Home / خبریں / مہاراشٹرکی مسلم دوشیزائوں کےخلاف ہندودہشت گردوں کا ’’لَو جہاد‘‘

مہاراشٹرکی مسلم دوشیزائوں کےخلاف ہندودہشت گردوں کا ’’لَو جہاد‘‘

ریاست کے ۸/مقامات پر مسلم دوشیزائوں کی غیر مسلم نوجوانوں سے شادی کے لئے درخواست کورٹ میں داخل

مسلم لیڈران ،اکابرین، علماء دین، دانشوران روایتوں میں مصروف ،صرف جلسہ ،جلوس،نشستوں سے معاملے حل نہیں ہوں گے حل کے لئے منصوبہ بند کاروائی ضروری


٭محمد قمرالایمان خان یوسف زئی

بیڑ:(۷/اَکتوبر) ہر زمانے میں اسلام دشمنوں کی جانب سے مسلمانوں کو حراساں کئے جانے اور انہیں تکالیف پہنچانے کے معاملے سامنے آتے رہے ہیں، مسلم نوجوان نسل کا مستقبل تاریک کرنے کے لئے شر پسندوں کی جانب سے نہ صرف منصوبہ بند پروگرام بلدکہ اس کے لئے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو گمراہی پر ڈالنے کا کا م کیا جاتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہر مسلم نوجوان موبائیل انٹرنیٹ کی لَت میں کھویا ہوا دکھائی دیتا ہے صرف یہی نہیں اس کے لئے ذریعہ فحاشی میں مبتلا کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کا مستقبل تاریکی میں ڈھکیلا جارہا ہے تو دوسری جانب نشہ آور ادویات کے ذریعہ بھی مسلم نوجوان نسل کو کھوکھلا کرنے کی منصوبہ بند کاروائی کامیابی کے ساتھ انجام دی جارہی ہے تو وہیں دوسری جانب مسلم دوشیزائوں کو نشانہ بناتے ہوئے نہ صرف انہیں گمراہ بلکہ مرتِد اسلام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لئے لَو جہاد کا سہارا لیتے ہوئے ہندو دہشت گرد نہ صرف انہیں مرتد اسلام کرتے دکھائی دے رہے ہیں بلکہ اس کے ذریعہ ان کی آنے والے نسلیں اور ان کا بھی مستقبل خراب کرتے نظر آرہے ہیں کیونکہ لو جہاد جسے آر ایس ایس ، وشو ہندوپریشد، بجرنگ دل، سناتن ، ہندو یوا واہینی جیسی تنظیمیں مسلمانوں کے سر تھوپتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ لو جہاد اصل میں مسلمانوں کے خلاف ہندو دہشت گردوں کا حربہ دکھائی دیتا ہے جہاں پر ہندو دہشت گرد نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر فنڈنگ کرتے ہوئے مسلم دوشیزائوں کو محبت کے جال میں پھانس کر انہیں شادی کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور اس کے لئے تبدیل مذہب کی شرط لازمی قرار دی جاتی ہے۔ محبت کے اندھے پَن میں کئی نہیں بلکہ سینکڑوں مسلم دوشیزائیں اس کا شکار ہوئی ہے، جنہوں نے محبت کی شادی کی خاطر اسلام کو ٹھکراتے ہوئے اپنے معشوق کے مطالبے کے مطابق دوسرا مذہب اختیار کرلیا تاہم انہیں یہ نہیں پتہ کے بعد ازاں سال یا دوسال بعد وہی معشوق جس کے لئے وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ اپنے اللہ اور رسول کو بھی دوسرے مذہب میں داخل ہوئی ہے وہی معشوق اسے ٹھکراتا دکھائی دیتا ہے اور اسے دَر دَر کی ٹھوکرے کھانے پر مجبور کراتا نظر آتا ہے۔جس دنیا کے لئے اس دوشیزہ نے دین کو ٹھکرایا تھا وہی دنیا اسے آج تنگ نظر آتی ہے یہی معاملے آج بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں پہلے یہ معاملے کرناٹک، اترپردیش،مدھیہ پردیش، بہار، ہریانہ، دہلی ، راجستھان جیسی ریاستوں میں دیکھنے کو مل رہے تھے تاہم لو جہاد کا یہ بم اب مہاراشٹر پر پھینکا جارہا ہے۔ گذشتہ تین مہینوں سے مسلسل سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ فلاں شہر کی مسلم لڑکی نے فلاں شہر کے غیر مسلم نوجوان سے شادی کے لئے عدالت میں درخواست دی ہے ، کئی معاملوں میں ذمہ دار شخصیات نے مسلم دوشیزا ئوں کے گھر پہنچتے ہوئے انہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی تو کئی مقامات پر انہیں ناکامی دیکھنے کو ملی ہے، آج بھی سوشل میڈیا پر ایک نہیں ۸/ درخواستیں دیکھنے کو ملی جہاں پر مسلم دوشیزائوں نے غیر مسلم نوجوان سے شادی کے لئے درخواست کررکھی ہے، جس میں اکولہ کی ۲؍، پونا کی ۲؍، ممبئی کی ایک، رائے گڑھ کی ایک، امراوتی کی ایک اور شولاپور کی ایک مسلم دوشیزہ شامل بتائی جاتی ہے۔ درخواست پر موجود دوشیزہ کے پتے کو دیکھتے ہوئے اخبارہٰذا کی ٹیم نے ان تمام شہروں میں اپنے جان پہچان والوں کے ساتھ ساتھ ان شہروں کے سرگرم شخصیات سے رابطہ قائم کرتے ہوئے یہ معاملہ ان کے روبرو پیش کیا جس پر ان شہروں کے ذمہ داران ان دوشیزائوں کے گھر وں تک پہنچ چکے ہیں جن میں سے اکولہ کے ایک معاملے میں کامیابی حاصل رہی جب کہ بقیہ معاملے میں والدین اور دختران سے بات چیت جاری ہے۔ ان تمام معاملات میں دُختران کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کی جہاں ذمہ داری ہے وہیں اسی کے ساتھ ساتھ اس طرح کے معاملوں کی ذمہ داری سماجی طور پر آج اور ہم پر بھی عائد ہوتی ہے جس کے چلتے اس معاملے میں کہیں نہ کہیں ہم کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ سماجی طور پر ہم صرف روایتی طور پر جلسہ جلوس اجتماعت نشست کانفرنس، کنوینشن اور دیگر معاملات میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں تاہم روایتوں سے ہٹ کر اور موجودہ دور کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم عملی اقدامات میں کمزور پڑتے نظر آرہے ہیں ، ہمارے پاس سماجی مسائل کو حل کرنے کا دوسرا نام تقاریر ، بیانات، اخبارات میں مضامین ہی سمجھا جاتا ہے لیکن اس سے پرے ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے اس طرح کے معاملات پر روک لگ سکے کیونکہ ہندو دہشت گردوں کی جانب سے مسلم دوشیزائوں کو مرتدِ اسلام کرنے کی خاطر جو حربہ اور جو طریقہ اپنایا جارہا ہے اس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تک جتنے معاملے سامنے آئے ہیں وہ ایسے علاقوں کے ہیں جہاں پر غربت زدہ مسلمانوں کی تعداد زائد ہے یا پھر ایسے تعلیمی اداروں میں دیکھنے میں آئے ہیں جہاں پر اسلامی تعلیم کا کہیں پر گذر نہیں اور پورا ماحول مغربی طرزیت کا ہے جہاں سے مسلم دوشیزائوں کو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے ، اور جن علاقوں میں یہ دوشیزائیں دکھائی دیتی ہے وہاں پر بھی اسلامی تعلیمات معاملے میں ہماری کمزور ی دکھائی دیتی ہے ، اس لئے لیڈران ، اکابرین، علماء دین، دانشوران سے لے کر ملت کے ہر فرد کو اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور روایتوں میں کھوئے رہنے اور صرف ’’چندے ‘‘ کے لئے جلسہ جلوس، اجتماعت ، نشست، کنوینشن ، کانفرنس کرنے کے بجائے ہمیں موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف تقاریر اور بیانا ت پر زور دینا ہوگا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے عملی اقدامات کی بھی فکر کرنی ہوگی ، اس کے لئے ہر شہر ، ہر ضلع میں لیڈران، اکابرین، علماء دین، دانشوران اور سماج کے حق میں کام کرنے والوں کی ایک ٹیم مرتب کرنی ہوگی ۔ جن غیر مسلم تعلیمی اداروںمیں ہماری دوشیزائیں ہیں وہاں تک پہنچتے ہوئے دوشیزائوں کے ساتھ ساتھ والدین سے ربط قائم کرتے ہوئے اس طرح کے معاملات سے انہیں روشناس کراکر مستقبل کی منصوبہ بندی پر عمل پیراں کرانا ہوگا۔ جن مسلم علاقوں میں دینی تعلیم کی کمی دیکھی جاتی ہے وہاں پہنچتے ہوئے دینی تعلیم کا ماحول تیار کرنا ہوگا ، مسلم دوشیزائوں کے بازار میں گھومنے پھرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کاروبار کے تعلق سے انہیں تحفظ فراہم کرنا ہوگا اس کے لئے ایک منظم ٹیم تیار کرنی ہوگی اور ساتھ ہی ساتھ یہ ٹیم ضلع سطح سے لے کر ریاستی سطح تک ایک دوسرے سے منسلک رکھنی ہوگی تاکہ کہیں کا معاملہ ہمارے سامنے آتا ہے تو وہاں کے ذمہ دار سے ربط قائم کرتے ہوئے معاملے کا حل نکالنے کی کوشش کرنی ہوگی اسی کے ساتھ ساتھ عدالت (میرج بیورو) پر بھی نظر رکھتے ہوئے نوٹس پر خصوصی طور پر نظر رکھنی ہوں گی کہ کہیں شادی کے لئے مسلم دوشیزہ نے کسی غیر مسلم کے ساتھ شادی کے لئے درخواست تو نہیں دی ہے ، اگر دی ہے تو فوری اس تک پہنچتے ہوئے اسے حالات سے روشنا کرانا ہوگا۔ اور سب سے اہم پہلو ہمیں ہمارے گھروں میں جو شیطان بیٹھا ہے اس پر قابو پانا ہوگا اور یہ شیطان ٹی وی کی شکل میں اسٹار پلس ، ذی،اور سونی کے ذریعہ ہمارے گھروں میں مغربی ماحول پیدا کررہا ہے اور یہی چیزیں مسلم دوشیزائوں کو غلط راہ پر ڈالتی دکھائی دے رہی ہے اسی کے ساتھ ساتھ والدین اور سرپرستوں کو اپنی دوشیزائوں کو موبائیل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے سے روکنا ہوگا اس کے لئے سب سے اچھا طریقہ کار تو یہی ہوگا کہ اینڈرائیڈ موبائیل دلانے کے بجائے صرف ان کمنگ آئوٹ گوئنگ کے فون دلوانے چاہئے اور اسی کے ساتھ ساتھ موبائیل کی روزانہ چیکنگ کرنی چاہئے تاکہ کہیں کوئی غلط معاملہ نہ چل رہا ہو اس کے لئے ایک دو لوگوں کی محنت سے کچھ نہیں ہونے والا اس کے لئے ہم سب کو محنت کرنی ہوگی کیونکہ آج کسی دوسرے مسلم بھائی کی لڑکی ہندو دہشت گردوں کا نشانہ بن رہی ہے اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو ہو سکتا ہے کل یہی معاملے ہمارے گھر میں پیش آجائے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus