Home / خبریں / جے این یو کو ایک بار پھر لال سلام !

جے این یو کو ایک بار پھر لال سلام !

16002819_1215344235207783_8965461199905452985_n

٭سلمان عبدالصمد

JNUSU-2017-Winners-620x400

 جواہر لال نہرو یونیورسٹی اپنے تعلیمی معیار اور نشورانہ مزاج کی وجہ سے ملک اور بیرون ممالک کے لیے باعث کشش رہی ہے۔ساتھ ہی وہاں کی آزاد انہ روش بھی جہاں تعلیمی ماحول کے تئیں قابل ذکر ہے،وہیں جے این یو کا یہی رویہ بے شمارافراد کے لیے دردِ سر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تما م پہلو ؤں سے جے این یوپر ہر ایک کی نگاہ ہوتی ہے۔ اسی طرح جے این یو طلبایونین کا انتخاب بھی ملک کے ایک بڑے طبقہ کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے، گر چہ یہ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ روایتی طور پر وہاں لال سلام کی گونج سنائی دے گی ۔ گزشتہ دیگر برسوں کی طرح 2017-18کے الیکشن میں بھی لفٹ پارٹیوں کو کامیابی ملی اور ایک حیثیت سے بے شمار چہرے کھل اٹھے مگر اب بھی ایک ساتھ کئی سوال ابھرتے ہیں اور ان سوالوں کی نوعیت بھی مختلف ہیں۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ مسلسل لفٹ پارٹیوں کی جیت سے آخر کیمپس کے کتنے مسائل حل ہوتے ہیں؟ دور کی بات میں نہیں کرتا ، لیکن پچھلے چار پانچ برسوں میں ہونے والے انتخابات کے منشور تقریباً ایک ہی جیسے رہے۔ جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہر برس ایک ہی جیسے منشور پر انتخابات ہوتے ہیں ۔ اس کا مطلب بالکل یہ ہوگیا کہ الیکشن کے بعد بھی مسائل حل نہیں ہوپاتے ہیں ۔ اس لیے پارٹیاں دوسرے برس بھی ، گذشتہ برسوں کے منشور کو سامنے رکھتے ہوئے میدان میں آتی ہیں۔یہاں پر ایک بات یہ بھی عرض کردینی ہے کہ بیشتر پارٹیوں کے منشور کیمپس سطح پر ایک جیسے ہی ہوتے ہیں تو پھر لفٹ پارٹیوں کی جیت اہم کیوں ہوجاتی ہے ؟مجھے تولگتا ہے کہ گزشتہ چا ر برسوں میں ایسا کچھ نہیں ہوا، جو دوسری پارٹیاں نہیں کرسکتی تھیں یا نہیں کرپائیں گی۔میرا مانناہے کہ یونین الیکشن ایک طرح سے طلبا کی سیاسی ٹریننگ ہے ، جس میں پارٹیوں کا عمل دخل بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے۔راقم کا یہ کہنا بالکل نہیں کہ یونین کے انتخابات نہ ہوں ، بلکہ پارٹی لیبل پر نہ ہوں تو زیادہ بہتر ہے ۔ جیسا کہ اے ایم یو علی گڑھ میں ہے کہ وہاں پارٹی لیبل پر الیکشن نہیں ہوتا ہے ، الگ بات ہے کہ وہاں علاقائیت کا معاملہ کچھ زیادہ ہی گہرا ہوتا ہے ۔ اب جے این یو کی بات کیجیے تو وہاں پارٹی لیبل پر الیکشن ہوتا ہے اور بیشتر لفٹ پارٹیاں جیت جاتی ہیں۔ اگر سینٹرل پینل میں مکمل لفٹ پارٹیاں ہوتی ہیں تو ان سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور اگر دوسری پارٹیوں کا کوئی ممبر اس میں شامل ہوتا ہے تو ہمیشہ یہی معاملہ سامنے آتا ہے کہ مکمل یونین اس معاملہ پر متحد نہیں ہے۔ گویا سینٹرل پینل لفٹ کے قبضے میں ہو تب بھی کوئی معاملہ حل ہونے سے رہا اور اگر سینٹرل پینل میں کسی اور کی شمولیت ہوگئی تو نزاع کی صورتحال ہوتی ہے اور کوئی اہم ایشو حل نہیں ہوپاتا ہے، بلکہ سال بھر یونین میں تناؤ رہتا ہے ۔ ملک کی بڑی پارٹیوں کی ونگ یونیورسٹیز میں نہیں ہوگی تو اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ کیمپس گندی سیاست سے محفوظ رہے گا ۔ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جے این یو میں اے بی وی پی کوزبردست شکست ملی ، جب کہ جے این یو پر ملک کے بڑے بڑے سیاستدانوں کی نظر تھی۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ جہاں یونیورسٹی میں پڑھنے والے (شکست سے دوچار ہونے والے )بھی مایوس ہوئے ، وہیں وہ بھی مایوس ہوئے، بلکہ بوکھلا گئے ، جو باہر سے جے این یو الیکشن کا نظارہ کررہے تھے۔ ایسے میں طلبا الیکشن بھی ایک طرح سے سیاست گزیدہ بن کر رہ جاتا ہے ، جس کا مثبت ومنفی اثر کیمپس سے باہر بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ تناؤ کو ختم کرنے میں پارٹی لیبل سے الیکشن نہ ہونا بھی معاون ہوسکتا ہے ۔ اگر چہ اس مضمون میں بات جے این یو کے پس منظر میں ہورہی ہے ، مگر یہ تمام باتیں ان تمام کیمپس کو محیط ہوں گی، جہاں جہاں یونین کے الیکشن ہوتے ہیں۔ اگر ملک کی سیاسی پارٹیوں کے بینر سے الگ ہٹ کر الیکشن ہوگا تو طلبا ملک کی پارٹیوں کے تئیں بھی نہ غلط زبان استعمال کریں گے اور نہ باہر کی داغدار پارٹیوں کے دفاع میں وہ وقت برباد کریں گے ۔ پارٹی کی بنیاد پر الیکشن لڑنے والے طلبا کے درمیان عام طور سے یہ بھی دیکھا گیا کہ کیمپس کا معاملہ پیچھے چلا جاتا ہے اور وہ ملک کی بڑی پارٹیوں کے دفاع میں زیادہ وقت گزاد یتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طلبا کے درمیان جیت حاصل کرنے والا فرد کسی بڑی پارٹی ترجمان بن گیاہے ۔ اس طرح طلبا کا کوئی بھی معاملہ ترجیحی بنیاد پر حل نہیں ہوپاتا ہے اور ہر سال کیمپس میں پارٹیاں یکساں منشور پر الیکشن کے لیے میدان میں آتی ہیں۔ یونین کا الیکشن کیمپس کے حق میں زیادہ مفید ہو تو زیادہ بہتر ہے ، مثلاً جے این یو میں مسلسل لفٹ پارٹیوں کی جیت ہوتی اور پورے سال اے بی وی پی کا خوف دلانے کا منظرنامہ ہوتا ہے۔مسلسل جیت کے خمار میں لفٹ بھی کیمپس کے حق میں کچھ نہیں کرتی ہے ، مگر اے بی وی پی اور این ایس یو آئی کے تئیں طلبا کے درمیان خلیج پیداہوجاتی ہے۔ ان پارٹیوں سے خلیج پیدا کرنے میں طلبا کا نقصان ہوتا ہے ۔ تناؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ،گویا اس طرح لفٹ کا فائد ہ ہوتا رہتا ہے اور طلبا کے مسائل نہیں ہوپاتے ہیں ۔ جے این یو کے پس منظر میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ لفٹ پارٹیوں کو طلبا کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے بجائے کیمپس کے حق میں مفید باتیں کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ ان منشور پر کام کرنا چاہیے ، جس کا ذکر الیکشن میں ہو اور وہ طلبا کے حق میں مفید ہوں ۔ کیوں کہ دیکھا یہ گیا کہ جے این یو میں کامیاب ہونے والی لفٹ پارٹیاں طلبا کے مسئلہ کو بھول کر بی جے پی پر یلغار کرنے میں زیادہ وقت ضائع کرتی ہیں۔ یہاں پر ہم ایک چھوٹی سی مثال پیش کررہے ہیں کہ ہر پارٹی منشور میں ذکر کرتی ہے کہ کامیابی کے بعد دہلی کی اے سی بسوں میں بھی اسٹوڈنٹ بس پاس کو منظوری دلوائیں گے ، مگر برسوں ہوگئے ، اس پر کچھ نہیں نہیں ہوا لیکن یہاں جیتنے والی پارٹیوں نے بہت سے ایسے ایشوز پر ہنگامہ کیا ، جو طلبا کے متعلق نہیں ہیں ۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ کیمپس میں جیت حاصل کرنے والی پارٹیاں طلبا کے مسائل کے ساتھ ساتھ دیگر ایشوز پر فوکس کرے ۔ہم یہاں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پارٹی لائن پر الیکشن لڑنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کامیاب ہونے والی پارٹیاں ہی طلبا کے حق کے لیے لڑائی لڑتی ہے اوردیگر پارٹیاں اس لیے حصہ نہیں لیتی ہیں کہ سہرا میرے سر نہیں جائے گا یا پھر میری پارٹی ناراض ہوجائے گی۔ مثلاً ، آج ملک میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ نن نیٹ سے لے کر تعلیمی بجٹ میں کٹوتی کے معاملہ پر جے این یو کی لفٹ پارٹیوں نے حکومت کے خلاف زبردست پروٹسٹ کیا ، مگر اے بی وی پی (آرایس ایس کی طلبا ونگ)نے ساتھ نہیں دیا۔ اس لیے پارٹی لیبل سے ہٹ کر الیکشن لڑنے میں طلبا کی سیاسی تربیت بھی ہوگی اور تناؤ کی فضا کم ہوگی ۔ بہر کیف ، ملک کی جو سیاسی صورتحال ہے ، ایسے میں دانشمندی کا ثبوت دینا ضروری تھا ، جو جے این یو کے طلبا نے دیا ۔ اس بڑی جیت کے لیے جہاں جے این یو کے تمام طلبا مبارکباد کے مستحق ہیں، وہیں لفٹ کی وہ پارٹیاں بھی قابل فخر ہیں،جنہوں نے وقت کی نزاکتوں کو سمجھنے ہوتے اتحاد کیا ، مگر یہ جیت جہاں ملک کی صورتحال کے پس منظر میں قابل التفات ہیں، وہیں لفٹ پارٹیوں کے لیے بھی تنبیہ کہ اگر وہ متحد نہیں ہوتے تو کیا ہوتا …….؟
 salmansamadsalman@gmail.com

9810318692

About ایڈمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus