انعقاد کی تجویز رکھی جس پر قومی کونسل کے ڈائریکٹر نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے ہم کونسل کی جانب سے پورا تعاون پیش کریں گے۔مقالات کے لیے متعینہ دو نشستوں میں ڈاکٹر آفتا ب عالم ، ڈاکٹر لیاقت علی،ڈاکٹر محمد عمران ، ڈاکٹر محمد عابد حسین ،صالحہ صدیقی ، محمد ابرارالحق ، عبدالقیوم ،امام الدین ، نیلو فر خانم ، نفیسہ خالد ، مشتاق احمد صدیقی اور منیرہ نژاد شیخ وغیرہ نے مقالات پیش کیے۔ ان نشستوں کی صدارت پروفیسر عارف ایوبی، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین ، پروفیسر رضوان الرحمن، پروفیسر سید اختر حسین، ڈاکٹر مہتاب عالم ، ڈاکٹر توحید خان، ڈاکٹر زرینہ زرین ، وسیم راشداورڈاکٹر محمد کاظم نے کی۔ جب کہ نظامت کے فرائض ولڈ اردو ایسوسی ایشن کے ڈائرکٹر محمد رکن الدین اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر محمد ثناء اللہ نے انجام دیے۔اس پروگرام میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی یونیورسٹی ، اے ایم یو کے علاوہ دیگر تعلیمی اداروں کے ریسر چ اسکالر س اور اساتذہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus