Home / خبریں / شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علامہ اقبال پر دو روزہ قومی سیمینارکااختتام

شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علامہ اقبال پر دو روزہ قومی سیمینارکااختتام

professor Sagheir Afraheim velidictory function me presidentiol Address

علی گڑھ۲۹،مارچ(اسٹاف رپورٹر) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی، شعبۂ اردو کے زیر اہتمام اور اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ کے اشتراک سے ’’اقبال فکروفن۔ جدید تناظر میں‘‘ دو روزہ قومی سمینار اقبال شناسی میں نئے باب کے اضافے کے ساتھ آرٹس فیکلٹی لائونج میںاختتام پذیر ہوگیا۔سیمینار میں تین اجلاس میںمقامی اور بیرونی اسکالروں نے ۲۵ سے زائد مقالات پیش کئے ۔ سمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ سرسید کے یوم وفات کے موقع پر علامہ اقبال پر سمینار کا افتتاح در حقیقت دونوں عبقری شخصیات کے روحانی رشتوں کی مطابقت سے کیا گیا۔ سرسید کی وفات کے بعد علامہ اقبال کے قومی، ملی اور ملکی خدمت کے جذبوں میں شدت پیدا ہوئی اورانھوں نے سرسید کے نقش قدم پر چل کر عوامی بیداری کے جتن کیے ۔ انھوں نے کہا کہ اقبال نے مشرق کی باز یافت کرتے ہوئے سرزمین ہند کو فوقیت دی اور کہا کہ یہ وہی زمین ہے جس میں جذبہ خلوص، رواداری اور قوت برداشت موجزن ہے۔ سابق صد ر شعبۂ اردو پروفیسر سید محمد ہاشم نے کہا کہ اقبال کونابغۂ روزگار شخصیت بنانے میں سرسید کے روحانی فیض نے اہم رول ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ بعض جزوی اختلافات کے باوجود اقبال سرسید مشن کی توسیع ہیں۔پروفیسر عقیل احمد صدیقی نے کہا کہ شاعری کے تعلق سے جدید عہد میں تمام تصورات پر از سر نو غور کیا جانا چاہئے ۔معروف شاعر اظہر عنایتی نے کہا کہ اقبال کو جدید تناظر میں ری ڈسکور کیا جانا چاہیے۔ڈاکٹر عمیرمنظر نے کہا کہ سیمینار اس معنی میں اہم رہا کہ اقبال شناسی میں نئی جہتوں پر گفتگو کی گئی۔ شرکائے سمینار میں سے پروفیسر طارق سعید، وغیرہ نے بھی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے سمینار کو اقبال شناسی میں سنگ میل قرار دیا۔اس سے قبل مختلف اجلاس میںبالترتیب پروفیسر عقیل احمد صدیقی، پروفیسر ابوالکلام قاسمی ،اور قاضی جمال حسین کی صدارت اور پروفیسر مہتاب حیدر نقوی ،پروفیسر قمرالہدی فریدی اور پروفیسر مولا بخش کی نظامت میں پروفیسر اصغر عباس،پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر سید محمد ہاشم،پروفیسر ظفر احمد صدیقی ،پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی،پروفیسراحمد محفوظ ،پروفیسر شکیل صمدانی،پروفیسرطارق سعید ، پروفیسر اختر حسین کاظمی،ڈاکٹر راحت ابرار،ڈاکٹر عارف حسن خاں، مظفر حسین سید،ڈاکٹر سرورساجد،ڈاکٹر نورفاطمہ، ڈاکٹر عمر رضا، ڈاکٹر معید الرحمن،آفتاب عالم نجمی، معید رشیدی،، ڈاکٹر علی عمران عثمانی، ڈاکٹر عمیر منظر ، اسعد فیصل فاروقی ،ڈاکٹر عبدالرحمن ، عبدالمحی ، وغیرہ نے مقالات پیش کیے۔ سمینار کوآرڈینیٹر پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے اظہار تشکر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال فن کار اور مفکر دونوں پہلوئوں سے برصغیر کے معاشرے کے لیے بالخصوص اور عالمی معاشرے کے لیے بالعموم اہمیت کے حامل ہیں۔ اختتامی تقریب کی نظامت پروفیسر محمد علی جوہر نے اور صدارت پروفیسر صغیر افراہیم نے کی۔ اختتامی اجلاس میں پروفیسر طارق چھتاری،پروفیسر شہاب الدین ثاقب ،ڈاکٹر جاوید نسیمی،ڈاکٹر سیما صغیر ، ڈاکٹر زبیر شاداب،ڈاکٹرمحمد فرقان سنبھلی،ڈاکٹرمحمد شاہد وغیرہ موجود رہے۔
iqbal seminar ki velidictory function ki tasweer seminar ki ikhtatami taqreeb ka ek manzar

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus