Home / خبریں / مصنّف، خطّاط،مصّور،اسکرپٹ رائٹراور فوٹو گرافر صوفی درویش بابا یحییٰ سے عائشہ مسعود کا مکالمہ

مصنّف، خطّاط،مصّور،اسکرپٹ رائٹراور فوٹو گرافر صوفی درویش بابا یحییٰ سے عائشہ مسعود کا مکالمہ


٭عائشہ مسعود

کچھ عرصہ قبل بابا یحیٰی کو فون کیا۔ کوئی جواب نہ ملا اور بابا سے جواب میں فون موصول ہونے کی توقع نہیں تھی کیونکہ ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا تھا کہ جس رباب کے تارمرتعش کی چھنا چھن میں وہ ملامتی صوفی بیٹھا تھا اس کے آس پاس سے بھی میرا گزر ہوا ہوتا۔ کچھ عرصہ قبل میں نے بابا یحیٰی کا ایک بیان پڑھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ حاصل کیا وہ ’’اسلام و علیکم اور الحمد للہ‘‘ سے حاصل کیا اور جب میں مولانا صاحبان کو سلام کرتا ہوں تو وہ میرے سلام کا جواب نہیں دیتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بندہ بوڑھا ہو گیا ہے اس کی سفید داڑھی ہے اور اس نے اتنے منکے اور انگوٹھیاں پہن رکھی ہیں تو یہ کوئی لعنتی قسم کا بندہ ہے اور ہماری یہ خواہش ہے کہ ہمیں لوگ ملامت کریں‘‘ … اور اب آپ سوچ لیں کہ ہمیں کوئی سلام کا جواب نہ دے تو ہم کیا کرتے ہیں…؟ یہ ملامتی ہونا بھی دراصل بہت مشکل مقام ہے… جس میں ٹھکرائے ہوئے اور دھتکارے ہوئے احساس کے ساتھ اپنی ذات کے ستونوں کو بلند رکھنا ہوتا ہے پھر میرے خیال میں صوفی دراصل انسانی ذہن کی تکمیل کرتا ہے۔ یہاں ’’تشکیل‘‘ کی بات نہیں ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ آنکھوں میں طلائی دھول جھونک کر اور کانوں میں مترنم الفاظ ڈال کر انسانی ذہن تشکیل کئے جائیں گے تو فکر کے اعلیٰ معیار کی تکمیل نہیں ہو سکے گی جس کے لئے اصل میں یہ ذہن بنایا گیا ہے بلکہ اس کے برعکس مفادات کے حصول میں سرگرداں سوچ و فکر پنپنے لگے گی جیساکہ آج کل دیکھا جا سکتا ہے اور اس قسم کا طبقہ تو صوفی نہیں بن سکتا اور ملامتی صوفی تو بالکل بھی نہیں بن سکتا اور بدقسمتی سے ہم انسانی ذہن کی تشکیل کرنے والوں کو جانتے ہیں اور ملتے ہیں لہذا بابا یحیٰی کی طرف سے مجھ سے رابطہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد بہت سارے مہینے گزر گئے جب دو دن قبل اختر شمار کا کالم نظر سے گزرا تو بابا یحیٰی کو فون کرنے کا خیال پھر سے تازہ ہو گیا۔ میں نے فون ملایا تو بابا یحیٰی سے بات ہو گئی اور اگلے دن ہی میں لاہور کے لئے روانہ ہو گئی۔ راستہ بھر میں صوفی‘ تصوف اور اس سارے سلسلے کے بارے میں سوچتی رہی۔ صوفی عربی زبان کا لفظ ہے جسے ’’صوف‘‘ سے لیا گیا اور جس کا مطلب ہے ’’اون‘‘ جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صوفی کا لفظ صفوہ یا صف سے لیا گیاہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ صوفی کا لفظ یونانی لفظ صوفیہ سے مربوط ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ علم تصوف ہزاروں سال سے موجود ہے۔ ادریس شاہ نے ایک کتاب مرتب کی تھی جس کے ابتدائیے میں لکھا تھا کہ ’’… بے وقت اور لامکان انساں ہونے کی حیثیت سے صوفیائے کرام کلچر‘ ملک اور جس آب و ہوا میں وہ رہتے ہیں وہاں تجربے دکھاتے ہیں‘‘ اور پھر یہ بھی لکھا تھا کہ ’’علمائے تصوف مکاتیب‘ مصنفین‘ تعلیمات تصوف‘ روحانیت اور تشکیلات ان تمام انسانی نظریات کے سماجی اور نفسیاتی تعلق سے وابستہ ہیں‘‘ یعنی ان تمام اشکال میں سے انسانی نظریات کے سماجی اور نفسیاتی تعلق سے وابستگی نہایت اہم کام ہے اور اسی لئے شاید یہ ضروری ہوتا ہے کہ صوفی یا ملامتی صوفی یا درویش کے اندر سے کوئی نظریہ یا نظام نکالنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے اور اس کوشش کے بغیر اگر ان کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک بہترین شکل ہو سکتی ہے۔ امام غزالی نے اپنی کتاب حکمت میں لکھا تھا ’’بیمار انسان کو میٹھا پانی تلخ لگتا ہے‘‘ … اور میں خود جس کو ذرا سی لعنت ملامت اور دھتکار برداشت نہیں ہو سکتی وہ کیسے سوالیہ نشان بن کر بابا یحیٰی کے پاس جا سکتی تھی لہذا میرا سفر سیکھنے اور ادب آداب کی حد تک ہی تھا اور پھر ہمارا منصب بھی یہی تھا کیونکہ صوفی کو کوئی صوفی ہی پرکھ سکتا ہے۔
میں صبح سویرے نکلی تھی لہذا کچھ دیر اونگھنے کے ساتھ ہی معلوم ہوا کہ لاہور آ گیا ہے۔ میں نے لاہور کے کسی دوست کو اپنی آمد کی اطلاع نہیں کی تھی لہذا براہ راست بابا یحیٰی کی طرف روانہ ہو گئی۔ منزل مقصود پر پہنچ کر ایک نظر ڈالی تو دروازے پر ’’کالا کوٹھا‘‘ لکھا نظر آیا۔ میں گاڑی سے اتری ہی تھی کہ دروازہ کھل گیا۔ جب دستک دینے کی ضرورت نہ پڑی اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ ملاقات کیسی ہو گی؟ ممتاز مفتی نے پہلی مرتبہ خانہ کعبہ کے لئے ’’کالا کوٹھا‘‘ لکھا تھا۔ ممتاز مفتی کے بعد بہت سارے لوگوں نے باغیانہ اور جرات مندانہ انداز تحریر اختیار کئے لیکن بات نہ بن سکی۔ ممتاز مفتی کو کالے کوٹھے نے جب اپنی گرفت میں لیا تھا تو انہوں نے لکھا تھا کہ میرے وجود کے فیتے کو گویا چنگاری دکھا دی گئی اور وہ زو زوں سے راکٹ کی طرح فضا میں اڑ گیا اور پھر ممتاز مفتی نے دیکھا کہ زائرین کا بے پناہ ہجوم چیونٹیوں کی طرح رینگتا محسوس ہو رہا ہے اور پھر ان چیونٹیوں کے ڈھیر میں جو چیز رہ گئی تھی وہ ہر لمحہ بلند ہوتا ہوا کالا کوٹھا تھا۔ بابا یحیٰی کے آستانے کا نام بھی کالا کوٹھا ہے۔ جس لڑکے نے بغیر دستک کے دروازہ کھولا وہ بھی سیاہ لباس زیب تن کئے ہوئے تھا۔ وہ میرے آگے آگے چلا تو میں اس کے پیچھے چل پڑی۔ اس نے ایک دروازہ پر چپل اتارے تو میں نے بھی اتار دئیے۔ ایک کمرے سے ہو کر اگلے کمرے کا دروازہ کھلا تو کالے سیاہ پس منظر میں سامنے ہی بابا یحیٰی براجمان تھے۔ بابا یحیٰی محبت اور تپاک سے ملے اور پھر چند لمحوں میں ہی ان سے اپنائیت اور ہم آہنگی کا سلسلہ جڑ گیا اور گفتگو کا سلسلہ چل پڑا۔ یحیٰی بابا کہنے لگے ’’میں اندر کا آدمی ہوں‘‘ … میں سمجھ گئی کہ بابا یحیٰی اپنے اندرونی قوت ادراک کو پا گئے ہیں کیونکہ بیرون بین کے لئے اپنے اکتسابی عمل سے صاحب ایمان جیسی حسّیات سے آشنائی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ خلیل جبران نے لکھا تھا کہ ’’ایک صاحب ایمان اپنی حسّیات کو یوں دیکھتا ہے جیسے ایک عظیم دیوار اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور جب وہ جادہ عمل پر گامزن ہوتا ہے تو کہتا ہے … ’’اس شہر کا کوئی دروازہ باہر نہیں کھلتا سب دروازے اندر کی سمت کھلتے ہیں‘‘۔ یحیٰی بابا نے جب بتایا کہ میں بہت پڑھا لکھا نہیں ہوں اور جو کچھ میں ہوں یہ سب میں نے ماں کے پیٹ سے سیکھا تھا تو مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ میں نے بابا یحیٰی سے کہا کہ ڈگریاں لینے والوں کی تو بھرمار ہے مگر صاحب علم کتنے ہیں اور یہ سوال علیحدہ ہے۔ اسی لئے بابا یحیٰی کی پانچ چھ کتابیں آ چکی ہیں اور مجھے یاد ہے کہ چند برس قبل لاہور کی ایک بڑی کتابوں کی دکان پر اور کاؤنٹر پر بل ادا کرتے ہوئے میں نے معلومات کے لئے پوچھا کہ آج کل کون سی کتابیں زیادہ فروخت ہو رہی ہیں تو جواب ملا تھا ’’بابا یحیٰی کی فروخت ہو رہی ہیں‘‘ … میں نے پھر پوچھا … کیا نوجوان لوگ ان کی کتابیں خریدتے ہیں؟ تو اس نے جواب دیا ’’معلوم نہیں مگر ایک قطار لگی رہتی جو بابا کی کتابیں خریدتی ہیں۔ بابا یحیٰی سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بچپن کے ۔۔۔۔۔ کا حضرت علامہ اقبال کی گود سے بھی تعلق ہے اور علامہ اقبال خود ایک صوفی تھے۔ جب بابا یحیٰی نے کہا کہ مجھے تو ستر برس ہو گئے ہیں جہاں گردی کرتے ہوئے۔ تو میں نے والدین اور بچپن کے بارے میں پوچھا تو بولے ’’پرندے گھونسلوں سے نکلے تو پھر کون کہاں گیا یہ کس کو معلوم ہوتا ہے۔ مچھلی کے پیٹ سے نکلنے والے کیڑے کی طرح کے بچے سمندر کی وسعتوں میں پھیل کر کہاں چلے جاتے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ہوتا خود مچھلی بھی نہیں جانتی‘‘۔ اپنی جہاں گردی پر بابا یحیٰی کہنے لگے جو چیز آوارہ ہوتی ہے وہی سہہ پارہ ہوتی ہے۔ درویش‘ پرندے‘ ہوا اور خوشبو کو کوئی نہیں روک سکتا؟ میں نے پوچھا کہ ملکوں ملکوں گھومنا اور سیکھنا بھی بڑے لوگوں کا شیوہ رہا ہے ان میں اضطراری کیفیات بھی ہوتی ہیں آپ نے بھی مختلف علوم و فنون پر دسترس حاصل کی اور اضطراری کیفیت آپ کی تحریر میں بھی ہیں۔ تو یحیٰی بابا کہنے لگے درست کہا … میں اچھا مصور ہوں‘ میں پینٹر ہوں‘ خطاط ہوں‘ سکرپٹ رائٹر ہوں‘ فوٹو گرافر ہوں اور آرٹسٹ ہوں اور میں اپنی کتابوں کا سارا کام خود کرتا ہوں‘‘ … بابا یحیٰی کی کتابیں خوبصورت اور مہنگی ہوتی ہیں جو عام عوام کی دسترس بے باہر ہیں جبکہ وہ کہتے ہیں کہ سیکھنا اور سکھانا آفاقی عمل ہے شاید وہ چاہتے ہیں کہ کتاب اور پیغام کی اہمیت کو سمجھا جائے اور شاید وہ کتاب کو رائیگانی سے بچانے کے لئے بھی کوشاں ہیں کہ لوگ چار پانچ ہزار کپڑوں اور کھانے پینے پر خرچ کر دیتے ہیں اور تب معاشی تنگدستی آڑے نہیں آتی تو کتاب کیوں نہیں خریدی جا سکتی۔ اب کوئی مہنگی کتابوں پر بابا یحیٰی کو ’’ایلیٹ کلاس‘‘ اور امیروں کے لئے لکھنے والا قرار دے کر ان پر ملامتیں بھیجتا رہے تو کیا اس ملامتی صوفی کو کیا فرق پڑتا ہے؟ اور یہی بات اس بات کے معیار کو سمجھنا بھی آسان بناتی ہے۔ بابا یحیٰی نے کہا ’’آنکھ میں سب کچھ ہے آنکھ کبھی جھوٹ نہیں کہتی‘‘ … میں نے ایک مرتبہ ایک شخص سے گلہ کیا تھا کہ آپ ہمیشہ نظریں چرا کر بات کرتے ہیں شاید نظریں ملا کر جھوٹ بولنا آسان نہیں ہوا کرتا۔ بابا یحیٰی نے ’’کالے کوٹھے‘‘ کے اندر جاتے ہی اور ان سے ملتے ہی پہلے پانی یا جوس کا پوچھا تھا میں نے سادہ پانی منگوایا پھر بابا یحیٰی نے لنگر منگوایا۔ وہ اپنے سیاہ پوشوں سے بار بار کہتے رہے کہ چٹنی لاؤ‘ اچار لاؤ جبکہ مزیدار چاول اور چکن بھی موجود تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ میرا کھانے پینے کی طرف دھیان نہیں جا رہا تھا اور میں زیادہ سے زیادہ بابا یحیٰی کی باتیں سمیٹنا چاہ رہی تھی۔ بہت دیر ہو چکی تھی لہذا میں نے یحیٰی بابا سے سوال کیا کہ آپ ملکوں ملکوں گھومتے رہتے ہیں پاکستان کے بارے میں کیا کہیں گے؟ تو بابا یحیٰی کہنے لگے ’’ہماری بنیاد درست ہے مگر سٹرکچر ختم ہو رہا ہے‘ ہم مجہول قوم ہیں اور ہم میں فکر تازہ کی کمی ہے؟
میں نے بابا یحیٰی کے ساتھ تصویریں بنائیں اور کالے کوٹھے سے باہر آ گئی۔ بابا یحیٰی نے کہا تھا تصوف خدا کو اور خود کو جاننے کا نام ہے۔ بابا یحیٰی نے وہ راستہ اختیار کر لیا ہوا ہے جہاں وہ خدا کو اور خود کو جاننے میں مصروف عمل ہیں۔ بابا یحیٰی کا کالا کوٹھا سونے کا شہرارم نہیں ہے بلکہ سیاہ و سفید رنگوں سے سجا ایک ایسا گھر ہے جہاں کچھ بھی ’’گرے‘‘ Grey نہیں ہے۔ میں اپنی سوچ اور فکر اور پھر طلب اور جستجو کے راستے عبور کرتی ہوئی وہاں پہنچی تھی۔ بہت سارے دوستوں نے کہا کہ ہمیں بھی ساتھ چلنا تھا میرا بلاوہ اچانک آیا تھا۔ کبھی اجازت لے کر دوستوں کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کرنے کی کوشش کروں گی۔ بابا یحیٰی نے خلوت پسندی اختیار کی ہوئی ہے اور یہ خلوت پسندی ہی دراصل صوفی کے جسم دل اور روح کی غذا ہوتی ہے اور اسی خلوت پسندی میں ہی صوفی کے اسرار و رموز پنہاں ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بابا یحیٰی کے پاس جنّات ہیں۔ یحیٰی بابا کا سراپا منفرد ہے مگر اس سراپا میں ان کی پتلی پتلی لمبی لمبی بازوؤں کو خاص حیثیت حاصل ہے جیساکہ ایک کہانی مشہور ہے کہ ایک مکتب میں جہاں جنات بھی علم حاصل کرتے تھے اور ہاسٹل میں ایک قطار میں چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں جب ایک لڑکے نے رات کو ایک طالب علم سے کہا کہ جب پڑھ لو گے تو چراغ گل کر دینا۔ اس طالب علم نے کہا تم سو جاؤ میں چراغ بجھا دوں گا اور پھر اس نے اپنی بازو لمبی کی اور دس فٹ دور بڑا چراغ بجھا دیا۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus