Home / خبریں / اکیسویں صدی کی عورتوں کے نام

اکیسویں صدی کی عورتوں کے نام

sher md. tabassum-
٭تبسم فاطمہ،نئی دہلی۔

وقت کی سوئیاں آگے ضرور بڑھ گئی ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ عورت آج بھی اپنے لیے اسپیس کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ یہ معاملہ صرف بر صغیر کی عورتوں کا نہیں ہے۔ روپ الگ الگ ہیں لیکن امریکہ ہو، چین، جاپان یایوروپ، عورت کہیں نہیں بدلی۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ آج بھی وہ اپنی شناخت کے لیے جنگ کررہی ہے۔
حیران کرنے والے اعداد وشمار
’عالمی صحت تنظیم‘ کے ایک سروے کے مطابق، ہندوستان میں ہر 54 ویں منٹ میں ایک عورت کے ساتھ ریپ ہوتا ہے۔‘ سینٹر فار ڈیولپمنٹ آف ویمن کے مطابق، ہندوستان میں روزانہ 42 خواتین عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر 35 ویں منٹ میں ایک عورت کے ساتھ ریپ ہوتا ہے— پہلے عصمت دری کے پیچھے چھپی حیوانیت کو دیکھا جاتا تھا، اب عصمت دری کے حق میں وکیل، سیاستدان اور وی ایچ پی جیسی فرقہ وارانہ تنظیمیں بھی کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ کیا عورت کے لباس اور دس بچے پیدا کرنے جیسی مذہبی فکر کو عصمت دری سے وابستہ الفاظ سے منسوب کرکے دیکھا جا سکتا ہے؟ اکیسویں صدی میں ایک خاتون کو کیسے جینا اور رہنا چاہیے، کیا اس کا فیصلہ یہ مرد معاشرہ کرے گا، جو صدیوں سے بے خوف اور آزادی کا نعرہ دینے کے باوجود عورتوں کو خوفزدہ اور خونخوار الفاظ سے لہولہان کرتا رہا ہے۔ ایک برس قبل چنئی کے ایک ٹی وی چینل پر ہندو شدت پسندوں کا حملہ صرف اس بات پر ہوا کہ ایک خاتون نے منگل سوتر کو کتوں کے گلے میں ڈالے جانے والا پٹا بتایا تھا۔ اس نے کیا غلط کہا تھا؟
 خطرے میں آزادی
آج کی عورت بھی کسی پالتو جانور کی طرح مرد کی چوکھٹ سے باندھ دی گئی ہے۔ یہاں اس کی پاکدامنی اور آزادی خطرے میں ہے۔ اس کے بیرونی کام کاج اور گھر سے باہر نکلنے کو بھی عصمت دری کے واقعات اور خوفناک الفاظ سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ یاد رکھئے عصمت دری سے بھی زیادہ خطرناک ہیں عورت کو ملزم ٹھہرانے والے الفاظ۔ جو ذائقہ کی طرح سیاست سے لے کر میڈیا چینلز تک کی ٹی آر پی بڑھانے کے کام آ رہے ہیں۔ سوال یہ بھی، کہ عصمت دری اور عریاں الفاظ کی آڑ میں آپ اسے کب تک ذلیل کرتے رہیں گے؟
وہ موجود ہے مارے جانے کے لئے، نفرت اور عصمت دری لئے
یوم خواتین کے موقع پر ہماری دنیا عورت کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا ڈرامہ ضرور کرتی ہے مگر کوئی بھی عورت کی شہرت، آزادی، اور شرکت کی راہ ہموار نہیں کرتا۔
ایک طرف نئی ایجاد، نئی تکنیک اور ریس میں بھاگتی اندھی دنیا ہے، دوسری طرف اس دنیا میں امریکی حکومت سے لے کر مشتعل کرنے والی دہشت گردی کی انتہائی حد بھی موجود ہے۔ عالمی ترقی کی مثالوں کو دیکھنے کے بعد جب عورتوں کی بات آتی ہے تو یہ پوری دنیا ایک ایسے مذاق میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس پر دل کھول کر ہنسا بھی نہیں جا سکتا۔ ہندوستان، پاکستان ہی کیوں، یہ بہتر وقت ہے، خواتین کی بین الاقوامی صورت حال کو فوکس میں لانے کے لیے— یورپ سے امریکہ تک، کنزیومر ورلڈ سے سیاست تک وہ موجود ہے، مارے جانے کے لئے، نفرت کے لئے۔ عصمت دری سے لے کر مرد ذہنیت کے دوغلے رویہ تک عورت صرف استعمال ہو رہی ہے یا ہر سطح پر اس کا ذہنی اور جسمانی استحصال کیا جا رہا ہے۔
ماضی سے نجات
یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کیا واقعی آج کی خواتین ماضی کے خوفناک اور سیاہ صفحات سے نجات پا چکی ہیں؟ ایکی زمانہ تھا جب وہ لونڈی یا غلام ہوتی تھیں اور ایک بڑے بازار میں ان کی بولی لگائی جاتی تھی۔ شوہر کے مردہ جسم کے ساتھ وہ ستی ہو جاتی تھیں یادیوداسی یا اس طرح کے ہزاروں ناموں اور تعریفوں کے ساتھ ان کا جسمانی استحصال کیا جاتا تھا۔ وقت کے صفحات پر بازار بدلا ہے اور بازارواد کا چہرہ لیکن 2016 آتے آتے بھی حالات معمول پر نہیں ہیں۔ آج عورت زیادہ تعداد میں تعلیم یافتہ ہے۔ لیکن فلم، ماڈلنگ، مذہب، سماج اور سیاست کی مارکیٹ میں آج بھی وہ ایک ایسا برانڈ ہے،جہاں مردوں کا معاشرہ انہیں ننگا کرنے اور ان کی مجبوریوں کو استعمال کرنے میں ہی اپنے وجود کی سلامتی دیکھتا ہے۔ بین الاقوامی خواتین فورم یا اقوام متحدہ خواتین کے روشن مسائل پر بحث ضرور کرتا ہے لیکن بھیک کے پیالے میں رکھی عارضی ہمدردی کے علاوہ خواتین کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
آج جب ہم بین الاقوامی یوم خواتین منانے کی روایت ادا کر رہے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم لیسٹرا نام کی خاتون کو یاد کر لیں جس نے فرانس کے انقلاب کے دوران جنگ کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تحریک کی شروعات کی تھی۔ اس کا مقصد جنگ کے دوران خواتین پر ہونے والے مظالم کو روکنا تھا اور جس کے اعزاز میں 1910 میں کوپن ہیگن میں خواتین کے عالمی دن کاقیام عمل میں آیا، لیکن گزشتہ ۱۰۷ برسوں میں خواتین کے حالات میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔
 کاٹ کھانے والا مرد معاشرہ
ہندوستان میں بھی دیکھیں تو خواتین ریزرویشن بل سے لے کر خواتین کی حفاظت کے نام پر بیان بازیاں تو ہوتی ہیں، پھر یہ بیان بھی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ ذرا سوچیں، اسی ملک میں خواتین کو عزت اور احترام دلانے کا جذبہ ایک ایسی تحریک سے جوڑ دیا جاتا ہے، جس کے پس منظر میں خوفناک عصمت دری کے سیاہ صفحات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ دامنی یا نربھیا سے پیدا ہوئے تنازعہ کے ایک ہفتے بعد ہی انڈیا گیٹ کی پراسرار خاموشی یہ اعلان کر جاتی ہے کہ خواتین کو لے کر کوئی بھی انقلاب اس ملک میں نہیں ہونے والا۔ کیونکہ مردانہ بارودی تہذیب میں آج کے دور میں بھی خواتین کسی خیال یا نظریہ کا نام نہیں، ایک بدن کا نام ہے، جس پر للچانے والے گوشت خور گدھ ہیں اور کاٹ کھانے والا زہریلا مرد معاشرہ۔ اس لیے حالات نہ ہندوستان میں بدلے ہیں، نہ دنیا کے کسی ملک میں۔ یہ بد قسمتی ہے، جو کہا جاتا ہے کہ خواتین اپنی پوزیشن کے لئے خود ذمہ دار ہیں۔ سوال ہے، آپ اسے اٹھنے ہی کہاں دیتے ہیں؟ فن، ادب سے سیاست تک وہ اٹھنا چاہتی ہے تو سب سے بے رحم حملہ اس کے کردار کو لے کر ہوتا ہے۔
کہاں ہے حصہ داری؟
ماضی سے حال تک، ہندوستان سے پوری دنیا تک کچھ لوگ خواتین کے اقتدار سنبھالنے یااقتدار میں حصہ داری کے عمل کو خواتین کو بااختیار بنانے کے جذبہ سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں اب بھی خواتین کی حصہ داری ۱۰۰میں دو چار فی صد بھی نہیں ہے۔ اب بھی ایک ہی کام کے لئے ایک عورت مرد سے 50 فیصد کم کی تنخواہ پاتی ہے۔ دنیا کے 87 کروڑ 50 لاکھ آبادی میں دو تہائی سے بھی بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ شرم و افسوس کا موضوع ہے کہ آج بھی وہ اپنے حقوق اور تحفظ کے لئے حاشیہ پر کھڑی ہے جہاں سے ہو کر اس کی اپنی آزادی اور خواہشات کا کوئی راستہ اب بھی نہیں جاتا۔
خود لڑنی ہے جنگ
سیاہ مستقبل کے ساتھ حل عورت کے اختیارات کا کوئی راستہ کسی بھی ملک کے پاس نہیں ہے۔ یہ کوئی جنگ نہیں ہے جو خواتین کو خود لڑنی ہے۔ اس حقیقت کو بھی سمجھیں کہ مرد سماج معاشرہ کی نیت آج بھی خواتین سے متعلق کسی حل کو ڈھونڈنے کی نہیں ہے۔ یہ ایک ڈرامہ ہے جو صدیوں سے مسلسل چلتا آ رہا ہے۔ یہ اس سامراجی، ترقی پذیر ممالک کا ڈرامہ ہے، جو بین الاقوامی یوم خواتین کے نام پر خواتین کو جھوٹی امید دینے، ان کا مذاق اڑانے کے نام پر کیا جاتا ہے۔ اصلیت میں، اس ڈرامہ کے مرکز میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ آزادی اور حقوق کی جنگ چھوڑ کر خواتین مردوں کی حکومت کو قبول کیوں نہیں کرتیں؟ طاقت اور شناخت کی دو چار مثالوں کو دنیا کی پوری خواتین کی صورت حال کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ماضی کا اندھیرا خواتین کے موجودہ اور مستقبل پر اب بھی لگام لگائے ہوئے ہے اور اس گھنے اندھیرے سے نکلنے کا راستہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ مرد اپنی سامراجی ذہنیت اور طاقت سے شکست یا بے دخل ہونے کو تیار نہیں۔
عورت پیدا کہاںہوتی ہے، وہ تو بنائی جاتی ہے۔
’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاو‘ منصوبہ بندی کا آغاز کرتے ہوئے نریندر مودی نے ہندوستانی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی بات تو کہہ دی لیکن وہ اپنے سنتوں کے اس فرمان پر خاموش ہیں جو خواتین سے، 4 سے 10 بچے پیدا کرنے کو کہہ رہے ہیں۔
تعلیم کے بازار میں جہاں ایک بچے کو پڑھانا مشکل ہے، وہاں ڈھنگ کا پیسہ کمانے والے بھی زیادہ بچوں کی تعلیم کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ دیکھا جائے تو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر جہاں آج عورت کی خود داری اور اس کی ذاتی آزادی کا سوال مسلسل سوالوں کے گھیرے میں ہے، وہاں پانچ بچے پیدا کرنے کا بیان عالمی اسٹیج پر ہمارا مذاق بنانے کے لئے کافی ہے۔
ہندوستان میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ’’ ماں بننے کے دوران ہر دس منٹ میں ایک عورت کی موت ہو جاتی ہے۔ 2010 میں 57 ہزار خواتین کی موت ماں بننے کے دوران ہوئی تھی۔ 2015 تک اس اعداد و شمار کو کم کرنے کی مہم جاری ہے، لیکن بڑھتے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماں بننا اب بھی ایک نئی زندگی سے ہو کر گزرنے جیسا ہے۔ یونی سیف اسٹیٹ آف دی ورلڈس چلڈرن‘ کی رپورٹ کہتی ہے کہ ترسیل سے منسلک پریشانیوں کی وجہ سے اوسطاً ہر 7 منٹ پر ایک عورت کی موت ہو جاتی ہے۔ ’دیگر ممالک کے مقابلے میں یہ اعداد و شمار بہت زیادہ ہیں اور صحت سے متعلق سوالات کو بھی جنم دیتے ہیں۔
ذاتی آزادی پر حملہ
بد قسمتی سے اب بھی ملک کی کئی ریاستوں میں جنین قتل جیسے مسائل سے حاوی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ ہلاکتیں پڑھے لکھے اور اقتصادی سطح پر مضبوط گھرانوں میں زیادہ ہو رہی ہیں۔ 5 بچے پیدا کرنے کا فرمان اور پیٹ میں قتل جیسے واقعات جہاں مرد سماج اورمعاشرہ کے لئے کلنک ہے، وہیں خواتین کی ذاتی آزادی پر حملہ بھی۔
صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی عورت کے لئے یہ مذہبی روایات چیلنج ہیں۔ 40 فیصد شہری خواتین میں سے پڑھی لکھی خواتین کا کچھ فیصد ہے جو اب اپنی آزادی کا سوال بھی اٹھانے لگا ہے۔ اس آزادی میں بیدار خواتین کو کئی سماجی تنظیمیں بھی تعاون دے رہی ہیں۔ لیکن یہ خیال کیا جائے کہ فلم، اسپورٹس، دفتر میں کام کرنے والی اور دیگر کام کرنے والی خواتین کا یہ فیصد ابھی اتنا کم ہے کہ آئے دن ان کی ذاتی آزادی پر مرد کا ہتھوڑا چل جاتا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ ایک مہذب دنیا میں عورت اب بھی اپنی زندگی، کیریئر، آزادی، یہاں تک کہ بچے پیدا کرنے کے لئے بھی مرد کے تابع ہے۔ اس وجہ سے ’سمون دی بوار‘ کے تیکھے لفظ آج بھی خون کے آنسو رلاتے ہیں کہ ’عورت پیدا کہاں ہوتی ہے، وہ تو بنائی جاتی ہے۔‘ اور اس کا خالق صدیوں سے مرد رہا ہے۔
tabassumfatima2020@gmail.com

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus