Home / خبریں / ہرات میں تصوف اورسلسلۂ چشتیہ پردو روزہ بین الاقوامی سیمینار کاکامیاب اختتام

ہرات میں تصوف اورسلسلۂ چشتیہ پردو روزہ بین الاقوامی سیمینار کاکامیاب اختتام

سلسلۂ چشتیہ کا تسلسل ہرات سے اجمیر تک

نئی دہلی، (اسٹاف رپورٹر)ہندوستان اور افغانستان کے روحانی، تہذیبی ، تجارتی اور ثقافتی تعلقات وروابط صدیوں پر محیط ہیں۔ شہر ہرات کئی لحاظ سے ممتاز ہے۔ صوفیا ئے کرا م کی تعلیم و تربیت اور روحانی فیوض و برکات کے لیے پورے عالم میں مشہور ہے۔ صوبہ ہرات کا ایک مشہور زمانہ قریہ چشت بھی ہے۔ یہ وہی قریہ ہے جس کی نسبت سے چشتیہ سلسلے کا آغا ہوا۔ خواجہ معین الدین چشتی نے یہیں کے بزرگ ابو اسحاق شامی سے کسب فیض کیا اور پورے برصغیر میں چشتی سلسلے کا آغاز کیا۔تصوف کی اس روش نے دنیا میں بالخصوص بر صغیرمیں امن و محبت کے پیغام کو عام کیا۔صوفی ازم کی اسی اہمت و افادیت کے پیش نظر انسٹی ٹیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز نے شہر ہرات میں دو روزہ بین الاقوامی سیمنار کا انعقاد کیا۔انسٹی ٹیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز ہندستان میں فارسی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے مختلف جہتوں سے خدمات انجام دے رہی ہے لیکن یہ سیمنار اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس لیے منفرد تھا کہ فارسی زبان میں اور افغانستان میں تصوف کی جو وراثتیں موجود ہیں ان کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ اسی مقصد سے یہ سیمنار افغانستان کے شہر ہرات میں منعقد ہوا۔اس سیمنار میں انڈیا افغانستان فاونڈیشن او ر نو اندیشان کلچرل و سوشل آرگنائزیشن نے اشتراک کیا۔ انڈین قونصلیٹ نے بھی بھر پور تعاون دیا۔ ہندستا ن سے پروفیسر سید اختر حسین کی قیادت میں ۲۱ رکنی وفد نے شرکت کی جن میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین جے این یو ، پروفیسر علیم اشرف ڈی یو ، پروفیسرمظفر عالم ، حیدر آباد ، پروفیسر عارف ایوبی ، لکھنو، سید سلمان چشتی ، اجمیر شریف ،ڈاکٹر محمود عالم ، حیدرآباد، ڈاکٹر ندیم اختر ، دہلی ، محترمہ نسرین جہاں، کلکتہ، محمدابرارالحق جے این یو اور مہتاب عالم ،بھوپال، محمدفیرو ز عالم شامل تھے۔ افغانستان کے مختلف شہروں سیادبا اور دانشوروں نے شرکت کی۔
سمینار کا آغاز1ستمبر 2018 کی صبح قرآن پاک کی تلاوت سے ہوئی۔اس کے بعد ہندوستان اور افغانستان کے قومی ترانے گائے گیے۔دونوں ملکوں کے مابین خوش آئند تعلقات پر نیک خواہشات کے ساتھ اس افتتاحی سیشن میں خیرمقدمی کلمات محترمہ سمیہ رامش نے پیش کیا۔گورنرآف ہرات جناب محمد آصف رحیمی نے افتتاحی خطاب فرمایا۔کلیدی خطبہ سید سلمان چشتی نے پیش کیا۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے انڈین قونصلیٹ جنرل، ہرات جناب کمار گور شریک ہوئے۔سید فاضل سنچارکی معاون وزیر اطلاعات و ثقافت، کابل مہمان اعزازی کے طورپر شریک ہوئے اور جناب ہمایوں محتاط دائریکٹر جنرل سناش نامہ ملی، افغانستان نے اپنا بھر پور تعاون پیش کیا۔دو روزہ سیمنار کے بعد انڈین قونصلیٹ جنرل ،ہرات جناب کمار گورو کی جانب سے چشت شریف کی زیارت اور سلمیٰ ڈیم کی سیر کا اہتمام کیاگیاجو ہندستان اور افغانستان کی دوستی کی علامت ہے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus