Home / خبریں / استاد، محقق اور معرف کالم نگار ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی سے ربیعہ علی فریدی کی گفتگو

استاد، محقق اور معرف کالم نگار ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی سے ربیعہ علی فریدی کی گفتگو

20770279_1631752826848692_4901699363332667217_n
٭ ربیعہ علی فریدی

8170c533-eb8e-4883-8546-20b9509b6141

رئیس احمد صمدانی صاحب اپنی منفرد شخصیت کہ باعث نا صرف ادبی بلکہ لائبر یری سائنس کہ حلقہ میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ۷ اگست کی شام میری صمدانی صاحب سے فون پر گفتگو ہوئی اور انٹرویو کا وقت اور جگہ طے پائی، ۸ اگست کی شام ۵ بجے ہم نے وفاقی اردو یونیورسٹی کی لائبر یری میں نشست رکھی ، ٹھیک ۵ بجے صمدانی صاحب اپنی گاڑی سے اترے، وہی باوقار انداز اور چہرے پر سنجیدگی کہ ساتھ اطمینان کا تاثر جو ان کی شخصیت کا خاصہ ہے ۔ مختصر یہ کہ ہم جا معہ اردو میں ہونے والے الیکشن کی وجہ سے وہاں نہ بیٹھ سکے اور جا معہ کراچی کی جانب چل دیے۔انٹرویو کا آغاز چائے کہ کپ کہ ساتھ ھوا۔
صدائے لائبر یرین : سر اپنی ابتدائی تعلیم اور زندگی کے بارے میں بتائیں۔
صمدانی صاحب :میرے پرکھوں کی زمیں راجستھا ن تھی اس حوالے سے میں بنیادی طور پر راجستھا نی یا راجپوت ہوں۔
بعد میں ہمارے بزرگوں نے ہندوستان کے ضلع مظفر نگر (یوپی)کے قصبے حسین پور کو آباد کیا۔مظفر نگر ایک ایسی مردم خیز سر زمیں ہے جس نے علماء دین ،صوفیاء کرام اور فقہاء اسلام کو جنم دیا۔اہلِ علم و دانش کی ایک بڑی جماعت پیدا کی ،ان شخصیات میں بعض احباب کے نام فخر سے لئے جا سکتے ہیں۔میرے خاندان میں اکثر احباب تدریس اور شاعری سے شغف رکھتے ہیں،صاحب ِدیوان شاعر بھی ہیں اور بے دیوان شاعر بھی،میں شعر گڑھ لیتا ہوں،شاعری میرے خمیر میں تو ہے لیکن تاحال با قاعدہ شاعری نہیں کی ،اپنے موضوع پر لکھنے سے فرصت ہی نہیں ملی،البتہ موقع محل یا ضرورت کے لئے شعر کہ لیتا ہوں۔
میرے خا ندان میں ادب سے تعلق کا سلسلہ اللہ کے فضل سے کئی پشتوں سے جاری ہے، ادب سے وابستگی میرے خاندان کا طرّ ہ امتیاز رہا ہے۔میں پنجاب کے ایک دیہات نما شہر( میلسی) میں اپنے ماموں جناب محبوب احمد سبزواری کے گھر پیدا ہوا، میں اپنے والدین کی پہلی اولاد تھا اپنی داد کا پہلا پوتا یہی وجہ تھی کہ میری آمد پر میرے چاہنے والوں نے کان لگائے ہوئے تھے۔بچپن میں خاموش طبع تھا، مجال ہے کہ کسی کے سامنے کوئی بات کر لوں، مجھے گونگے شاہ کا خطاب بھی ملا ہوا تھا۔ میرا سرکاری اسکول کراچی میں پی اے ایف ماری پور، اب اسیـ( بیس مسرور کہتے ہیں) کے کیمپ نمبر ۲ میں تھا۔اسکول کا ماحول صاف ستھرا نیم فوجیانہ تھا،1965ء کی پاک بھارت جنگ ہوئی تو میں 9thکلاس میں تھا، ایوب خان کی تاریخی تقریر دشمن نے کس کو للکارا ہے ہم نے اپنے اسکول کے ھیڈ ماسٹر کے آفس کے ریڈیو میں سنی تھی۔ایف ایس سی سندھ مسلم کالج سے کیا ، بی اے عبد اللہ ہارون کالج سے کیا ،یہا ں ہمارے پرنسپل فیض احمد فیضؔ صاحب تھے۔ گریجویشن کے بعد اکنامکس میں ماسٹر کرنے جامع کراچی کی دہلیز پر قدم رکھا اکنامکس میں ماسٹر کر کے بینکر بننے کا خواب دیکھ ررہا تھا لیکن لائبریری سائنس کے شعبے میں داخل کر لئے گئے، شادی کے دس سال بعد ایک ایم اے علم سیاسیات میں کر ڈالا ،اب ہم اس چکر میں رہے کہ کسی طرح پی ایچ ڈی کرنے کا موقع مل جائے، یہاں آکر ہمارے دوستوں نے ہری جھنڈی دکھا دی۔لیکن ہم نے بھی ہمت نہیں ہاری بالآخر 2003نے دستک دی، ہمارا ہمدرد یونیورسٹی جانا ہوا ہی کرتا تھا ،بیت الحکمہ (ہمدرد لائیبریری کے ڈائریکٹر پروفیسر حکیم نعیم الدین زبیری جو ہمدرد انسٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر اور جامعہ ہمدرد کے لائف پروفیسر بھی تھے ایک دن ان سے تحقیق پر گفتگو ہوئی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ پی ایچ ڈی سے کم بات نہیں ہوگی یعنی ایم فِل نہیں کروں گا ،انھوں نے میری بات سے اتفاق کیا اور Synopsisتیا ر کرنے کو کہا ۔پھر کیا تھا ،دن رات لگا کر خاکہ تیار کیا اور ان کے پاس لے گیا، انھوں نے معمولی سی چانٹ کانٹ کی اور پی ایچ ڈی کا پہلا پتھر رکھ دیا گیا جون2003ء میں کام شروع کر دیا گیا ،2006ء میں تھیسس جمع کروایا ،مارچ 2009ء میں میری ریٹائرمنٹ ہوئی اور اسی سال پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
صدائے لائبریرین : لائبریرین شپ کی طرف کیسے آئے۔
جیسا کہ میں نے کہا کہ میں معاشیات میں ماسٹر کرنے کی خواہش رکھتا تھا لیکن جامعہ کراچی گیا تو وہاں لائبریری سائنس کے ڈاکٹراستاد غنی الا کرم سبزواری صاحب سے ملاقات ہوئی انہوں نے لائبریری سائنس کی ایسی تصویر کشی کی کہ ہم کنوینس ہوگئے اور داخلہ ہوگیا۔
صدائے لائبریرین : اپنے پروفیشنل کیرئیر کے بارے میں کچھ بتائیں۔
میرا کیریئر بطور لائبریرین شپ ایم اے کا نتیجہ آنے سے قبل ہی شروع ہوگیا تھا وہ اس طرح کہ پہلے ناتھ ناظم آباد میں ایک ایک اسلامک سینٹر کی لائبریری پھر حکیم محمد سعید شہید کی لائبریری جو ان کے گھر سے ناظم آباد منتقل ہورہی تھی اس کی کتابوں کی درجہ بندی اور کیٹلاگ سازی کے کام میں ایک ٹیم کا حصہ بن گیا، ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ حکومت سندھ محکمہ تعلیم سے بلاوا آگیا اور ہم نے لائبریرین کی حیثیت سے پہلے گورنمنٹ کالج آف فزیکل ایجوکیشن ، گورنمنٹ پریمیئر کالج اور پھر حاجی عبدا للہ ہارون گورنمنٹ کالج میں 23سال گزارے اور پر گورنمنٹ کالج فار مین ناظم آبادمیں بارہ سال گزارنے کے بعد ریٹائر ہوگئے۔اس دوران پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ لکھنا ہمارا محبوب مشغلہ تھا وہ جاری رہا ، لکھتے رہے اور چھپتے رہے۔ کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد سرگودھا یونیورسٹی سے ایسو سی ایٹ پروفیسر کی آفر ہوئی ، ہم وہاں پہنچ گئے، اچھا تجربہ رہا ، وہاں سے فارغ ہوکر سعودی عرب میں کچھ وقت گزارا ، واپس ہوئے تو لاہور کی منہاج یوینورسٹی کی جانب سے لائبریری سائنس کے شعبہ کے قیام میں کردار کی پیش کش ہوئی جو ہم نے قبول کر لی، بانی چیئرمین اور ساتھ ہی پروفیسر شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، منہاج یونیوورسٹی رہا، اسکول آف لائبریرین شپ ، پاکستان ببلوگرافیکل ورکنگ گروپ(حال)کا ڈائیریکٹر ہوں ،علا مہ اقبال اوپن یونیوورسٹی میں ۲۰۰۱ء سے تا حال تدریسی سرگرمیا ں جاری ہیں، اس کے علاوہ جذ وقتی ٹیچر شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، جا معہ کراچی ڈاکٹر محمود حسین لائبریری سمیت مختلف اداروں میں خدمات انجام دیں۔
صدائے لائبریرین : اپنی تحقیقی سر گرمیوں پر روشنی ڈالیں۔
لکھنا اور چھپنا بھی ایک طرح کا نشہ ہوتا ہے جس کو لگ جاتا ہے اس سے آزاد نہیں ہوتا، میں بعض لکھاریوں کی طرح ہر چیز ایک ہی نشست میں لکھنے کا عادی نہیں بلکہ لکھنے کے معاملے میں قدرے مختلف واقع ہوا ہوں، جب سے کمپیوٹر سیکھ لیا اور انگریزی لکھنا شروع کردی تو قلم ہاتھ سے جاتا رہا اور اب ایک فولڈر میں کئی کئی موضوعات کی فائلز بنی ہوتی ہیں۔لکھنا کب شروع کیا یقین سے نہیں کہہ سکتا ، جامعہ کراچی میں ایم اے کرنے کے دوران باقاعدہ لکھنے کی جانب رغبت ہوئی۱۹۷۵ء میں میری پہلی کتاب شائع ہوئی، یہ میرا ایم اے کا مقالہ تھا ۔۱۹۷۷ء کتب خانوں کی تاریخ پر دوسری کتاب شائع ہوئی، پہلا مضمون اسلامی کتب خانوں کے بارے میں تھا جو کراچی کے ایک ماہ نامہ ترجما ن میں جنوری۱۹۷۸ء میں شائع ہوا۔سوانح مضامین لکھنے کی ابتداء بھی ۱۹۷۸ء سے ہوئی ، پہلا سوانحی مضمون خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہُ پر تھا جو ما ہنامہ ترجما ن کی اگست ۱۹۷۸ء کی اشاعت میں شامل ہوا۔سوانحی مضامین سے میں خاکوں اور رپو تاژ کی طرف آیا ۔ ان میں سے متعدد میری کتاب’ یادوں کی مالا ‘میں بھی شامل ہے اسی سال اپنے جد امجد شیخ محمد ابرہیم آذاد پر میرا مضمون قصور سے شائع ہونے والے رسالے انوار الصوفیاء مین شائع ہوا۔۱۹۷۸ء ہی میں لائبریری سائنس کے موضوع پر پہلا مضمون پاکستان لائبریری بولیٹن میں شائع ہوا، میری کتابوں کی تعداد ۳۳ہو چکی ہے جب کہ ۳۰۰سے زیادہ مضا مین شائع ہو چکے ہیں میری اولین کاوش ۱۹۷۵میں منظر عام پر آئی تھی اس طرح میرا قلمی سفر ۴۲سالوں پر محیط ہے۔
صدائے لائبریرین : ایل آئی ایس کے نصاب کو موجو دہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کیا کیا جانا چاہئیے۔
نصاب کا تعلق HECسے ہے ،ایل آئی ایس کی بھی کمیٹی ہے جس میں مختلف شعبہ جات کے پروفیسرز ممبرز کی کمیٹی تین یا چار سال میں ٰ نظر ثانی کرتی ہے، فیکلٹی ممبرز کو چاہیئے کہ ترقی یافتہ ممالک کو سامنے رکھیں، کمپیوٹر نے لائبریری کی تعریف بدل دی ہے، لائبریری در و دیوار سے آزاد ہو گئی اور یہ ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے، آئی ٹی اور سوفٹ وئیر کے حوالے سے تربیت کی ضرورت ہے۔ نصاب میں تبدیل کی ضرورت کے ساتھ ساتھ فیکلٹی میں بھی تبدیلی آنی چاہئیے ، کرنٹ ایجوکیشن کے حامل لوگوں کو اپلائی کرنا چایئے تاکہ مجھ جیسے روایتی لائبریرین بھی ان سے کچھ سیکھ سکیں۔
صدائے لائبریرین : جدید لائبریرین کو کس قسم کے حالات کا سامنا ہے۔
اب ماسٹرز کوئی نہیں پوچھتا، آج کے لائبریرین کو اپ ڈیٹ ہونے کی ضرورت ہے روایتی لائبریرین کے لئے ملازمت کے دروازے بند ہیں، آئی ٹی کی تربیت کی ضرورت ہے ساتھ ہی صورت حال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔لائبریرینز کو چاہیے کہ وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کی سعی کرتے رہیں ، جب اور جہاں سے یہ سہولت حاصل ہوجائے اسے ضرور اویل کرنے کی کوشش کریں۔
صدائے لائبریرین : پاکستانی لائبریرین کو بین الاقوامی تناظر میں کہاں پر دیکھتے ہیں۔؟
موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ،حکمرانوں کو لائبریریز کی طرف توجہ دینا چاہیئے، تعلیم کا بجٹ دیکھ لیں جب تک صحیح بجٹ نہیں ملے گا لائبریریز جدت کی طرف نہیں بڑھیں گی۔ ترقی یافتہ ممالک سے ہم اپنے آپ کو کمپئر نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لائبریری کا حال برا ہو تا چلا جاتا ہے ، کالج کی لائبریرز کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے،ہماری پروفیشن کی آج تک وہ رسپیکٹ نہیں ہو سکی جو کہ ہونی چاہیے تھی۔پڑھے لکھے لوگ سمجھتے ہیں کہ لائبریرین کا کام صرف کتاب لینا اور دینا ہے جبکہ لائبریرین اس کام سے بہت آگے جا چکا ہے، اور اس میں بہتری اپنی سروسز سے لائی جا سکتی ہیں۔
صدائے لائبریرین : پی ایل اے کبھی لائبریرین کی نمائند گی کر سکے گی۔
پی ایل کے حوالے سے مثبت سوچ کا حامل ہوں ،پی ایل اے ماضی میں کام کرتی تھی ، ابھی بھی کرتی ہے اور کرتی رہے گی، ہم بد دل ہو جاتے ہیں ہم پی ایل اے کے بجائے، ای پی ایل اے بنا دینگے، نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے کام تو ہم نے ہی کرنا ہے۔اس پروفیشن کا ہر شخص اپنی نمائندہ تنظیم سمجھے، یہ پروفیشن کی خدمت خلق ہے، جب پی ایل اے کام نہیں کرتی، تو ہم منفی سوچنے لگ جاتے ہیں اگر ہم ماضی میں نظر ڈالیں تو پی ایل اے کی اولین کانفرنس کی صدارت صدرِ پاکستا ن نے کی تھی، گورنر آتے تھے ہر دور میں تبدیلی آتی گئی پی ایل اے ہماری نمایندہ جماعت ہے چاہے ہم اس کے ممبرز ہوں یا نہ ہوں۔پی ایل اے لئے بھی مشورہ دوں گا کہ آمدنی کے ذرائع پیدا کریں ہر Alumniکو پی ایل کا ممبر ہونا چاہیئے۔میں نے ہمیشہ پی ایل کا ساتھ دیا ہے، ہمیں امید اچھی رکھنی چاہئیے۔میں پی ایل کا لائف ممبر تو ہوں ہی ساتھ ہی پی ایل اے سندھ کا سیکریٹر پھر اس کا صدر بھی رہا۔ بساط بھر پروفیشن کے لیے پی ایل اے کے پلیٹ فارم سے کچھ نہ کچھ کرنے کی سعی کرتارہا ہوں۔
صدائے لائبریرین : آپ کے ذاتی کتب خانے میں کس قسم کی کتابیں ہیں۔
کتابوں سے محبت اور انھیں سلیقے سے رکھنے کی عادت شروع ہی سے ہے ،ذاتی لائبریری کئی ہزار کتابوں پر مشتمل تھی بڑھتی عمر اور اپنے ہی جیسوں کو جو کتابوں کو جمع کرنے کے شایقین تھے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی لائبریز کا کیا انجام ہوا میں اس سے خوف زدہ رہنے لگا تھا چنانچہ فیصلہ کیا کہ اپنی زندگی میں اپنی لائبریری کسی بہتر لائبریری میں محفوظ کر جاؤں، چنانچہ چند سو کتابیں گلبرگ میں قائم ناصر عارف حسین میموریل لائبریری و ریسرچ سینٹر کو ، کچھ کتابیں ڈاکٹر یوسف میمن لائبریری میر پور خاص اور باقی تمام کتابیں وفاقی جامعہ اردو کی لائبریری’ ڈاکٹر مولوی عبد الحق میموریل لائبریری گلشن اقبال کیمپس کو عطیہ کردی، اب میرے ذاتی زخیرے میں وہی کتابیں ہیں جن موضوعات پر میں لکھ رہا ہوں جیسے شخصیات، خاکہ نگاری اور کچھ شعراء کے کلام۔
صدائے لائبریرین :عموماً دیکھا گیا ہے کہ لائبریرین کو مطالعے کی عادت نہیں ہوتی ایسا کیوں ہے ۔
مطالعے کا تعلق ماحول سے اور خاندان سے ہوتا ہے،لائبریرین کو کم از کم اپنے مضمون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہم عام طور پر اپنی موضوع پر جدید تحقیق سے آشنا نہیں ہوتے، اس کی وجہ ہماری مطالعہ نہ کرنے کی عادت ہے۔
صدائے لائبریرین : نئے پروفیشنلز کو انٹرویو کے ھوالے سے کوئی نصیحت کرنا چاہیں گے۔
اپنے مضمون میں اپ ڈیٹ رہیں اور یہ کہ مطالعے کی عادت اپنا ئیں۔جس پروفیشن نے آپ کو سب کچھ دیا وہ پروفیشن بھی اب آپ سے کچھ طلب کررہا ہے اسے جو کچھ بھی دے سکتے ہیں دیں، اگر کچھ نہیں کرسکتے توقومی انجمن پی ایل اے کی رکنیت جاری رکھیں، یہ بھی پروفیشن کی خدمات ہے ، یہ مت سوچیں کے پی ایل اے یا کوئی اور انجمن آپ کو کیا رے رہی ہے۔
صدائے لائبریرین :تحاریر میں تبدیلی کی کیا وجوہات ہیں؟ فیلڈ سے ہٹ کر لکھنے کی طرف رجحان کیسے پیدا ہوا؟
جیسا کے میں نے بتایا کے ادبی بیک گراونڈ ہونے کی وجہ سے لکھنے کی طرف رجحان ہمیشہ سے رہا، مجھے لگتا ہے کے لائبریری سا ئنس نے اس لکھاری کو ہا ئی جیک کر لیا تھا، لکھنے کا عمل بہتے پانی کی طرح ہوتا ہے جو اپنا رستہ خود بناتا ہے،لائبریری سا ئنس کی کو ئی شخصیت ایسی نہیں جس پر میں نے نہ لکھا ہو،ادب پھر خاکہ نگاری، ادبی موضوعات پھر شاعری۔ اب میرے لکھنے کا رجحان زیادہ تر حالات حاضرہ اور ملک کی سیاسی صورت حال ہے۔میں ہماری ویب رائیٹرز کلب کا صدر ہوں۔ ہماری ویب پر میرے 400 سے زیادہ مضامین اور کالم آن لائن ہیں۔ لکھنے کا یہ سلسلہ جارہ ہے۔
صدائے لائبریرین نکلنا شروع ہو تو میں اس کے ابتدائی لکھنے والوں میں سے ہوں ۔ پھر دیگر موضوعات پر لکھنے کی مصروفیات بڑھ گئیں تو صدائے لائبریرین پر ’’کراچی کی فضاؤں ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھ کے سلسلے میں تعطل آگیا۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ اب دوسروں کو بھی موقع ملنا چاہیے کہ وہ بھی لکھیں۔ اب جو مضمون بھی پروفیشنل موضوع پر ہوتا ہے وہ صدائے لائبریرین کو بھج دیتا ہوں۔ آپ نے اس پلیٹ فارم سے انٹر کے لیے کہا تو مجھے اس بات کی خوشی نہیں تھی کہ میرا انٹر ویو کرنا ہے خوشی اس بات کی تھی کے کراچی کی ایک ٹیلنٹڈ پروفیشنل رابعہ فریدی صدائے لائبریرین سے وابستہ ہوگئی ہے ۔ میرا آپ کو مشورہ یہی ہوگا کہ آپ اس ادارے سے منسلک رہیں اور انٹر ویوز کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ موضوعات پر لکھنا بھی شروع کریں۔
ابھی حال ہی میں میرے دوست عبد الصمد انصاری اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ میں نے ان پر ایک تفصیلی مضمون لکھا اور دیگر جگہ چھپا وہ میں نے صدائے لائبریرین کو بھی بھیجا جس پر اشرف شکوری صاحب نے مجھے صدائے لائبریرین میں واپسی پر خوش آمدید کہا میں نے انہیں بھی یہی لکھاکہ میں نے صدائے لائبریرین کو خیر باد کب کہا، دیگر مصروفیات بڑھ گئیںاس وجہ سے یہاں لکھنے کا سلسلہ رک گیا ، جب بھی کسی پروفیشنل موضوع پر لکھوں گا آپ کو ضرور بھیجوں گا۔
صدائے لائبریرین:ـ ہمارے قارین کے لیے کو ئی پیغام دینا چاہیں گے؟
کوشش کریں جہاں پر بھی ہیں لائبریری خدمات میں بہتری لائیں، لائبریرین کی ڈکشنیری میں لفظ ـ(ـنو) نہیں ہے ، ہمیں ہمارے استادوں نے یہی بتا یا تھا، اس پر عمل بھی ہونا چاہیے۔ جو کچھ پڑھ اور سیکھ کر آرہے ہیں اسے استعما ل بھی کریں۔
اسی کہ ساتھ ہم نے گفتگو کا اختتام کیا اور صمدانی صاحب سے رکویسٹ کی کہ کچھ تصاویر ہمارے ساتھ کھینچوایں۔ اپنی دھیمی سی مسکراہٹ کہ ساتھ کچھ یا دیں ان تصاویر میں سمیٹے اس خوبصورت ملاقات ا اختتام ہوا۔
سہ ماہی صدائے لائبریرین کے شکریہ کے ساتھ۔

ce5b5013-d2eb-403a-a548-33a7730361cc

About ایڈمن

One comment

  1. اچھا انٹرویو — ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے نئے پہلوؤں سے آگاہی ہوئی
    بحوالہ
    ” لائبریری سا ئنس نے اس لکھاری کو ہا ئی جیک کر لیا تھا،”

    یہ حالات تقریباً ہر اس فرد کو پیش آتے ہیں جس کا ذہن اندر سے لکھاری ہو لیکن ذریعہ معاش ایسا ہو جس کا لکھنے سے تعلق نہ ہو – اور پھر کئی مرتبہ مصروفیات ہی ایسی ہوتی ہیں کہ کہ اپنے اس شوق کو تھوڑا سا نظر انداز ہی کرنا پڑتا ہے – یہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا – شوق اپنی جگہ لیکن معاش کی مجبوریان اپنی جگہ – مں نے معاش کو شوق پر ترجیح دینا بہتر سمجھا – لیکن یہ اللہ کا کرم ہی تھا کہ ذریعہ معاش کا ادارہ بڑا تھا سو ان کا میگزین بھی نکلا کرتا تھا – اس میں اپنے شوق کی تکمیل کرتا اور ادارے والے بھی خوش تھے کہ ان کے میگزین کے لئے ایک اچھا ساتھی مل گیا ہے
    لائبریری کے حوالے سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرے ایک دوست تھے انہوں نے پاکستان کی کئی بڑی بڑی لائبریریوں کا جائزہ لینےکے بعد کہا تھا کہ جو بات
    ‘مدینہ الحکمت ‘ کی لائبریری میں وہ دوسری لائبریریوں میں نہیں – ان کا کہنا تھا کہ مدینہ الحکمت والے وہ تمام مضامیں جو کسی خاص موضوع پر مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں ان کے جمع کر نے کا الگ انتظام کرتے ہیں
    میرے یہ دوست سچے پاکستانی تھے – ان کی وطن سے محبت کے کے بارے میں ایک مضمون بھی لکھا تھا

    http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=94448

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus