Home / خبریں / معروف شاعرہ اورادیبہ ڈاکٹرسعد یہ بشیرسے،ا سو ہ سلطا ن اعوان اوراقراءعارف کاخصوصی مکالمہ

معروف شاعرہ اورادیبہ ڈاکٹرسعد یہ بشیرسے،ا سو ہ سلطا ن اعوان اوراقراءعارف کاخصوصی مکالمہ

a6ee9234-5e03-4bf5-baef-6ed6adc81893
feff0442-c2aa-4764-a872-2bee824a516c
٭ا سو ہ سلطا ن ا عو ا ن

a039096e-dd06-4ad2-9f77-f2656e380e58
aa7c5634-5606-40f9-88e9-55728fc403e3
٭ا قر ا ء عا ر ف

سوال:۔ سب سے پہلے آپ اختصار کے ساتھ اپنا ادبی پس منظر بتائیں؟
جواب:۔ما سٹر ز اورینٹل کا لج پنجا ب یو نیو ر سٹی سے کیا تھا۔ ا یم فل ا و ر پی ا یچ ڈی یو نیو ر سٹی آف ا یجو کشن لا ہو ر سے کیا۔ کیو ن میر ی میںمیں ڈ یبا ٹنگ سو سا ئٹی کی صد ر ا و ر سیکر ٹر ی ر ہی ہو ں ۔ مختلف ر یڈ یو پر و گر ا م بھی کیے ہیں۔ زما نہ طا لب علمی میں آل پنجا ب لیو ل پر کئی سر گر میو ں میں حصہ لیا ا ور ا سی د و ر میں شاعر ی بھی شر و ع کر د ی تھی، شا عر ی ا نسا ن کے ا ند ر و نی خیا لا ت ہو تے ہیں جو کہ مخصو ص عمر نہیں ما نگتے۔ میں نے پہلی نظم نو یں جما عت میں لکھی ا و ر میں نظر یہ پا کستا ن میں بھی مقا بلے کے لیے نظم ا و ر مضمو ن د و نو ں بھیجا کر تی تھی جس پر کئی با ر ا نعا ما ت بھی ملے۔میرا تعلق کسی ادبی گھرانے سے نہیں رہا لیکن بچپن سے ہی گھر میں ہر قسم کے رسائل آتے تھے ۔میرے والد شاعری کا بہت عمدہ ذوق رکھتے ہیں ۔اچھے اشعار پڑھتے ہیں اور بے شمار اساتذہ کا کلام ان کو یاد ہے۔مجھے بچپن سےہی ناول ،افسانے اور شاعری کا شوق رہاہے ۔ میں خود سے بنا کر شعر لکھ دیا کرتی تھی۔

سوال:۔ ا پنا کو ئی پہلا شعریا د ہے یا کو ئی ا ور پسند ید ہ شعر سنا دیجئے؟
جواب:۔ ا نسا ن کا پہلا شعر تو تقر یبا بچگا نہ قسم کا ہی ہو تا ہے جو کہ مجھے یا د بھی نہیں ہے میں و یسے ا پنا ایک پسند ید ہ شعر سنا د یتی ہو ں۔
ّ آد ھی با ت کہی تھی میں نے ا س نے سمجھا پو ر ی تھی
ا س نے مجھ سے ہا تھ ملا یا میر ی بھی مجبو ر ی تھی
ہا تھ نکا لا د ل کو ڈھو نڈا د ھڑ کن کتنی با قی ہے
د ھڑ کن د ل کی ز ند ہ تھی پر خستہ زار ا د ھو ر ی تھی
اور آج بھی د ل میں چبھتی ہیں جو با تیں اس سے کہنا تھی
ہو گا د ا نش و ہ لیکن میر ی با ت ضر و ر ی تھی

سوال:۔ آپ نے کب یہ محسوس کیا کہ آپ کے وجود میں شعر گوئی کے اکھوے پھوٹ رہے ہیں؟
جواب:۔شعر گو ئی کے سو تے ا ند ر سے ہو تے ہیں ۔ اس کے لیے بیج د ر کا ر نہیں ہو تا ۔ مجھے قلم پکڑ نے کے سا تھ لکھنا آ تا گیا نثر ا و ر پھر شا عر ی کی طر ف سفر جا ر ی ہو ا ۔

سوال:۔ سب سے پہلاشعر یا مصرعہ آپ کو یاد ہوتو سنایئے؟
جواب:۔سب سے پہلا شعر یاد نہیں بہت بچپن میں کہا تھا ۔جیسا میں نے کہا میں چھوٹا سا خیال بھی شعر میں ڈھال لیتی تھی ۔کوئی مضمون لکھنا ہوتا یا تقریر اس میں اشعار کی صورت میری تخلیق ہوتی تھی۔

سوال :۔ شعری سفر کے ارتقاء میں آپ کے آس پاس جو شعری آوازیں تھیں کچھ ان کے بارے میں بتایئے۔ جن سے آپ کی شعری صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملی تھی؟
جواب:۔اردگرد کی آوازوں سے زیادہ ۔میر، درد ،غالب،اقبال، سے متاثر ہوں ۔بچپن میں فانی ،عبدالرحیم زاہد اور مصطفے زیدی کو پڑھا جس سے ایک بغاوت بھی میرے مزاج کا حصہ رہی۔

سوال:۔ ابتدائی ماہ و سال کے شعری سفر میں آپ کا اولین سامع و ناقد کون ہوتا ہے؟
جواب:۔ابتدائی سامع اور ناقد میرے والدین رہے ۔ہر تحریر لکھ کر میں امی کو سناتی تھی ۔پھر ابو کو ان کی حوصلہ افزائی بہت زیادہ رہی۔

سوال:۔ سب سے پہلی غزل کب اور کس رسالے میںشائع ہوئی تھی ۔اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے تھے؟
جواب:۔میں کالج میں تھی جب شائع ہوئی ۔۔ مجھے لکھنا یا چھپنے سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔

سوال:۔ ابتدائی دور کی شاعری کے موضوعات کیا تھے؟
جواب:۔چھوٹے چھوٹے شکوے ،معاشرتی نا انصافی ہی موضوعات رہے۔

سوال:۔ شاعری پر اصلاح کا خیال کب اور کس طرح آیا؟
جواب:۔میں ابو کے ایک دوست جو خود بھی بہت اچھے شاعر تھے ۔ولی کرنالی ان کو دکھاتی تھی ۔

سوال:۔ فی زمانہ استادی شاگردی کی روایت کو اس افواہ کی دیمک چاٹ رہی ہے کہ عموماً شاعرات ، دوسروں سے کلام خرید کر مشاعروں میں پڑھتی ہیں اور پھر وہ سارا کلام شائع بھی کروادیتی ہیں، کیا آپ کے ساتھ بھی افواہ کی اس پھپھوندنے حملہ کیا تھا؟
جواب:۔میں یہ سمجھنے سے قا صر ہو ں کہ شا عر ی کو ئی کا ر و با ر نہیں ہے جس میں بر ا ٓمد و د ر آ مد کا سلسلہ منا فع بخش ہو ۔ جن کو لکھنا نہیں آ تا و ہ کیو ں لکھنا چا ہتے ہیں وہ پڑھنے پر تو جہ کیو ں نہیں کر تے ۔

سوال :۔ آپ کے استاد کا طریقۂ اصلاح کیا ہے؟ کیا آپ اس سے مطمئن ہوجاتی ہیں یا استفارات بھی کرتی ہیں؟
جواب:۔مجھے یہ خیا ل کبھی نہیں آ تا ا س کے لیے میں عبد ا للہ خا لد کی ا حسا ن مند ہو ں ۔

سوال:۔ شعر گوئی کے لئے کوئی خاص وقت طے ہے ؟
جواب:۔نہیں خو د ہی و ہ لمحہ آ جا تا ہے۔کو ئی د ر کھلتا ہے ا ور بند ہو نے سے پہلے کچھ سو غا ت سمیٹ تاہے۔

سوال:۔ آپ اپنی غزلوں میں تانیثی تخاطب کو اہمیت دیتی ہیں ، یا غزل کی صدیوں صدی روایت کے مطابق تذکیر ی لہجہ اختیار کرتی ہیں؟
جواب:۔آ پ ا ظہا ر کے لیے ملمع سا ز ی نہیں کر سکتے ۔ یہ فن کا ر کی ا ناکے لیےتا ز با نہ ہے ۔ د ل سے جو با ت نکلتی ہے ا ثر ر کھتی ہے۔ سو د ل میں جو آ تا ہے لکھ لیتی ہو ں ۔

سوال :۔ اردو کی عالمی نسائی شاعری میں آپ کی پسندیدہ شاعرات اور ان کی شاعری سے اپنی پسند کے کچھ منتخب شعر سنایئے؟
جواب:۔پر و ین شا کر ، ا د ا جعفر ی ،امرتاپریتم ، نسر ین ا نجم ، نسر ین ا نجم کی تا نبے کی عو ر ت ا و ر پنجا بی نظمیں پسند ہیں۔

٭پر و ین شا کر
اب کہ ہو ا کے سا تھ ہے د ا من یا ر منتظر
با نو ئے شب کے ہا تھ میں ر کھنا سنبھا ل کر د یا

د ل عجب شہر کہ جس پہ بھی کھلا د ر ا س کا
و ہ سا خر ہر سمت سے ا سے بر با د کر ے

٭ا دا جعفر ی
د ل کے و یر ا نے میں گھو م تو بھٹک جا ئوگے
ر و نق کوچہ و بازا ر سے آ گے نہ بڑھو

سوال:۔ جب آپ تنہا ہوتی ہیں تو کیا کرتی ہیں؟
جواب:۔تنہا ئی میر ے لیے نعمت ہے ۔ تنہا ئی و ہ ر ا بطہ ہے جس کی طلب میں ر و ح بے قر ا ر ر ہتی ہے ۔مجھے یہ لمحہ بہت پسند ہے ا س عمل میں ر و ح پر چھینٹے پڑ نے سے بہت تسکین ہو تی ہے ۔

سوال:۔ ا فسا نو ی ا د ب میں ا کثر ا ختتا م پر تجسس کیو ںہوتاہے ؟
جواب:۔ ہر کسی کا لکھنے کا ا پنا اپنا مزاج ہو تا ہے مگر بہت سے ا فسا نے پر تجسس نہیں ہو تا جیسے منٹوکے افسانوں میں آغا ز ا و ربا قا عد ہ ا ختتا م ہو تا ہے جو کہ ا خلاقی سبق سیکھا تی ہے۔

سوال:۔ ا نسا نی شخصیت پر ا د ب کا کتنا ا ثر ہو تا ہے ؟
جواب:۔ ا خلا قی سبق و الے ا فسا نو ں کا ا نسا ن کی ز ند گی پر ا ثر پڑ تا ہے جیسے پر یم چند کے ا فسا نے جو کہ ز یا د ہ تر ا خلا قی سبق سیکھا تے ہیں مثلاً چڑیا ا و ر کو ے کی کہا نی۔

سوال:۔ آ پ پر کس شخصیت کا سب سے ز یا د ہ ا ثر ہو ا ہے ؟
جواب:۔ شا عر و ں کا ا ثر نہیں ہو تا ان کے کلا م، خیا لا ت کا ہو تا ہے۔ فکری سطح پر میں سب سے ز یا د ہ ا قبا ل سے متا ثر ہو ں۔

سوال:۔ خا ند ا ن میں کسی ا و ر کو بھی ا د ب سے لگا و ہے؟
جواب:۔ میر ے و ا لد بشیر ا حمد کو شا عر ی کا ذو ق ہے میں ا پنی ہر نئی چیز پہلے ا پنے ا بو جی کو سنا تی ہو ں ا ور ا ن کو بھی شعر ا تنے ز با نی یا د ہیں کہ مجھے ا تنے شعر یا د نہیں ہو تے ذو ق ، غا لب ا و ر د و سر ے شا عر ا ن کو کا فی حد تک یا د ہیں۔

سوال:۔آ پ کتنے بہن بھا ئی ہیں اور کیا ا ن میں بھی شا عر ی کا شو ق ہے ؟
جواب:۔ ہم آٹھ بہن بھا ئی ہیں ا و ر میں سب سے بڑ ی ہو ں ۔ بہن بھا ئیو ں میںکو ئی خا ص شو ق نہیں ہے۔

سوال:۔بچوں میں ا س حو ا لے سے کو ئی شو ق ہے؟
جواب:۔ میر ی بیٹی ا نگر یز ی میں شا عری کر تی ہے۔

سوال:۔ کس قسم کی شا عری آپ کو بہت زیادہ پسند ہے؟
جواب:۔ ہر قسم کی جو ا چھی ہو جو عشق حقیقی کی طر ف جا تی ہے ۔ ا نسا ن کے ا ند ر عشق مجا ز ی بھی ہو تا ہے ٹو ٹا ہو ا دل ہی حقیقی عشق کی طر ف جا تاہے۔ جب کو ئی ا و ر ر ا ستہ نظر نہیں آتا تب ا نسا ن کو ا یک ہی را ستہ نظر آ تا ہے ا و ر و ہ پھر ا سی ر ا ستے کی طر ف چلتا ہے۔ میر ی غز ل کے کچھ شعر،
ا ک ا دا ئے خو شنما ز نجیر کیسے ہو گئی
رو شنی کی زلفیں د لگیر کیسے ہو گئی
میر ے ا للہ تجھ کو مجھ پہ پیا ر کتنا آ گیا
ا ک ز ر ا سی آہ میں تا ثیر کیسے ہو گئی

اسی طر ز کا ایک ا و ر شعر،

دل سمجھنے سے ہے قا صر ا ک جد ائی کی خبر
مسئلہ کیو ں بن گئی گمبیر کیسے ہو گئی

ا یک ا و ر ،
و ہ لمحہ خا ص تھا کو ئی مجھے ا تر ا ک ہو نا تھا
خا ک سے نسبت مجھے بھی خا ک ہو نا تھا

سوال:۔کیا شا عر ی کے لیے عشق کا ہو نا ضر و ر ی ہو تا ہے؟
جواب:۔ د ل میں گو د ا س کا ہو نا ضر و ر ی ہو تا ہے یا تو آ پ کا حد سے ز یا د ہ حسا س ہو نا ۔ شا عر ی آپ بیتی نہیں ہو تی ۔

سوال:۔آ پ کو بچپن میں کیا بننے کا شو ق تھا؟
جواب:۔ ا یئر ہو سٹس ۔

سوال:۔مگر آپ تو ا پنے شو ق سے بالکل متضا د پر آ گئیںایساکیو ں ؟
جواب:۔ میر ے خیا ل سے ا نسا ن کے لیے سب بہتر ہی ہو تا ہے۔ شا ید میں وہ کا م ا تنا ا چھا نہ کر پا تی ا و ر میرا د ل ا س کا م میں اتنا نہ لگتا جتنا یہا ں لگ گیا ہے۔

سوال:۔آ پ کو کھا نے میں کیا پسند ہے؟
جواب:۔ مچھلی ۔

سوال:۔نئے قلم کار خواتین کیلئے آپ کا ادبی پیغام کیا ہے؟
جواب:۔لکھنے کے لیےمطا لعہ ا ز حد ضر و ر ی ہے .
نا لہ ہے بلبل شو ر ید ہ نر ا خا م ا بھی
ا پنے سینے میں ا سے ا و ر ذر ا یھا م ا بھی

سوال:۔ سہ ماہی عالمی اردو ادب کے قارئین کے لئے کوئی پیغام؟
جواب:۔ا د ب کا کا م تحمل ،بر دا شت ، مسا و ا ت ا و ر حقو ق و فرا ئض کے تو ا ز ن کو فر و غ د یتا ہے ۔ یہی ا د ب کی ا علیٰ ا قد ا ر ہیں ا و ر یہی ا س کی تر و یح کا معیا ر۔
دل کی آ زا د ی شہنشا ہی،شکم سامان موت
فیصلہ تر ا تر ے ہا تھو ں میں ہے د ل یا شکم

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus