Home / خبریں / ادب میں تحقیق کی اہمیت

ادب میں تحقیق کی اہمیت


٭شبین تاج یم۔اے، ریسرچ اسکالر
شعبۂ اردو ، گنانا بھارتی، بنگلور یونیورسٹی ، بنگلور560056

تحقیق کی تعریف
تحقیق کے معنی حقائق کی کھوج، تفتیش، دریافت ، چھان بین اور تلاش کے ہیں ، تحقیق عربی زبان کے لفظ’’ حق‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنیٰ حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنے کے ہیں، حق کے معنیٰ سچائی کے ہیں اور اس طرح تحقیق سچ یا حقیقت کی دریافت کا عمل ہے ۔
تحقیق کی مختلف تعریفوں اور توضیحات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ تحقیق حرکت وعمل وزندگی کی علامت ہے ، اگر تحقیق رک جائے تو زندگی بھی رک جاتی ہے ، تحقیق دراصل اس عمل کا نام ہے جس کے ذریعے مسائل کے قابل اعتبار حل تک پہنچاجاتاہے ، اس میں منصوبہ بند اور باضابطہ طریقے سے مواد جمع کیا جاتاہے ، یہ بے پناہ قوت وتوانائی کی حامل ایک سرگرمی ہوتی ہے جو معاملات کی تصدیق وتردید اور ان کی تعمیر وتشریح میں کمی بیشی کا فریضہ انجام دیتی ہے ، تحقیق انسانی ترقی وکامرانی کے لئے زینے کا کام دیتی ہے ، حقیقت کی تلاش کا جذبہ اور حقائق کی بازیافت تحقیق میں ضروری ہیں جو مختلف ذرائع سے حاصل کئے جاتے ہیں۔
ادب کی تعریف
ادب زندگی کا ترجمان ہوتاہے ، جس طرح زندگی کی کوئی حد نہیں کوئی کنارہ نہیں ، اسی طرح ادب کی سرحدیں بھی لامحدود ہیں ، ادب کی مکمل تعریف کرنا آسان نہیں ہے ، آج تک ادب کی جامع تعریف نہیں کی گئی کیوں کہ ادب تین حرفوں کا لفظ ہے جو لا محیط ہے ، کوئی ادب کو سماج کا آئینہ قرار دیتا ہے تو کوئی دستور حیات ، کوئی ادب کو تفسیر حیات کہتا ہے تو کسی کے یہاں آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ادب ہے ۔جب ادب کی شکل میں کوئی فن پارہ نثر یا نظم کی شکل میں لکھا جاتا ہے تو اسے تخلیق کہتے ہیں ، تخلیق کے وجود میں آنے کے بعد ہی تنقید اور بعد میں تحقیق کے مراحل پیش آتے ہیں ، ادب کی عمارت کے تین اہم ستون ہیں ، یعنی تخلیق ، تحقیق اور تنقید پر ادب کی عمارت کھڑی ہوئی ہے ، ان تینوں میں گہرا تعلق ہے ، ایک کے بغیر دوسرا نامکمل اور دوسرے کے بغیر تیسرا ادھورا رہیگا، تخلیق اور تنقید پر گفتگو سے قبل آئیے دیکھیںکہ تحقیق کیا ہے اور یہ کیوں ہماری زندگی اور اد ب کے لئے ضروری ہے ۔
ادب میں تحقیق کی اہمیت
تحقیق کی زندگی کے ہر شعبے میں ہر زمانے میں اہمیت تسلیم کی گئی ہے ، اسی طرح ادب میں بھی تحقیق لازمی ہے ، تحقیق انسانی زندگی کے لئے بھی ضروری ہے ، تحقیق کی بدولت ہی مہذب قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو تاریخ میں محفوظ کرتی جاتی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ان سے مستفید ہوسکیں، تحقیق ادبی نظریات کی گہرائی اور مآخذ تک رسائی میں مددگار ثابت ہوتی ہے ، اس سے حقائق زیادہ واضح اور مکمل ترین صورت میں سامنے آتے ہیں ، ابہام کی کیفیت اور شک کا خاتمہ ہوجاتاہے ، اصل میں ادب میں بعض ایسے تصورات ونظریات جنم لیتے ہیں جو غلط ادھورے اور نامکمل ہوتے ہیں ، ان تصورات ونظریات کو غلط ثابت کرنے کے لئے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے ، اور جو نظریات ادھورے اور نامکمل ہوتے ہیں وہ بھی تحقیق کی مدد سے تکمیل پاجاتے ہیں ، تحقیق نہ صرف شک کور فع اور تحیر کو دور کرتی ہے بلکہ آدمی کے لئے نئی نئی راہیں کھولتی ہے ، وہ مسائل کو حل کرتی اور گھتیوں کو سلجھاتی ہے وہ خامیوں کو دور کرتی اور خوب کو خوب تربناتی ہے ، تحقیق کسی خیال اور معلومات کو من وعن قبول نہیں کرتی بلکہ وہ انہیں خود دریافت کرتی ہے ، تحقیق حقائق سے براہ راست واقفیت کا نام ہے ، تحقیق حقائق کی تصدیق کرتی ہے اور نئے نئے راستے نکالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ، تحقیق ادبی میدان میں ادیب شاعر اور نقاد کے کارناموں پر روشنی ڈالتی ہے اور ان کے قد اور حیثیت کا تعین کرتی ہے ، تحقیق کسی فن پارے کے عہد کا تعین کرتی ہے فن پارے کی زبان کا اندازہ لگاتی ہے کہ جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ کس زمانے میں رائج تھے؟ اور ان کی املا کیا ہے ؟تحقیق کا اہم کام گمشدہ دفینوں کی دریافت کرنا اور ماضی کی تاریکیوں کو دور کرکے اسے روشنی مہیا کرناہے ، تحقیق ماضی کی گمشدہ کڑیاں دریافت کرتی ہے اور تاریخی تسلسل کی بحالی کا فریضہ انجام دیتی ہے اردو ادب کو اس کی ارتقائی صورت میں مربوط کرتی ہے ۔
تحقیق کسی شاعر یا ادیب کی تاریخ پیدائش کا تعین کرتی ہے ، جس سے اس شاعر یا ادیب کے عہد کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے اور اس کے عہد کی روشنی میں ہی اس کے فن پارے کو صحیح تفہیم وتعبیر ممکن ہوتی ہے ، ہر ادبی دور میں ایک تخلیقی فعالیت کا دور آتا ہے ، جب بڑے اچھے اور نئے نئے لکھنے والے سامنے آتے ہیں ، مثلاً سر سید تحریک کے زیر اثر ایک نیا طرز فکر آیا، اسی طرح رومانوی اور ترقی پسند تحریکوں کے زیر اثر ایک نئے پن کا اظہار ہوا ، مگر رفتہ رفتہ یہ نیا پن تقلیدی روپ اختیار کرگیا، یہ تقلیدی رویہ ادب کو کلیشے (جمود) میں بدل دیتا ہے ، ادب کو کلیشے سے نجات تحقیق کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے ، مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحقیق ہی ادبی عقائدو نظریات کے ماخذ تک رسائی کا ذریعہ بنتی ہے ، ادب کی ترقی وترویج اور اشاعت کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے ، اس سے ادبی شخصیات کا بہترین تعارف ہوتاہے ، تحقیق ہی اسلو ب کی خامیوں ، خوبیوں کی وضاحت پیش کرتی ہے ، بکھری ہوئی معلومات کو جمع کرتی ہے ، ادب میں تحقیق کی ضرورت اور اہمیت سے انکار کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے ، بلکہ تحقیق ہی ادب اور ادیب کی قدروقیمت اور قد میں اضافہ اور استحکام کا باعث بنتی ہے ۔
ادبی تحقیق میں متنی تنقید کو اہمیت حاصل ہے ، کیوں کہ تحقیق کے بغیر تخلیقی ادب کی معیاری اور درست تنقید ناممکن ہے ، درست متن کو سامنے نہ رکھا جائے تو اس پر قائم ہونے والی تمام تنقیدی آرا بے فیض ثابت ہوگی، تحقیق کی مدد سے تخلیق کی ادبی حیثیت کے تعین ، تخلیق کار کے سماجی ومعاشی ماحول اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل اور تخلیق کار کے ذہنی ارتقا کو درست طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے ، تحقیق لوگوں کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے ، ہر انسان اپنی ذہنی اپج کے مطابق غور وفکر کرتاہے اور ابتدائے آفر ینش سے تحقیق اور تلاش اور جستجو کا یہ سلسلہ جاری ہے ، انسان کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ خوب سے خوب ترکی تلاش میں رہتاہے اور اپنی سمجھ سے کسی نتیجے پر پہنچتا ہے ، خدا کی پہچان کے معاملے میں بھی انسان اکثر تحقیق اور جستجو سے کام لیتا ہے ، حضرت ابراہیم ﷺ نے مٹی کے بنے بتوں کو اپنی تحقیق کی بنا ہی رد کیا تھا کہ جو اپنی حفاظت نہیں کرسکتے وہ کیسے خدا ہوسکتے ہیں ، بچوں میں بھی کھوج اور تلاش کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے وہ ہر بات کی تہہ تک جانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے سوالات بھی تحقیق سے متعلق ہوتا ہے ، کیا کیوں کیسے وغیرہ۔
ہم تحقیق کے بغیر کسی بھی فن پارے کی قدروقیمت متعین کرسکتے ہیں نہ صحیح معنی اخذ کرکے تشریح وتوضیح کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر بہادر شاہ ظفر کی غزل کا مقطع ملاحظہ ہو۔
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں
اب اس شعر کی توضیح وتشریح بہت سطحی اور محدود ہوگی اگر ہم تحقیق کا فریضہ انجام دئیے بغیراس کا تنقیدی جائزہ لیں ، تحقیق ہی یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ’’کوئے یار‘‘ سے مراد ہندوستان ہے اور اس شعر میں نہ صرف آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی داستان ہے بلکہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا سارا المیہ موجود ہے ، اسی طرح فیض احمد فیض کا کلام دیکھئے محض کلام دیکھئے تع معلوم نہ ہوگا کہ فیض کے ’’نظریہ ‘‘ کی اصل بنیاد کیا ہے ، تحقیق یہ بات ثابت کرتی ہے کہ فیض کے دور میں کیا حالات واقعات تھے جو اس کی نظر یاتی شاعری کو بہت عظیم بنادیتی ہے ، فیض جب اپنی شاعری میں محبوب کی مانگ کو ستاروں سے بھر نے کا ذکر کرتے ہیں تو تحقیق اس امر کو واضح کرے گی کہ انکے ہاں ’’محبوب‘‘ دراصل ان کا ’’وطن ‘‘ہے ۔
اسی طرح فیض کے ہاں ’’تنہائی ‘‘ کا لفظ اپنے عام اور سطحی مفہوم سے کہیں بلند ہے اور یہ عام چیزیں ہی اس کی شاعری کو بلند مقام عطا کرتی ہیں وہ تحقیق کے بغیر نا ممکن ہے ، علاوہ ازیں ’’چھان بین یہ بھی کرسکتی ہے کہ زمانے کی اقدار کے حوالے سے یہ بتادے کہ کسی ادب پارے میں زمانے کی مروج قدریں موجود ہیں یا زمانے سے پیچھے ہے یا زمانے سے آگے ، مجموعی طورپر تحقیق ادب کے لئے ضرروی ہے ، اس سے نئی اور خوشگوار تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اور زندگی کے مسائل حل ہوتے ہیں ، اگر تحقیق رک جائے تو زندگی اور ادب میں جمود پیدا ہوجائیگا، اس لئے ضروری ہے کہ ہر زمانے میں لوگ زندگی کے تمام شعبوں میں تحقیق کے عمل کو جاری رکھیں۔
ادبی تحقیق اور اس کی اقسام
اد ب میں جو تحقیق کی جاتی ہے اسے ادبی تحقیق کہتے ہیں ، بنیادی طور پر ادبی تحقیق کی بھی دو اقسام ہیں ۔
پہلی قسم معیاری تحقیق ہے جبکہ دوسری قسم مقداری تحقیق کہلاتی ہے معیاری تحقیق وہ ہے جس میں تمام مروجہ معیارات ِ تحقیق کا خیال رکھتے ہوئے محقق یا مقالہ نگار اپنا کام تحریر کرکے پیش کرے جس میں مختلف مفروضوں کی مدد سے لوگوں کے خطوط ، انٹرویوز، موجود کتب، رسائل اور اخبارات سے حاصل شدہ مواد اور انٹرنیٹ سے تحقیقی مقالات وغیرہ سب شامل کئے جاتے ہیں اور پھر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاتے ہیں جب کہ مقداری تحقیق میں معروضی پیمائش اور انتخابات ، سوالنامے یا سروے کے ذریعے جمع اعداد وشمار کے عددی تجزیے پر زور دیا جاتاہے مقداری تحقیق عددی ڈیٹا کی جمع ہے اس کو مختلف گروپوں کا جنرل سروے بھی کہا جاسکتاہے ، ادبی تحقیق بھی بنیادی طور پر تو تحقیق ہی ہے تاہم ڈاکٹر گیان چند اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :
’’تحقیق کی دو قسمیں خالص یا نظریاتی تحقیق اور اطلاقی تحقیق
ہیں یہ فرق قدرتی (Natural)سائنسوں میں زیادہ نظرآتا
ہے طبیعات میں کچھ محقق نظریاتی (Theoritical)تحقیق
والے ہوتے ہیں دوسرے عملی تحقیق والے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادبی تحقیق
سائنس کی خالص تحقیق (Research Pure)کی طرح
غیر اطلاقی یا تصوری ہوتی ہے اس کا طریقہ بیشتر تاریخی اور کمتر
تجزیاتی ہوتا ہے ، اکثر صورتوں میں دونوں طریق مل جاتے ہیں
جن میں تاریخی عنصر قدرے زیادہ اور تجزیاتی قدرے کم ہوتا
ہے ’’مثلا‘‘ ہمیں یہ تحقیق کرنی ہے کہ امیر خسرو سے منسوب ہندی
شاعری خسروؔ کی ہے کہ نہیں تو ایک طرف ہم زمان میں پیچھے کی
طرف جاکر دیکھیں گے کہ ان کے نسخے اور حوالے کس دور تک
ملتے ہیں، دوسری طرف ہم ان کی زبان کا تجزیہ کریں گے کہ یہ
خسرو کے دور کی ہے کہ نہیں‘‘۔
تحقیق کی دیگر اقسام میں جا معاتی تحقیق اور انفرادی تحقیق بھی ہے ، جامعاتی تحقیق میں کسی جامعہ میں سند کے حصول کے لئے تحقیق کی جاتی ہے اور بعد امتحان کسی امیدوار کو سند عطا کی جاتی ہے ، جب کہ انفرادی تحقیق میں محقق اپنے ادبی ذوق کے لئے تحقیق کرتا ہے اور اس کام میں تن من دھن سے جٹ جاتاہے ، قاضی عبدالودود رشید حسن خان ، مولوی عبدالحق اور دیگر محققین نے کسی جامعہ میں سند کے لئے تحقیق نہیں کی تاہم وہ اردو کے نامور محققین مانے جاتے ہیں، اس طرح تحقیق مختلف انداز میں کی جاتی ہے اور اسکی مختلف زمروں میں تقسیم ممکن ہے ، تحقیق کے حوالے سے درجہ بالا اقسام مختلف محققین نے متعلقہ حوالوں سے متعین کئے ہیں ، جیسا کہ اس بحث کی ابتداء میں ذکر ہوا، اس بات سے قطع نظر کہ تحقیق کی کونسی تقسیم درست ہے اس بحث سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تحقیق علم کی ایک ایسی ناگزیر سرگرمی ہے جو وسعت اور تنوع کی حامل ہے ، اس کی مختلف قسموں سے نہ صرف اس کے دائرہ کا ر کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ تحقیق کے اعتبار کو بھی بڑھاوا ملتا ہے ، ہر علم اپنے لئے الگ طرز تحقیق کا مطالبہ کرتاہے جس کا انحصار محقق اور اس کی صلاحیت پر بھی ہے کہ وہ اپنی تحقیق میں کونسی قسم استعمال کریگا، تحقیق کو مختلف خانوں میں بانٹنے کا یہ عمل دراصل تحقیق کی وسعت اور ہمہ گری کو سمیٹنے کی ادنیٰ سی کوششیں ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر قسم کی تحقیق ان میں سے کسی ایک خانے میں فٹ ہو، ادبی تحقیق کے حوالے سے دیکھے تو ان میں سے بیشتر اقسام پر تحقیق کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اور استفادہ کیا جاسکتاہے ۔
تحقیق کے مراحل
تحقیق کے عمومی مراحل مختلف شمار کئے گئے ہیں، ادبی نظر سے شمار کئے گئے اہم مرحلے درج ذیل ہیں۔
۱۔ موضوع کی تلاش وانتخاب
کوئی بھی تحقیق کسی مقصد کے تحت کی جاتی ہے ، ادبی اور خاص کر سندی مقالوں میں اس مقصد کو واضح کرنے کے لئے باقاعدہ کوئی عنوان منتخب کیا جاتا ہے ، سماجی علوم میں تحقیق کا موضوع عموماً کوئی مسئلہ ہوتا ہے ، تحقیق میں اسی مسئلہ یا مقصد کا تعین سب سے مشکل مرحلہ شمار ہوتاہے کیونکہ اس سلسلے میں تھوڑی سی کوتاہی بعد کے تمام تحقیقی عمل کو متاثر کرتی ہے ۔
موضوع کے انتخاب میں محقق کی ذہنی سطح ، علمی پس منظر، پسند وناپسند اور بعض دیگر عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ان ہی عوامل کے تحت بعض موضوعات کسی محقق کے لئے مناسب اور بعض دیگر عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ان ہی عوامل کے تحت بعض موضوعت کسی محقق کے لئے مناسب اور بعض نامناسب ٹھہرتے ہیں ، لہذا موضوع کے انتخاب سے پہلے نوجوان محقق کو چاہئے کہ وہ نہ صرف خود اچھی طرح غور وخوض کرلے بلکہ اپنے اساتذہ کرام اور دیگر ماہرین تحقیق سے بھی پوری پوری رہنمائی حاصل کرلے ، نیز اصول تحقیق پر مبنی کتابوں سے بھی مدد لے ۔
اردوفنِ تحقیق کی بیشتر کتابوں میں موضوع کی تلاش وانتخاب کے حوالے سے بہترین رہنمائی ملتی ہے ، اس سلسلے میں موضوعات کی فہرستوں کے مطالعے سے بہتر رہنمائی مل سکتی ہے ، ادبی نقطہ نظر سے اردو تحقیق موضوعات کو مختلف قسموں کے تحت چند بڑے زمروں میں یوں تقسیم کیا گیا ہے :
۱۔ کوئی ایک ادیب۔ ۲ ۔ صنف۔ ۳۔ رحجان تحریک ، دبستان
۴۔ علاقائی گروہی جائزہ ۵۔ کوئی انجمن یا ادارہ ۶۔ کوئی ایک کتاب مثلاً تذکرہ ، تاریخ ادب یا داستان نیز
کسی رسالے کا جائزہ ۷۔ تدوین متن ۸۔ ادبی حوالہ جاتی کتابیں
۹۔ بین العلومی تحقیق ۱۰۔ ادبی لسانیات، یعنی ادب ولسانیات کو ملانے والے موضوعات۔
خاکہ ، تحقیقی تجویز یا تحقیقی ڈیزائن
انتخاب موضوع کے بعد جس چیز پر زیادہ توجہ صرف کرنے کی ضرورت ہے وہ تحقیقی تجویز، تحقیقی ڈیزائن یا خاکہ ہے ، اس سے مراد وہ پلان یا منصوبہ ہے جو تحقیق نگار اپنی تحقیق کے آغاز میں ترتیب دیتا ہے ، ’خاکہ‘ روایتی تحقیق میں تو عام ہے لیکن تحقیقی تجویز یا تحقیقی ڈیزائن اس سلسلے میں نسبتاً نئی اصطلاحات ہیں ، ان تینوں کا بنیادی تصور ایک ہی ہے ، تاہم تحقیقی تجویز یا خاکہ اس عمل کا محدود تصور ہے جبکہ تحقیقی ڈیزائن پورے تحقیقی منصوبے کا نام ہے ، بنیادی مقصد ان تینوں کا یہ ہے کہ تحقیق کے عمل سے بخوبی عہدہ براہونے کے لئے تحقیقی عمارت کا مکمل نقشہ ابتداء ہی میں کھینچ دیا جائے ، یہ نقشہ جتنا مکمل ہوگا تحقیقی عمل اتنا ہی آسان اور معتبر ہوگا۔
تھیس کا خاکہ بناتے وقت موضوع کی وسعت اور تنگی ، متعلقہ بنیادی مسائل اور ضمنی سوالات وہ فن جس کے متعلق موضوع ہے اور وہ مدت جس میں تکمیل کرنا ہے وغیرہ جیسی بنیادی باتوں کو پیش نظر رکھ کر ان کا پوری طرح لحاظ رکھنا ضروری ہے ، اس میں ابتدائی دیباچے سے لیکر آخری ضمیمہ ، کتابیات اور اشاریہ تک کی مکمل وضاحت ہونی چاہئے ، اس سلسلے میں دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرنا زیادہ بہتر ثابت ہوسکتاہے ۔
مختصر یہ کہ خاکہ مختلف تصورات کی تقسیم ، ترتیب اور باہمی رشتے کا نام ہے ، یہ ایک ناگزیر اور ضروری عمل ہے جو آغاز ہی میں تکمیل پاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اس کے اندر کسی مرحلے پر تبدیلی ممکن نہیں ، بعض اوقات حسب ضرورت اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے بلکہ ڈاکٹر اگیان چند تو اسی مقالے کی تیاری کی طرح ایک مسلسل عمل گردانتا ہے ۔
مواد کی فراہمی
تحقیق میں تیسرا اہم قدم مواد کی فراہمی اور کھوج ہے ، اس سلسلے میں سب سے پہلے متعلقہ مواد کی فہرست بنانا مناسب ہے ، جس کے بعد ان کی تلاش اور حصول محقق کی اہم ذمہ داری ہے ، جب تک محقق متعلقہ مواد حصول میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوتا اس کی تحقیق نہ صرف نا مکمل ہوگی بلکہ ناقص بھی ہوگی ، تحقیق کے معیار کا دارومدار بڑی حد تک اسی پر ہے ۔
موضوع تحقیق سے متعلق مواد کی پہنچان اور حصول کے لئے لائبریریاں محقق کے لئے اولین پلیٹ فارم کا درجہ رکھتی ہیں ، انسائیکلو پیڈیا، لغات، تذکرے ، سوانح عمریاں فہرست مخطوطات ونایاب کتب، فہرست مطبوعات ، مطبوعہ وغیرہ مطبوعہ ، کتابیات ، انتخابات ، اخبارات ورسائل کے فائل ، رودادیں ، پمفلٹ اور دیگر مستقل تصانیف وغیرہ مواد کے حصول کے سلسلہ میں چند اہم اور بنیادی ذرائع ہیں اس ضمن میں لائبریری سے استفادے کی بہتر صلاحیت محقق کے کام کو بڑی حد تک آسان کردیتاہے ۔
ان میں سے بیشتر کا حصول لائبریوں ہی سے ممکن ہے لیکن انٹرنیٹ اور دیگر قدیم وجدید ذرئع سے مواد کا حصول محقق کی صوابدید اور موضوع کی نوعیت پر ہے ، اگر چہ مواد کے سلسلہ میں موضوع سے متعلق سینئر محققین اور نگران مقالہ محقق کی بہتر رہنمائی اور مدد کرسکتے ہیں تاہم اپنی تحقیق سے متعلق مواد کی تلاش کا سزا وار بالآخر محقق ہی ٹھہرتا ہے ۔
مطالعہ اور نوٹ لینا
مقالے کی تیاری کے لئے ماخذ کی عارضی فہرست تیار کرلینے کے بعد محقق باقاعدہ مطالعہ شروع کرتا ہے ، یہی مطالعہ اس کی تحقیق کے لئے خام مال کی حیثیت رکھتا ہے جس کے بعد ودلائل کی روشنی میں حقائق کی تصدیق وتردید کے قابل ہوجاتاہے ، محقق کو اپنی تحقیق سے متعلق ہر ممکن الحصول تحریر پڑھنے کی ضرورت ہے ، وہ اپنے موضوع پر اس وقت تک قابل قبول رائے نہیں دے سکتا ، جب تک اس نے اپنے موضوع سے متعلق تمام اہم تحریروں کا مطالعہ نہ ہو، وسیع مطالعہ کی رائے میں وزن اور اس کی تحقیق میں گہرائی پیدا کرسکتاہے ۔
تحقیق کے دوران محقق کی اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تحقیق کو قابل اعتبار بنانے کے لئے دلائل سے کام لے ، یہی دلائل ایک کامیاب محقق ان نوٹوں کی صورت میں جمع کرتا ہے جو اس نے وسیع مطالعے کے بعد اخذ کئے ہوتے ہیں ، بعد میں جاکے یہی نوٹ اس کی تحقیق کا جز و بن کر اس میں وزن اور گہرائی پیدا کرنے میں معاونت کرتے ہیں۔
ایک کامیاب محقق نہ صرف مطالعے کے اصولوں سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ نوٹ لینے کے مختلف طریقوں سے بھی واقف ہوتا ہے ، وہ مطالعہ کے دوران غیر متعلق چیزوں سے پرہیز کرتا ہے اور اپنے مقررہ وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے مفید مطلب مواد ہی کو اہمیت دیتا ہے ۔
نوٹ لینے کے لئے اکثر محققین مختلف سائز کے کارڈ استعمال کرتے ہیں ، تاہم بیاض کی صورت میں مسلسل نوٹ درج کرنے کا طریقہ بھی مستعمل ہے ، نوٹ لینے کا یہ عمل انتہائی احتیاط اور باقاعدگی کا تقاضہ کرتا ہے اور فن تحقیق کی بیشتر کتابوں میں نوٹ لینے کے جملہ طریقوں کی پوری وضاحت موجود ہے ، واضح رہے کہ کامیاب محقق ہمیشہ بنیادی ذرائع یا مأخذ پر ہی انحصار کرتاہے ۔
مقالہ کی ترتیب وتسوید
سارا ممکن الحصول مواد اکھٹا کرلینے کے بعد اسے ترتیب دینے کی نوبت آتی ہے یعنی آغاز کا ر سے اب تک جو نوٹ لئے گئے ہیں انہیں ان کے عنوانات کے تحت مرتب کیا جاتاہے ، مقالہ کی ترتیب وتسوید کے وقت محقق کا ایک اہم کام یہ ہے کہ غیر ضروری نوٹوں کی چھانٹی کرے اور ان کو الگ کرے ، مقالہ کی ترتیب میں ابواب کے تحت نوٹوں کی ترتیب کا یہ عمل انتہائی مہارت، باقاعدگی اور احتیاط کا متقاضی ہے ، بہتر ترتیب و تنظیم ہی مقالہ نگار کے کام میں آسانی اور باقاعدگی پیدا کرتے ہیں۔
نوٹوں کی بہتر ترتیب ہی مقالہ کی ابتدائی ہیئت نمایاں کرتی ہے ، جس کے بعد تسوید کا عمل کافی حدتک آسان ہوجاتا ہے ، تسوید یا مقالہ کی تیاری میں ابتدائی طور پر مسودہ تیار کرنے کا عمل درپیش ہوتاہے جو ایک نازک اور مشکل مرحلہ ہوتاہے اور جس کے لئے انتہائی توجہ اور غور وخوض کی ضرورت ہوتی ہے ، اس مرحلے پر محقق کو اپنی تمام تر صلاحیتوں سے کام لینا چاہئے، مواد کی تلاش ، چھان بین اور پھر مطالعہ نوٹ لینے کے دوران محقق جس محنت ، دیانت اور دقتنظری کا ثبوتے فراہم کرتا ہے ، مقالہ کی تسوید میں بھی اس کا اہتمام ضروری ہے ، اس مقصد کے لئے واضح فکر ، مواد کی منطقی ترتیب ، صحیح ترجمانی اور مؤثر طرز تحریر چند نمایاں اور ضروری چیزیں ہیں۔
مقالہ کی تیاری کے دوران تحریر یا تسوید کے چند اصول ہیں ، مقالے کی تحریر کا آغاز براہ راست اپنے موضوع سے کیا جا تا ہے ، طویل تمہید اور تبصروں سے پرہیز ضروری ہے ، حقائق سے اخذ کردہ نتائج اور تاثرات کو پورے خلوص اور اختصار کے ساتھ پیش کردیا جاتاہے ، جمع شدہ مواد کی تدوین اور تنظیم اس طرح ہوکہ دلائل کی روشنی میں نتیجہ اخذ کیا جاسکے ، اس کے علاوہ مقالے کا ہر حصہ باہم مربوط ہونا چاہئے۔
مختصراً یہ کہ محقق جتنی محنت ابتداء سے آخر تک کرتا ہے ، یہ مرحلہ اس کا نچوڑ ہوتا ہے ، تسوید کے دوران ابتدائی مسودہ تیار کیا جاتاہے ، جس پر بار بار نظر ثانی کی جاتی ہیں ، نظر ثانی اور تبیئض کے اس عمل کے بعد مقالہ یا مضمون جو روپ لیتا ہے اسے مبیضہ کہتے ہیں ، نظر ثانی میں کسی دوسرے فرد سے مدد لینا زیادہ مفید خیال کیا جاتا ہے ، اس کے بعد باقی تمام کارروائیاں رسمی نوعیت کی ہوتی ہیں۔
تسوید کے اس سارے عمل میں مناسب اسلوب زیادہ اہم کردار ادا کرتاہے ۔
مقالے کا اسلوب
ادبی تحقیق مقالہ اپنی نوعیت اور سائنسی نوعیت کے پیش نظرالگ اسلوب کا متقاضی ہوتا ہے ، اس کے لئے معیاری زبان لازمی ہے ، محقق کے لئے خطابت سے احتراز واجب ہے اور استعارہ اور تشبیہ کا استعمال صرف توضیح کے لئے کرنا چاہئے، آرائش گفتار کے لئے نہیں ، تناقص وتضاد اور ضعف استدلال سے بچنا چاہئے اور مبالغہ کو تحقیق کے لئے یسم قاتل سمجھنا چاہئے۔
تحقیقی مقالہ چونکہ واقعات وحقائق پر مبنی ہوتا ہے اس لئے اس میں لفاظی یا افسانہ طرازی ، خطابت یا شاعرانہ رنگین بیانی سے کام نہیں لینا چاہئے، یہ باتیں مقالے کی عظمت کو کم کرتی ہیں ، غیر متعلق باتیں یا غیر ضروری باتیں یا تفصیلات دے کر کتاب یا مقالہ کا حجم بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے، عبارت میں یکسانی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے ، ایجاز واختصار اچھی تحریر کی ایک خوبی شمار ہوتی ہے لیکن مختلف تصورات کی وضاحت بھی لازمی ہے ، غیر ضروری انشاء پردازی تحقیقی مقالے کے لئے مناسب نہیں ، ڈاکٹر عبدالرزاق قریشی تحریر کرتے ہیں : تحقیقی مقالے میں پیش پا افتادہ فقروں ، فرسودہ ادبی مثالوں ، عامیابہ محاوروں ، بول چال کے محاروں ، خطابات اور ڈگریوں ، واحد متکلم اور مدیرانہ جمع متکلم کے استعمال سے بچنا ضروری ہے ’’میں ‘‘ یا ’’ہم‘‘کے بدلے مرتب ، راقم سطور ، مضمونگار یا اس قسم کا کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا جاسکتاہے ، تاہم ڈاکٹر گیان چند نے اس مقصد کے لئے بعض محققین کے برعکس شگفتہ طرز تحریر کو مناسب خیال کیا ہے ۔
حواشی ، حوالہ جات، اقتباسات
تحقیقی مقالے میں حواشی ، حوالہ جات اور اقتباسات کی بہت اہمیت ہے کیونکہ تحقیق میں متعلقہ شعبے سے وابستہ لوگوں کی آراء کو اہمیت حاصل ہوتی ہے ، عام طور پر اقتباسات اس وقت استعمال کئے جاتے ہیں جب کسی مصنف کا اقتباس اسکی عبارتوں اور تصورات کی پیشکش بہتر طور پر محقق کے مفروضوں اور دلیلوں کو ثابت کرسکتاہو یا پھر دستاویزی شہادت کے لئے ضروری ہو، نیز محقق کو کسی کی رائے سے اختلاف ہو یا جہاں اعداد وشما رکے بیان میں ٹھکراؤ یا کہیں بنیادی اصولوں میں اختلافات ہوں تو اقتباس کی نوبت آتی ہے ، اقتباسات کے سلسلہ میں ان کی صحت کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے ۔
باقاعدہ اقتباسات کے ساتھ ساتھ بعض اوقات دوسروں کی تحریر کا مرکزی خیال اپنے لفظوں میں بیان کیا جاتاہے ، اقتباس ہو یا مرکزی خیال استفادے کی ہر دو صورتوں میں اس کا اعتراف ضروری ہے ، حوالہ جات اور حواشی اسی مقصد کے لئے تحقیقی مقالے کا لازمی حصہ بنتے ہیں ، تاہم غیر ضروری اقتباسات اور حوالہ جات وغیرہ سے پرہیز بھی ضروری ہے حوالہ دینے کے دو طریقے اہم ہیں جن میں کسی ایک طریقے کو استعمال کیا جاسکتاہے ، حوالے متعلقہ صفحہ کے نچلے حاشیے پر بھی ہوسکتے ہیں اور باب کے اختتام پر بھی ، البتہ دونوں صورتوں میں واضح ترتیب ضروری ہے ، اقتباس پیش کرنا اگر ناگزیر ہوتو مختصر پیش کیا جاتاہے ۔

ضمیمے ، کتابیات ، اشاریہ
کسی مقالہ یا کتاب میں متن (text)کے فوراً بعد آنے والا وہ حصہ جو متن سے متعلق ضروری اور مفید معلومات فراہم کرتا ہے مگر متن میں شامل نہیں کیا جا سکتا ، ضمیمہ کہلاتا ہے ، ضمیمہ کتاب میں تحقیقی مقالہ کا وہ ضروری حصہ ہوتا ہے اگر اسے نکال دیا جائے تو اسکی کمی محسوس ہوتی ہے اور اگر اسے متن میں شامل رکھا جائے تو متن کی روانی یا ترتیب متاثر ہوتی ہے جس سے کتاب یا تحقیقی مقالے کی خوبصورتی میں فرق آتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ضمیمہ کو الگ لیکن متن کے فورا بعد جگہ دی جاتی ہے ۔
کتاب یا تحقیقی مقالہ کے خاتمہ پر ماخذ کی فہرست دینا تحقیق میں ضروری ہے ورنہ تحقیق قابل اعتبار شمار نہیں ہوگی ، ایسی فہرست سے اصل ماخذ معلوم ہونے کے علاوہ مواد کے استناد ، اہمیت ، افادیت وغیرہ کا اندازہ ایک جھلک میں ہوجاتاہے ، کتابیات محض کتابوں کے زیادہ سے زیادہ نام گنوانے کے لئے نہ ہو جو کتاب بھی ہو براہ راست موضوع سے تعلق رکھتی ہو اور اس سے مصنف یا مقالہ نگار نے اپنی تصنیف یا مقالہ میں استفادہ کیا ہو ، فہرست ماخذ منتخب ہونا چاہئے، کتابیات کی تیاری بھی حوالہ جات کی طرز پر ہوتی ہے البتہ مخطوطات کی فہرست مطبوعات سے الگ ہوگی ، نیز رسائل وجرائد بھی الگ رکھے جائیں گے ، ذاتی خطوط سوالنا مے وغیرہ آخر میں درج کرنے چاہئیں۔
کتابیات کی طرح اشاریہ بھی علمی وادبی تحریروں میں لازمی طور پر ہونا چاہئے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قاری کو فوراً پتہ چل جاتاہے کہ کتاب میں اس کے کام کی چیز ہے یا نہیں ، اس طرح وہ پوری ورق گردانی سے بچ جاتاہے ، اگر کتاب ضخیم ہے تو اشارہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے ، مثلاً اشخاص کے نام، مقامات کے نام ، کتابوں کے نام وغیرہ، اشاریہ کا انحصار عموماً موضوع یا مضمون کی نوعیت پر ہوتاہے ۔
Shabeen Taj W/o Mohammed Azeemulla
Opp. H.M.S. College, H.M.S. Colony, Shettihalli Main Road, Tumkur-572102, Karnatak

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus