Home / خبریں / افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد محمد حمید شاہد سے مکالمہ

افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد محمد حمید شاہد سے مکالمہ


مکالمہ : احمد اعجاز


محمد حمید شاہد اردو کہانی تنقید اور ناول کا اہم نام ہیں ۔ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’بند آنکھوں سے پرے‘‘۱۹۹۴ء میں شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ’’جنم جہنم‘‘ ۱۹۹۸ء میں، ۲۰۰۴ ء میںتیسرا مجموعہ’’مرگ زار‘‘اور آدمی ‘‘ یعنی ’’چوتھا مجموعہ۲۰۱۳ء میں شائع ہوا۔’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ ناول ۲۰۰۷ء میں چھپا۔ اپریل ۲۰۱۵ء میں افسانوں کا انتخاب’’دہشت میں محبت‘‘ کے نام سے چھپا جس میں نئے افسانے بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے فکشن کی تنقید پر بھی بہت کام کر رکھا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں اعلی ترین سوال ایوارڈز میں سے ایک ’’تمغہ امتیاز برائے ادب بھی دیا ہے ۔ان سے ہونے والی دلچسپ گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ابتدائی زندگی کے باب میں

س:آپ کا تعلق اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب سے ہے۔کیسا رہا آپ کا بچپن؟؟

محمد حمید شاہد: آپ نے درست فرمایا کہ میں پنڈی گھیب میں پیدا ہوا، وہیں پلا بڑھا مگر ایک بات بتاتا چلوں کہ اپنے آبائی گائوں چکی سے میری وابستگی بہت گہری ہے۔ یہ چھوٹا سا گائوں پنڈی گھیب سے آٹھ دس کلو میٹر مغرب کی سمت بسا ہوا ہے ۔ہم وہاں وقفے وقفے سے جا پاتے تھے مگر مجھے یوں لگتا ہے وہ گائوں جو میرے ابا جی اور امی جی وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے اپنے اندر بسا لائے تھے ، اسے میرے اندر بھی بسا دیا تھا ۔ جب تک ابا زندہ رہے گھر کا ماحول بھی گائوں جیسا رہا ، حویلی میں ایک طرف کھلی جگہ پر بھینسوں کے باندھنے کی جگہ بنا لی گئی تھی ۔ اب کئی کئی بھنسیں گھر میں ہوں تو انہیں سبز چارہ بھی چاہیے ہوگا ۔ چارہ آتا تھا اور اسے کترنے کے لیے وہاں مشین لگا لی گئی ، کھرلیاں کنہالیاں غرض شہر کی حویلی ایک عرصہ تک گائوں کا ڈیرہ بنا رہا ۔ ابھی پو نہ پھٹی ہوتی کہ بھینسوں کو دوہا جاتا ، انہیں پانی پلایا جاتا ، انہیں نہلایا جاتا ، گتاوا بنایا جاتا ، بس جانیے گائوں والے سارے شوق یہاں پورے ہو رہے تھے۔ لسی بلونے کا منظر مجھے سب سے اچھا لگتا ، جب چھاچھ اچھل اچھل کر چاٹی کے کناروں سے لپکتی تو میں اپنا بٹھل لے کر پہنچ جاتا کہ مکھن اتارنے سے پہلے مجھے اسے پینا اچھا لگتا تھا ۔ گھر کے صحن میں بہت پرانی دھریک تھی اس کے ساتھ پینگ بندھی رہتی ، میں نے اس پر بہن اور اس کی سہیلیوں کو جھولا جھولتے دیکھا اور خود بھی جھولا۔ پھر یوں تھا کہ ابا جی سیاسی سماجی کارکن تھے ، گائوں سے لوگ آتے رہتے ، ایک دو نہیں گروہ کے گروہ ، کسی کو تحصیل کے دفتر میں کام ہوتا تو کسی کا تھانے میں ، کوئی مریض لے ہسپتال آیا ہوتا تو کسی کو پٹواری سے ملنا ہوتا ، کوئی سودا سلف لینے آتا تو کسی کو کورٹ کچہری کا پھیرا لگانا ہوتا ۔ ابا جی ہر دم ان کے ساتھ چلنے اور ان کی مدد کرنے پر آمادہ رہتے ۔ ان کے چھوٹے چھوٹے کام کر ہوتے ، گائوں والوں کو شہری دفتروں، بنک اور ڈاکخانے میں جاتے ہوئے اور دفتری بابوئوں سے بات کرتے ہوئے جھجھک سی ہوتی ، یہ جھجھک ابا نے ان کے ساتھ جا جاکر دور کر دی تھی ، مگر وہ پھر بھی اباجی کا ساتھ چاہتے تھے اور ابا ساتھ دیتے رہے، آخری سانس تک ساتھ دیتے رہے ۔ ہم گائوں جاتے تو قطعا اجنبیت نہ ہوتی ۔ کسی کے ہاں شادی ہوتی ،کوئی فوت ہوتا، کسی کاعزیز باہر جاتا یا حج عمرہ کرکے لوٹتا، عرس میلہ ہوتا یا فصل کی کٹائی گہائی ہم ابا کے ساتھ گائوں میں ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ گائوں میرے اندر بھی بسا ہوا ہے ۔ میرے افسانوں کے بہت سارے دیہی کردار یہی میرے اپنے لوگ ہیں ۔ چاہے وہ ’’پارو‘‘ افسانے کے کردار ہوں یا ’’جیت،مگر کس کی‘‘،’’بند آنکھوں سے پرے‘‘،’’اللہ خیر کرے‘‘،’’وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی‘‘،’’سجدہ سہو‘‘،’’معزول نسل ‘‘،’’جنریشن گیپ ‘‘،’’ہارجیت‘‘، اور’’تکلے کا گھائو‘‘ سے لے کر’’سورگ میں سور‘‘ تک کے کردار ، سب میں ایک جھلک میرے گائوں کے اپنے لوگوں کی ہے ۔ آپ انہیں پڑھتے ہوئے محسوس کر سکتے ہیں کہ دیہات کا یہ منظر نامہ اردو افسانے کا پہلے سے حصہ بننے والے دیہات اور دیہی زندگی سے قدرے مختلف ہے ، اٹک کایہ دور افتادہ گائوں میرے افسانوں کو بھی مختلف کرتا گیا ہے۔ہاں یہ الگ بات کہ تخلیقی عمل کے دوران، جو کردار میں نے لکھے وہ محض تجربے میں آنے والے کرداروں تک محدود نہیں رہتے ، بہ قول احمد ندیم قاسمی ان افسانوں میں پہنچ کر ایک ایک کردار، ایک ایک لاکھ کرداروں کی نمائندگی کا فریضہ سر انجام دینے لگتا ہے۔

س:تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی۔زمانہ طالبِ علمی میں کن نامور علمی و ادبی شخصیات سے ملاقاتیں رہیں؟مذکورہ اہم شخصیات سے کیا سیکھنے کا موقع ملا؟

محمد حمید شاہد: سید ضمیر جعفری کے لفظوں میں ، میں پنجاب کے پس ماندہ ضلع اٹک کے ایک دور افتادہ گوشے پنڈی گھیب میں پیدا ہوا اور زراعت اور بستانیت کے فاضل ہونے فیصل آباد چلا گیا،عملی زندگی میں بنک میں ملازم ہوا مگر ادب لکھنے لگا۔ یہ سب بظاہر عجیب و غریب لگتا ہے ، بلکہ کہہ لیجئے اضداد کا مجموعہ، مگر یوں ہے کہ قدرت خود شاید مجھ پر اپنی حیرتیں وقفے وقفے سے مگر اچانک آشکارا کر رہی تھی، میں نے میٹرک پاس کرنے سے پہلے تک ریل گاڑی تک نہ دیکھی تھی ، پنڈی گھیب سے نکلا اور فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی جا پہنچا ۔ بظاہر یہ عام سی بات لگتی ہے ، مگر میری زندگی میں اس کے بہت بڑے اور بہت گہرے معنی ہیں ۔ تو یوں ہے کہ یہاں میں بستانیت کا فاضل ہو رہا تھا تو پہلے پہل طلبا سیاست کی طرف نکل گیا وہاں سے من اوب گیا تو کتابیں میری زندگی کا حصہ ہو گئیں ۔ جن دنوں عجب طرح کی بے چینی میرے باطن میں گونج رہی ہوتی تھی،میں یونیورسٹی سے نکلتا، گوبندپورہ کے راستے گھنٹہ گھر کی طرف نکل کھڑا ہوتا اور فیصل آباد کے بازاروں میں یوں ہی گھومتا رہتا۔ انہی دنوں مجھے محفل ہوٹل جانے کا اتفاق ہوا ، وہیں ریاض مجید، خالد محمود انور، احسن زیدی سے لے کر کاشف نعمانی،افضل خاکسار، اشفاق کاشف، شبیر احمد قادری ،عالم خان ،انجم سلیمی،مقصود وفاسب سے ملا ۔ افضل احسن رندھارا، جاوید انور، وحید احمد، فاروق عادل حتی کہ نصرت فتح علی خان سے بھی ابتدائی ملاقاتیں اسی عر صے میں ہوئی تھیں ۔ ان دنوں ہرکوئی ’’اوراق‘‘اور’’ فنون‘‘ میں چھپنے پر اتراتا تھا ،شاید اس کا اثر ہوگا کہ میں سرگودھا جاکر وزیر آغا سے اور لاہور میں احمد ندیم قاسمی سے ملا۔ محفل ہوٹل میں خوب محفل جمتی ،ادب، سیاست ، ثقافت پر بات ہوتی شاعری سننے کو ملتی ۔ مجھے وہاں بیٹھنا اچھا لگتا تھا ، مطالعے کی طرف تو میں پہلے سے راغب تھا ، اور قبل ازیں کچھ نہ کچھ لکھتا بھی رہتا تھا مگر مجھے لگا کہ میرے اندر جو گدازتھا، انتہا درجے کا گداز ، وہ مجھ پر پہلی بار منکشف ہو رہا تھا ۔ آپ یقین نہیں کریں گے مگر یہ واقعہ ہے کہ اس عرصے میں میں نے سینکڑوں کتابیں چاٹ لی تھیں ۔ میں نے اُردو زبان اور اُردو ادب کی باقاعدہ تعلیم نہیں پائی تھی، اس کا موقع ہی نہ ملا تھا کہ میں تو شروع سے سائنس اور زراعت کا طالب رہا مگر مطالعے کے اس جنون نے مجھے کچھ کا کچھ بنا دیا۔عجب تشنگی تھی کہ سیراب ہونے میں نہ آتی تھی۔ اب بھی اگر میرا سب سے محبوب کام ہے تو یہی ہے پڑھنا، پڑھنا اور پڑھنا ۔میں نے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا الیکشن لڑا تھا، نعرے لگائے، تقریریں کیں ، دنگا فساد، جیل یاترا، یونیورسٹی سے نکالاگیا،واپس آیا تو پھر وہی ، سب کچھ ہوا۔ مگر جب کتاب کی دنیا میں گم ہوا تو بانجھ ہنگاموں والی دنیا میں واپسی کا راستہ بھول گیا ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب میں نے ’’پیکر جمیل ‘‘لکھی تھی، ریاض مجید اور دوسرے لکھنے والوں کی صحبت کا اثر تھا کہ میں نے نثر میں شاعری کی، انشائیے لکھے اور آخر کار افسانے کی جانب پوری یکسوئی سے متوجہ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناقابل فراموش

س: بچپن کا کوئی ایسا واقعہ جو آج بھی ذہن میں محفوظ ہو؟
محمد حمید شاہد : احمد اعجاز صاحب، میرے لیے تو بچپن اپنی تمامتر تفصیلات کے ساتھ ایک واقعہ ہے رنگوں سے ، خوش بوئوں سے اور خوشیوں سے میرے وجود کو بھگو دینے والا مگر یہ واقعہ اس خواب کا سا ہے جو اچانک ٹوٹ جاتا ہے ۔ بات اگرچہ پرانی نہیں ، مگر جس طرح زمانے نے پلٹا کھایا ہے لگتا ہے بہت پرانی ہو گئی ہے ۔ یوں کہئیے یہ تب کی بات ہے جب ایک بے گناہ قتل ہوتا تو چاروں کھونٹ میں سنسنی سرایت کر جاتی تھی ۔ اُفق سرخ ہو جاتا اور لوگ سہم کر استغفار کرنے لگتے کہ تب ایک بے گناہ کا قتل ، انسانیت کا قتل ہوتا تھا اور لوگوں کو یقین ہوتا کہ یہ قبیح عمل قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ میں نے اس زمانے کو اپنے افسانوں میں لکھا ہے اور آج کو بھی کہ اب تو پے در پے قیامتیں کچھ اس طرح ٹوٹی ہیں، کہ بچوں کو بھی باہر نکلتے دیکھتے ہوئے دل کانپتا ہے ۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ پنڈی گھیب میں محلہ ملکاں والا اپنا گھر خوشیوں سے لبالب بھر جایا کرتا تھا؛ یوں، جیسے آپ پیالے میں نور جیسا اجلا دودھ انڈیلتے جائیں اور وہ کناروں تک بھر کر چھلکنے لگے ۔ ہمارا گھر جامع مسجد شیعیان سے جڑا ہوا تھا ، جتنا مسجد کا صحن چلتا وہاں تک ہمارے گھر کی دیوار چلتی ، مگر تب شیعہ سنی کے درمیان اس طرح کا بیر نہ تھا ۔ شروع شروع میںجب اس مسجد میں مجالس ہوتیں تو شہر بھر کی بیبیاں ہمارے گھر کی چھت پر مسجد کے صحن کی سمت والے جنگلے سے لگ کر بیٹھ جاتی تھیں ۔ ہم نے ان کے مجلس سننے کا اہتمام پہلے سے کر رکھا ہوتا تھا ۔گھر کی ساری کھاٹیں اوپر چھت پر چڑھا دیتے ، کم پڑتیں کو محلے بھر سے مانگ لایاکرتے ۔ مجھے یاد ہے کھاٹیں ہم الٹی بچھایا کرتے تھے، یعنی پائے اوپر کو ۔ پھر جب مجلس شروع ہو جاتی اور کر بلا والوں کے ذکر پر الٹی پڑی کھاٹوں میں دھنسی ہوئی عورتوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتیں تو شربت کی بھری بالٹیاں لے کر بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے۔ یہ شربت اماں نے کھانڈ گھول کر پہلے سے تیار رکھا ہوتاوہ اسے کربلا کے پیاسوں کے نام معنون کرتیں ۔ہم یہ شربت ان بیبیوں کوکمہاروں کی آویوں میں پکے ہوئے پیالوں، کہ جنھیں ہم ٹاسیں کہتے تھے، میں بھر بھر کر پیش کرتے تھے ۔ تب دکھ سانجھے ہوتے تھے۔ اچھا اب میں اس واقعے کی طرف آنا چاہتا ہوں ،جس نے میرا بچپن مجھ سے چھین لیا ، کہئیے وہ بچپن جسے میں خواب کہتا تھا وہ ٹوٹ گیا اور یہ تب کا واقعہ ہے جب میں محض چودہ برس کا تھا ۔ ٹھہرے یہ واقعہ میں اسی طرح سناتا ہوں جس طرح کہ میں نے لکھ رکھا ہے ۔ پہلی بار ایک مضمون میں اور پھر ایک افسانے میں ۔اسے لکھتے آغاز میں ایک ایسے گھر کا تصور باندھنے کی درخواست کی گئی تھی،جس کے وسیع آنگن میں آسمان ہررات، سارے تارے جھولی میں بھر کر، اُترا کرتا تھا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ وہ میرا گھر تھا۔ ’’سہ پہرہوتے ہی پورے آسمان تلے کھلے آنگن میں چھڑکائو ہوتا اور شام پڑتے ہی بہن بھائیوں اور اَمّاں ابا کی کھاٹیں ایک خاص ترتیب میں بچھا دی جاتی تھیں۔ اُدھر اوپر کی سمت ابا کے لیے مخصوص تھی، دائیںکو اَمّاں اور باجی کے لیے، جب کہ بائیں کو، جدھر بکائن سے پرے ڈیوڑھی تھی، ہماری کھاٹیں بچھتی تھیں۔ اوپر لینے کو سب کے پاس سفید چادریں تھیں۔ جب ہم ان چادروں کو تان کر سو رہے ہوتے تو رات سارے تارے ان کی سفیدی پر انڈیل دیا کرتی تھی۔آپ کو یقین نہیں آئے گا مگریہ واقعہ ہے کہ تارے اُن اجلی چادروں پر بھی لش لش کرتے رہتے تھے۔
ہمارے سونے کا ایک وقت مقر ر تھا۔ نیند آئے نہ آئے ہمیں اپنے اپنے بستر وں پر لیٹ کر خامشی سے نیند کا انتظار کھینچنا ہوتا تھا۔ نیند دبے پائوں آیا کرتی تھی،اور ہر روز بلا ناغہ آتی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عین اس وقت، جب میں چمکتے تاروں کے آبدار کناروں کو اپنے تصور کی نازک پوروں سے ٹٹول رہا ہوتا تورات مجھے اپنے آپ سے بے گانہ کر دیا کردیتی تھی۔ یہی وہ لمحات تھے جب آسمان کالا چغا پہن کر میرے قدموں کی سمت سے نمودار ہوتا اور اپنی بھری جھولی کے سارے تارے میرے اوپر بچھی دودھ جیسی سفیدچادر پر ڈال دیتا تھا۔ یکایک سارے میں یخ لَو،بھر جاتی۔ میں بے تابی سے تاروں کو ٹٹولتا جاتا۔ وہ مجھے اتنے نرم اوراتنے ملائم لگتے کہ اُن کا گداز میرے دل میں بھر جاتا تھا۔
پھر یوں ہوا کہ سب کچھ تلپٹ ہو گیا۔
مگر یہ اس رات ہوا تھا جب آنگن میں کھاٹیں نہیں تھیں کہ خنکی بڑھ گئی تھی۔ہم بستروں پر لیٹا کرتے تو کچھ ہی لمحوں میں ہمارے بستر جادو کاقالین بن کر ہمیں تاروں بھرے کھلے آسمان تلے لے آتے تھے۔ لیکن جس رات کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ معمول کی راتوں سے کہیں زیادہ تاریک تھی۔ ابا اپنے کمرے میںسو نہیں سکے تھے… اور ہم بھی اپنے اپنے بستروں سے نکل، باہر آنگن میں آکر ہکا بکا اور دل گرفتہ کھڑے تھے۔ ہم سب کھلے اور کالے آسمان تلے تھے مگر جیسے وہاں تھے ہی نہیں… کہ وہاں تو صرف ابا تھے جو چاروں اور گھوم گھوم کر اوپر آسمان کو تکے جاتے تھے اور سسکاریاں مار مار کر کہتے تھے، دیکھو یہ ٹوٹ گیا۔وہ آسمان تھا…!،وہ تارے تھے …!،وہ دل تھا…!،کہ وہ دھرتی تھی…!،کچھ بچا تھا یا سب کچھ ٹوٹ گیا تھا میں پوری طرح سمجھنے سے قاصر تھا۔ بس یوں محسوس ہوا تھا جیسے آسمان کے سارے تاروں نے پہلے تو دھماکے سے باہم جڑ کر ایک بڑا سا گولا بنا یا تھا، آسمان جتنابڑا … اور پھردوسرے ہی لمحے میںیہ گولا ٹوٹ کر ہمار ی دھرتی پر،نہیں شاید ہمارے دلوں پر برس پڑا تھا… یوں کہ سب کچھ پاش پاش ہو گیا تھا۔
مجھے یقین سا ہو چلا ہے کہ یہی وہ رات تھی جب میں نے اچھی طرح چہرہ دِکھانے والے دُکھ اور پوری طرح شناخت نہ ہونے والے تخلیق کے اَسرار کی خوشبو میں رَچے بسے لمحوں کو ایک ساتھ اَپنے بدن کے خَلیے خَلیے میں، رگوں میں اور ہڈیوں کے گودے میںمحسوس کیا تھا۔ اس رات ہمارے گھر میں کوئی نہ سویا تھا کہ ابا کسی طور سنبھلتے ہی نہ تھے۔ جو بڑے تھے وہ ابا کو سنبھال رہے تھے اور میں اندر ایک کونے میں دبکا بیٹھا کا غذ پر کچھ لکھ رہا تھا یا پھر یوں ہی کچھ لکیریں کھینچ رہا تھا۔‘‘ اکہتر کی جنگ میں شکست کی خبر ، پاکستان ٹوٹنے کی خبر، مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی خبر ایسی تھی کہ ابا بھی ہوش کھو بیٹھے تھے ۔ شاید یہی روز تھا کہ ابا کے دماغ کی کوئی رگ رسنے لگی تھی ، بعد کے برسوں میں ان پر فالج کا حملہ ہوا ، ۱۹۸۳ کو جب میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر آیا تو وہ بول بھی نہ سکتے تھے ، پہلو بدلنے کے لیے بھی ہمارے سہارے کے محتاج تھے ۔ مجھے یاد ہے میری پہلی کتاب ’’پیکر جمیل‘‘ آئی میں بے دھیانی میں خوشی خوشی ابا کے پاس لے گیا اور کھول کر ان کے سامنے کر دی ، وہ مسلسل کتاب پر نظریں جمائے رہے ، ان کے ہونٹ پھڑپھڑائے مگر ایک لفظ بھی ادا نہ کر سکے ، پتہ نہیں وہ کیا کہنا چاہتے تھے ، ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں ۔ میں نے اپنا سر ان کی چھاتی پر رکھ دیا اور جی بھر کر رویا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گائو ںسے شہر تک

س:آپ کے آبائو اجداد چکی گائوں کے باسی تھے۔آپ کی پیدائش پنڈی گھیب کے محلے ’’ملکاں‘‘میں ہوئی۔چکی گائوں جو دریائے سیل کے کنارے آباد تھا،آپ کی کہانیوں میں زیادہ آیا ہے یا پنڈی گھیب کا محلہ ملکاں؟دونوں مقامات سے اس وقت کوئی رشتہ قائم ہے یا محض یہ مقامات کہانیوں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں ؟

محمد حمید شاہد :یہ جو دریائے سیل کا آپ نے ذکر کیا یہ پنڈی گھیب کے شمال کی جانب پہلو سے سانپ کی بل کھاتا ہوا مغرب کی سمت آتا ہے اور وہاں سے گھومتا چکی تک پہنچتا ہے تو اس کی جنوبی بغل کو چھو رہا ہوتا ہے ، یہیں اسے دریائے سواں جا گرنا ہوتا ہے ۔ انہی پانیوں کی وجہ سے میرا یہ گائوں قدرے زیادہ سر سبز دِکھتا ہے۔ جس طرح سیل کا رشتہ ان دونوں مقامات سے ہے میرا بھی تخلیقی اور بہت زرخیزرشتہ ان دونوں مقامات سے رہا ہے اور یہ دونوں مقامات میری کہانیوں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں ۔ اب رہا آپ کا یہ سوال کہ ان دونوں مقامات سے اس وقت بھی کوئی رشتہ قائم ہے یا محض یہ مقامات کہانیوں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں ؟ تو سچ یہ ہے کہ اب میں جب بھی جاتا ہوں مجھے لگتا ہے میرا گائوں ہو یا میرا شہر دونوں پر بوسیدگی چڑھ دوڑی ہے ۔ایک تو یہ دونوں علاقے بہت پس ماندہ ہیں ،یہاں وقت یوں لگتا ہے جیسے وہیں کھڑے کھڑے تڑخ گیا ہے ۔ کچھ تبدیل نہیں ہوتااور سب کچھ تبدیل ہو گیا ہے۔ جس طرح چیزوں کے پڑے رہنے، اور جھاڑ پونچھ نہ کرنے سے ان پر دھول جمتی چلی جاتی ہے،میرے چکی اور پنڈی گھیب پربھی دھول جم رہی ہے ،نہ صرف اس کے گھروں، دیواروں ، دروازوں اور گلیوں پر، ان کے مکینوں پر بھی۔یوں لگتا ہے وہ لوگ جنہیں میں توانا دیکھا کرتا تھا وقت انہیں خوب رگید کر گزرتا رہا ہے ۔ میں کبھی کبھار جاپاتا ہوں ، مگر جب بھی جاتا ہوں اور بھی دکھی ہو کر آتا ہوںپس ماندگی بھی ایسا عارضہ ہے جو علاقوں کو کینسر کی طرح کھا جاتا ہے ۔ جو کچھ ترقی نظر آرہی ہے وہ بس بڑے شہروں تک محدود ہے، یہ دکھ بھی میری کہانیوں کا حصہ ہوتا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوی بچے اور ادب
س: آپ کے ماشاء اللہ پانچ بچے ہیں ۔چار بیٹیاں اور ایک بیٹا۔آپ کے بچے کتابوں سے کس حد تک محبت کرتے ہیں ؟

محمد حمید شاہد: کتاب سے تو بلاشبہ وہ سب محبت کرتے ہیں اور یہ محبت میری بیوی نے میری محبت میں ان کے وجودوں کا حصہ بنا دی ہے ۔ بڑی بیٹی ثنا ایک یونیورسٹی میں ایچ آر مینجر ہے دو بچوں کی ماں مگر آگے پڑھنے کا جنوں ابھی تک ہے ۔ اس نے کچھ انگریزی نظموں کے تراجم بھی کئے تھے ۔ دوسری بیٹی رمشا ، ڈاکٹر ہے اپنے کالج کے زمانے میں کالج میگزین کی مدیر رہی ۔ ایک بیٹے کی ماں ہے اور اب بھی پڑھنے کواپنی پسند کے ناول اکٹھی کرتی رہتی ہے۔ تیسری بیٹی ناعمہ نے ارتھ سائنسز میں ایم ایس سی کی ۔آجکل ابو ظبی میں ہے ۔ وہاں ایک آئل کمپنی میں کنسلٹنٹ ہے ، ذوق اس کا بھی برا نہیں ، سب سے چھوٹی بیٹی وشا ، جو بی بی اے کر رہی ہے ایک بار کہانی لکھ کر مجھے سنائی بھی ۔ بیٹا سعد انجینئر ہے مگرجب بھی وہ اپنے فیس بک اکاونٹ پر جون ایلیا کے اشعار سے اپ ڈیٹ کرتا ہے مجھے اچھا لگتا ہے ۔ بچوں کی کتاب اور ادب میں دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے گھر میں ادیبوں اور شاعروں کا آنا جانا دیکھ رکھا ہے ۔ مسعود مفتی ،احمد فراز، افتخار عارف، منشایاد، جلیل عالی ، کشور ناہید، جاوید انور،احسان اکبر، رشید امجد، علی محمد فرشی، انوار فطرت، نصیر احمد ناصر، شبنم شکیل سے لے کر نوجوان ادیبوں تک سب سے وہ مل چکے ہیں ، ان میں سے کئیوں سے ان نے ان کا کلام اور افسانے سنے ہیں۔ میں نے مواقع نکالے ہیں کہ بچے حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں بیٹھ کر دیکھیں کہ وہاں مکالمہ کیسے ہوتا ہے، ایک ایک بار سب کو لے گیا ۔ تو یوں ہے کہ ادب اور کتاب کی دنیا میرے بچوں کے لیے بہت جانی پہچانی ہے یہی سبب ہے جب بھی گھر میں کوئی پروگرام رکھتا ہوں بچے اس میں مہمانوں کا استقبال کر رہے ہوتے ہیںانہیں سنتے ہیں اوریہ ایسی بات ہے جو مجھے تقویت دیتی ہے۔

س:آپ کے گھر میں ادیبوں ،شاعروں اورعلم کی تڑپ رکھنے والوں کا میلہ لگا رہتا ہے۔گھریلو زندگی متاثر نہیں ہوتی؟آپ کی بیوی اور بچے گلہ نہیں کرتے کہ اُن کا وقت کتابوں اور کتابوں سے وابستگان کو زیادہ دیتے ہیں ؟

محمد حمید شاہد:زندگی بھر ادب میری ترجیحات میں بہت اوپر رہا ہے ۔ میرے خلوص کو دیکھتے ہوئے خود بہ خود میری شریک حیات یاسمین نے گھر میں ایسا ماحول پیدا کیا کہ میرے تخلیقی عمل میںرخنے نہ پڑیں ۔ جب بچے چھوٹے تھے ،تب سے وہ ایسے ماحول کے عادی ہیں ۔ جب میں گھر بنا رہا تھا تو ہم دونوں نے باہمی مشورے سے گھر کے تہہ خانے میں ایک بڑا سا ہال بنوایا تاکہ وہاں میں اپنی لائبریری بنا سکوں اور وہیں دوستوں کے مل بیٹھنے اور تقاریب کرنے کا بھی اہتمام ہو سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض اوقات بیوی اور بچوں کے لیے مختص وقت بھی انہیں نہیں دے پاتا ، مگر اب وہ سب اس کے عادی ہو گئے ہیں اور شاید اس کی اہمیت کو سمجھتے بھی ہیں ۔ لکھنے پڑھنے والوں کی بھی ایک تہذیب ہوتی ہے اور اس تہذیب کا مظاہرہ اگر لکھنے والے اپنے گھر میں نہیں کریں گے تو اپنی زندگی کو جہنم بنا لیں گے ، میں نے کئی ادیبوں کے ہاں زندگیوں کو جہنم بنتے دیکھا ہے ، مگر خدا کا شکر ہے کہ مجھے یاسمین نے بکھرنے سے بچائے رکھا ، یوں سینت سینت کر رکھا جیسے کوئی کانچ کا کھلونا سینت کر رکھتا ہے ۔ ایک طرف میری آسائشوں کا خیال تو دوسری طرف بچوں کی تربیت کی اور ایسا فضا بنا دی کہ میں لکھنے پڑھنے کی طرف پوری توجہ دے پایا ہوں ۔ حال ہی میں ہم دونوں ریختہ کے ادبی میلے میں شرکت کے لیے نئی دہلی گئے ۔ یاسمین نے لگ بھگ ہر اجلاس میں شرکت کی اور میرے ساتھ ساتھ رہی ۔واپسی آتے ہی اسے ابوظبی بیٹی کے پاس جاکر رہنا پڑا ۔ اس عرصے نے اس ہندوستان کا ایک دلچسپ سفرنامہ لکھ کر مجھے بھیج دیا تھا ۔ میں نے پڑھا اور خوش ہوا کہ پہلے وہ مطالعے کی طرف راغب تھی اب لکھنے بھی لگی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادب اور ادبی میلے

س:آپ پاکستان اور پاکستان سے باہر علمی و ادبی محفلوں کی پاکستان کی طرف سے نمائندگی کرتے ہیں ،کیسا محسوس کرتے ہیں ،پاکستان کے اندر اور بالخصوص انڈیا میں علمی ماحول کو۔یا کیا فرق لگتا ہے ان دونوں مقامات کی تقریبات میں ۔

محمد حمید شاہد:میں نے بتایا نا کہ اسی سال ہندوستان میں ریختہ کے جشن میں شرکت کا موقع ملا اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک ادبی کانفرنس میں شرکت بھی کی۔ وہاںاردو زبان کے حوالے سے بہت سے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے ، اور ایک لحاظ سے وہ خدشات بے بنیاد بھی نہیں ہیں مگر لطف کی بات دیکھئے کہ ریختہ جیسے بڑے ادارے کی جس شخص نے بنیاد رکھی ، اردو کی ای کتابوں اور شاعری کی سب سے بڑی ویب سائٹ بنوائی اور ہر سال اردو کا شاندار جشن برپا کرنے کا اہتمام کرتا ہے وہ اردو کی بجائے ہندی والا ہے ۔ تاہم یوں ہے کہ سنجیو صراف کو اردو سے عشق ہے ۔ ہم نے وہاں جاکر دیکھا کہ بڑی تعداد میں لوگ اس محبت کی زبان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں ۔ لگ بھگ وہا ں یہ نعرہ بن چکا ہے کہ اردو تہذیبی زبان ہے اور آدمی کو مہذب بناتی ہے ،اس جشن میں شرکت کے لیے پاکستان سے ادیب بھی جاتے ہیں اورفنکار بھی ۔ وہاں ادب اور شاعری کی بات ہوتی ہے اور اس اردو کی جو ڈرامے اور فلم یا میڈیا کے ذریعے سامنے آ رہی ہے ، گلو کار ہوں یا فن کار سب اردوکے گیت گاتے ہیں اور لطف کی بات یہ کہ جب تک جشن چلتا رہا لوگوں اور بطور خاص نوجوانوں بڑی تعداد میں وہاں آتے رہے ۔ ہمارے ہاں کے مقابلے میں مجھے وہاں بڑے اجتماعات دیکھنے کا اتفاق ہوا اور سب اتنی توجہ سے سن رہے ہوتے کہ لطف آ جاتا ۔ وہاں اس بار مجھے ایک ایسے سیشن میں شرکت کرنا تھی ، جس کا موضوع تھا :’’راجندر سنگھ بیدی: انسانی رشتوں کا راز داں‘‘ گفتگو میں میرے ساتھ شمع زیدی کے علاوہ بالی ووڈکے معروف ڈائریکٹر اور راجندر سنگھ بیدی کے بیٹے نریندرا بیدی کی بیٹی الابیدی دتا بھی موجود تھیں۔ الابیدی دتا نے اپنے دادا کے افسانے ’’لاجونتی‘‘ پر ڈارامہ بھی بنا یاہے ، سکرین پلے لکھتی ہیں اور ڈرامے پروڈیوس کرتی ہیں ۔ جب ہم راجندر سنگھ بیدی پرپروگرام کر چکے تو الا بیدی نے اٹھتے ہی میرے دونوںہاتھ تھام لیے اور کہا ، مجھے یقین ہی نہیں آتا کہ میرے دادا کے افسانوں پر اتنی خوب صورت باتیں کرنے والا پاکستان سے ہے ۔ میں سمجھی تھی کہ وہاں کے لوگوں نے بیدی کو بھلا دیا ہوگا ۔ میں نے ہنستے ہوئے کہاتھا،’’ ہمیں داد دیجئے ہم نے ایک سکھ لکھنے والے کو یاد رکھا ‘‘ وہ بھی ہنسنے لگیں ۔ میں نے اضافہ کیا ’’ راجندر سنگھ بیدی کو کوئی نہیں بھلا سکتا کہ وہ اردو افسانے کا ایک اہم باب ہو گئے ہیں ۔‘‘ الا بیدی نے کہا’’ جب آپ گفتگو کر رہے تھے اور بہ طور خاص آپ نے ’’ببل‘‘ افسانے کا ذکر کیا تو ایک مقام آیا کہ آنسو تھامنا میرے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ بیدی کو اتنی گہرائی سے پڑھا جائے گا تو انسانی رشتوں کی کئی باریکیاں سمجھ آئیں گی، جنہیں بیدی نے اپنے افسانوں میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔‘‘ جواہر لا ل نہرو یونیورسٹی میں جس کانفرنس کے افتتاحی جلسے میں میں نے اردو افسانے پر بات کی ، اس میں لگ بھگ سو کے قریب اردو پر پی ایچ ڈی کرنے والے سٹوڈنٹس تھے اوریہ صرف ہندوستان سے نہیں تھے ،کہ جس طالبہ نے ہمیں پھولوں کا گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا اس کے بارے میں ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین نے بتایا تھا کہ اس کا تعلق ایرانی تھی ۔تو یوں ہے کہ ان ہی میلوں سے اور جشن کے ہنگاموں میں اردو نے پھلنے پھولنے کی راہ ڈھونڈھ نکالی ہے ۔ پاکستان میں بھی آکسفرڈ کا کراچی اور اسلام آباد کے فیسٹیول ہوں یا ادھر لاہور اور فیصل آباد میں ہونے والے ادبی اورثقافتی میلے ، کراچی آرٹس کونسل کی اردو کا نفرنس ہو یا یونیورسٹیوں میں ہونے والی کانفرنسیں ، ان سب کی یہ عطا تو ہے کہ بریکنگ نیوز کے اس زمانے میں لوگ ادب اور ادیب پر بھی بات کرنے لگے ہیں اور مکالمے کی فضا بننے لگی ہے ۔

س:اسلام آباد ،لاہور ،کراچی ،کوئٹہ یا دیگر مقامات پر جو بڑے علمی و ادبی میلے منعقد کیے جاتے ہیں ،آپ سمجھتے ہیں کہ ان کے انعقاد سے علم و ادب کی ترویج دُرست خطوط پر ہوتی ہے؟

محمد حمید شاہد: میرا خیال ہے کہ ان ادبی میلوں کا کام ، سماجی حاشیے پر موجود ادیبوں کو مرکز میں لاکر ان پر مکالمہ قائم کرنا ہے، اور ایسا ہونے لگا ہے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ ادیبوں سے ان کی تخلیقات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں ، ان سے ملنا چاہتے ہیں ۔ وہاں کتابوں کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں ، لوگ کتابیں خرید کر مصنفین سے آٹو گراف لیتے ہیں ۔ ادب ادیب کتاب اور مکالمے کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھا ہے، تاہم ایسا ابھی تک بڑے بڑے شہروں میں ہوا ہے ۔ ایسا دوسرے شہروں میں بھی ہو نا چاہئے ۔ اب رہی بات خود ادیب اور ادب کی تو میں اس باب میںاس بات کا قائل ہوں کہ ایک تخلیق کار کو بھیڑ کا آدمی نہیں بننا چاہیے۔ لکھنے والے کو اپنے باطنی اضطراب کو جگانا ہوتا ہے ، اس اضطراب کو سہارنا ہوتا ہے،اور ایک ایسی کیفیت میں پہنچ کر لکھنا ہوتا ہے، جیسے کہ کوئی ٹہنی پر جھولتے پکے ہوئے پھل کو ذراسا چھوتا ہے اور وہ جھولی میں آگرتا ہے۔ تخلیق کو یوں کاغذ پر اترنا چاہیے۔ آپ کہہ سکتے ہیں یہ دو متضاد باتیں ہیں ، میلوں کے تقاضے مجلسی، اور لکھنے والے کے گوشہ نشینی والے ،ہاں دونوں الگ ہیں ، اور سوال یہ ہے کہ ادیب ان سے کیسے عہدہ برا ہو؟ تو اس باب میں عرض ہے ، بے شک ادیب بھیڑ کا آدمی نہیں ہوتا تاہم اسے اپنے تخلیقی تجربے میں اوروں کو شریک کرنے کا موقع نہ ملے تو بھی یہ اس کے حق میں بہتر نہیں ہوتا ۔ دوسرے ملکوں اور شہروں کے ادیبوں، شاعروں ،دانش وروں اور فن کاروں سے ملنا اور ان سے مکالمہ کرنا بجائے خود ایک اعلی مقصد ہے جو اس وسیلے سے حاصل ہوتا ہے۔تاہم جو اس سرگرمی کو پیشہ بنالیں ، ان کے تخلیقی مزاج کا اتلاف یقینی ہو جاتا۔

س:مذکورہ میلوں میں ،چھوٹے شہروں کے عمدہ لکھنے والوں کی شمولیت نظر نہیں آتی،اس کی کیا وجہ ہے؟ان لوگوں کی عدم شمولیت سے علم و ادب مخصوص شہروں تک محدود ہوکر نہیں رہ گیا۔

محمد حمید شاہد:جی ایک حد تک ایسا کہا جا سکتا ہے ۔ شروع شروع میں انگریزی کے مقابلے میں اردو ادب کو بھی مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی تھی، مگر رفتہ رفتہ ان میلوں کا مزاج بدلا ہے۔ مثلا ً اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول میں اردو زبان و ادب کے پروگراموں کا مقابلتاً زیادہ ہونا ، مقامی زبانوں اور ادیبوں کو بھی اہمیت دینا ، یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایک مشاعرہ پوٹھواری زبان کا رکھا گیا ۔ کتاب میلے میں تو پاکستان بھر سے اور دور دراز سے لکھنے والے آئے تھے ،مجھے یوں لگتا ہے کہ خود ایسے پروگراموں کے منتظمین بھی آہستہ آہستہ محسوس کر رہے ہیں کہ چھوٹے شہروں کے لوگوں کو بھی ان میلوں میں شریک ہونے کی ترغیب دی جانی چاہیے الحمر ا کا لاہور کا ادبی ثقافتی میلہ ہو یا کراچی آرٹس کونسل کی عالمی اردو کانفرنس اور نیشنل بک فانڈیشن کا کتاب میلہ سب مل کر ایسی فضا بنا رہے ہیں کہ چھوٹے شہروں کے اچھا لکھنے والوں کے لیے بھی راہیں کھلنے لگی ہیں ۔ میں انہی میلوں میں بلوچستان کے منیر بادینی ، ڈاکٹر آغا محمد ناصر،وحید زہیر کراچی کے شاہدرسام ، فاضل جمیلی،فاطمہ حسن ، ملتان کے حفیظ خان ، بہاولپور کے نجیب جمال لاہور کے اسلم کمال ، صغری صدف، اصغر ندیم سید اور اس طرح دوسرے کئی دوستوں سے مل سکتا تھا ، وہ کیا کر رہے ہیں ، کیا پڑھ رہے ہیں ، یہ جان سکتا تھا ۔ آپ کا سوال اہم ہے ،اس باب میں اب بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے ۔ جو ہو رہا ہے وہ بہت زیادہ تسلی بخش نہیں ہے تاہم یقین کیا جانا چاہیے کہ ان میلوں کے منتظمین اس طرف اور زیادہ توجہ دیں گے ۔

س:جب سے ادبی میلوں کی شروعات ہوئی ہے ،شاعر و ادیب سلیبرٹیزبن گئے ہیں، پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ،سلفیاں بنوارہے ہیں ،آٹو گراف لیے جارہے ہیں ،کیا خیا ل ہے؟اب کوئی مجید امجد آٹو گراف نظم تخلیق نہیں کرے گا؟

محمد حمید شاہد:آپ نے درست کہا احمد اعجاز ،لگ بھگ یہی بات اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول کی بانی امینہ سید اور آصف فرخی نے بھی حالیہ پروگرام میں ایک موقع کہی تھی ۔ نیشنل بک فائونڈیشن والوں نے کتاب میلے کے شرکا کی بڑی بڑی رنگین تصاویر شہر بھر میں لگادیں کہ دیکھیے یہ ہیں اصل سلیبرٹیز ۔ جہالت کو فروغ دینے والے میڈیائی سلیبرٹیز کی بجائے ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ ملنے ، اور ان سے بات کرنے کو اگر نوجوان اپنا اعزاز گردانتے ہیں تو یہ بری بات کہاں سے ہو گئی؟ پڑھے لکھے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں حرف اور حرف کی حرمت سے منسلک لوگوں سے جڑیں گے تو یقین جانئے ان کے دل روشنی اور محبت سے بھر جائیں گے ۔اب رہایہ سوال کہ جب شاعروں کو آٹوگراف لینے والے میسر رہیں گے تو کوئی مجید امجد آٹو گراف سی نظم کیسے لکھ پائے گا؟ یاد رکھیے اسی مجید امجد نے یہ بھی کہہ رکھا ہے:”زندگی جام ہے محبت کا /زندگی نام ہے محبت کا۔ہم نشیں،کس قدر قریب ہیں ہم /زندگی ہے تو خوش نصیب ہیں ہم “،سو آٹوگراف دینے والے ادیب زندگی کی اسی چہل پہل کو اپنی تخلیقی زندگی کا حصہ بنائیں گے اور اپنی محرومیوں اور تلخیوں پر کڑھنے کی بہ جائے زندگی کے گہرے رازوں کو نظم کرنے لگے ہیں ، ایسا پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔اقبال ہو یا ن م راشدکیا انہوں نے مالی آسودگی کے زمانے میں اچھی اور بڑی نظمیں لکھنا چھوڑ دی تھیں ۔ یقیناً نہیں بلکہ وہ اپنے تخلیقی وجود کے ساتھ کچھ اور بڑے سوالات کے مقابل ہوگئے تھے ۔

کچھ افسانہ نگاری کے باب میں

س:آپ نے افسانہ ،مختصر نظمیں ،افسانے کی تنقید اور ناول لکھا۔اصل میدان ان میں سے آپ کا افسانہ ہی ہے؟پہلا افسانہ کب لکھا،کہاں چھپا اور کیا تاثرات تھے؟

محمد حمید شاہد:میں نے اپنے افسانوں کے پہلے مجموعے’’بند آنکھوں سے پرے‘‘ کا پیش لفظ ’’کہانی سچ کہتی ہے‘‘ کی ذیل میں اگر یہ لکھ دیاتھا کہ جب میں نے اپنے ماتھے پر پہلی بار ماں کے بوسے کے ثبت ہونے کے ردعمل میں ، اپنا دوران خون بڑھتا ہوا محسوس کیا تھا اور میرے بدن سے پھوٹتی مسرت کی پھوار کو دیکھ کر ماں کی گود میں ساتھ لیٹے اپنے ردعمل پر کہانی کے قہقہے کو سنا تھا ، تو یقین جانیے وہ محض فکشن کا جملہ نہیں تھا۔ خیر میرے لیے فکشن کا جملہ زندگی کے عمومی بیانیے سے کہیں زیادہ زندگی سے گہرائی میں جاکر جڑ جاتا ہے ، لہذا آپ اسے فکشن کا جملہ کہنے پر مصر ہوں گے تو بھی مجھے اعتراض نہیں ہوگا، ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے ایک قہقہہ سنا تھا ۔ یہاں مجھے یہودیوں کے ہاں مشہور ہو جانے والی ایک کہاوت یاد آتی ہے کہ ’’ آدمی سوچتا ہے اور خداقہقہہ لگاتا ‘‘ اس کہاوت سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ آدمی سوچتا ہے مگر سچائی اس سے گریزاں رہتی ہے، ہر بار کنی کاٹ کر گزر جاتی ہے۔ کنڈیرا نے ایک جگہ لکھا ، ’تازہ کھدی ہوئی قبر میں ٹھیک میت کے اوپر کسی کا ہیٹ گر جاتا ہے تو کفن دفن اپنی ساری معنویت کھو دیتا ہے اور قہقہہ وجود میں آ جاتا ہے۔ اب میں سوچتا ہوں تو زندگی تازہ کھدی ہوئی قبر میں میت جیسی لگتی ہے ،جی ایسی میت جس پر خدائی قہقہہ بھی ہم سننے پر مجبور ہیں ۔ اِسے ہم پہلے سے مُرّتِبَہ اپنی سوچ کے دھاروں سے نہیں کہانی کے بیانیے سے سمجھ سکتے ہیں ۔بجا طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ کہانی کی تجوری میں اس کی اپنی دانش ہوتی ہے۔ تو اس دانش کے ساتھ مجھے لگتا ہے میں تب ہی جڑ گیا تھا جب میرے حلقوم میں ماں اپنی گود میں لٹا کر دودھ کی دھاریں عطا کرتی تھی۔ حکیمانہ باتیں اور وہ بھی کہانی کے سے ڈھنگ میں اماں ابا سے،دادا دادی سے، نانی سے اور خالائوں سے سنتے ہوئے میں بڑا ہو رہا تھا اور مجھے لگتا تھا کہ یہی اکھان، کہاوتیں، قصے، ہڈبیتیاں ، جگ بیتیاں مجھے ایک اور ہی دنیا میں لے جاتیں۔میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ، کب مگر واقعہ یہ ہے کہ ایسا ہو گیا تھا اور و ہ خدائی قہقہہ چپکے سے میرے لیے زندگی کی اس تفسیر سے چپک گیا تھا جو ہماری عقل اور ہماری فکر کرتی ۔ سو یہ قہقہہ سنتے ہی کہانی کی ماں جیسی آغوش میں چلے جانے میں ہی مجھے سکون ملتارہا ہے۔ مانتا ہوں کہ حقیقی دنیا تعقل کی دنیا ہے اور بالعموم اسی سے اس کی صورت گری ہوتی ہے؛ علل و معلوم سے جڑی ہوئی ، مگر کہانی مجھے یوں پناہ دیا کرتی کہ یہ عقل کو محو تماشا چھوڑ کر ایک ایسی ذہنی اور حسی کیفیت میں لے جانے پر قادر تھی ،جس کا کسی اور بیانیے میں اظہار ممکن ہی نہیںہے ۔
کہانی کی طرف لپکنے کی بات ہو چکی تو میں آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں، آپ نے پوچھا ہے کہ میں نے کہانی بُننے کا پہلا ذائقہ کہاں چکھا؟‘‘۔ جس کہانی کو میں نے ماں کی دودھ کی دھار حلق میں اترتے ہی چکھ لیا تھا ، اس کے بننے کے چکھنے کومیں اپنے پہلے تخلیقی اظہار کے احساس کے ساتھ جوڑ کر دیکھ سکتا ہوں ۔ کئی سال پہلے، جب حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی نے میرے ساتھ ایک نشست کاا ہتمام کیا تھا جس میں مجھے ’’میرا تخلیقی عمل‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرنی تھی ، تب میں نے اس تقریب کے لیے لکھتے ہوئے ، پہروں سوچنے کے بعد ایک ایسے لمحے کو ڈھونڈھ نکالا تھا جب تخلیق کی دیوی مجھ پر مہربان ہوئی تھی ۔ ملک کا دولخت ہونا اور ابا کا اس رات آسمان کی طرف دیکھنا اور اوپر ایک روشن ستارے کے ٹوٹ کر گرنے کی طرف متوجہ کرنا پھر خوف سے میرا گھر کے ایک کونے میں دبک کر کاغذ پر کچھ لکھنے کی کوشش کرنا، میں اب بھی غور کرتا ہوں تو اس سے پہلے اپنے اندر کے اس ہیجان کو دریافت نہیں کرپاتا ہوں جس میں ، میں نے خود کو اکیلا کر لیا ہو اورکاغذ کی وسعت میں اس ہیجان کو انڈیلنے کی سعی کی ہو جو میرے اندر یوں اٹھنے لگا تھا کہ میری پسلیاں توڑ کر باہر آ جاتا پھر جب ابا کا ایک پہلو مارا گیا تھا اوروہ گیارہ سال اس بیماری کو جھیلتے رہے اور ایک روز، اسی حویلی کے طویل برامدے میں ہمیں اپنے اوپر جھکا چھوڑ کر مر گئے تھے ۔ اُن خدائی قہقہوں کی بابت سوچئے جن کی گونج اس سارے عرصے میں اس حویلی کے دروازوں اور دیواروں سے ٹکراتی رہی ، یوں جیسے زور سے ایک دیوار پر ٹینس کا گیند ماریں اور وہ ایک دیوار سے ٹکراتا سامنے کی دیوار سے ہوتا پھر پہلے والی دیوار کی طرف لپکے ، یا جیسے کوئی پہاڑی سلسلے کی وسعت سے گھبرا کر کسی کو پکارے اور اس کی آوازباز گشت نہ رکنے والا سلسلہ ہو جائے ، بالکل ایسے ہی۔ جس عمر میں ، میں اب ہوں ، اس عمر میں پہنچنے سے پہلے ہی اباجی کا مر جانا ایسا سانحہ ہے کہ جسے میں مرتے دم تک بھلا نہیں پائوں گا۔ ان برسوں کے دکھوں نے مجھے اندر سے برتی ہوئی باریک ململ سا ملائم اورخستہ کر دیا ہے۔ تو بھائی اسی حویلی میں کہانی کا ذائقہ چکھا تھا موت جیسا کڑوا کسیلا ، مگر میں نے اسے بوکھلا کر تھوکا نہیں تھا اپنے بدن میں اتار لیا تھا ۔ عجب زہر تھا جس نے مجھے مارنے کی بہ جائے ، ایک اور مرتبہ وجود پر جینے اور زندگی کو کئی اور سطحوں سے جھیلنے کا رسیا بنا دیا تھا ۔ تاہم یوں ہے کہ میں اپنی کہانی ایک ہی ہلے میں نہیں لکھ پایا ہوں ، بس قطرہ قطرہ ہراس لفظ میں انڈیل دیتا ہوںجس کی تاثیر مجھے بڑھانی ہوتی ہے۔ میرا پہلا افسانہ ’’ماسٹر پیس ‘‘تھا جوپہلے سیارہ میں چھپا اور پھر کہیں اور ۔ اس سے بھی پہلے میں انشائیے لکھ رہا تھا اسی عرصے میں ، یعنی ۱۹۸۱ ء میں ’’پیکر جمیل‘‘ مکمل کی جو ۱۹۸۳ء میں جاکر چھپ سکی ۔ یہی وہ زمانہ ہے جب میں ادب کی مختلف اصناف کو آزما رہا تھا ، ادھر ادھر بھٹک رہا تھا حتی کہ مجھے افسانے کی صنف نے اپنی بانہوں میں لے لیا ۔

س:آپ کا پہلامجموعہ نوے کی دہائی میں منظرِ عام پر آیا،پہلے افسانے کی تخلیق سے پہلے مجموعے کی اشاعت میں خاصا عرصہ ہے۔پہلی کتاب کی اشاعت میں تاخیر کیوں؟

محمد حمید شاہد:یہ درست ہے کہ میرے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’بندآنکھوں سے پرے‘‘ ۱۹۹۴ء میں کہیں جاکر شائع ہواتھا ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ ابا جی کے مرنے کے بعد میرے اندر لکھنے کی تاہنگ بھی جیسے مر گئی تھی ، حتی کہ میری پوسٹنگ مری میں ہو گئی ، یہ ۱۹۹۰ کا سال تھاکہ میں نے ’’برف کا گھونسلا ‘‘ لکھا تھا ، پھر چل سو چل ، تاخیر کی دوسری وجہ یہ رہی کہ اول تو میں لکھ ہی نہیں رہا تھا اور جو کچھ لکھا تھا وہ ادھر ادھر ہو گیا ، تاہم بعد کا سفر ہم وار رہا ۔ میرے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ’’ جنم جہنم‘‘ ۱۹۹۸ء میں آیا۔ ۲۰۰۴ء میں تیسرا مجموعہ ’’ مرگ زار‘‘ اور’’ آدمی ‘‘ یعنی چوتھا مجموعہ ۲۰۱۳ ء میں شائع ہوا ۔ ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ کے نام ناول ۲۰۰۷ء میں چھپا ۔اپریل ۲۰۱۵ء میں افسانوں کا انتخاب ’’دہشت میں محبت‘‘کے عنوان سے شائع ہوا جس میں نئے افسانے بھی شامل ہیں ۔

س:نائین الیون واقعہ کے اثرات آپ کے ہاں ،بہت دیکھے گئے ہیں ،مثلاًآپ کے افسانے مرگ زار،سورگ میں سور،اکیلی موت کا قصہ اور کچھ دوسرے افسانے،یہ واقعہ تخلیقی واردات میں کیسے ڈھلا؟

محمد حمید شاہد :نائن الیون کومحض دو طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز میں گھس کر شعلے نہیں اچھا گئے تھے پوری دنیا کو ایک آگ میں جھونک گئے ہیں ۔ ہم اس آگ میں سب سے زیادہ جل رہے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک بدترین دن تھا کہ جس کے بعد دنیا ویسی نہ رہی جیسی وہ پہلے تھی ، بطور خاص مسلمانوں کے لیے ۔ مرگ کے یہ افسانے جن کا ذکر آپ نے کیا اور وہ افسانے بھی ، جو نائن الیون سے قدرے پہلے لکھے گئے مگر جن میں اس انسانیت کش تبدیلی کے آثار نشان زد ہوئے تھے ،کوئی منصوبہ بندی کے تحت نہیں لکھے گئے تھے ۔ اس معاشرے کا ایک حسا س فرد ہونے کی حیثیت سے میں جو تپش محسوس کر رہا تھا وہ کہانی میں ڈھل رہا تھا ۔ مثلاً دیکھیے کہ افسانہ ’’برف کا گھونسلا‘‘ کی تخلیق کا لگ بھگ وہ زمانہ بنتا ہے جب افغانسان میں روس کی پسپانی ہوئی اورپاکستان کو اپنے اس جہاد میں جھونکنے والے امریکہ نے نہ صرف آنکھیں پھیر لی تھیں بلکہ اس کی امداد بھی بند کر دی تھی۔ اس سلسلے کی وہ کہانی ، جو ہندوستان میں ایک نصابی کتاب کا حصہ بنا لی گئی ہے ’’لوتھ‘‘ ہے اس میں نائن الیون کے بعد دہشت زدگی کا شکار ہونے والی دنیا کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ ’’خونی لام ہوا قتلام بچوں کا‘‘ جیسے افسانے تک چلے آئیں ، جو سانحہ پشاور کے پس منظر میں لکھا گیا تھا تو آپ محسوس کریں گے کہ یہ سب سانحات میرے دل پر بیتتے رہے ہیں ، میرے تخلیقی وجود میں برپا ہوتے رہے ہیں ۔ شمس الرحمن فاروقی نے کہا تھا کہ میں افسانوں میں ایسے موضوعات لے آتا ہوں جن کے بارے میں ہمارے بیشتر افسانہ نگار ابھی اسی الجھن میں ہوتے ہیں کہ ان سے کیا معاملہ کیا جائے ، تو ایسا نہیں ہے کہ نیت باندھ کر ایسے موضوعات کی طرف لپکتا ہوں ۔ یہ موضوعات خود میری حسوں پر وار کرتے ہیں ، اور لطف کی بات ہے کہ مجھے سجھاتے بھی ہیں کہ انہیں کیسے لکھا جائے۔ ’’مرگ زار‘‘ جیسی کہانی محض ماجرابیان کرتے ہوئے نہیں لکھی جا سکتی تھی، سو اس کی تیکنیک بدل گئی۔ ’’سورگ میں سور‘‘ میں زبان کو بدلنا پڑا۔

س:جس طریقے سے رشید امجد کا افسانوی مجموعہ ،سہ پہر کی خزاں ،میں ایک جیسے افسانے ہیں ،یہ مجموعہ ستر میں اُس وقت سامنے آیا جب ،مارشل لانے جمہوری حکومت کاقالین لپیٹا،آپ کا مجموعہ مرگ زار ،دوہزار چار میں منظر عام پر آیا،اس مجموعے کے کچھ افسانے ایک مزاج کے حامل ہیں ۔کیا اس مجموعے کو مابعد نائین الیون صورتِ حال کا بیانیہ کہہ سکتے ہیں؟

محمد حمید شاہد: جی ، اس میں کچھ کہانیاں نائن الیون سے پہلے کی ہیں اور کچھ بعد کی مگر یہ کسی نہ کسی صورت میں اس صورت حال سے جڑی ہوئی ہیں جس کا تعلق نائن الیون کے سانحے سے بنتا ہے ۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اس دہشت زدگی کا بیانیہ ہے جو نائن الیون سے جڑی ہوئی ہے ۔

س:آپ کے افسانے کا ایک موضوع تصورِ موت ہے۔جدید لکھنے والوں کا یہ ایک محبوب تصور ہے۔کیا فرق ہے آپ کے تصورِ موت اور دیگر لکھنے والوں کے تصور میں ۔مثلاًجیسے رشید امجد کا ایک کردار اپنی موت کا اعلان کرتا ہے ،مگر اُس کے مرنے کا کوئی یقین ہی نہیں کرتا۔

محمد حمید شاہد: میرا مسئلہ وہ لوگ نہیں ہیں جو موت کا یقین نہیں کر رہے ، میرا مسئلہ تو وہ زندگی ہے جس پر موت مسلسل شب خون مار رہی ہے ۔ وہ جو کسی نے کہا تھا کہ موت ہونی شدنی ہے مگر کیا یہ لازم ہے کہ ہم موت پر آنکھیں گاڑ کر ہاتھ پائوں چھوڑ کر بیٹھ رہیں ،بجا کہا ہو گا کسی نے یہ، مگر جب موت کسی دیو مالائی قوی الجثہ پرندے کی طرح آپ کے وجود کے ماس میں اپنی نوکیلی چونچ گھسیڑ رہی ہو تو آپ کے پاس اس کے سوا چارا کیا ہو گا کہ آپ اس موت پرندے پر آنکھیں گاڑ دیں اور آخری حیلے کے طور پر اتنی زور سے تڑپیں، کہ جتنی زور سے تڑپا جا سکتا ہے ، یوں ہاتھ پائوں مارنے سے ممکن ہے موت کی مکروہ گرفت ڈھیلی پڑ جائے۔ اچھا یہ موت ایسی نہیں ہے جو جھپٹا مارتی ہے ، ایسی بھی ہے جو دیمک کی طرح ہمیں اور ہمارے تہذیبی وجود کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے ۔ میں اس موت کو لکھتے ہوئے دراصل میں اس زندگی کو لکھ رہا ہوتا ہوں جو رفتہ رفتہ ہماری انفرادی، قومی اور تہذیبی زندگی سے نکل رہی ہوتی ہے۔

س:معاشرتی اقدار کا ایک پورانظام آپ کے افسانوں میں موجود ہے۔یہ معاشرتی اقدار کیا ہیں۔نیز معاشرتی اقدارکی پاسداری کرنے والے کردار مثالیت پسندی کا شکار ہو کر اکہرے نہیں ہوجاتے؟

محمد حمید شاہد: آپ نے درست کہا معاشرتی اقدارکی پاسداری کرنے والے کردار مثالیت پسندی کا شکار ہو کر اکہرے ہوجایاکرتے، لیکن یہ بھی نادرست نہیں ہے کہ معاشرتی اقدار جامد ہوتی ہیں اور ان میں لچک نہیں ہوتی۔ جہاں معاشرتی اقدار محض قبائلی ، علاقائی اور خاندانی روایات ہکا روپ دھار کر لازم اور مقدس ہو جائیں وہاں ایسا ہو سکتا ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ۔ میرے افسانوں میں کردار سماجی رشتوں کے تخلیقی تقدس کو بحال رکھنے کے جتن کرتے ہیں اور عین اسی لمحے منفی روایات کو مسترد بھی کرتے ہیں۔ معاشرتی اقدار میں کانٹ چھانٹ کا عمل ضروری ہے بہت ضروری مگر میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کانٹ چھانٹ کی بجائے اس پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ میرے لیے یہ پودا بہت اہم ہے ، میں اسے سرسبز دیکھنا چاہتا ہوںکہ اس کے پھول بہت کوشبودار اور اس کا پھل بہت رسیلا اور حیات افزا ہے۔ مثبت سماجی رشتے، جو ضرورت سے کہیں زیادہ محبت کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں اور سماجی وقار کی صورت ظاہر ہوتے ہیں، فرد سے فرد کے بامعنی اور تخلیقی ربط کو بڑھاوا دیتے ہیں، جب کہ ان کا انکاریا ان سے کنی کاٹنا فرد کو تنہائی کی اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناول کے باب میں

س: مٹی آدم کھاتی ہے ،کے بارے میں بتائیں۔اس کا عنوان کیوں رکھا،اس کا موضوع کیا ہے،ناول لکھنے کا تجریہ کیسا تھا؟

محمد حمید شاہد : پہلے تو میں آپ کے سوال کے آخری حصے کا جواب دینا چاہوں گا اور بتانا چاہوں گا کہ ناول لکھنے کا تجربہ کیسا رہا؟ کہنے کو میں کہہ سکتا ہوں’’ بہت خوب‘‘، کہ اسے ادبی حلقوں میں جو پذیرائی ملی وہ اتنی شاندار تھی کہ جس پر جتنا بھی خدا شکر ادا کیا جائے کم ہے ،تاہم یہ آپ کے سوال کا جواب نہیں ہے ، کیوں کہ یہ تو اس تجربے کا نتیجہ ہے ،جو نکلا۔حقیقت یہ ہے کہ لکھتے ہوئے میں جس اذیت سے گزرا ہوں اس کا اب گمان بھی کروں تو بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے ۔ مجھے یوں لگتا ہے میں اس ناول کے کرداروں کو اپنی روح میں بسا کر لکھتا رہا ہوں ۔ مجھے یاد ہے جب ناول مکمل ہو گیا تھا تو میں نے اسے مسلسل پڑھنا چاہا تھا اور اپنی ہی تحریر پڑھتے ہوئے کئی بار میری ہچکی بندھ جاتی تھی بطور خاص وہاں جہاں خان دلاور خان کے اصطبل میں ساری عمر گھوڑوں کی لِید صاف کرنے والا ایک دن لِید کے ڈھیر پر گر کر مرجاتا ہے ،یا متحدہ پاکستان کی علامت ہو جانے والی منیبہ اپنے محبوب سلیم کا ساتھ دینے پر مار دی جاتی ہے ۔وہاں بھی جہاںفقیرے جولاہے کی بیٹی کو ایک نام نہاد شادی کے بعد حاملہ کر دیا جاتا ہے اور اس خفیہ شادی کے نتیجے میں اس کا بیٹا ساری عمر عدم شناخت کے چرکے سہتا ہے۔مسلسل اذیت سہتا ناول کا مرکزی کردار سلیم ہو یا دوسرے کردار ، میں ان سب سے اتنا وابستہ ہو گیا تھا کہ یہ سب دُکھ بھوگتے کردار مجھے اپنے وجود کا حصہ لگتے تھے۔ خیر آپ نے پوچھا کہ اس کا عنوان یہ کیوں رکھا ؟تو یوں ہے کہ زمین اور زمین سے وابستہ قوت کی اندھی محبت اس ناول کا موضوع ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی زندگی کو مٹی کی اس اندھی محبت نے سکھ سے رہنے نہیں دیا۔ یہی بات میں نے ذرا اور ڈھنگ سے ناول کے انتساب میں کہنا چاہی ہے : ’’آدمی کے نام ، جو زمین کی محبت میں دیوانہ ہو گیا ہے‘‘ یہ دیوانگی ہی تو ہے کہ ہم زمین کی محبت کے نام پر اپنوں کو تہہ تیغ کرتے چلے جاتے ہیں ۔ ’’آزادی کے بعد اردو ناول‘‘ میں اس ناول کو ایسے ناولوں میں شمار کیاگیا تھا جن میں ہیئتی تجربات ہوئے ۔ موضوع کے حوالے سے میرا خیال ہے اس ناول کے مطالعے سے بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب کو سمجھا جا سکتا ہے تاہم یہ محض سقوط مشرقی پاکستان کا نوحہ نہیں ہے انسانی سرشت کو بھی اس میں کھولا گیا ہے اور اس کے لیے ہیئیتی تجربہ بہت مدد گار ثابت ہوا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تنقید اور تصور ِ تنقید

س:تنقید کیوں؟ اور آپ کا تصور تنقید کیا ہے؟

محمد حمید شاہد:تنقید کیوں ؟اِس سوال سے پہلے یہ سمجھنا اہم ہے کہ آخر یہ تنقید ہے کیا ؟ عام معنی میں’’ تنقید ‘‘یا ’’کرِٹے سسزم ‘‘ یہی ہے کہ آپ کچھ خامیوں اور کمیوں کو نشان زد کرتے ہوئے رد و قبول کے فیصلے کے جائیں ۔ شاید مجموعی طور پر اس طرح تنقید کی ایک منفی تصویر بنتی ہے۔ ادب میں اس اصطلاح سے مراد ایسااظہاریہ قطعا ًنہیں ہے جس میں کچھ کجیوں کے سبب محض رد کرنے کا تاثر یا فیصلہ پایا جاتا ہو۔ دیکھیے! تنقید کا جو لفظ ہے نا، یہ ہم نے عربی کے لفظ ’’نقد‘‘ سے اَخذ کیا ہے ۔ اس کے لغت میں جو معنی دیے گئے ہیں ،وہ ہیں’’پرکھ کر کھوٹا کھرا الگ کر دینا ‘‘۔ لیجئے جو آپ جسے چمکتا پا کر سونا سمجھ بیٹھے تھے ، وہ خالص سونا کہاں ہے،کٹھالی میں ڈالا تو خبر ہوئی ،اس میں خالص کتناہے اور کھوٹ کتنا؟ ۔انگریزی والوں نے اپنی اصطلاح یعنی ’’کرِٹے سسزم ‘‘ یونانیوں سے لیا تھا، لگ بھگ اس کے بھی وہی معنی ہیں جو عربی والے لفظ نقد کے ہیں ۔ اب ذرا آئیں ادبی تنقید کی طرف ، تو اس کا بنیادی وظیفہ یہاں تین جہتوں والا ہو جاتا ہے ۔ پہلی جہت میں یہ فن سے معاملہ کرتی ہے ، اس کی تیکنیک کو پرکھتی ہے ، اس کے آہنگ کو آنکتی ہے ، یہ دیکھتی ہے کہ جس تیکنیک کو برتا گیا تھا ،اس میں تخلیقیت کے جوہر نے کیا کرشمہ دکھایا ہے اوروہ کیا ہے جو لکھنے میں مسلسل آکر اپنی تازگی کھو بیٹھا اور کلیشے ہو گیا ۔ فن پارے کے تخلیقی امتیازات اور اس کی تیکنیکی نوعیت طے کرنے کے بعد تنقید جس دوسری بات کو اپنا قضیہ بناتی ہے، وہ اس میں برتی گئی زبان اور موضوع کے بیچ توازن کی تلاش ہے ۔ تخلیقی عمل میں ،برتی گئی زبان کا معاملہ محض اور صرف اس زبان سے نہیں رہتا جس کے عین مین معنی لغات میں متعین ہوچکے ہوتے ہیں ۔ یہاں متعین معنی سے ہٹ کر یا پھر معنی سے کہیں بڑھ کر معاملہ ہوتا ہے۔ جی،اُس سے معاملہ جو سیدھے سبھائو بیان نہیں ہوپاتا ۔ تو یوں ہے کہ ادب پارہ وہاں لے چلتا ہے جو تعقل سے کہیں زیادہ حسی علاقہ ہوتا ہے۔ زبان یہاں محض معنی کی ترسیل کا نہیں ، معنی خیزی اور معنی آفرینی کا فریضہ سر انجام دے رہی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی جمالیات بھی مرتب کرتی ہے، کچھ اس طرح کہ فن پارہ ایک نامیاتی وحدت میں ڈھل جاتا ہے ۔ تنقید کا وظیفہ اسی نامیاتی وحدت تک پہنچنا ، اور اسی وحدت کو زک پہنچائے بغیر دوسرے مراتب کے معنیاتی انسلاکات کی تفہیم کرنا ہے ۔ اس باب میں جو جو ، اور جس سطح کے تخلیقی قرینے برتے گئے ہوتے ہیں اُن کی تلاش اور شناخت بھی تنقید کے وظائف میں سے ایک وظیفہ ہے ۔ تنقید کی تیسری جہت ،فن پارے کو مکمل صورت میں آنکنا اوراسے مجموعی صورت حال میں رَکھ کراس کی تعیین قدر کرنا ہے۔رُتبہ شناسی اور درجہ بندی کے اس عمل سے تنقید دراصل فنی معیارات کی برتر سطوح سامنے لا رہی ہوتی ہے اور اس باب میں ہونے والے ارتقا ، ارتفاع اور نمایاں انحرافات کو بھی زیر بحث لاتی ہے۔ یہ وہ سارا عمل ہے جس میں ایک خود کار نظام کے تحت تنقید کے اپنے اصولوں کی تجدید ہوتی رہتی ہے ۔ آپ نے میرے تصور تنقید کی بابت پوچھا ہے، تو بھائی یہی میری نظر میں تنقید کا تصور ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں ایک تخلیق کار ہوں ،میں نے اپنے آپ کوکہانیاں لکھنے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ محض کہانیاں نہیں۔ افسانہ ناول کہہ لیں یا فکشن ، کہ یہ ایسی کائنات ہے جو تخلیقی پانیوں سے کناروں تک بھری ہوئی ہے ،یہ محض ماجرا نویسی نہیں ہے۔ اس کائنات کے بھید بھنور جاننے کے لیے نئے نئے تنقیدی سوالات میرے سامنے آتے رہتے ہیں ، میں ان کے مقابل ہوتا ہوں۔ میرا تجربہ ہے کہ تخلیقی عمل میں رہ کر ان بھیدوں کی کارگزاری کا تجربہ کرنا اور فن پارے کی تخلیق کے بعد کچھ وقفے سے اس سارے عمل کا تجزیہ کرنا ہمیشہ ایک سے نتیجے پر نہیں پہنچایا کرتا ۔ یہ تنقیدی ٹولز ہی ہیں جو اِن فاصلوں کو پاٹتے ہیں ،تخلیقی صورت حال کو دوسری اخذ کردہ صورت حال پر منطبق کرتے ہیں اورمنطق مارے ذہنوں کے لیے کچھ اصول وضع کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ میں تسلسل سے کہتا آیا ہوں کہ تنقید کو اگر اَدب کی سرگرمی بننا ہے اور محض لسانی یا فلسفیانہ سرگرمی نہیں رہنا تو بہر حال اسے اپنی خود ساختہ خود مختاری سے دَست کش ہونا ہوگا ۔ تخلیقی ادب میں اس وقت سب سے اہم اور بڑا سوال، جو اس کا موضوع ہے ،وہ نوع انسانی اور اس کی تہذیبی روایات کی بقا کاسوال ہے ۔ نئی تنقید نے جس طرح اسے قاری کے فکری انتشار کا آسان شکار بنا دیا گیا ہے ،اُس نے تخلیقی سطح پر انسانی وجود اور روایت کے تسلسل کے امکانات پرسوالات قائم کر دیے ہیں ۔ مثلاً دیکھئے نئی تنقید تخلیقی متن میں معنی کو غیر متعین جان کر اس کی نامیاتی وحدت سے کوئی سروکار نہیں رکھ رہی ۔ ایسے میں تخلیقات کے مرکزے میں موجود بنیادی سوالات کووہ اہمیت کیوں کر دی جا سکتی ہے جو فی الاصل انسانی زندگی سے جڑکر ادبی سوالات بنتے ہیں ۔ تنقید کابنیادی وظیفہ یہی ہے کہ وہ روح عصر کو تخلیقی متون سے دریافت کرے۔ ایسا متن کی توضیح اور تعبیر ہی سے ممکن ہے محض اور صرف قرآت کے نئے تصوارات رائج کرنے سے نہیں ۔اچھا ،تنقید کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ادب صرف بین المتونی مظہر نہیں ہے۔ بجا کہ ایک متن کا رشتہ دوسرے متون سے ہوتا ہے مگر تخلیق کا دوسرے متون سے بنیادی فرق جس سے قائم ہوتا ہے، اسے بھی یاد رکھنا ہوگا کہ وہ الگ تخلیق کاروں کی توفیقات ہیں ۔ ایک ہی زمانے میں اور ایک ہی موضوع پر لکھنے والے اگر اپنے اپنے تخلیق پاروں کو یکسر مختلف سطح عطا کر دیتے ہیں تو تخلیق کار اور اس کے زمانی حوالے بھی ایک نئی معنویت پاتے ہیں ۔ دونوں کونظر انداز کرکے فن پارے کی تعیین قدر ممکن ہے نہ تحسین اور تعبیر کے تقاضے نبھائے جا سکتے ہیں۔

س: افسانے اور کہانی میں کیا فرق ہے ؟

محمد حمید شاہد:آپ نے جس سہولت سے یہ چھوٹا سا سوال میرے سامنے رکھ دیا ہے ، اتنی سہولت سے اس سوال کا جواب ممکن نہیں ہے ۔ خیر میں کوشش کرتا ہوں کہ اس فرق کو واضح کر سکوں ۔ اگر آپ کے ذہن میں کہانی کا وہ تصور ہے جس میں ماجرا بیان ہوتا ہے آغاز ‘وسط اور اَنجام کی صراطِ مستقیم پر چلنے والا ‘ اَپنے باطنی بہائو میں کچھ نہ کہنے والا،تو یوں ہے کہ پھر اَفسانہ چیزے دگر ہے ۔ عام طور پر کہانی اور اَفسانہ کو مترادف کے طور پر اِستعمال کیا جاتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ محض مترادف نہیں ہیں ۔ فکشن میں کہانی کا تصور کہانی کے عمومی تصور سے یکسر مختلف ہو جاتا ہے۔ جسے میں نے کہانی کا عمومی تصور کہا ہے وہ واقعات کے مجموعے کا نام ہے، اُسے آپ نان فکشن کی ذیل میں رَکھ سکتے ہیں ۔ دیکھئے کوئی بھی واقعہ یا واقعات کا مجموعہ کہانی بننے سے پہلے اُس تخلیقی عمل سے دوچار نہیں ہوتا جس کا اِمکان فکشن کے اندر ہوتا ہے ۔ میں نے یہاں ’’اِمکان‘‘ کا لفظ جان بوجھ کر اِستعمال کیا ہے اور اِس کا سبب یہ ہے کہ ایک خبر عین مین کہانی ہوسکتی ہے یا پھر اسی خبر کو کہانی کا جزو بھی بنایا جا سکتا ہے مگر فکشن کے تخلیقی عمل کی فضا میں اُس کی جُون بدل جاتی ہے ۔ یہاں پہنچتے ہی ماجرا ئی حقیقت ، وہ نہیں رہتی ، اس سے کہیں بڑھ کر ہو جاتی ہے ۔ راجندر سنگھ بیدی نے کہا تھا ’’ جب کوئی واقعہ مشاہدے میں آتا ہے تو میں اُسے مِن و عن بیان کر دینے کی کوشش نہیں کرتا ‘ بلکہ حقیقت اور تخیل کے اِمتزاج سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اُسے احاطہ ٔ تحریر میں لانے کی سعی کرتا ہوں‘‘۔ بیدی نے دُنیا کو پرانے فلسفیوں کے تخیل کی طرح مانتے ہوئے کہا تھا کہ ہم شروع اور آخر کے انداز میں سوچنے والے اِس تخیل کی با بت دُھندلا سا تصور تو باندھ سکتے ہیں‘ اِس کی گہرائی کو نہیں پاسکتے۔ اِسی خیال کے زیرِاَثر جس میں ’’عالم ِ تمام حلقہ ٔ دامِ خیال ہے ‘‘اُس نے فکشن کے واقعہ کو افسانوی سازش کہا تھا ۔ تو صاحب یوں ہے کہ فکشن کی کہانی کا واقعہ بظاہرعام واقعہ ہو کر بھی عام نہیں رہتا اِس کی کیمسٹری بدل جاتی ہے ۔

س:یہ اصلاحات مختصر اور طویل افسانہ کیا اب ختم نہیں ہوگئیں؟

محمد حمید شاہد : جی ہاں ، ایک حد تک یہ بات درست ہے کہ مختصر اور طویل افسانہ والی اصطلاحات اب استعمال نہیں کی جاتیں ۔ افسانہ یا تو افسانہ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔ دراصل مختصر افسانے کی اصطلاح کو ہم نے انگریزی اصطلاح ’’شارٹ اسٹوری‘‘ سے مرعوب ہو کر رواج دیا تھا حالاں کہ ہمارے ہاں ’’افسانہ‘‘ کی اصطلاح پہلے سے موجود تھی ۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ جس پہلے قصے کو باقاعدہ اَفسانے کا نام دیا گیا وہ رجب علی سرور بیگ کا ’’فسانہ عجائب‘‘تھا ۔ ایک دلچسپ قصہ سنتے جائیں ،ایک بارسرور بیگ لکھنو سے غالب کو ملنے آئے ، باتوں باتوں میں پو چھا کہ’ مرزاصاحب‘ اُردو زبان کس کتاب کی عمدہ ہے؟ ‘غالب نے اُنہیں پہچانا نہیں تھا ۔ اپنی موج میں کہہ دیا ’’ چاہ درویش کی‘‘ ۔ سرور کا گمان تھا، غالب ’فسانہ عجائب‘ کا نام لیں گے ،چاہ درویش کا نام سنا تو اچھا نہ لگا، صاف صاف پوچھ لیا، ’فسانہ عجائب کی زبان کی بابت کہیں، کیسی ہے؟‘ ۔ غالب کو طیش آگیا ،صاف کہہ دیا ’’اجی لا حول ولا قوۃ اس میں لطف زبان کہاں‘ایک تُک بندی اور بھٹیار خانہ جمع ہے۔ ‘‘ یہ سن کر سرور بہت بے مزہ ہوئے ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ۔ سرور کے جاتے ہی کسی نے غالب کو خبر دی کہ وہ جو ناراض ہو کر گئے ہیں وہی تو صاحب ِفسانہ عجائب میرزا رجب علی سرور لکھنوی ہیں ۔ غالب پچھتا گئے،اگلے روز سرور کے ہاں پہنچے اور چھوٹتے ہی کہا،’’ میں نے رات ’فسانہ عجائب‘ کو بغور دیکھاہے ‘واللہ اس کی عبارت کی خوبی اور رنگینی کا کیا بیان ہو‘نہایت فصیح و بلیغ عبارت ہے ۔ ایسی عمدہ نثر تو پہلے میرے گمان میں بھی نہ آئی تھی اور نہ آئندہ آئے گی ۔ ‘‘یہاں پہنچ کر یقیناً آپ کا جی چاہے گا قہقہہ لگائیں، کہ یہ ہے ہی ایک شگفتہ قصہ، مگر میں سمجھتا ہوں اِس میں کئی طرح کے اِشارے ہیں ۔ پہلا اِشارہ تو یہ ہے کہ سرور نے اَپنی تحریر کو اَفسانہ کہا تو غالب نہ چونکے حالاں کہ اس سے پہلے اس طرح کے قصوں کوکہانی ‘ داستان یا پھر قصہ کہہ کر کام چلا لیا جاتا تھا ۔ دُوسری بات یہ کہ سرور کو اگر کوئی مان تھا تو وہ اُردو زبان لکھنے کا تھا تب ہی تووہ غالب سے فسانہ عجائب کی زُبان کی تعریف سننا چاہتے تھے ۔ تیسری بات یہ کہ غالب کا اپنا بھی ایک نظریہ فن تھا اور فن پارے کو اَپنی مجموعی صورت میں جیسا نظر آنا چاہیے تھا فسانہ عجائب اس پر (کم از کم پہلے روز تک تو)پورا نہ اُترا تھا۔ غالب نے زبان اور مواد کو یکجا کر کے دِیکھا اور اسے بھٹیار خانہ کہہ دیا۔ اگلے روز جو کچھ غالب نے سرور کے دِل رَکھنے کو کہا وہ آج تک مقبول چلے آنے والے اس تنقیدی اصول کے تحت کہا ہوگا جس میں صورت دیکھ کر پیمانے بدل جاتے ہیں ۔ خیر، مجھے کہنایہ ہے کہ سرور نے اَپنی جس تحریر کو اَفسانہ کہہ کر اس کی زبان کی داد غالب سے لینا چاہی تھی اسے اَفسانہ کہنے کا سرور کے پاس جواز یہ تھا کہ یہ قصہ پہلے سے دوسری زبانوں میں موجود قصوں کا نہ تو ترجمہ تھا نہ یہ اُن سے اَخذ شدہ تھا‘ اسے سرور نے خود سوچا اور خود ہی ایک صورت دی۔ ظاہر ہے جب سرور نے اسے لکھتے ہوئے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کا مواد اپنے طور پر اَخذ کریں گے تو اُنہوں نے اپنی متخیلہ اور تخلیقی قوت پر اعتماد کیا ۔ اچھا، یہیں غالب کا بھی ممنون احسان ہونا چاہیے کہ انہوں نے اپنے خطوط کے ذریعے ایسی نثر کو رواج دیا جو ہماری کہانی اور قصے کو مرغوب ہوا تو وہ افسانے میں ڈھلتی چلی گئی ، ورنہ تو اسے تفصیل کاری کا عارضہ لاحق تھا جس سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی ۔ وہ جو ڈاکٹر مسعود خاکی نے کہا تھا کہ ’’ اگر مرزا غالب کے خطوط نہ ہوتے تو اُردو کے جدید مختصر اَفسانہ میں کچھ خامیاں رہ جاتیں ۔ ‘‘ درست ہی کہا تھا ۔ غالب نے اَپنے خطوط کے ذریعے فکشن کو اَپنی زبان متعین کرنے کی طرف راغب کیا ‘ واقعے کو براہ راست اور اِختصار سے کہنے کی طرح ڈالی ‘ مَتن سے ذَاتی طور پر وابستہ ہونے اور اس ناطے سے اسے خلوص سے بیان کرنے کا اِحساس بیدار کیا‘ غیر ضروری تفاصیل سے اِجتناب مگر جزئیات کے قرینے سے بیان کی راہیں سُجھائیں۔ غالب کے بعد اُردو نثرنے بہت تیزی سے اَپنے اندر تبدیلی پیدا کی اور جب مغرب سے تراجم کے توسط سے شارٹ اسٹوری کی تیکنیک کا چرچا ہوا تو کسی کو اَپنی زبان میں اَفسانہ لکھنے میں تردد نہ ہوا ۔ شارٹ اسٹوری سے اس کی تیکنیک لی گئی مگر اس کی نثر کااَ پنا آہنگ تھا جس میں زمانوں کی دھمک سما سکتی تھی۔ سو ،داستان کا سفر رُک گیا ، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دَاستان کی رَوایت کو بھی کہانی کے اسی تبدیل ہو چکے بیانیے کے اندر سمولیا گیا جو اب افسانہ ہو گئی تھی؛ یوں جیسے بیج پورے درخت کو اَپنے اندر سمیٹے ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ’’شارٹ اسٹوری‘‘ کا ترجمہ ’’مختصر اَفسانہ‘‘ کرنے کی بجائے اس صنف کے لیے ہمارے ہاں پہلے سے موجود متبادل اصطلاح ’’ اَفسانہ ‘‘ کو اپنا لیا گیا اور سچ تو یہ ہے کہ اپنے باطنی بھید بھنوروں میں اُردو اَفسانہ‘ شارٹ اسٹوری سے بہت مختلف ہو جاتا ہے ۔ سو صاحب‘ مجھے کہنے دیں کہ اُردو اَفسانے کے ساتھ ’مختصر‘ یا ’طویل ‘ کا لاحقہ لگانے کا تردد کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

س:افسانے کے آغاز سے اب تک کتنے موڑ آچکے ہیں ؟

محمد حمید شاہد:میں آپ کے سوال کو صرف اردو افسانے تک محدود کرنا چاہوں گا ورنہ بات سمیٹے نہ سمٹے گی ۔ دیکھئے ان موڑوں کو دیکھنے کے کئی زاویے ہیں ۔ ہمارے ناقدین کے ہاں سب سے مرغوب طریقہ تو یہ ہے کہ اپنے صدی بھر کے سفر کو دہائیوں میں تقسیم کر لیتے ہیں اور ان وقت کے ٹکڑوں پر اپنے اپنے وقت کے نمایاں افسانہ نگاروں کی تصویریں چپکالیتے ہیں ۔ آغاز راشدالخیری، منشی پریم چند، خواجہ حسن نظامی، سجاد حیدر یلدرم سے ہوا تو اگلے مرحلے پر اوپند ر ناتھ اشک سے حیات اللہ انصاری تک، مجنوں گورکھ پوری سے میرزا ادیب تک، احمد علی سے سجاد ظہیر،عزیز احمد، عصمت چغتائی ،راجندر سنگھ بیدی،سعادت حسن منٹو، غلام عباس،حسن عسکری، قرۃ العین حیدر،احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد اور انتظار حسین تک موجود تھے۔ یہیں، سریند پرکاش ، انور سجاد سے لے کر منشایاد ،خالدہ حسین ، رشید امجد وغیرہ اس منظر نامے میں داخل ہوتے ہیں ۔ پھر نیر مسعود، شمس الرحمن فاروقی سے لے کر اسلم سراج الدین، خالد طور، سید راشد اشرف، نیلوفر اقبال، آصف فرخی ، مبین مرزا ، نیلم احمد بشیر، اے خیام ،یعقوب شاہ غرشین ، اخلاق احمد ،امجد طفیل، آمنہ مفتی ، عرفان جاوید، حامد سراج،طاہرہ اقبال ،زین سالک تک افسانہ پہنچتا ہے، اور سفر رکتا کہاں ہے ،آگے آپ موجود ہیں، اقبال خورشید، عرفان احمد عرفی سے لے کرظفرسید،فرخ ندیم، عثمان عالم، علی اکبر ناطق،اسد محمود خان، محمد جواد غرض ایک میلہ سا لگا ہوا ہے۔ یہ سب ایک سطح کے لکھنے والے نہیں ہیں، کئی اپنی الگ سے شناخت بنانے کے جتن کر رہے ہیں مگر انہوں نے فضا بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور امکان ہے کہ کچھ لکھنے والے ، جو قدرے مختلف ہو جاتے ہیں، افسانے کی تاریخ پر اپنے دستخط ثبت کر جائیں گے۔ پھر فلیش فکشن اور سو لفظوں میں کہانی لکھنے والوں کا قصہ بھی اتنا پھیکا نہیں ہے کہ اس کا ذکر نہ ہو ، مبشر علی زیدی نے، اقبال خورشید اور آپ نے تو اسے صحافت کے کالموں کی طرح مقبول بنا دیا ہے ۔ افسانے کے اس سفر کو ایک اور طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے ، یہی کہ رجحانات کیا رہے؟ کن موضوعات کو ایک خاص سماجی سیاسی صورت حال میں لکھا گیا؟ اور یہ کہ کن ادبی تحریکوں کے زیر اثر افسانہ لکھا گیا؟ داستان سے رومان پسندی تک، ترقی پسندی ، سیاسی سماجی نفسیاتی حقیقت نگاری ، علامت اور تجرید کاری اور پھر مابعد جدید زمانے کا افسانہ ۔خیر آپ جیسے بھی افسانے کے ان موڑوں کو سمجھنا چاہیں ، ایک بات خاطر نشان رہے کہ وقت بڑا ظالم ہے اور یہ اس سارے افسانے کو خود بخود نسیاں کی ڈسٹ بن میں پھینکتا آیا ہے ، جو کسی مطالبے پر یافیشن میں لکھا گیا تھا۔وہ افسانہ جو کسی سیاسی مطالبے کے طور پر، یا کسی تحریک کے زیر اثر لکھا گیا اور وہ افسانہ بھی جو فیشن کے طور پر سامنے آیا دونوں کا سفر کھوٹا ہوا کہ یہ دونوں انتہا پسندانہ رویے تھے اور آخرکار تیکنیکی جمود کا شکار ہو گئے۔خیر یہ بھی واقعہ ہے کہ جس طرح سیلاب آتا ہے اور اپنے پیچھے زرخیز مٹی بچھائے چلا جاتا ہے ۔ ان انتہاپسندانہ رویوں سے آج کے افسانے نے بہت کچھ اخذ بھی کیا ہے، جس کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ تخلیقی تجربہ کسی تخلیقی کار کے اِنفرادی روّیے ‘رجحان اور اِنفرادی کارکردگی سے ہی معتبر ہوتا ہے۔ ایک بھیڑ یا جماعت سیاسی اور سماجی سطح پرکوئی تبدیلی تو لا سکتی ہے مگر اَدبی ہیئتوں، اسالیب اور روایتوں کو مستقل طور پرتبدیل نہیں کر سکتی۔لطف کی بات یہ ہے کہ آج کا افسانہ نگار ماضی کے منفی ادبی رویوں اورمختلف تحریکوں کے نام پر انفرادی تخلیقی عمل پر شب خون مارنے والے مزاج کو رد کرنے کے باوجود ، افسانے کی صنف پر ان کے مثبت اثرات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔یوں یہ افسانہ پچھلے افسانے سے جڑتا ہے کہ یہ انحراف کا نہیں ، انجذاب اور امتزاج کا افسانہ ہے ۔ اس کے لیے کہانی اور ماجرائیت ممنوعہ علاقہ ہے نہ علامت۔ تاہم اب متن میں یہاں وہاں علامت کے پیوند لگانے کی بجائے ،پورے افسانے کواس میں موجود کہانی سمیت ، اس کی نامیاتی وحدت کے ساتھ علامت بنایا جاتا ہے ۔ موجودہ عہد متفرق تہذیبوں کا ملغوبہ ہے اور المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپناماضی پگھلتا ہوا نظر آتا ہے ۔ جنگ گشتی طوائف جیسی ہو گئی ہے ، جس نے ایک قبیح لطف ہماری جھولی میں ڈال دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس سفاک جنگ کا ایسا شکار ہیں جسے عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے ۔ مجھے یوں لگتا ہے اب تو ہمیں قومی سطح پر اس جنگ تماشے کی عادت ہو گئی ہے، دھماکے اور مرنے مارنے کی خبریں ہماری نفسیات کا حصہ بن گئی ہیں، میڈیا لاشیں دکھاتا رہتا ہے اور ہم انہیں دیکھ کر یوں نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ کسی فلم کا منظر ہو۔ ایسے میںایک جینوئن اور حساس لکھنے والے کو نسیان ِوجود کا عارضہ کیسے لاحق ہو سکتاہے ، تو یوں ہے کہ آج کے افسانے میں وجود تو موجود ہے مگر اس میںوجود ی ہذیان کی اُبکائیاں ہیں نہ استفراغی جھٹکے ۔یہ افسانہ حقیقی دنیا کے مقابل تخلیقی تیقین کے ساتھ فکشن کی دنیا کی تعمیرکر رہا ہے،بالکل اُسی جیسی مگر اس سے کہیں زیادہ سچی اور حقیقی ۔

س:آپ کے نزدیک اُردو کے پانچ بڑے افسانہ نگار کون سے ہیں ؟

محمد حمید شاہد:پانچ بڑے افسانہ نگار؟ میں جوں جوں سوچتا ہوں اُلجھتا ہوں ، کہ اُردو افسانے میں ایک ہی زمانے میں بڑے لکھنے والے موجود رہے ہیں، پانچ نہیں پانچ سے کہیں زیادہ ، اور جوں جوں وقت گزرتا گیا ، مختلف لکھنے والے اور اچھا لکھنے والے آتے چلے گئے۔ مثلا ً دیکھیے کہ ابتدا میں جس افسانہ نگار نے’’ کفن‘‘ جیسا افسانہ دیا ، جی میں پر یم چند کی بات کر رہا ہوں ، انہیں بڑا افسانہ نگار کیوں نہ تسلیم کروں ۔ کرشن چندر کا ’’بالکونی‘‘ تو آپ نے پڑھا ہوگا ، کیا بڑا افسانہ نہیں ہے۔راجندر سنگھ بیدی کی ’لاجونتی‘ کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ عصمت چغتائی کا ’لحاف‘ ، سعادت حسن منٹو کا ’کھول دو‘لیجئے آپ کی گنتی تو یہیں پوری ہو گئی مگر لطف یہ ہے کہ لائق توجہ فکشن لکھنے والوں کا سلسلہ رکتا نہیں ہے اور ہر ایک کی الگ سے اپنی تخلیقی شناخت ہے ۔ قرۃ العین حیدر کے ناول انہیں بڑا بناتے ہیں تو ’’فوٹوگرافر‘‘ جیسے افسانے بھی اس کا قد کم نہیں ہونے دیتے، احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’’کنجری‘‘ میں کیسے بھلادوں اور ممتاز مفتی کا ’’آپا‘‘۔ اسی طرح عزیز احمد کا ’’تصور شیخ‘‘، احمد علی کا ’’قید خانہ‘‘، غلام عباس کا ’’آنندی‘‘، حسن عسکری کا ’’پھسلن‘‘ ، اشفاق احمد کا ’’ہے گھوڑا‘‘،انتظار حسین کا’’آخری آدمی‘‘، محمد خالد اختر کا ’’ لالٹین‘‘ ، بانو قدسیہ کا’’ کلو‘‘ ، زاہدہ حناکا’’راہ میں اجل ہے‘‘ ۔عرش صدیقی کو سب بھول جاتے ہیں اور مجھے ’’باہرکفن سے پاؤں‘‘یاد رہتا ہے۔ انور خان کا ’’فن کاری‘‘ یاد کریں کیا خوب افسانہ تھا۔ غیاث احمد گدی کا ’’تج دوتج دو‘‘، نیر مسعود کا’’ طائوس چمن کی مینا ‘‘ ،مسعود اشعر کا’’ میں نے جواب نہیں دیا‘‘ انور سجاد کا’’گائے‘‘، سراج منیر کا ’’ نالہ ٔنَے‘‘، بلراج ورما کا’’پرکٹے پرندے‘‘ ،کنور سین کا ’’گلیڈی ایٹر‘‘، سریندر پرکاش کا ’’بجوکا‘‘، سلام بن رزاق کا’ ’ معبر‘‘ ساجد رشیدکا’’ہانکا‘‘، خالدہ حسین کا’’سلسلہ ‘‘، محمد سلیم الرحمٰن کا’’ نیندکابچپن‘ ‘، اسد محمدخاں کا’’ موتبر کی باڑی‘‘، منشایاد کا ’’پانی میں گھرا ہوا پانی‘‘، احمد ہمیش کا ’’مکھی‘‘ رشید امجد کا’’ بگل والا‘‘، پھر شمس الرحمن فاروقی کی طرف آئیں اور ان کا افسانہ ’’ سوار‘‘ پڑھ لیں ، صدیق عالم کا ’’فور سیپس‘‘، مرزا حامد بیگ کا ’’گناہ کی مزدوری‘‘، احمدجاوید کا ’’بھیڑیا‘‘ آصف فرخی کا ’’بن کے۔۔ ‘‘، نیلوفراقبال کا ’’برف‘‘ ،سید محمد اشرف کا ’’لکڑ بھگا ہنسا‘‘ ، طاہرہ اقبال کا ’’دیسوں میں‘‘، صاحب عجب عجب افسانے ہیں کہ اپنے لکھنے والوں کو بڑا بنا رہے ہیں ، خالد جاوید کی ’’تفریح کا ایک دوپہر‘‘، اے خیام کا’’خالی ہاتھ‘‘ ، مشرف عالم ذوقی کا ’’فزکس‘ کیمسٹری ‘الجبرا‘‘، رفاقت حیات کا ’’چریا ملک‘‘ میں افسانوں کے نام یاد کرتا ہوں اور افسانہ نگاروں کی قامت بلند ہوتی چلی جاتی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اردو افسانے کو محض گنتی کے تخلیق کاروں کے پڑھنے سے نہیں سمجھا جا سکتا،ان سب کو پڑھیں گے تو اندازہ ہو گا کہ ہر ایک کے ہاں اپنی بڑائی کا الگ سے جواز موجود ہے۔

س:ساٹھ کی دہائی یا پہلے مارشل لاء کے قریبی برس میں جس نئے افسانے کا آغاز ہوا ،وہ پہلے لکھنے گئے افسانے سے کتنا مختلف تھا؟ساٹھ کی دہائی میں جو نسل سامنے آئی اور ستر میں بھی وہی لوگ جدید افسانے کے علمبردار کے طور پررہے،بطور نقاد اُس عہد کے لکھنے والوں اور افسانے کو کیسے دیکھتے ہیں ؟

محمد حمید شاہد: جدید افسانہ ،جو علامت برتنے کی دُھن میں اتنا مگن تھا کہ اسے کئی حوالوں سے تقلیل کاعارضہ لاحق ہوگیا تھا، کرداروں کے بے چہرہ ہونے سے کردار نگاری کمزور ہوئی، کہانی کا عنصر لائق توجہ نہ رہا تو افسانے ،انشائیہ نما تھریریں بننے لگیں ، ذاتی نوعیت کی علامتیں استعمال کی گئی اور متن پہیلی ہوا۔ اس عارضے کا سبب اسی مارشل لا کو قرار دیاگیا، جس کی طرف آپ نے سوال میں اشارہ کیا ہے۔ تاہم جسے میں نے ایک عارضے کے طور پر اب شناخت کیا ہے ، خود علامت کار اسے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں بطور قوت اور الگ پہچان کے لیاکرتے تھے۔پھر یوں ہوا کہ علامتی اور تجریدی افسانے کے نام پر اُٹھائی جانے والی دُھول جب ستر کی دہائی ختم ہوتے ہی بیٹھ گئی تو احساس ہوا کہ افسانے میں سے جو بنیادی چیز منہا ہو گئی تھی ؛ وہ خود کہانی تھی ۔ مجھے یاد ہے ایک مرحلے پر رشید امجد نے اسی مارشل کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے لکھا تھا کہ سیاسی ابتری نے ایک قومی بے سمتی کو جنم دیاتو ساٹھ کی دہائی میں جو نسل سامنے آئی اس نے خود کو اعلانیہ غیر نظریاتی کہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترقی پسند تحریک کی وجہ سے خارجی حقیقت نگاری کا جو رجحان پروان چڑھا تھا‘ وہ داخل کی طرف مڑ گیا ۔ کردار سائے بن کر بے نام ہوئے اور ٹھوس واقعات کی بجائے خیال اور آئیڈیا کہانی میں اہم ہوئے اور یہ کہ اَفسانے میں علامت وتجرید نے پرانے ڈھانچے کو یکسر بدل دیا۔ اس بیان میں ڈاکٹرانورسجاد کے اُس بیان کو بھی شامل کرلیجئے جس کے مطابق وہ تمام عمر ایک ہی اَفسانہ لکھتے رہے ہیں اور اس کا موضوع جبر کے خلاف احتجاج تھا ۔ میں اسے غلط فہمی ہی کہوں گا کہ تخلیقی عمل میں خارجی جبر فن پارے کی مَتنی سطح کو بھی کھردراا ور غیر مربوط کردیاہے ۔ صورت واقعہ یہ ہے کہ تخلیقی عمل میں مَتن کی سطح بھی اپنے باطن کی طرح اپنی کُل کے ساتھ ایک مَتناسب آہنگ سے جڑی ہوتی ہے۔ اسی تناسب کا مرکب فن پارے کے حسن کا مظہر بنتا ہے ۔ یہ بھی غلط فہمی ہے کہ کردار یا واقعہ اپنی مکمل صورت کے ساتھ علامت اور تمثیل کی سطح کو نہیں پہنچ سکتا اور یہ بھی اِنتہائی گمراہ کن بات ہے کہ کردار اور کہانی سے تخلیقی سطح پروفاکے رشتے میں جڑی ہوئی زبان لسانی سطح پر علامتی مفاہیم ادا کرنے سے قاصر ہو جاتی ہے۔ اب اگر ہم ان غلط فہمیوں کو رفع کر لیتے ہیں تو ہمارے لیے بیانیہ توڑ توڑ کر علامتوں کی پھانسیں لگانے کے جتن کرنا تخلیقی عمل کے رَخنوں کے مترادف ہو جائے گا اور ہم تخلیق پارے کو کلی صورت میں دیکھنے لگیں گے‘ دونوں سطحوں پر بھیتر سے بھی اور باہر سے بھی ۔ یہاں موقع نکل آیا ہے کہ میں علامت کے حوالے سے علامتیوں سے پہلوں کا ذِکر بھی چھیڑ لوں۔ ان کا ذِکر جن کی رومانیت اور جذباتیت جدید اَفسانے کو بہت کھلتی تھی۔ اس فارمولا کہانی کاذکر‘ جس میں معاشرتی اِخلاقیات کی بنیاد سادہ فکری سے متشکل ہونے والے اچھے اور برے کرداروں پر رکھی جاتی تھی اور اس ترقی پسندی کا ذِکر بھی جو خارجی تقاضوں کے تحت زندگی کو ادھورا اور یک سطحی بنادیتی تھی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ساری کہانیاں، جن کا بہ قول رشید امجد ڈھانچہ بدل دیا گیا تھا کوئی علامتی سطح نہیں رکھتی تھیں؟ میرا خیال ہے ایسا تسلیم کر لینا بجائے خود تخلیقی عمل کی تکفیر کے مترادف ہو گا۔ فی الاصل تخلیقی عمل نام ہی اس کا ہے کہ آپ مربوط مَتنی سطح کے اندر اور باہر علامتوں کے کتنے چراغ روشن کرپاتے ہیں اور اس معنیاتی نظام کو کس قدرمتحر ک کرتے ہیں جس میں معلوم صداقت پر نامعلوم صداقتوں کے دریچے وا ہوتے ہیں ۔ میں بیسویں صدی کو اَفسانے کی صدی قرار دیتے ہوئے اس باب میں ساری پیش رَفت کو ایک مربوط تخلیقی عمل کی صورت دِیکھتا ہوں ‘ جی ہاں، مربوط اور مسلسل تخلیقی عمل ۔ اور جب میں ایساکہتا ہوں تو یہ بات میری نظر میں ہوتی ہے کہ اَفسانے کی چست ہیئت ہم نے غیروں سے مستعار لی تھی ۔ داستان اور قصے کی رَوایت ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے ۔ ہم نے مختصر اَفسانے کی مغربی روایت کو اپناتے ہوئے داستان اور قصہ کہانی کی روایت کی روح کو بھی اس کا حصہ بنالیا بلکہ یہی روح ہی تو اسے مغربی اَفسانے سے الگ شناخت دیتی ہے۔ ترقی پسندوں نے بھی کسی نہ کسی حد تک اس روایت کا پاس کیا تھا مگر علامت نگاروں اور تجرید کاروں کا افسانہ مکمل انحراف کی روش کو ایک شوق کی صورت اپنانے نکلا اور اسے فیشن کی صورت اپنا لیا ۔ستر کی دہائی خاتمے کے ساتھ ہی ان افسانہ نگاروں کا زور ٹوٹ گیا جو افسانے سے کہانی کو منہا کرکے، یا کرداروں کو بے شناخت بنا کر اسے انشائیہ یا نظم جیسابنا لیا کرتے تھے۔ اب تقلیل کے اس مرض کو باقاعدہ شناخت کیا جانے لگا تھا جس نے افسانے سے اس کا قاری چھین لیا تھا ۔ خود رشید امجد نے کہا ، افسانے میں کہانی واپس آ گئی ہے ، اور انہوں نے ’’ست رنگے پرندے کے تعاقب میں ‘‘ اور ’’بگل والا‘‘ جیسے افسانے لکھے ، لطف یہ ہے کہ ستر کے بعد لکھنے والوں کے ہاںردعمل کی بجائے تخلیقی تجربے سے وابستگی کارویہ سامنے آتا ہے ان اَفسانہ نگاروں کے ہاں نہ تو افراط ذات ہے نہ ہی زبان میں شعری رموز وعلائم کا ناروا اِستعمال ۔ یہی سبب ہے کہ اس دورانئے میں اَفسانہ فکشن کی زبان کے لیے نثر کے آہنگ کے طرف آیا ۔اس عرصے میںاس حقیقت کو بھی تسلیم کیا جانے لگا کہ تخلیقی عمل میں اسلوب اور زبان کہانی کی کل ہی سے متشکل ہوتاہے اور یہ کہ معنیاتی گہرائی الگ سے علامت کی چیپی کے ذریعے فن پارے کا حصہ بنائی جائے تو وہ اُسے بوجھل اور ناگوار بنا دیتی ہے ۔ کہانی کی فضا اور کیفیت کے بغیر اَفسانے کا کوئی اَسلوب نہ تو جمالیاتی اقدار کا حصہ ہو سکتا ہے نہ اس میں کسی توسیع کا وسیلہ ۔ اب رہی جبر کی وہ بات جس نے علامت نگاروں کو کہانی سے بدکا دیا تھا تو ان سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا جبر خوف اور استحصال کا وہ ماحول جوپہلے شخصی آزادی کو سلب کر رہا تھا‘ اب عالمی سطح پر پھیل کر انسانی بقا ہی کو خطرے میں نہیں ڈال چکا۔ بھرے پرُے شہروں پر بارود برسایا جاتا ہے۔ ملکوں اور قوموں کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے انتہائی بے شرمی سے بے ہودہ بہانے گھڑے جاتے ہیں ۔ جمی جمائی تہذیوں کی اکھاڑ پچھاڑ کے لیے الیکٹرانک میڈیا پربے پناہ سرمایہ صرف ہوتا ہے ۔ جمہور کی رائے کچلنے کے لیے آمروں یا ان کے جمہوری گماشتوں کو مسلط کیا جاتا ہے اور بدلے میں قومی حمیت انہی عاقبت نا اندیشوں سے خرید لی جاتی ہے۔ اندر کے مذہبی ، لسانی اور گروہی تعصبات کو ایک گند کی صورت باہر نکالنے کے لیے ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا جاتا ہے، یوں کہ وہ ایک دوسرے کی گردن کاٹتے ہوئے اسے عین مذہبی اور قومی فریضہ سمجھنے لگتے ہیں ۔ تو ایسے ماحول میں تو علامتی کہانی کے جو ہر اورکُھلنے چاہئیں تھے مگرایسا اس لیے نہ ہوا کہ اس معاملے میںجعل سازی زیادہ ہوئی ‘ فیشن میں اتنی علامت نگاری ہوئی کہ اچھی کہانیاں بھی ان میں دَب دَبا کر مر مرا گئیں جن تخلیق کاروں سے کچھ اُمید تھی وہ خود ہی اِس تجربے سے اوب کر الگ ہو گئے ۔اِس حقیقت کو تسلیم کر لیا جانا چاہیے کہ تخلیقی تجربہ کسی تخلیقی کار کے اِنفرادی روّیے ‘رجحان اور اِنفرادی کارکردگی سے ہی معتبر ہوتا ہے ۔ ایک بھیڑ یا جماعت سیاسی اور سماجی سطح پرکوئی تبدیلی تو لا سکتی ہے مگر اَدبی ہیئتوں‘ اسالیب اور روایتوں کو مستقل طور پرتبدیل نہیں کر سکتی۔

س:جدید افسانہ لکھنے والوں میں ایک بڑا انام آپ خود ہیں ،انتظار حسین ،بلراج مینرا،سریندر پرکاش،انور سجاد،خالدہ حسین ،رشید امجد ،منشایاد،غیاث احمد گدی،جوگندر پال،مرزا حامد بیگ،مظہرالسلام،نیئر مسعود،احمد جاوید،مزید کون لوگ تھے؟کیا فرق ہے ان لکھنے والوں کے افسانوں میں ؟

محمد حمید شاہد: جن افسانہ نگاروں کی فہرست آپ نے بنائی ، میرا ذکر ، اگر کہیں آ سکتا ہے تو ان سب تخلیق کاروں کے بعد، اور اس زمانے سے کہ جب جدید افسانہ نگار،جو علامت اور تجرید کو شعار کیے ہوئے تھا ،تھک کر ہانپنے لگے تھے ، نئی تنقیدی اصطلاح میںاس نئے زمانے کو مابعد جدیدیت کا زمانہ کہہ لیجئے ۔ اچھا پھر جنہیں آپ نے ایک قطار میں شمار کیا سب اپنے تخلیقی مزاج کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہیں ۔ دیکھئے، انتظار حسین ایسے جدید لکھنے والے تھے ، جنہوں نے قصہ کہانی کی قدیم روایت سے انحراف نہیں کیا ،اسے سینے سے لگایا ۔ خود اِنتظار حسین کا کہناتھا کہ اَفسانے کی اصل روایت سمعی روایت ہے یعنی قصہ کہانی کی روایت۔ اِس روایت سے وفاداری کا دَم بھرتے ہوئے وہ بار بار بار پیچھے د یکھا کرتے اور اُن تہذیبی حوالوں کوپِھر سے پاناچاہتے تھے جو کہیں پیچھے کھو گئے تھے ۔ ہند مسلم تہذیبی روایت قصہ کہانی کی روایت سے جڑ کر ان کے ہاں ایک تخلیقی قوت بن کر ظاہر ہوئی تھی ۔ جدید تہذیب جس طرح سب کچھ فنا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے اسے انتظار حسین کے کرداروں نے بہت تشویش سے دیکھا ۔ نئی حسیات کے آدمی کی بجائے تہذیبی آدمی ان کے ہاں زیادہ توجہ پاتا رہا ۔ انتظار حسین کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’’گلی کوچے‘‘ ۱۹۵۲ء میں شائع ہوا تاہم اس کتاب میں شامل اَفسانہ ’’اُستاد ‘‘ تقسیم سے پہلے میرٹھ میں لکھا گیا تھااور وہاں انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسے میں پڑھا گیا تھا۔ باقی سب اَفسانے لاہور میں بیٹھ کر لکھے گئے ۔ ’’ آخری آدمی‘‘،’’زرد کتا‘‘،’’ کچھوے‘‘ اور’’شہر افسوس‘‘ جیسے اَفسانے اِنتظار حسین کو انفرادیت بخشتے ہیں ۔ ان کے آخری زمانے کے افسانے’’نئی پرانی کہانیاں‘‘ ہندو میتھالوجی کی کھوج کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔یوں انتظار ان سب سے مختلف ہو جاتے ہیں جو اس فہرست میں آئے۔اچھا بلراج مینر کا قصہ یہ ہے کہ محمود ہاشمی نے انہیں سوانحی اَفسانہ نگار قرار دیا تھا اور یہ حقیقت بھی ہے ۔ اُدھر بلراج مینرا اور اِدھررشید امجد کے ہاں یہ سوانحی پہلو زیادہ تواتر سے آیا اور ’’میں‘‘کے کردار کی تکرار کی صورت میں ظاہر ہوا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سوانحی پہلو کو بہت سے مقامات پر ایک الگ دَھج سے برتا گیا ہے ۔ گوپی چند نارنگ کے مطابق بلراج مینرا کا بنیادی موضوع فرد کی ذِلت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فرد کو قریب سے جاننے کے لیے اپنی ذات کی کنہ میں اُترنا لازم ہو جاتا ہے کہ لکھنے والا خود بھی تو ایک فرد ہے۔ یوں مینرا ، اِحساس کی شدت‘ داخلی کرب اور اس ذلت کا خود تجربہ کرنے کے قابل ہوگئے تھے جو فرد کا مقدر ہے۔ بلراج مینرا کے’’وہ‘‘،’’ماچس‘‘ اور’’کمپوزیشن دو‘‘ جیسے افسانوں میںاِسی بے بسی اور ذلت کو شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ سریندر پرکاش کی باقاعدہ تعلیم ہائی سکول تک بھی نہ تھی مگر اُس کے قلم سے ’’بجوکا‘‘، ’’سُرنگ‘‘،’’باز گوئی‘‘،’’ نئے قدموں کی چاپ‘‘،’’رونے کی آواز‘‘اور’’ دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ جیسے اَفسانے نکلے، تو وہ کئی جدید لکھنے والوں سے زیادہ لائق اعتنا ہوئے۔ ان کے افسانوں میں بیانیہ کردار کو بہت سلیقے سے بدل لیا گیا ،اس بدلے ہوئے بیانیے میں جمی جمائی تہذیب کے ڈُوبنے کا منظر دیکھا جاسکتا تھاجس میں نئے وقت کے سُورجوں کی تاب سے اِنسانی نسل کی نئی فصل پکنے کی خبر بھی موجود تھی ۔ اس منظر میں کانسے میں ڈَھلا ہوا اِنسان اِطمینان سے تمباکو پیتے دیکھا جاسکتا ہے ۔ نارنگ نے کانسے کے اِس اِنسان کو ماضی میں زِندہ رہنے یا پھر بے حس ہو جانے سے تعبیر دِی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ سریندر نے جدیدیت کے چرکے سہنے والے نئے اِنسان کو دونوں سطح پر لکھا۔ سریندر پرکاش کا پہلا مجموعہ ’’دُوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ ۱۹۶۸ء میں شائع ہوا تھا جب کہ اُس نے’’برف پر مکالمہ‘‘ ،’’باز گوئی‘‘ اور’’ حاضر حال جاری‘‘جیسے اہم مجموعے بھی دیے جن کا مطالعہ اپنی جگہ اہم ہو جاتاہے۔ اب آئیے سجاد انور کی طرف ، جنہیں ایک زمانے میں شمس الرحمن فاروقی نے بہت مانا اور کہا تھا کہ ا نہوں نے اَفسانوی زبان کے ان امکانات کو روشن کیا تھاجن کے ذریعے اَفسانے کی تعمیرِ نو ممکن تھی ۔ انورسجادنے ایک سطح پر سماج سے بالکل ویسا ہی رشتہ قائم کیا ‘جو ترقی پسندوں کا وَصف ہوا کرتا تھا؛ وہی جبر اور اُس کے مقابل ہو جانے کی دُھن والا، مگر لکھتے ہوئے اسے بدل ڈالا،یوں کہ آدمی کاباطن بھی اس کا حصہ ہو گیا ۔ انور سجاد کے ہاں کرافٹ بہت مضبوط ہوتا ہے ۔ ’’کونپل ‘‘ اور ’’گائے‘‘ جیسے اَفسانوں میں اِس کرافٹ کو نمایاں طور پر جاسکتا ہے تاہم اس کرافٹ میں ان کی فکر کہیں دبتی نہیں تھی ۔ خالدہ حسین کا آپ نے پوچھا ، تو بتاتا چلوں کہ وہ افسانہ لکھتے ہوئے زندگی کی مادی تفہیم سے آگے نکل جاتی ہیں اور زِندگی کے ہر مظہر کے باطن اور خارج میں جاری واقعے کی ہر لہر کی روح پر دستک دے آتی ہیں ۔ وہ مسلسل اِس کوشش میں رہی ہیں کہ تہہ میں اُتریں اور نظر آنے یا محسوس ہونے والے کی ماہیت اور اَصل کو پالیں ، خالدہ حسین کے اَفسانوں کا پہلا مجموعہ ’’پہچان‘‘ ۱۹۸۱ء میں شائع ہوا تھا۔ ’’دروازہ‘‘ کی اِشاعت کے بعد اُن کے اَفسانے پر قبولیت اور پہچان کا دروازہ کھل چکا تھا اور لطف یہ ہے کہ اَبھی تک اُن کا قلم اسی طرح مختلف کہانی لکھے چلا جارہا ہے۔میں نے ان کا افسانہ ’’سلسلہ‘‘ پڑھا جس میں دِید کے ساتھ نادِید کا بھید بہت پُر لطف ہو گیا تھا تو اسے آج تک بھول نہیں پایا ہوں ۔ رشید امجد جدید افسانے کے نمایاں ترین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اُردو فکشن کے قاری کو ایک الگ ذائقے سے روشناس کرایا۔ ’’بے زار آدم کے بیٹے‘‘،’’ریت پر گرفت‘‘،’’ سہ پہر کی خزاں‘‘،’’ پت جھڑمیں خود کلامی ‘‘،’’بھاگے ہے بیاباں مجھ سے ‘‘،’’ دشتِ خواب‘‘،’’ کا غذ کی فصیل‘‘ ،’’عکس ِخیال‘‘، ’’گم شدہ آواز کی دستک‘‘ ،’’اور’’ ست رنگے پرندے کے تعاقب میں ‘‘جیسے اَفسانوں کے اہم مجموعے دینے والے رشید امجد نے علامت سازی میں نام کمایا اور اس حوالے سے بھی کہ وہ اپنے بیانیہ میں شعری وسیلوں کو استعمال کرکے اسے الگ کر لیا کرتے ہیں ۔ جب علامتی اَفسانے کا شور شراباماند پڑا تو رشید امجد نے ’’ست رنگے پرندے کے تعاقب میں‘‘اور ’’بگل والا ‘‘ جیسے عمدہ اَفسانے دِیئے ‘جن میں مربوط کہانی کا پورا پورا اِلتزام ہے ۔ تاہم ان کی ایسے افسانے بھی تسلسل سے پڑھنے کو مل رہے ہیں جن میں وہ بار بار اَپنے پہلے سے طے کردہ اَسلوب سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں ایک مرشد کی موجودگی ہربار ظاہر ہوتی ہے ۔ اِس سلسلے کے افسانوں میں ’’شبِ مراقبہ کے اِعترافات‘‘ کی پانچ کہانیوں اور’’ بلیک ہول‘‘ کوپڑھا جانا چاہیے ۔ منشایاد کا پہلا اَفسانہ ساٹھ کی دہائی کے ختم ہونے سے پہلے شائع ہو چکا تھاتاہم ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ بند مٹھی میں جگنو‘‘ ۱۹۷۵ء میں شائع ہوا۔ منشایا د نے مسلسل لکھا اور ہر طرح کی کہانی لکھی تاہم خالص اور سیدھے سادے بیانیے کی کہانی اُنہیں مرغوب رہی ۔ جب علا متی اَفسانے کی واہ واہ ہو رہی تھی تو اِس وسیلے کو بھی اُنہوں نے کا میابی سے برتاتھا۔ منشایاد کی بیشتر کہانیاں ان کے لیے ریئر مرر بن جاتی ہیں جس میں وہ ماضی اور دیہی وسیب کی رَمزیں دیکھتے اور نئی زندگی کی اُلجھنیں سلجھاتے ر ہے۔’’ماس اور مٹی‘‘،’’ خلا اندر خلا‘‘،’’ وقت سمندر‘‘،’’ درخت آدمی‘‘،’’ دُور کی آواز‘‘ کی اِشاعت کے ساتھ منشایاد کا شمار اُردوکے اَہم ترین اِفسانہ نگاروں میں ہونے لگاتھا ۔ ’’تماشا‘‘ اور ’’خواب سرائے‘‘ منشایاد کے افسانوں کے دیگر اہم مجموعے ہیں۔ان کے ہاںتہذیبی اَقدار‘ زمین اور اِنسان سے اُس کی کمٹ منٹ بہت گہری اور مضبوط ہے جس نے اُن کی کہانی میں ایک عجب طرح کی اَثر اَنگیزی کا وصف رَکھ دِیا ہے۔غیاث احمد گدی کی اَفسانہ نگار کی حیثیت سے شناخت کے زمانے کا تعین کرتے ہوئے شفق نے لکھا تھا کہ وہ زمانہ ترقی پسندی کے خاتمے کے بعد نومینس لینڈ کا زمانہ تھا۔ سو اس علاقے میں غیاث احمد گدی نے یہ کہتے ہوئے ڈیرے ڈال دیے تھے کہ کہانی لکھنے والے کو توبس ایک نکتہ چاہیے ہوتاہے ‘ کوئی ایک منظر جو اُسے بہت بھاتا ہے‘یا کوئی ایک واقعہ جو پوری زندگی میں بظاہر ایک معمولی سنگ ریزے کی طرح آپڑتا ہے ‘ وہی واقعہ‘ وہی سنگ ریزہ‘ لکھنے والے کی نگاہ کو پکڑ لیتا ہے۔ پھر وہ اُسے اُٹھاتا ہے ‘اُس کی گرد صاف کرتا ہے ‘حسب ِضرورت اُس کو چمکاتا‘ تراشتا ہے ‘ بالآخر اِس لائق بنا دیتا ہے کہ آپ لا محالہ اُس کی جانب متوجہ ہو جائیں۔ غیاث احمد گدی کے حوالے سے شفق کے اِس بیان کو سامنے رکھیں تو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ان کے ہاں وہ سروکار ثانوی ہوجاتے ہیں‘ جو ترقی پسندوں کے لیے بنیادی نوعیت کے تھے ۔ دوسری بات جواس سے بھی اہم ہے وہ یہ ہے کہ خارج کے سارے مظاہر ‘سارے واقعات بس اِس قدر اَہم تھے کہ ُان سے تخلیق کار کی وابستگی ہے اور اِس وابستگی سے تخلیقی عمل میںتحرک پیدا ہوتاہے ۔ ’’امام باڑے کی اینٹ‘‘ اور ’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘ ،’’تج دو‘تج دو‘‘،’’بابا لوگ‘‘،’’دیمک‘‘ اور ’’ڈوب جانے والا سورج‘‘غیاث احمد گدی کی ایسی کہانیاں ہیںجو علامتی اسلوب رکھتے ہوئے بھی اپنے مَتنی انسلاکات اور معنیاتی بہائو کی وجہ سے خارجی اسٹریکچرکو کسی حد تک بحال رکھے ہوئے ہیں۔ ۵ ستمبر ۱۹۲۵ کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے جو گندر پال کا انتقال کچھ دن پہلے یعنی ۲۳ اپریل کو بھارت میں ہوا۔ ان کا شمار اُردو کے ان اَفسانہ نگاروں میں ہونا چاہیے جو اَپنی کہانی کے بیانیے کی تعمیر نفسیاتی ٹولز سے کرتے ہیں ۔ نفسیاتی طریقہ کار میں فکر کامتحر ک ہونا لازم ہو جاتا ہے اور جو گندر پال اس کی راہ میں رخنے نہیں ڈالتے اسے کہانی کے ساتھ ساتھ بہنے دیتے ہیں ۔ تاہم یہ بات بہت اَہم ہے کہ جوگندر پال اس بہائو کو کہانی کے بہائو پرحاوی نہیں ہونے دیتے تھے‘ ایک لطیف سے پیچ سے اس کے حسن میں نکھار پیدا کردیتے ۔ کرداروںکی دِلکش اُٹھان سے بھی انہوں نے کہانی کے لطف کا سامان کیا ہے ۔ مرزا حامد بیگ تو میرے اٹک کے رہنے والے ہیں ،وہ مجھ سے جتنے فاصلے پر ہیں ،میں ان کے افسانے کے اتنا ہی قریب ہوں۔ان کی پہلی کہانی’’اَفسانہ وافسوں کی حشیشی رات‘‘ ۱۹۷۲ء میں ہی منظر عام پر آئی تھی لیکن افسانوں کا پہلا مجموعہ’’ گمشدہ کلمات‘‘ ۱۹۸۱ء میںچھپا تاہم اپنی کہانی کے الگ مزاج کے ذریعے اُنہوںنے اِس درمیانی مدت میں شناخت پالی تھی۔ اَپنے اَفسانوں میں ضلع اٹک کے علاقہ چھچھ سے تعلق اور ثقافتی مظاہر کوہمارے اس افسانہ نگار نے نہ صرف تخلیقی سطح پر برتا‘ کتھا کہانی ‘داستان ‘ گزرے عہد کی رومانویت اور اسطور میں اپنی دلچسپی سے اور فنکارانہ استعمال سے اپنے لیے مختلف راہ بھی بنالی ۔ان کے ہاں آپ کومتروک الفاظ اور کلیشے کی سطح پر اُتر آنے والے جملوں کو بھی تازہ کرلینے کا قرینہ ملے گا۔مظہرالاسلام کا بھی آپ نے پوچھا ہے ، تو عرض کرتا چلوں کہ میں مظہر کے فکشن کے جملے کا عاشق ہوں ۔ افسانہ لکھتے ہوئے جس طرح کے جملے کو انہوں نے رواج دیا اس کاایک جمالیاتی پیکربنتا ہے اورلطف یہ کہ وہ معنیاتی سطح پراُتھلا بھی نہیں ہوتا۔ مظہرالاسلام کا پہلا اَفسانہ ’’تالاب‘‘ ۱۹۶۸ء میںجب کہ اَفسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ گھوڑوں کے شہر میںاِکیلا آدمی‘‘ ۱۹۸۳ء میں شائع ہوا تھا۔ ’’باتوں کی بارش میںبھیگتی لڑکی‘‘،’’ گڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو‘‘ اور’’ خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر‘‘ میں انہوں نے مشقت کی چکی میںپسنے والے آدمی اور اُس کی نارسائیوںکو بیان کیا ہے، یوں کہ جذبے سے کہیں زیادہ اِحساس کی سطح پر قاری ان سے جڑجاتا ہے ۔ دُکھ مظہرالاسلام کے ہاں لطیف ہو کر اَذیت کے لُطف کی طرح ہو جاتا ہے ۔ یہ دُکھ جدائی سے ‘ اِنتظار سے اور زِندگی کے خواب بُننے والی لڑکیوں کے دِھیان سے پھوٹتا ہے ۔ ’’طائوس چمن کی مینا‘‘ والے نیر مسعود ہندوستان سے افسانے کے منظر نامے میں ذرا بعد میں داخل ہوتے ہیں مگر کئیوں سے زیادہ توقیر پاتے ہیں ۔ ان کے ہاں ہئیت کا گرینجر کیسے بولتا ہے میں نے اس پر مفصل لکھا بھی ہے ۔ ان کا اَفسانہ زندگی کے وسیع و عریض علاقے سے ایک قطعے کی صورت الگ ہوتا ہے ‘اپنے سارے تہذیبی رنگوں‘ تحیر اور اُس اسرار کے ساتھ، جو مَتن میں پوری طرح رچا بسا ہوتاہے۔ نیر مسعود کے اَفسانے کی بھید بھری فضا اور تہذیبی مہک کے سرمائے کو سمیٹنے والی نثر کا لطف اس کے علاوہ ہے ۔ نیر مسعود کے اَفسانے ایک پورے تہذیبی علاقے کی دریافت یا بازیافت ہیں ۔ کہانی کا مرکز ان کے ہاں مَتن کے کسی ایک حصے میں نہیں بلکہ لا مرکز میں ہوتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ ان کی کہانیاں پڑھنے کے بعد قاری کا دھیان کسی فکر‘ خیال یا احساس کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوتا نہ واقعات میں علت ومعلول کے رشتے تلاش کرتا ہے ،بلکہ یوں ہے کہ بیان ہونے والے زمانے ‘ دکھائے جانے والے مناظر اور تراشے جانے والے کردار قاری کے وجود کا حصہ ہو جاتے ہیں۔ احمد جاویدکا تعلق بھی اٹک سے ہے مگر وہ پنڈی کے افسانوی سکول کے نمایاں ترین ناموں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے ستر کی دہائی میں اَفسانہ لکھناآغاز کیا تھا تاہم ان کے اَفسانوں کا مجموعہ ’’غیر علامتی کہانی‘‘ ۱۹۸۳ء میں شائع ہوپایا۔ اِس مجموعے کے اَفسانوں میں ہمارے گنجان ہوچکے شہر کی گلیاں ‘ پرانے محلے ‘ قدیم مکان ‘ گھروں سے بہہ بہہ کرآتا اور نالیوںمیں بَھد بَھدکرتا بدبُودَار پانی ‘ ننگ دَھڑنگ بچے ‘ صحنوں میں کپڑے کوٹتی عورتیں‘ مجبوریاں اور بہت سارے سوال مَتن میں سے اُبلتے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں کہ آخر اُن کی زِندگی کب بدلے گی‘ بدل پائے گی بھی یا نہیں ؟۔ دوسرا مجموعہ ’’چڑیا گھر‘‘ کے اَفسانوں میں یہ سوال اور بھی شدید ہو جاتے ہیں ۔ اَب اِنسان کیڑے مکوڑے کی سطح پر پہنچا دِکھائی دِیتا ہے ۔ یہ درپیش حقیقت کی اِنتہائی قبیح صورت ہے ۔ ’’بھیڑ بکری‘‘ ،’’بھیڑے‘‘، ’’چوہے‘‘ اور ’’غیر علامتی کہانی‘‘ جیسے فن پارے عصری حسیت سے جڑے ہوئے اور سیاسی اور سماجی صورت حال پر لکھے ہوئے کامیاب اَفسانے ہیں۔ ان کے افسانوں کا ایک اور مجموعہ بھی شائع ہوا ہے ۔ لیجئے جو آپ نے نام گنوائے تھے ، ان پر بات ہو گئی ،مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس رجحان کا ہم ذکر لیے بیٹھے ہیں ، اس کے بہت بڑے نقیب احمد ہمیش اور ان کے افسانے ’’مکھی‘‘ کو ہی بھولے ہوئے ہیں۔ چاکی واڑہ میں وصال‘‘والے محمد خالد اختر کاذکر کیسے کریں کہ انہوں نے علامتی رجحان سے نہیں بلکہ اسی عرصے میں ’’ لالٹین‘‘اور’’ چچا عبدالباقی کی کہانیاں‘ ‘کے سلسلہ وار اَفسانے میں اپنی خوب صورت نثر ‘ اعلی کردار نگاری اور معنوی ندرت کی وجہ سے متوجہ کیا تھا۔ عبداللہ حسین کی وجہ شہرت ان کے ناول سہی مگر کیا ہم ’’جلاوطن‘‘ ،’’ ندی‘‘،’’ سمندر‘‘، ’’مہاجرین‘‘ اور’’ دُھوپ‘‘ کوبھول پا سکتے ہیں۔ کچھ کہانیاں ناول نگار مستنصر حسین تارڑ نے بھی اسی زمانی عرصے میں لکھی تھیں ، اسد محمد خاں کیا اس دور میں نہیں لکھ رہے تھے ؟غرض کئی نام ہیں جو ذہن میں آئے چلے جاتے ہیں مگر یہ ہماری تنقید کی نارسائی رہی ہے کہ جب کسی خاص رجحان کے تحت افسانہ نگاروں کا ذکر کرتی ہے تو تخلیقی سطح پر توانا مگر اس رجحان کے جھانسے میں نہ آنے والے افسانہ نگاروں کو الانگ پھلانگ جاتی ہے۔

س:جدید افسانہ لکھنے والے پانچ افسانہ نگاروں کی فہرست بنائی جائے تو آپ کے نزیک کون سے افسانہ نگار ہوں گے؟

محمد حمید شاہد:بھائی ابھی ابھی ہم نے پانچ سے زیادہ افسانہ نگاروں کو گنوادیا ، یہ سب وہ ہیں جو اس زمانے میں لکھ رہے تھے جب جدید افسانے کا غلغلہ ہر کہیں مچا ہوا تھا ۔ ان میں سے پانچ کو منتخب کیا جاسکتا ہے ۔ پچھلے دنوں آکسفرڈ والوں کا یہاں اسلام آباد میں لٹریچر فیسٹیول ہوا تو مجھے نئے افسانہ نگاروں کو متعارف کروانا تھا۔ میں نے عین آغاز میں وہاں ایک وضاحت کی تھی، جی چاہتا ہے ، اسے یہاں دہر دوں ۔ یہی کہ تخلیقی وظیفہ ایسا جادوئی عمل ہے کہ ہر جینوئن تخلیق کارکی قبولیت کے لیے برابر کے امکانات رکھتے چلا جاتا ہے ۔ ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ تخلیق کار ، مختلف ہو کر ، لگ بھگ ایک سی توقیر پا سکتے ہیں ، ایک جیسے اہم ہو سکتے ہیں ۔ اس میں ایسا نہیں ہے کہ ایک صدارت کی کرسی دھری ہوئی ہے اور اس پر ایک ہی کو بیٹھنا ہے ، نہ ہی یہ کرکٹ کی طرح ہے کہ، پہلی دوسری ، تیسری یا چوتھی یا پانچویں پوزیشن پر کھیلنے والے ریٹائر ہوں گے ، تو ہی بارہوریں کھلاڑی کے نصیب کھلیں گے ۔ تخلیقی عمل کا اعجاز یہ ہے کہ اس میں پہلے سے موجود تخلیق کاروں کے پہلو بہ پہلو نئے بھی اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، اور جگہ بناتے جا رہے ہیں ۔ ایک پچھلے سوال میں جب آپ نے مجموعی طور پر اردو افسانے کے پانچ نمایاں ترین نام پوچھے تھے ، تو میں ادبدا کر ان افسانوں کو یاد کرنے لگا تھا ، جو مجھے پسند ہیں اور جن کی وجہ سے مجھے ان کے لکھنے والے بھی اچھے لگتے ہیں ۔ وجہ یہ تھی کہ افسانے کی مجموعی صورت حال میں ایسا ممکن نہیں ہوتا ، جب سفر جاری ہو تو اپنے اپنے زمانے کے معروف ناموں کو بھی وقت حاشیے پردھکیل دیتا ہے ۔ اور ایسا ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا ، کل کے پانچ نمایاں نام آج کے نمایاں نام نہیں ہیں اور آج نمایاں سمجھے جانے والوں کو نئے آنے والے پچھاڑ سکتے ہیں ۔ مگرجدید افسانے کا معاملہ دوسرا ہے ، وہ جو کہتے ہیں کہ یہ کلوزڈ اور پاسٹ ٹرانسزکشن ہے ، تو یوں ہے کہ ،جس نے اس میدان میں نام کمانا تھا کمالیا ۔ مجھے یاد آرہا ہے منشایاد نے اس حوالے سے ، میرے افسانوں کے دوسرے مجموعے جنم جہنم کی واہ کینٹ میں ہونے والی تقریب میں ایک ایسی بات کہی تھی کہ بہت شور مچا تھا۔ جی چاہتا ہے اپنی طرف سے کوئی جواب دینے کی بجائے ان ہی کے الفاظ دہرا دوں ۔ منشایاد نے کچھ افسانہ نگاروں کے نام اور ان کے بچ جانے والے افسانوں کا ذکر کرنے کے بعدکہا تھا کہ ’’بچاکیا؟‘‘، تو یوں ہے کہ وقت بہت ظالم ہے وہ خود ہی چھانٹی کر دے گا شاید پانچ سے بھی کم ناموں کی ، میں اور آپ یہاں چھاننی لگا کر کیوں بیٹھ جائیں ۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus