Home / خبریں / فلمی نغمہ نگاری کی آبرو : شکیل بدایونی

فلمی نغمہ نگاری کی آبرو : شکیل بدایونی

shafi passport photo

٭ڈاکٹر شفیع ایوب
ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی۔

ہندوستانی فلموں کو جن نغمہ نگاروں نے اپنے گیتوں سے سجایا ان میں ایک بہت اہم نام شکیل بدایونی کا ہے۔ شکیل بدایونی کے علاوہ آرزو لکھنوی، راجندر کرشن ، ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی، جاں نثار اختر، شیلیندر، اندیور، مجروح سلطان پوری، حسرت جے پوری، آنند بخشی، ندا فاضلی، گلزار، اور جاوید اختر جیسے شاعروں نے ہندوستانی فلموں کو کامیاب ترین گیتوں سے نوازا۔ اس فہرست میں جوش ملیح آبادی ، علی سردار جعفری، کیف بھوپالی اور راحت اندوری جیسے شاعروں کا نام بھی شامل ہوگا۔ فہرست سازی مراد نہیںلیکن اتنا ضرور ہے کہ ہندوستانی فلموں کے پانچ کامیاب ترین نغمہ نگاروں کے نام لکھنے ہوں تو شکیل بدایونی، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطان پوری، آنند بخشی اور جاوید اختر کے نام اس فہرست میں شامل ہونگے۔
hqdefault

شکیل بدایونی ۳ اگست ۱۹۱۶؁ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ جوش ملیح آبادی یا جاں نثار اختر کی طرح شکیل کو شاعری وراثت میں نہیں ملی تھی۔ ہاں بدایوں کا علمی ادبی ماحول شعر و سخن کے لئے سازگار تھا۔ ان کے ایک دور کے رشتہ دار ضیاء قادری اپنی نعتیہ شاعری کے لئے شہرت رکھتے تھے۔ نوجوان شکیل میں فطری جوہر موجود تھا، ضیاء قادری سے ترغیب ملی اور جب ۱۹۳۶؁ء میں صرف بیس برس کی عمر میں علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی پہنچے تو ان کی فطری شعری صلاحیت کو نکھرنے کا بھرپور موقعہ ملا۔ علیگڑھ میں دوران تعلیم وہ حکیم عبدالوحید اشک بجنوری سے اصلاح سخن لیتے رہے۔ علی گڑ ھ کی جن ادبی فضائوں نے علی سردار جعفری، اسرار الحق مجاز، جاں نثار اختر، معین احسن جذبی اور علی جواد زیدی جیسے شاعروں کو پروان چڑھایا اسی فضا میں شکیل بدایونی کی نشو نما ہوئی۔ لیکن شکیل کا رحجان ترقی پسند شاعری کی جانب نہیں تھا۔ ان کے ہم عصر شاعر مزدوروں کسانوں پہ نظمیں لکھ رہے تھے، انقلاب کی باتیں کر رہے تھے، لیکن شکیل بدایونی رومانی فضائوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ انھی رومان پرور فضائوں میں مشاعروں کے اسٹیج نے شکیل نام کے ایک نوجوان شاعر کو علمی ادبی حلقوں میں متعارف کرایا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد شکیل کو ایک چھوٹی سی ملازمت مل گئی اور وہ دہلی آگئے۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں ان کی شرکت بھی ہوتی رہی۔ مشاعروں کی مقبولیت نے انھیں پوری طرح شاعری میں ڈوب جانے کا موقعہ دیا ۔ ملازمت چھوڑ دی او ر ۱۹۴۴؁ء میں بلاد العروس بمبئی ( اب ممبئی) کا رخ کیا۔فلم نگری بمبئی باہر سے آنے والوں کا پر تپاک خیر مقدم نہیں کرتی بلکہ امتحان لیتی ہے۔ جو اس امتحان میں پاس ہو جائے اسے یہ نگری عزت، شہرت ، دولت سب کچھ عطا کرتی ہے۔ شکیل بدایونی کے لئے بھی راہ آسان نہ تھی۔ امتحان سے گزرنا پڑا۔ لیکن خوش قسمتی سے موسیقار اعظم نوشاد سے ملاقات ہو گئی اور پھر شکیل بدایونی نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔
اے آر کاردار اس زمانے کے مشہور فلم کار تھے۔ اور نوشاد علی بطور میوزک ڈائریکٹر اے آر کاردار کے لئے کام کرتے تھے۔ ۱۹۴۴؁ء میں جب شکیل بدایونی بمبئی پہنچے تو اس وقت نوشاد علی بطور میوزک ڈائریکٹر اپنے قدم جما چکے تھے۔ ۱۹۴۰؁ء میں ریلیز ہوئی فلم’’ پریم نگر ’’ بطور میوزک ڈائریکٹر ان کی پہلی فلم تھی۔ ۱۹۴۴؁ء میں اے آر کاردار کی فلم ــ ’’رتن’’کی بے پناہ مقبولیت نے نوشاد کو کامیابی کی بلندی پر پہنچا دیا۔ اسی برس جب شکیل بدایونی اے آر کاردار سے ملے تو انھوں نے نوشاد صاحب سے ملنے کو کہا۔ اس وقت کاردار صاحب فلم ’’درد’’ بنانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ کاردار اور نوشاد صاحب نے شکیل بدایونی سے دو مصروں میں درد کی کیفیت کو بیان کرنے کو کہا۔ حسبِ حکم شکیل بدایونی نے فی البدیع یہ شعرسنا دیا:
ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنا دیں گے
ہر دل میں محبت کی اک آگ لگا دیں گے
نوشاد علی جیسے جوہری کو ہیرے کی پہچان کرنے میں دیر نہیں لگی۔ انھوں نے فوراً شکیل بدایونی کو بطور نغمہ نگار اپنی فلم میں شامل کر لیا۔ ۱۹۴۷؁ء میں ریلیز فلم ’’درد’’ کے نغمے بے حد مقبول ہوئے۔ بطور نغمہ نگار شکیل بدایونی کی یہ پہلی فلم تھی۔ اور بہت کم نغمہ نگار خوش قسمت ہوتے ہیں کہ ان کی پہلی فلم کامیاب ہو اور بطور نغمہ نگار وہ اپنی شناخت قائم کر لیں۔ شکیل بدایونی خوش قسمت تھے کہ پہلی فلم سے ملی پہچان انھیں بلندیوں پر لے گئی۔ فلم اداکارہ ٹُن ٹُن کا گانا ’’افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا۔ آنکھوں میں رنگ بھر کے تیرے انتظار کا ، ’’ تو سب کی زبان پر تھا ۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد نوشاد علی اور شکیل بدایونی کی ایسی جوڑی بن گئی جس نے ہندوستانی سنیما کو ایک سے بڑھ کر ایک ہٹ نغمے دئے۔ ان دونوں نے فلم ’’دیدار’’ بیجو باورا’’ مدر انڈیا’’ اور فلم ’’ مغل اعظم ’’ میں ایک ساتھ کام کیا۔ ایک زمانے تک فلم کاروں کے ہاتھ ایک آزمودہ ہِٹ فارمولا لگ گیا تھا کہ شکیل بدایونی کے نغمے، نوشاد علی کی موسیقی اور محمد رفیع کی آواز فلم کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ نوشاد علی کے علاوہ شکیل نے روی اور ہیمنت کمار جیسے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔روی شرما کی موسیقی اور محمد رفیع کی آواز میں شکیل بدایونی کے گیت ’’چودہویں کا چاند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’ کو ۱۹۶۱؁ء میں بیسٹ فلمی گیت کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد ۱۹۶۲؁ء اور ۱۹۶۳؁ء میں بھی انھیں بیسٹ فلمی گیت کے لئے فلم فئیر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۱۹۶۲؁ء میں فلم’’ گھرانہ’’کے گیت حسن والے تیرا جواب نہیں پہ شکیل بدایونی کو فلم فئیر ایوارڈ ملا۔ ۱۹۶۱؁ء میں بنی فلم ’’گھرانہ’’ میں راجندر کمار، راج کمار اور آشا پاریکھ کی اداکاری، شکیل کے نغموں اور روی شرما کی موسیقی نے اس فلم کو سپر ہٹ ثابت کیا۔ شکیل بدایونی کے جس گیت کو فلم فئیر ایوارڈ ملا اس میں روی کی موسیقی اور محمد رفیع کی مخملی آواز کا کمال تو تھا ہی لیکن اصل کمال فلمی نغمے میں شاعری کا تھا۔ وہ نغمہ کچھ یوں تھا:
حُسن والے ترا جواب نہیں ،
تو ہے ایسی کلی جو گلشن میں ساتھ اپنے بہار لائی ہو
تو ہے ایسی کرن جو رات ڈھلے چاندنی میں نہا کے آئی ہو
اگلے برس شکیل بدایونی کو ایک بار پھر فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ فلم تھی ’’ بیس سال بعد ’’ اور گیت ’’ کہیں دیپ جلے، کہیں دل ، ذرا دیکھ لے آکر پروانے، تیری کون سی ہے منزل ،میرا گیت میرے دل کی پکار ہے۔ جہاں میں ہوں وہیں تیرا پیار ہے، میرا دل ہے تیری محفل، ذرا دیکھ لے آکر پروانے ، تیری کون سی ہے منزل ’ ’ ہیمنت کمار کی موسیقی اور لتا منگیشکر کی جادو بھری آواز نے اس گیت کو امر کر دیا۔
شکیل بدایونی اور نوشاد علی نے تقریباً بیس سال ایک ساتھ کام کیا۔ دونوں ایک دوسرے کے فن کے بڑے قدردان تھے۔ فلم کار وجئے بھٹ نے جب فلم’’ بیجو باورا ’’بنانے کا ارادہ کیا تو یہ طے تھا کہ فلم کی موسیقی نوشاد دیں گے۔ لیکن وجئے بھٹ چاہتے تھے کہ فلم کے گیت پردیپ لکھیں۔ نوشاد نے کسی طرح وجئے بھٹ کو راضی کیا کہ وہ ایک بار شکیل بدایونی کے لکھے گیت سن لیں۔ اور جب وجئے بھٹ نے گیت سنے تو پھر فیصلہ شکیل بدایونی کے حق میں ہی ہونا تھا۔ اور اس کے بعد دنیا نے دیکھا کی فلم بیجو باورا کے گانے کس طرح عوام و خواص میں مقبول ہوئے۔ مینا کماری اور بھرت بھوشن پہ فلمائی گئی فلم بیجو باورا کے گیت میل کا پتھر ثابت ہوئے۔ اس میں ٹھمری اور دادرا جیسے راگ کا خوبصورت استعمال نوشاد نے کیا ہے۔ اور شکیل بدایونی کا کمال ہے کہ انھوں نے خالص ہندی لفظوں کا استعمال کر کے شاہکار گیت لکھے۔ جیسے ’’ من تڑپت ہری درشن کو آج ’’ ۔ اس فلم میں گیت سنگیت کے اتنے تجربات ہیں کہ موسیقی سے دلچسپی رکھنے والوں میں آج بھی اس فلم کی قدر و منزلت کم نہیں ہوئی ہے۔ گیت ’’تو گنگا کی موج ’’راگ بھیروی میں ،گیت ’’ او دنیا کے رکھوالے ’’ راگ درباری میں اور گیت ’’ انسان بنو’’ راگ توڑی میں ہے۔ شکیل بدایونی نے ہندی چھندوں اور ہندی کے خوبصورت لفظوں کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔
چھوڑ تمہارا دوار پربھو میں کس کے دوارے جائوں
تم بِن میرا کون سہارا ، کس کی آس لگائوں
کچھ لوگ ہر قدیم شئے کو بہتر اور جدید کو بد تر ثابت کرنے کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ فلموں پہ گفتگو کرتے ہوئے بھی بعض ناقدین یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پرانی فلمیں اچھی ہوتی تھیں، ان میں اداکاری ہوتی تھی، پرانی فلموں کے گانے اچھے ہوتے تھے، پرانی فلموں میں پیغام ہوتا تھا، پرانی فلموں میں عریانیت نہیں ہوتی تھی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اچھی بری فلمیں ہر دور میں بنی ہیں۔ ۱۹۱۲؁ء میں دادا صاحب پھالکے نے راجہ ہریش چندر بنا کر ہندوستانی فلموں کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۳۱؁ء میں آردیشر ایرانی نے پہلی بولتی فلم ’’ عالم آراء ’’ بنائی۔ ہندوستانی فلموں کی تاریخ میں سیکڑوں ایسی فلمیں بنائی گئیں جن کا آج کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے۔ اسی طرح بہت سے فلمی نغمہ نگار آئے اور گئے۔ ایک فلم بنی تھی’’ تری دیو’’جس کا ایک گانا ’’ اُوئے اُوئے ’’ بہت مشہور ہوا تھا۔ لیکن یہ وقتی شہرت تھی۔ ۱۹۹۱؁ء میں بنی فلم ’’سوداگر ’’ کا ایک گانا ’’ایلو ایلو، آئی لَو یو’’ بھی کچھ دنوں تک لوگوں کی زبان پر رہا۔ اُوئے اُوئے اور ایلو ایلو جیسے گانے چند روز کے ہی مہمان ہوا کرتے ہیں۔ فلم شائقین کو ایک اور گانا یاد ہوگا ’’ ابنِ بطوطہ، بغل میں جوتا، پہنے تو کرتا ہے چُر’’ لایعنی باتوں کو ردم میں پیش کر دیا جائے تو سننے والوں کو کچھ دیر کے لئے اچھا بھی لگ جاتا ہے۔ بے ہودگی اور پھوہڑ پن کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا ہے۔ فلم ’’ شکتی :دی پاور ’’ کا گانا ’ کردے مشکل جینا، عشق کمینہ عشق کمینہ ’ بھی فلم شائقین کی یادوں میں محفوظ ہوگا۔ لیجئے صاحب عشق کمینہ ہو گیا۔ ابنِ بطوطہ کے بغل میں جوتا اور عشق کمینہ کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے۔کچھ ایسے نغمے بھی ہماری یادوں کا حصہ ہیں جن میں اچھی شاعری بھلے نہ ہو لیکن لفظوں کے مناسب استعمال نے بات بنا دی ہے۔ مثال کے طور پر سنہ ۲۰۰۰؁ء میں فلم’’ مشن کشمیر ’’ ریلیز ہوئی۔ سُنیدھی چوہان اور شنکر مہادیون کی آواز میں راحت اندوری کا گیت ’’ شیام رنگ وُمرو وُمرو، آئے ہو کس بغیا سے’’ اپنی دھُن کی وجہ سے بے حد پسند کیا گیا۔ اسی طرح سنہ ۲۰۰۵؁ء میں فلم ’’بنٹی اورببلی ’’ کا گانا ’’ کجرارے کجرارے، تیرے کارے کارے نینا ’’ صرف موسیقی کی جھنکار کی وجہ سے مقبول ہوا۔ لیکن شکیل بدایونی کے گانے موسیقی کی دھُنوں کے ساتھ ساتھ اپنی شاعرانہ حُسن کے لئے بھی یاد رکھے جائیں گے۔
شکیل بدایونی نے تقریباً نوّے (۹۰) فلموں کو اپنی نغمہ نگاری سے سجایا۔ نوشاد، روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندر جیسے ممتاز موسیقاروں کی دھُنوں پر سوا دو سو سے زائد گیت لکھے۔ ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مکیش، شمشاد بیگم، ثریا، مہندر کپور، طلعت محمود، روی شنکر شرما، گیتا دت اور ہردئے ناتھ منگیشکر جیسے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی آواز میں پیش کیا۔دلاری (۱۹۴۹)، دیدار (۱۹۵۱) ، مدر انڈیا (۱۹۵۷) ، چودہویں کا چاند (۱۹۶۰) ، مغلِ اعظم ( ۱۹۶۰) ، گنگا جمنا ( ۱۹۶۱) صاحب بی بی اور غلام ( ۱۹۶۲) ، میرے محبوب ( ۱۹۶۳) دو بدن ( ۱۹۶۶) جیسی سپر ہٹ فلموں میں شکیل بدایونی کے نغموں نے دھوم مچا دی تھی۔ فلم دو بدن میں آشا بھوسلے کی آواز میں یہ گیت آج بھی سننے والے پسند کرتے ہیں:
جب چلی ٹھنڈی ہوا ، جب اٹھی کالی گھٹا
مجھ کو ائے جانِ وفا تم یاد آئے ،
زندگی کی داستاں چاہے جتنی ہو حسیں
بن تمہارے کچھ نہیں، بن تمہارے کچھ نہیں۔
اسی طرح فلم مدر انڈیا ۱۹۵۷؁ء میں ریلیز ہونے والی محبوب خان کی وہ فلم تھی جسے نرگس اور سنیل دت کی اداکاری، نوشاد کی موسیقی، محمد رفیع، لتا منگیشکر، منا ڈے اور شمشاد بیگم کی آواز اور شکیل بدایونی کی نغمہ نگاری نے اس وقت کی بہترین فلم کا خطاب عطا کیا۔ مدر انڈیا کے گیت آج بھی پسند کئے جاتے ہیں۔
دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا
جیون ہے اگر زہر تو پینا ہی پڑے گا
گر گر کے مصیبت میں سنبھلتے ہی رہیں گے
جل جائیں مگر آگ پہ چلتے ہی رہیں گے
غم جس نے دئے ہیں وہی غم دور کرے گا
دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا۔
۱۹۶۰؁ء میں ریلیز ہوئی گرودت کی فلم ’’ چودہویں کا چاند’’ کے لگ بھگ سبھی گانے ہٹ ثابت ہوئے۔ گرودت ، وحیدہ رحمن اور جانی واکر کی اداکاری اور روی کی موسیقی کے ساتھ ساتھ شکیل بدایونی کے نغموں نے دھوم مچائی۔ لتا منگیشکر کی آواز میں شکیل بدایونی کا یہ نغمہ پچپن سال گزرنے کے بعد آج بھی بے حد پسندکیا جاتا ہے۔
بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں
گھر کی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں
ڈوبے رہتے تھے میرے پیار میں جو شام و سحر
میرے چہرے سے نہ ہٹتی تھی کبھی جن کی نظر
میری صورت سے وہ بے زار نظر آتے ہیں
گھر کی بربادی کے آثار نظر آتے ہیں
بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں۔
اسی برس یعنی ۱۹۶۰؁ء میں فلم مغلِ اعظم ریلیز ہوئی۔ کے آصف کی اس فلم کو ہندوستانی فلم کی تاریخ میں وہی مقام حاصل ہے جو ہندوستان کے نقشے پر تاج محل کو حاصل ہے۔ فلم مغلِ اعظم کی دوسری خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس کے نغموں کی مقبولیت بھی خاص بات تھی۔ شکیل بدایونی کو نوشاد نے پوربی اتر پردیش کی ایک لوک گیت کی یاد دلائی اور شکیل نے نغمہ دیا:
جب پیار کیا تو ڈرنا کیا
پیار کیا کوئی چوری نہیں کی
چھپ چھپ آہیں بھرنا کیا
جب پیار کیا تو ڈرنا کیا
۱۹۶۱؁ء میں ریلیز ہوئی فلم گنگا جمنا دلیپ کمار کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک ہے۔ اس فلم کی کامیابی میں شکیل بدایونی کے گیتوں کا بھی بڑا اہم رول رہا۔ ہیمنت کمار کی آواز اور نوشاد کی موسیقی نے شکیل کے اس گیت کو امر کر دیا۔ آج بھی ملک بھر کے اسکولی بچے اس گیت کو گاتے ہیں:
انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کے
یہ دیش ہے تمہارا نیتا تمہیں ہو کل کے
دنیا کے رنج سہنا اور کچھ نہ منہہ سے کہنا
سچائیوں کے بل پہ آگے کو بڑھتے رہنا
رکھ دو گے ایک دن تم سنسار کو بدل کے
انصاف کی ڈگر پہ بچوں دکھائو چل کے
۱۹۶۳؁ ء میں فلم کار اور ہدایت کار ایچ ایس رویل کی فلم میرے محبوب ریلیز ہوئی ۔ فلم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور لکھنئو کا پس منظر تھا۔ شکیل بدایونی کے نغموں کی خوب پذیرائی ہوئی۔ محمد رفیع کی آواز میں شکیل کا یہ نغمہ :
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
پھر مجھے نر گسی آنکھوں کا سہارا دے دے
میرا کھویا ہوا رنگین نظارہ دے دے
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
ائے میرے خواب کی تعبیر میری جانِ غزل
زندگی میری تجھے یاد کئے جاتی ہے
رات دن مجھ کو ستاتا ہے تصور تیرا
دل کی ڈھڑکن تجھے آواز دئے جاتی ہے
آ مجھے اپنی صدائوں کا سہارا دے دے
میرا کھویا ہوا رنگین نظارہ دے دے
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
شکیل بدایونی کی شاعری کی ایک بڑی خوبی ان کے یہاں موضوعات اور ہیت کا تنوع بھی ہے۔ انھوں نے غزل، گیت، پوربی، بھجن، نعت، قوالی جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی اور کچھ لوک گیتوں کی دھنوں پر نغمے بھی لکھے۔ان کا کمال ہی یہ ہے کہ قدرے آسان زبان میں دل میں اتر جانے والی بات کہہ جاتے ہیں۔ خدائے سخن میر تقی میر کی بات کو شکیل بدایونی نے ہمیشہ یاد رکھا کہ ان کے شعر خواص پسند ہوں لیکن انھیں گفتگو تو عوام سے ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں شاعری اور عوامی پن کا تناسب کیا ہو ؟ یہ اہم سوال ہے۔ جو شاعر اس تناسب کا بھید پا جاتا ہے وہ فلموں میں کامیاب ہوتا ہے ۔ ورنہ بڑے بڑے ادیب و شاعر فلمی دنیا سے ناکام و نامراد واپس لوٹے۔ پریم چند جیسا بڑا افسانہ نگار اور جوش ملیح آبادی جیسا با کمال شاعرفلمی دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔ عظیم نظم گو شاعر اختر الایمان تقریباً پچاس سال فلموں سے وابستہ رہے ۔ انھوں آدمی، گمراہ، قانون اور وقت جیسی سپر ہٹ فلمیں لکھیں۔ لیکن خود کو اسکرین پلے اور مکالمہ نگاری تک محدود رکھا۔ اختر الایمان فلموں کے لئے گیت نہیں لکھتے تھے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ فلموں کے لئے نغمہ نگاری ایک الگ فن ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ شکیل بدایونی اس فن سے پوری طرح واقف تھے۔

ڈاکٹر شفیع ایوب
ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی، (انڈیا ) ۱۱۰۰۶۷
Dr. Shafi Ayub,
Centre Of Indian Languages,
SLL&CS/ JNU, New Delhi – 110067 (India)
Mobile : 9810027532
shafiayub75@rediffmail.com

About ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Scroll To Top
error: Content is protected !!
Visit Us On TwitterVisit Us On FacebookVisit Us On Google Plus