Home / خبریں / جامعہ طنطا مصر میں ہم عصر تخلیقی ادب کے موضوع پر پروفیسر خواجہ اکرام کاخصوصی خطاب

جامعہ طنطا مصر میں ہم عصر تخلیقی ادب کے موضوع پر پروفیسر خواجہ اکرام کاخصوصی خطاب

ہندستانی طرز میں ملبوس مصری طلبہ نے ہندستانی نغموں سے مہمان کا کیا استقبال

29066908_448061282280616_6767457922516516864_n[1]

قاہرہ، مصر(اسٹاف رپورٹر)پروفیسر خواجہ اکرام نے مصر کے اپنے دس روزہ دورے میں عین شمس یونیورسٹی،جامعہ ازہر ،اسکندریہ یونیورسٹی کے بعدطنطا یونیورسٹی میں مشرقی زبانوںکے ا ہم شعبہ،شعبۂ اردو کو خطا ب کیا۔طنطایونیورسٹی اپنی گو ناگوں خصوصیات کی وجہ سے قاہرہ،مصر میں منفردشناخت رکھتی ہے۔ جس میں مشرقی زبانوں کے تحت اردو کا شعبہ قائم ہے۔جو مصر میں اردو کامنفردشعبہ تصور کیا جاتاہے۔واضح رہے کہ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اردو کے پہلے ادیب ہیں جنہوں نے مصر کی یونیورسٹیز میں اردو زبان وادب کی نمائندگی کی ہے۔
پروفیسر خواجہ اکرام نے طنطا یونیورسٹی میں بعنوان ’’ہم عصر تخلیقی ادب‘‘پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو بلاشبہ آج ہندوپاک کی گلیوں سے نکل کر دوردرازممالک کو اپنا گرویدہ بنا چکی ہے۔آج اردوکی نئی بستیاں بسانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود بس رہی ہے۔یہ اردوزبان کاکرشمہ ہے کہ آپ سب اردوکے طالب علم اورشیدائی ہیں۔مصر میں اردوطلبا وطالبات کی کثرت کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچ رہی ہے۔اردو زبان کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔اس کے نوحہ گرکو مصر میں آکر اردوکی مقبولیت کا اندازہ لگانا چاہیے کہ کس قدر لوگ اس زبان سے خود کو جوڑ ے رکھاہے۔اردواب برصغیر ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ زبان متعدد بر اعظموں میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔اس کی ایک زندہ مثال مصر ہے۔کیوں کہ اردو کی رگ وپے میں عربی اور مصری تہذیب وثقافت کے عناصر شامل ہیں۔مصرسے ہمارا رشتہ نہ صرف تہذیبی اور علمی ہے،بلکہ اسلامی نظریات وتواریخ کے پس منظر میں مصرمینارہ ٔنور ہے۔ قبل ازیں ڈین طنطا یونیورسٹی اور صدرشعبہ مشرقی زبان ڈاکٹرمدحت حمادنے اپنے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ پروفیسر خواجہ اکرام اردوزبان وادب کے مشہورومعروف اسکالر ہیں۔موجودہ وقت میں پروفیسر خواجہ اکرام سفیر اردوکی حیثیت رکھتے ہیں۔پوری دنیا میں اردوزبان وادب کے تئیں کس قدر مستعدی دکھاتے ہیں اس کا اندازہ ہم جیسے لوگوں کو زیادہ ہے۔ہماری ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر ممکن مددفراہم کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ دل سے سفیر اردوکا استقبال کرتے ہیں کہ موصوف پہلے ہندستانی اردو ادیب ہیں جنھوں نے مصر کی مختلف یونیورسٹیز کا دورہ کیا ہے۔مرحباائے سفیر اردومرحبا۔سرزمین مصر میں ہم آپ کا صمیم قلب سے استقبال کرتے ہیں۔
واضح ہوکہ طنطا یونیورسٹی میں پروفیسر خواجہ اکرام کا استقبال بالکل انوکھے انداز میں کیاگیا۔ ایک طالبہ نے ہندستانی لباس پہن کر اور تین طالبات نے ہندستانی نغمے گا کرپروفیسر خواجہ اکرام کا پرجوش طریقے سے استقبال کیا۔یہ انداز نہ صرف اردوسے محبت کا اظہار تھا بلکہ اردوتہذیب یعنی ہندستانی تہذیب وثقافت سے لگاؤ کا برملا اظہاربھی تھا۔ اس اہم کاوش کے لیے پروفیسر خواجہ اکرام نے اردو اورفارسی کے تمام اساتذہ،طلبہ اورطالبات کا شکریہ اداکیا۔پروگرام کے بعد بڑی گرمجوشی کے ساتھ طلبہ وطالبات نے ملاقاتیں کیں اور اردوسیکھنے کے لیے ہندستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

1 03 0429101134_448060762280668_6243748564132954112_n[1] 29104177_448061078947303_6614332648967897088_n[1] 29214609_10215338307399369_1106206079609121853_n[1] 29063270_448061225613955_2460477203557646336_n[1] 29103915_448061502280594_3254564713253568512_n[1] 29133547_448061425613935_4059953316992385024_n[1]

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus