Home / خبریں / قرۃالعین حیدرکے ناول چاندنی بیگم میں ہندایرانی تہذیب کی عکاسی

قرۃالعین حیدرکے ناول چاندنی بیگم میں ہندایرانی تہذیب کی عکاسی


٭جاوید اختر

ریسرچ اسکالر (دہلی یونیورسٹی،دہلی)
موبائل:9235352749
ای میل :jvdkhan22@gmail.com

اردو فکشن میں یوں تو بے شمار فنکار ہیں جنہوں نے اردو ادب کو نئی آب وتاب بخشی ہے اور اپنے زور قلم سے سماج کو بھی ایک نئی فکر سے آشنا کیا ہے۔ان فنکارو ں میں اہم نام قرۃ العین حیدر کا ہے جن کی افسانوی دنیا نے اس دنیا کو متاثر کیا ہے۔وہ مستقبل کی دنیا کو دیکھنے سے پہلے ماضی کی دنیا کو دیکھتی ہیں۔وہ اس ماضی سے حال کا موازنہ کرتی ہیں اور مستقبل کے بے شمار نقوش کی نشا ن دہی کرتی ہیں۔ان کے یہاںیہ تمام جہتیں دو تہذیبوں سے مل کر بنتی ہیں وہ ہندوستانی اور ایرانی تہذیبیں ہیں جو ان کے مکمل فکشن کی نمائندگی کرتی ہیں۔ہندایرانی تہذیب نہ صرف ان کے ناولوں بلکہ ناولٹوں اور افسانوں میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔
قرۃالعین حیدر نے اپنے ناولوں میں ہندایرانی تہذیب کی جو خاص چیزیں ہیں ،جیسے لوگوں کے پیشے،لباس،بول چال، رہن سہن،ان کے خوردونوش ساری چیزوں،جیسے ان کے یہاں یعنی ہندواور مسلمانوں کی رسمیںاور ان کے رواج کا بڑی باریکی سے ذکر کیا ہے۔
قرۃ العین حیدر کا ناول چاندنی بیگم ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا ۔اس ناول میں چاندنی بیگم ایک اہم کردار ہے اوراس کے چودہ عنوانات ہیں ۔ اپنے دیگر ناولوں کی طرح قرۃ العین حیدر نے اس ناول میں بھی ہند ایرانی تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا ۔ اور اس میں چار خاندانوں کے مختلف افراد کی داستان کے ذریعہ انسانی زندگی کی شکست وریخت ۔ارتقاء زوال اور خاتمہ کو اسی فنکاری سے موضوع بنایا ہے کہ ناول گذشتہ پچاس سالہ دور انقلاب کا نوحہ اور نغمہ دونوں بن جاتا ہے ۔ جس میں مشترکہ تہذیب کی جھلکیاں خوب دیکھنے کو ملتی ہیں ۔
چاندنی بیگم عنوان کے جواز کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ اس ناول میں چاندنی بیگم کا کردار علامتی استعارہ بن گیا ہے جسے فنکار نے ایک آئیڈیل عورت کے روپ میں پیش کیا ہے اور آئیڈیل بھی آخر کار وقت کے جبریت کا شکار بن گئی ۔عینی آپا نے اپنے ناول آگ کا دریا میں بھی وقت کو موضوع بناکر اس کی اہمیت کا احساس انسان کو دلایا ہے ۔اسی طرح اس ناول میں بھی وقت کو اہمیت دی گئی ہے ۔اصل میں وقت قرۃ العین حیدر کے ناول آگ کا دریا اور چاندنی بیگم ہی میں نہیں بلکہ ان کی زیادہ تر تخلیقات میں بنیادی مرکزی رول ادا کر تا ہے ۔ ہر شخص اور قوم کے حال میں اس کا ماضی اس طرح زندہ رہتا ہے کہ انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہی انسانی زندگی تہذیب اور معاشرے کی سب سے واضع حقیقت ہے اور ا سی تسلسل سے عالم کا وجود قائم ہے بقول علامہ اقبال:۔
سمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثبات
ابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیات
قرۃالعین حیدر نے ناول چاندنی بیگم میں ہند وستان کے مختلف زمانوں کی تاریخ ومشترکہ تہذیب کے مسئلے کو نہایت ہی فنکاری اور خوبصورتی سے اس ناول کا بنیادی موضوع بنایا ہے۔۱۹۴۷ء سے لے کر موجودہ زمانہ تک کی معاشی تہذیبی سیاسی معاشرتی تبدیلیوں کو بھی پیش کیا ہے۔مثلاـِِِــ تقسیم ہند پر چھوٹی ہوئی جائیدادوںکا مسئلہ۔ہندوستانی مسلمانوں کے عزیزوںکا پاکستان جانا اور یہاں پر رہ جانے والوں کی پریشانیاں اور دشواریاں، نوابوں اور زمینداروں کے خاتمے سے پیدا ہونے والی پریشانیاں جس کی وجہ سے کچھ زمینداروں کاذہنی توازن کا بگڑ جانا، ساتھ ہی لڑکیوں کے لیے بااخلاق لڑکے نہ ملنا اور مسلمان لڑکیوں کا بہت زیادہ موڈرن نہ ہونے کی وجہ سے پڑے لکھے مسلمان لڑکوں کا اپنے ساتھ کی ہندو لڑکیوں یا کمتر خاندانوں کی تیز طرار لڑکیوں سے شادی کر لینا وغیرہ وغیرہ۔ان سب پہلوں پر مصنفہ نے بھرپور روشنی ڈالی ہے جس سے ہندایرانی تہذیب کی جھلکی اںصاف نظر آتی ہیں۔
قرۃ العین حیدر کا یہ ایک بہترین آفاقی ناول ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کی تہذیب وکرداروں اور یہاں کی سر زمین کی منظر کشی وندیوں کی روانگی وجنگلوں کی خوبصورتی اور مشترکہ کرداروں کی آپسی محبت واخوت کو پیش کیا ہے ۔ مثلا ً
’’تمہاری طرف للبیرے میں چاندنی ؟ اور لال سرنے؟ تازہ میں جنگلی گلاب کی خوشبو رچی ہوئی تھی ۔ اور چاندنی بیگم وکی میاں نے ندی پر جھک کر آب رواں کو مخاطب کیا کیا وہ تمہاری اجاڑ کوٹھی تھی ۔ جو وجے ماتا کی ملکیت بنی ؟۔۔۔۔ انہوں نے گیلی ریت پر انگلی سے لکھا ۔ بندہ کمترین وقار حسین جوا بھی زندوں میں سے ہوں ۔ میں بھی ایک روز اس طرف آنکلا تھا۔ پھر انہوں نے چاروں طرف پھی لے ہوئے سرسبز منظر پر نگاہ دوڑائی اور اونچی آواز میں پکارے ۔ یہ ایک جنگل کا صحیفہ ہے جو خط گلزار میں لکھا گیا ہے ۔ ‘‘
(چاندبیگم صفحہ ۔ ۸۵۔۲۸۴)
اس کے علاوہ قرۃ العین حیدر نے ہندوستان خاص طور سے یوپی کے ملے جلے کلچر (ہند ایرنی تہذیب ) کی تصویر کشی کی ہے اور ساتھ ہی زمیندار گھرانوں کے مخصوص ماحول کا تذکرہ بڑی دلچسپی سے کیا ہے ۔
قرۃ العین حیدر کو اپنے ملک ہندوستان کی تہذیب سے بے حد دلچسپی ہے ۔ جس کا ذ کر ا ن کے ناولوں افسانوں وناولٹ میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ان کے ناولوں میں ہند ایرانی تہذیب کا بکھر اؤ نظر آتا ہے ۔ اسی طرح اس دلچسپی کو وہ اپنے آخری ناول چاندنی بیگم میں بھی نظر انداز نہیں کرتیں ۔ بلکہ اپنے تمام کرداروں کی خود کلامی سے اس کا حسن دوبالا کر دیتی ہیں ۔
ناول میں سیاسی سماجی جھلکیاں خوب دیکھنے کو ملتی ہیں ہندوستان میں جب غریبی ہٹاؤ کا نعرہ عروج پر چل رہا تھا ملک کے سیاسی ماحول میں ایک اتھل پتھل مچی ہوئی تھی ۔ سعودی عرب کی کمائی ،پاکستانی عزیزوں کا اچھاپن ہر وقت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے ہندوستان پاکستان کے مقابلہ کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔
ہندوستانی میلوں موسموں راگوں کو بھی بہترین انداز میں فنکار نے پیش کیا ہے۔ ہندوستان کے مذہبی میلوں خاص طور سے بالے میاں کے عرس میں مذہبی رواداری کے ایک خوبصورت ماحول کو بیان کیا گیا ہے ۔ جس میں ہندو مسلم مشترکہ تہذیب کے عناصر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اور ساتھ ہی لوگ گیت سوانگ ، برسات ،جوگیوں کا ماتم ، بنجاروں کے نوحے ، چشمنوں کا ماتم منت چھلکا سوز ، سلام منت دالدار براق وغیرہ کا ذکر بڑے بہترین انداز میں ملتا ہے ۔ جو ہند ایرانی تہذیب کا گہوارہ ہے اور قرۃ العین حیدر کا سب سے پسندیدہ موضوع ہے ۔
اس ناول کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے زیادہ تر کردار تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ خواہ وہ تین کٹوری کے جاگیردار کا ہویا شیخ طاہر فیل فیروز سب تاریخ میں ید طولیٰ رکھتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ناول میں زیادہ تر قرۃ العین حیدر خود ہی چھائی ہوئی ہیں کبھی وکی میاں کی زبان سے یوپی کے ریتی رواج کے بارے میں بتاتی ہیں ۔تو کبھی ایک سیاح انا صاحب کی زیادتی بہرائچ کے میلے میں آئے ہوئے تین کوڑی کے نوجوانوں سے مخاطب ہوتی ہیں ۔ملاحظہ ہو :
’’ــــــــــرانا صاحب پھر قلندر ی شان سے اکڑوں بیٹھے ،سگریٹ مٹھی سے اٹکایا ، تبسم کیا اور بولے اب میں آپ نوجوانوں کی خاطر جو یورپ اور پچھم کے درمیان معلق ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ہی کی جدید اصطلاحات میں بیان کر وں یہ سب کیا ہے ، ایک گہرا کش لگایا یہ ایک عظیم الشان ڈرامہ ہے سمیلسٹ پلے، لوگ گیتوں میں سرکار کی پیدائش پر ان کی والدہ برہمنوں سے جنم پتری بنواتی ہیں۔ غزنوی ماں اور پنڈت پوتھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تو بھئی اسپین کا وہ کر سچین سورما جو مسلمانوں سے لڑا وہ عیسائیوں ہی میں ایل سڈ کیوں کہلایا السید ۔
عقیدت مند کمک لے کر تاخیر سے پوچھتے ہیں ۔ مسلمان ولی تھے ورنہ ناٹک بن جاتے ان کی فوق الحیوان گھوڑی کے سوانگ بھرے گئے ۔ بیاہ ہر سال ملتوی کیونکہ پچکا لگ جاتا تھا ۔ ہم کتنا کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پاتے کیوںکہ حالات موافق نہیں ۔ ہم اپنے پلان مستقبل پر چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی نہیں آتا ۔ یہ ایک رمزیہ تمثیل ہے جو ہمارے عوام نے آٹھ نو سال قبل تخلیق کی، ایک اور کش ۔بالے میاں ایک کلچر ہیرو ہیں ۔ انہوں نے فیروز ہ کو مخاطب کیا ایک زرعی تمدن کے سینٹ ۔بسنت کے میلے میں آم کے بور اور گیہوں کی بالیاں یہاں چڑھائی جاتی ہیں کسان اپنی سالانہ آمدنی کا ایک حصہ گو لک میں ڈال جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اورنگ زیب ایک موڈرن ذہن کے آدمی تھے۔ اینٹی مسٹری ۔‘‘
قرۃ العین حیدر ایک مطالعہ ۔ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم ایجوکیشنل بک ہاؤس دلی ص۔ ۲۔۴۰۱)
قرۃ العین حیدر اپنے ناول میں ہندو اور مسلمان زمینداروں کی دانت کا ٹی دوستی کا ذکر بھی خوب اچھے انداز میں پیش کیا ہے ۔ ان سب باتوں میں ہندوستان کی ملی جلی ہند ایرانی تہذیب کا قیمتی سرمایا موجود ہے ۔انہیں روایتیں بہت عزیز تھیں ۔ جس کو وہ اپنے ناولوں میں بار بار دہراتی نظر آتی ہیں۔
اس طرح قرۃالعین حیدر نے ہند ایرانی تہذیب کے حوالے سے اس ناول میںاس ملواںتہذیب کا ذکربڑی خوبی سے کیا ہے جو ان کا پسندیدا موضوع ہے اور جو اس ناول چاندنی بیگم میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus